میں ایک امن پسند انسان ہوں…

میں ایک امن پسند انسان ہوں… ہر اس شخص کی طرح… جسے اپنے گھر کی اور اپنے خاندان کی فکر ہے… اپنے ماں باپ کی فکر ہے اور اپنی اولاد کی فکر ہے… میں روز گھر سے روزی کے لئے نکلتا ہوں… سارا دن مختلف لوگوں سے ملتا ہوں…. گھر آ کر کوشش کرتا ہوں کہ ماں باپ کے ساتھ بیٹھوں… اپنی بیٹی کے ساتھ کھیلوں… یہ میری زندگی ہے…. مجھے امن پسند ہے… مجھے فساد سے نفرت ہے… مجھے بری خبریں سنانا برا لگتا ہے… اس لئے میں کوشش کرتا ہوں کہ خبریں نہ سنو… مجھے مرنے مارنے والی باتیں اور لوگ نہیں بہاتے…

 یہ خبریں مرے پر سکون ماحول کو آلودہ کر دیتی ہیں… لیکن قدرتی طور پر انسانیت کا ٹھپا لگ گیا ہے مرے جسم پر… اور مجھ میں نہ چاہتے ہوے بھی محسوس کرنے کی حس ابھی تک موجود ہے… کبھی دوستوں میں بیٹھے، کبھی ٹی وی پر چلتے چلتے خبر سن لیتا ہوں کہ مسجد میں دھماکہ ہو گیا… اتنے لوگ "شہید” ہو گئے… آج وزیر مملکت صاحب نے اپنے گیلانی ہونے کا ثبوت دے دیا… آج زرداری صاحب نے پھر خود پسندی کا اعلان کیا … آج سیلاب میں اتنے لوگ مر گئے… آج دینگی وایرس سے اتنی موتیں ہو گیے… آج آسمانی بجلی گرنے سے مزید کچھ لوگ شہید ہو گئے… کھانے کو چینی نہیں ہے…

 اور بھی کچھ ایسی خبریں جو دل کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں…مرے اندر کے سوے ہوے ضمیر کو جگاتی ہیں ….. اور مرے پر امن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتی ہیں… مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا… کبھی سوچتا ہوں کہ کیا میں کچھ کر سکتا ہوں… تو دماغ کہ ایک کونے سے یہ آواز آتی ہے… بس کر یار… چھوڑ ان باتوں کو… تجھے کیا تکلیف ہے… تو کر بھی کیا سکتا ہے… سواے سوچنے کے اور جلنے کے… میرا پر سکون ماحول مرے ضمیر کو آھستہ آھستہ تھپکیاں دیتا ہے اور پھر سب آوازیں بند ہو جاتی ہے…

 میں کچھ نہیں کر سکتا ہوں… مرے پاس کچھ بدلنے کی طاقت نہیں ہے… میں ایک امن پسند آدمی ہوں…

میں بےحس ہوں… مرے سامنے لوگ مرتے ہیں… لیکن میں ایک امن پسند آدمی ہوں…

مرے سامنے غربت ہے… لوگ بھوک سے مر رہے ہیں… لیکن میں اپنی جیب سے انہیں کچھ کیوں دوں؟ میں امن پسند آدمی ہوں… میں نے تو ان کا کچھ نہیں بگاڑا …

 میں ان لوگوں کو ووٹ خوشی سے دونگا جو حکومت میں آتے ہی میرے جیسے انسانوں کا خون چوسیں گے… لیکن مجھے کیا… میں ایک امن پسند آدمی ہوں…

مجھے تکلیف کیوں ہو جب مرے ملک کے لوگوں کو ان کہ بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے… اور پھر حکومت کہ کچھ نمائندے وہیں بیٹھ کر اپنی حکومت کی قربانیوں کے قصیدے پڑھیں …

میرا دل کیوں رویے… جب میرے جیسے ایک انسان کو دہشت گرد یوں ہی "شہید” کر دیں… نہ مرنے والے کو اور نہ مارنے والے کو پتا ہو کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے …

 کیا میں امن پسند انسان ہوں….. اگر ہوں تو لعنت ہے امن پسند ہونے پر…

 اور کیا میں مسلمان ہوں… اور اگر ہوں تو جھوٹ بولتا ہوں… نہ میں مسلمان ہوں اور نہ مجھے انسان کہلانے کا کوئی حق ہے…

 نہ مجھ میں اپنی آواز اٹھانے کی طاقت ہے… اور نہ ہی اٹھ کر کچھ کرنے کی…

میں اس معاشرے میں جی رہا ہوں جس نے مرے اندر امن کے نام پر بے حسی بھر دی ہے…

 میں امن پسند ہر گز نہیں ہوں… میں ڈرپوک ہوں… میرے اندر کی غیرت آھستہ آھستہ ختم ہو گیی ہے… میں صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں… میں نے اپنے انسان ہونے اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کی حقیقت کو سمجھا ہی نہیں… اور نا میں سمجھنا چاہتا ہوں… مجھے تو اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنا ہے… چاہے جیسے بھی… کسی کو دھوکہ دے کر ہی سہی… میں پہلے اپنا سوچتا ہوں… پھر کسی اور کا…

 میں نماز کے لئے روز کھڑا تو ہو جاتا ہوں لیکن نماز پڑھنے کے پیچھے جو حقیقی پیغام ہے میں اس سے نا واقف ہوں… میں سجدے کرتا ہوں تو اصل میں میرا ماتھا زمین پر ضرور ہوتا ہے لیکن میرا دماغ میری روزی پر ٹکا ہوتا ہے… اور یوں میں ایک ڈرامہ کر رہا ہوں خود سے بھی اور اپنے خدا سے بھی… میں نماز کی لئے صف میں شامل تو ہوتا ہوں لیکن صف باندھنے کی حقیقت مجھے نہیں پتا… کہ ہم کیوں صف باندھتے ہیں…

میں روزے رکھتا ہوں لیکن روزے دار ہونے کے باوجود میں سارے وہ کام کرتا ہوں جس سے مجھے عام دنوں میں بھی منع فرمایا گیا ہے..

 میں زکات دینا فضول سمجھتا ہوں کیونکے میرے پیسے جاتے ہیں… لیکن زکات کے اصل پیغام کو بھول کر میں ان غریبوں کو اس مدد سے محروم کر دیتا ہوں… جس کی شاید انہیں بہت ضرورت ہو…

میں حج یا عمرہ کے لئے تو پیسے خرچ سکتا ہوں لیکن ایک مسکین کو کھانا کھلاتے ہوے مجھے تکلیف ہوتی ہے…

 مجھے حلال حرام کی کوئی تمیز نہیں… اور میں یہ تک نہیں جانتا کہ حرام کا ایک قطرہ میری ساری نمازیں، میری ساری عبادات کو ضایع کر دیتا ہے… لیکن پھر بھی میں دعا مانگتا ہوں… اور اپنے حرام رزق کی کشادگی کے لئے الله سے منتیں کرتا ہوں…

مجھے اپنے کل کی بہت فکر ہے… لیکن بد قسمتی سے میں نہیں جانتا کہ میرا کل آیگا بھی یا نہیں…

بہت سوچ کر یہی فیصلہ ہے میرا کہ نا تو میں انسان ہوں اور نا ہی ایک مسلمان… نا مجھے انسانیت کا پتا ہے اور نا اپنے مذہب کا… میں اس دنیا میں ایک انسان کی طرح جینا تو چاہتا ہوں لیکن ایک جانور کی سوچ لے کر…

بہتر یہی ہے کہ دنیا کو دکھانے کہ لئے یہی کہتا رہوں کہ میں ایک امن پسند انسان ہوں…….

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

2 responses to “میں ایک امن پسند انسان ہوں…

  • افتخار اجمل بھوپال

    جناب آپ امن پسند آدمی ہيں مگر يہاں تو بہت سے اسلام پسند بھی رہتے ہيں جنہيں روزہ نماز دوسروں کا فرض نظر آتا ہے اپنا نہيں ۔
    ميں نہ امن پسند ہوں نہ اسلام پسند بلکہ دونوں کا غلام ہوں اسی لئے لوگ مجھے دھتکارتے ہيں ۔ اسلام کو تو ميں نے کہيں سے ڈھونڈ نکالا اور اُس کے پاؤں پکڑ کر بيٹھ گيا ہوں ۔ مگر امن کيلئے خوار ہوں کچھ پتہ نہيں چلتا کہ کہاں کھو گيا يا کہيں روپوش ہو گيا ۔ اگر اپ کو معلوم ہو تو ضرور بتايئے گا

  • Imran

    افتخار بھای … امن تو ہم سب کی ذات کے اندر ہونا چاہیے… ہم امن کے پوجاری ضرور ہیں لیکن امن کو خود کے اندر پلتا نہیں دیکھ سکتے… امن صبر ہی کا تو دوسرا نام ہے … اور جب صبر انسان کی فطرت میں شامل ہو جائے تو اور کیا چاہیے… معاشرے میں امن پیدا کرنے کی لئے ہمیں خود پہلے اپنے اندر امن اور صبر پیدا کرنا پڑے گا… جب معاشرے کا ہر فرد صبر سے ایک دوسرے سی ڈیل کرے گا تب ہی معاشرے میں پیار محبّت کی ہوا پھیلے گی… ہمیں مختلف فرقوں , ذاتوں اور صوبائیت کی جنگل سے باہر نکلنا پڑیگا… ایک دوسرے کے لئے برداشت پیدا کرنی پڑیگی… دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا پرریگا… اپنے اندر کے غصے کو مارنا پڑیگا… اپنے مذہب، اسلام کو بہتر طریقے سے سمجھنا ہوگا… اور پھر سمجھ کر یقین بنانا کہ اس پر پورے طریقے سے عمل بھی کیا جائے… سو بات کی ایک بات … اگر ہم صرف قرآن اور سنّت رسول الله سال الله علیھ وسلم کو اچھی طرح سمجھ کر ہی اس پر عمل کرنا شروع کر دینگے… تو ہمارے اندر امن پیدا ہو جاےگا…
    اب مسلہ یہ ہے کہ جس چیز کو ہم اب "امن” کہتے ہیں… وہ میری نظر میں امن نہیں… بے حسی ہے… اور اسے ہم نے امن پسندی کا نام دے دیا ہے… ہم نے امن کو غلط کاموں کو برداشت کرنے کا نام دے دیا ہے… "جیو اور جینے دو” کا نعرہ لگا کر… اسلام ہمیں بے شک یہ سبق نہیں دیتا کہ کوئی آپ کے گھر میں چوری کرے تو آپ اسے نظر انداز کر دو… یا کوئی آپ پر بلا وجہ زور آزمائی کرے تو آپ آرام سے مار کھا لو… اسلام نے ہمیں self defence کا حکم دیا ہے…
    معاشرے میں امن تب ہی ہوگا… جب معاشرے کا ہر ہر انسان اپنے اندر صبر اور تحمل پیدا کرے… اور گالی کے بدلے گالی دینے سے بھی پرہیز کرے… مسلے اپنے آپ حل ہو جاینگے… شدّت پسندی،جو کے اسلام کے نام کو بدنام کر رہی ہے… وہ بھی صبر اور تحمل کی کمی کی وجہ ہی ہے… اور یہی شدت پسندی ہماری جان لی رہی ہے….

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: