ہم اور ہمارا میڈیا

بسم الله الرحمن الرحیم

سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم بحثیت ایک قوم کہاں جا رہے ہیں…اور ہماری سماجی ذمداریاں کہاں چلی گیی ہیں…

ہر پاکستانی چینل پر اب تک سیالکوٹ دہشت گردی کی کوئی نہ کوئی نئی ویڈیو آ رہی ہے… مزید تشدد دکھایا جا رہا ہے… واہ واہ حاصل ہو رہی ہے کہ میڈیا کتنا سپورٹ کر رہا ہے مظلوم خاندان کو… بیشک میڈیا کا کردار بہت اچھا ہے اس سانحے کو منظرام پر لانے کی لئے… لیکن کیا اب 4 دن گزر جانے کی بعد اب اس کی مزید ضرورت ہے… کیا صرف اتنا کافی نہیں کہ ان مظلوم بچوں کے ماں باپ کو انصاف دلانے کے لیے جدوجہد کی جائے نہ کے ان کے زخموں پر اور نمک لگایا جائے اور نئےنئے بہیمانہ سین دکھا کر اور باقی دنیا کو تشدد کے نئے راستے سیکھا کر اپنی TRPs میں اضافہ کیا جائے…

قوم کیا پہلے ہی کم ڈپریس ہے جو مزید ڈپریشن میں اضافہ کیا جا ہے اور ان معصوم بچوں کی خون سی لت پت لاشیں بھی بڑے فخر سے دکھایی جا رہی ہیں…

سچ لکھ رہا ہوں کہ آج تراویح کی نماز کے بعد مجھ جیسے بے حس انسان نے بھی یہ خاص دعا کی کہ الله ان ظالموں کو، جو اپنے آپ کو کسی تیس مار خان کی اولاد سمجھ کر نہتے بچوں پر ڈنڈے اور اینٹیں برساتے رہے، ان کے ساتھ بھی وہی بلکے اس سے بھی برا سلوک ہو… اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی… آمین

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

One response to “ہم اور ہمارا میڈیا

  • افتخار اجمل بھوپال

    کيا واقعی ہم قوم ہيں ؟ کيا ہم قوم کے نام کو ہی بدنام نہيں کر رہے ؟ امريکا ميں درجنوں رنگ و نسل کے لوگ بستے ہيں مگر سب کی ايک قوميت ہے "امريکی”۔
    ہمارے ہاں ہر گوشے سے قوميتوں کی آواز اُٹھتی ہے ۔ کسی کو اپنی موت اور پيدا کرنے والے پر ہی يقين نہيں اور اگر ہے تو اُسے بيوقوف سمجھا جاتا ہے ۔
    جب 1964ء ميں پاکستان ميں لاہور سے پہلا ٹی وی سٹيشن شروع ہوا تھا تو کسی نے کہا کہ "شيطانی چرغہ شروع ہو گيا ” ۔ اُس وقت ميں بھی اس جملے پر حيران ہوا تھا مگر کئی سال سے سوچ رہا ہوں کہ وہ شخص کتنا ذی شعور اور دُورانديش تھا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: