Monthly Archives: دسمبر 2010

“اسلامی” جمہوریہ پاکستان

تو اب یقین آ ہی گیا۔۔۔ کہ ہمارے ملک “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے صرف نام کے ساتھ ہی اسلام آتا ہے۔۔۔ ہم “اسلام” کا نام استعمال تو کر رہے ہیں لیکن نا تو ہم پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں اور نا ہی ان کی تعلیمات کو۔۔۔ ہم نا ہی قران کو جانتے ہیں اور نا ہی قران کی مانتے ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر:

1) “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے مسلمان وزیر داخلہ جناب رحمن ملک صاحب “سورۃ اخلاص” سے نا واقف ہیں۔۔۔ “سورہ اخلاص” جیسی چھوٹی سورت انہیں یاد نہیں تو نماز میں کوئی اور سورت کیسے پڑھتے ہونگے۔۔۔ بشرطیکہ نماز پڑھتے ہیں۔۔۔

2) مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما جیسے اپنے اپنے باپوں کا دفاع کر رہے ہیں اور ذاتیات پر اتر آئے ہیں ویسے تو انہوں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں یورپ کی گستاخی پر مذمت بھی نہیں کی۔۔۔ تو میرے لیے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان ڈراموں کے لیے نواز شریف اور الطاف حسین جیسے منافق ہی پیغمبر ہیں (نعوذباللہ)۔۔۔

3) زرداری صاحب بھٹو کی قبر پر کھڑے ہو کر یہ بکواس کر رہے ہیں کہ “اس قبر والے کی عبادت کروِِ، یہ تمھاری دعائیں قبول کروائیں گے”۔۔۔ اب اس سے بڑھ کر شرک کیا ہوگا۔۔۔جب ملک کا صدر ہی مسلمان کے نام پر دھبہ ہے تو میں عام عوام سے کیا توقع رکھوں۔۔۔

جناب میرے لیے اب یہ ملک “اسلامی” نہیں رہا۔۔۔ میرے لیے یہ صرف جمہوریہ پاکستان ہی رہ گیا ہے۔۔۔ مجھے شرم آ رہی ہے کہ میرے جیسے عام لوگ ان لیڈروں کو ووٹ دے کر بار بار حکومت میں لا رہے ہیں جنہیں نا تو اسلام سے کوئی غرض ہے اور نا پاکستان سے۔۔۔

Advertisements

میرے دل۔۔۔ میرے مسافر۔۔۔


درد تنہائی

 

کبھی چاندنی رات میں سمندر کے کنارے بیٹھ کر چاند کو دیکھا ہے۔۔۔

کبھی اس پر ایک ٹک نظر جمائے چاروں سمت گونجتی پانی کی آواز سنی ہے۔۔۔

کبھی اس تاریکی میں گم کسی کی باتیں یاد کی ہیں۔۔۔

کبھی کسی کو پا کر کھو دینے کا درد محسوس کیا ہے۔۔۔

کبھی حد نگاہ پھیلے سمندر کے سینے میں جو لاکھوں ان کہے قصے چھپے ہیں، وہ سنے ہیں۔۔۔

ہر لہر جو کہانی سناتی ہے اس کو اپنے اندر محسوس کیا ہے؟؟؟؟

کبھی محسوس کیا، کہ سمندر میں کتنا غم ہے؟۔۔۔ کیا وہ میرا غم ہے؟ یا وہ میرے غم کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے؟ کیا محرومی کا احساس دنیا کے کسی احساس سے کم ہے؟ اب رہ بھی کون گیا ہے میرا غم سننے کے لیےسوائے سمندر کے۔۔۔ شاید اسی میں اتنا حوصلہ ہو کہ وہ میری تکلیٖف کو خود میں سما لے۔۔۔ شاید وہ ہی مجھے سمجھ سکے۔۔۔ شاید میرا ہی دکھ ہلکا ہو جائے۔۔۔ شاید سمندر ہی میرا دوست بن جائے۔۔۔ شاید۔۔۔

لیکن میں تھک گیا ہوں۔۔۔ بے بس ہو چکا ہوں۔۔۔ خود سے لڑتے لڑتے۔۔۔ خود کو مارتے مارتے۔۔۔ میرے پاوں کی زنجیریں بہت بھاری ہو گئی ہیں میرے لیے۔۔۔ میں تو اب خود اپنا بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔۔۔ ان زنجیروں کو لے کر کہاں تک چل سکتا ہوں۔۔۔ بہت تھک گیا ہوں اس زندگی سے۔۔۔ یہاں کوئی بھی اپنا نہیں ہے۔۔۔

کوئی بھی نہیں ہے۔۔ تنہائی کے سوا۔۔۔

ایک ہجوم میں رہ کر بھی تنہائی کا سفر جانے کب ختم ہو گا۔۔۔

میرے کشکول میں میری خواہشوں کی تکمیل کب کوئی ڈالے گا۔۔۔

مجھے بے حسی جیسی نعمت کب حاصل ہو گی۔۔۔

میری خود سے جنگ کب تکمیل کو پہنچے گی۔۔۔

میری آنکھوں میں نیند کب اترے گی۔۔۔

کب مجھے وہ ساتھ حاصل ہو گا جو صرف میرا ہو۔۔۔ صرف میرا۔۔۔

شاید کبھی نہیں۔۔۔


ایک غمناک کہانی۔۔۔ ضرور دیکھیں۔۔۔


چلو پاکستان – حصہ 4

 چائلڈ لیبر کے خاتمے کا جتنا سنا تھا وہ بھی صرف نعرے ہی ہیں۔۔۔ سڑکوں کی مرمت ہو یا ان کا اکھاڑنا، اس میں جو مزدور استعمال ہو رہے ہیں وہ زیادہ تر 12 سال سے کم عمر کے بچے ہی ہیں یا پھر عمر رسیدہ خواتین۔۔۔

جن پھول جیسے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہیے تھیں۔۔۔ وہ شاید پتھروں سےبھی سخت ہو چکے ہیں۔۔۔ اور وہ معاشرے کی بے حسی کی وجہ سے آج کے معاشرے سے بھی زیادہ بےحس اور سخت گیر ثابت ہوںگے۔۔۔ اور پھر یاد آتا ہے سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کا نعرہ” ہم بنائیں۔۔۔ پڑھا لکھا پنجاب”

لعنت ہے ایسے نعروں پر اور لعنت ہے ان پر جنہیں ایسے معصوم بچے نظر نہیں آتے۔۔۔ کہاں جا رہی ہے ہماری "تعلیم کی مد میں دی گئی امداد” جو ہمیں مل رہی ہے لیکن ہمیں مل ہی نہیں پا رہی۔۔۔

ہم کب تک بچوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھیں گے۔۔۔ اور کب تک ہم روشن مستقبل کے جھ۔وٹے نعرے لگاتے رہیں گے۔۔۔    اور کب تک ہم صرف  30 فیصد لٹریسی ریٹ کے ساتھ دنیا جیتنے کے جھوٹے خواب دیکھتے اور دکھاتے رہیں گےَ۔۔۔


مسلسل۔۔۔

مسلسل بیٹھنا تنہا۔۔۔
مسلسل سوچنا تنہا۔۔۔
مسلسل دیکھنا خود کو۔۔۔
مسلسل جانچنا تنہا۔۔۔
مسلسل خاموشی سب کی۔۔۔
مسلسل بولنا تنہا۔۔۔
مسلسل الجھنیں دل کی۔۔۔
 مسلسل کھولنا تنہا۔۔۔
مسلسل جوڑنا سب کو۔۔۔
مسلسل ٹوٹنا تنہا۔۔۔
مسلسل آنکھ میں رہنا۔۔۔
مسلسل ڈوبنا تنہا۔۔۔

(شاعر: نامعلوم)


میرا سب سے پسندیدہ گیت۔۔۔ تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں۔۔۔


%d bloggers like this: