Monthly Archives: نومبر 2010

یہ زندگی بھی کتنی عجیب ہے…

یہ زندگی بھی کتنی عجیب ہے…

 کبھی میں سوچتا ہوں… کہ اپنا کون ہے یہاں؟


مجھے یقین ہے… کہ کوئی نہیں ہے اپنا…
 ہر انسان خود اپنے لئے جی رہا ہے… سنا بھی ہے اور پڑھا بھی ہے… کہ روز قیامت نفسہ نفسی کا عالم ہوگا… لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ آج ہی قیامت کا دن ہے… نفسہ نفسی ہی چل رہی ہے… ہر ایک کو صرف اپنی سوجی ہے… کسی دوسرے کی کوئی پرواہ ہی نہیں… چاہے ماں باپ ہوں… بہن بھائی ہوں… بیوی ہو یا اولاد ہو… اور چاہے دوست ہی ہوں… ایک وقت تک تو ساتھ ہونگے… لیکن وقت ضرورت انہیں اپنے ساتھ کھڑا کم ہی پاینگے…

خوشی میں تو سب شامل ہونگے… لیکن غم یا تنہائی میں شاید ہی کوئی ساتھ دے…

ان میں میں بھی شامل ہوں اور آپ بھی…


Roz

Roz aik nayee khawahish janam laiti hai…
Roz aik nayee umeed jaagata hun…
Roz sochta hun kai ab sab theek hoga…
Roz aik nayee seher dhoondata hun…
Roz sakoon ko talaash karta hun…
Roz khushi kai chand pal khojata hun…

Aur…

Roz jab wohi takleef bhare pal milte hain…
Roz jab wohi dhutkaar milti hai…
Roz jab sapne tootatey haoin…
Roz jab khawahishaat masali jaati hain…
Roz jab taareeki ko muqadar paata hun…

To…

Roz khud sai vaada karta hun…
Kai bas aur umeed mat karo…
Gar kismat mein hua to…
Subah ho gi meray naseeb ki…

Aur phir…

Roz aik nayee khawahish janam laiti hai…
Roz aik nayee umeed jaagata hun…

Posted with WordPress for BlackBerry.


میں ایک امن پسند انسان ہوں…

میں ایک امن پسند انسان ہوں… ہر اس شخص کی طرح… جسے اپنے گھر کی اور اپنے خاندان کی فکر ہے… اپنے ماں باپ کی فکر ہے اور اپنی اولاد کی فکر ہے… میں روز گھر سے روزی کے لئے نکلتا ہوں… سارا دن مختلف لوگوں سے ملتا ہوں…. گھر آ کر کوشش کرتا ہوں کہ ماں باپ کے ساتھ بیٹھوں… اپنی بیٹی کے ساتھ کھیلوں… یہ میری زندگی ہے…. مجھے امن پسند ہے… مجھے فساد سے نفرت ہے… مجھے بری خبریں سنانا برا لگتا ہے… اس لئے میں کوشش کرتا ہوں کہ خبریں نہ سنو… مجھے مرنے مارنے والی باتیں اور لوگ نہیں بہاتے…

 یہ خبریں مرے پر سکون ماحول کو آلودہ کر دیتی ہیں… لیکن قدرتی طور پر انسانیت کا ٹھپا لگ گیا ہے مرے جسم پر… اور مجھ میں نہ چاہتے ہوے بھی محسوس کرنے کی حس ابھی تک موجود ہے… کبھی دوستوں میں بیٹھے، کبھی ٹی وی پر چلتے چلتے خبر سن لیتا ہوں کہ مسجد میں دھماکہ ہو گیا… اتنے لوگ "شہید” ہو گئے… آج وزیر مملکت صاحب نے اپنے گیلانی ہونے کا ثبوت دے دیا… آج زرداری صاحب نے پھر خود پسندی کا اعلان کیا … آج سیلاب میں اتنے لوگ مر گئے… آج دینگی وایرس سے اتنی موتیں ہو گیے… آج آسمانی بجلی گرنے سے مزید کچھ لوگ شہید ہو گئے… کھانے کو چینی نہیں ہے…

 اور بھی کچھ ایسی خبریں جو دل کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں…مرے اندر کے سوے ہوے ضمیر کو جگاتی ہیں ….. اور مرے پر امن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتی ہیں… مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا… کبھی سوچتا ہوں کہ کیا میں کچھ کر سکتا ہوں… تو دماغ کہ ایک کونے سے یہ آواز آتی ہے… بس کر یار… چھوڑ ان باتوں کو… تجھے کیا تکلیف ہے… تو کر بھی کیا سکتا ہے… سواے سوچنے کے اور جلنے کے… میرا پر سکون ماحول مرے ضمیر کو آھستہ آھستہ تھپکیاں دیتا ہے اور پھر سب آوازیں بند ہو جاتی ہے…

 میں کچھ نہیں کر سکتا ہوں… مرے پاس کچھ بدلنے کی طاقت نہیں ہے… میں ایک امن پسند آدمی ہوں…

میں بےحس ہوں… مرے سامنے لوگ مرتے ہیں… لیکن میں ایک امن پسند آدمی ہوں…

مرے سامنے غربت ہے… لوگ بھوک سے مر رہے ہیں… لیکن میں اپنی جیب سے انہیں کچھ کیوں دوں؟ میں امن پسند آدمی ہوں… میں نے تو ان کا کچھ نہیں بگاڑا …

 میں ان لوگوں کو ووٹ خوشی سے دونگا جو حکومت میں آتے ہی میرے جیسے انسانوں کا خون چوسیں گے… لیکن مجھے کیا… میں ایک امن پسند آدمی ہوں…

مجھے تکلیف کیوں ہو جب مرے ملک کے لوگوں کو ان کہ بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے… اور پھر حکومت کہ کچھ نمائندے وہیں بیٹھ کر اپنی حکومت کی قربانیوں کے قصیدے پڑھیں …

میرا دل کیوں رویے… جب میرے جیسے ایک انسان کو دہشت گرد یوں ہی "شہید” کر دیں… نہ مرنے والے کو اور نہ مارنے والے کو پتا ہو کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے …

 کیا میں امن پسند انسان ہوں….. اگر ہوں تو لعنت ہے امن پسند ہونے پر…

 اور کیا میں مسلمان ہوں… اور اگر ہوں تو جھوٹ بولتا ہوں… نہ میں مسلمان ہوں اور نہ مجھے انسان کہلانے کا کوئی حق ہے…

 نہ مجھ میں اپنی آواز اٹھانے کی طاقت ہے… اور نہ ہی اٹھ کر کچھ کرنے کی…

میں اس معاشرے میں جی رہا ہوں جس نے مرے اندر امن کے نام پر بے حسی بھر دی ہے…

 میں امن پسند ہر گز نہیں ہوں… میں ڈرپوک ہوں… میرے اندر کی غیرت آھستہ آھستہ ختم ہو گیی ہے… میں صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں… میں نے اپنے انسان ہونے اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کی حقیقت کو سمجھا ہی نہیں… اور نا میں سمجھنا چاہتا ہوں… مجھے تو اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنا ہے… چاہے جیسے بھی… کسی کو دھوکہ دے کر ہی سہی… میں پہلے اپنا سوچتا ہوں… پھر کسی اور کا…

 میں نماز کے لئے روز کھڑا تو ہو جاتا ہوں لیکن نماز پڑھنے کے پیچھے جو حقیقی پیغام ہے میں اس سے نا واقف ہوں… میں سجدے کرتا ہوں تو اصل میں میرا ماتھا زمین پر ضرور ہوتا ہے لیکن میرا دماغ میری روزی پر ٹکا ہوتا ہے… اور یوں میں ایک ڈرامہ کر رہا ہوں خود سے بھی اور اپنے خدا سے بھی… میں نماز کی لئے صف میں شامل تو ہوتا ہوں لیکن صف باندھنے کی حقیقت مجھے نہیں پتا… کہ ہم کیوں صف باندھتے ہیں…

میں روزے رکھتا ہوں لیکن روزے دار ہونے کے باوجود میں سارے وہ کام کرتا ہوں جس سے مجھے عام دنوں میں بھی منع فرمایا گیا ہے..

 میں زکات دینا فضول سمجھتا ہوں کیونکے میرے پیسے جاتے ہیں… لیکن زکات کے اصل پیغام کو بھول کر میں ان غریبوں کو اس مدد سے محروم کر دیتا ہوں… جس کی شاید انہیں بہت ضرورت ہو…

میں حج یا عمرہ کے لئے تو پیسے خرچ سکتا ہوں لیکن ایک مسکین کو کھانا کھلاتے ہوے مجھے تکلیف ہوتی ہے…

 مجھے حلال حرام کی کوئی تمیز نہیں… اور میں یہ تک نہیں جانتا کہ حرام کا ایک قطرہ میری ساری نمازیں، میری ساری عبادات کو ضایع کر دیتا ہے… لیکن پھر بھی میں دعا مانگتا ہوں… اور اپنے حرام رزق کی کشادگی کے لئے الله سے منتیں کرتا ہوں…

مجھے اپنے کل کی بہت فکر ہے… لیکن بد قسمتی سے میں نہیں جانتا کہ میرا کل آیگا بھی یا نہیں…

بہت سوچ کر یہی فیصلہ ہے میرا کہ نا تو میں انسان ہوں اور نا ہی ایک مسلمان… نا مجھے انسانیت کا پتا ہے اور نا اپنے مذہب کا… میں اس دنیا میں ایک انسان کی طرح جینا تو چاہتا ہوں لیکن ایک جانور کی سوچ لے کر…

بہتر یہی ہے کہ دنیا کو دکھانے کہ لئے یہی کہتا رہوں کہ میں ایک امن پسند انسان ہوں…….


%d bloggers like this: