گستاخ رسول تو ہم سب ہیں۔۔۔

گستاخ رسول تو ہم سب ہیں۔۔۔

ہم صرف آسیہ بی بی اور سلمان تاثیر کو ہی گستاخ رسول ثابت کرنے پر کیوں آمادہ ہیں۔۔۔ کیا میں گستاخ رسول نہیں۔۔۔؟ کیا آپ گستاخ رسول نہیں۔۔۔؟

جو احکامات اللہ تبارک تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچائے۔۔۔ ان میں سے کتنوں پر ہم کارفرما ہیں۔۔۔ کتنی سنتیں پوری کرتے ہیں۔۔۔ سنتیں تو دور کی بات ہیں۔۔۔ کتنے فرائض ہم پوری جانفشانی سے پورے کرتے ہیں۔۔۔؟ ساری سنتیں اور فرائض تو چھوڑیں۔۔۔ میں تو ایک دو بھی مشکل سے پوری طرح نبھا کر جیسے اپنے مسلمان ہونے پر احسان کرتا ہوں۔۔۔ اور یہی حال ہم میں سے اکثریت کا ہے۔۔۔ دم بھرتے ہیں محبت رسول کا۔۔۔ اور حکم ان کا ہم نے ماننا نہیں۔۔۔ تو پھر ہم بھی گستاخ ہی ہوے نا۔۔۔ ہم نے جو “عشق رسول” کے  نعرے بنا رکھے ہیں وہ سب کھوکھلے ہیں اور ہماری منافقت کے سوا کچھ نہیں۔۔۔

جناب۔۔۔ گستاخ میں بھی ہوں اور گستاخ آپ بھی ہیں۔۔۔ سب بھول جائیں  آسیہ بی بی، سلمان تاثیر اور ملک ممتاز کو۔۔۔ اب اپنے گریبان میں جھانکنا شروع کریں۔۔۔ کیا ہم بھی ان گستاخیوں کے باعث واجب القتل تو نہیں ہو چکے۔۔۔؟

تبصروں کا انتظار رہے گا۔۔۔ اپنی ہر گستاخی جو میں نے اپنے رسول کے احکمات پر عمل نا کر کے کی ہے۔۔۔ اس کے باعث آپ  سب کی نکتہ چینی اور ڈانٹ ڈپٹ بھی برداشت کرنے کو تیار ہوں۔۔۔

معاف کیجیے گا۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

9 responses to “گستاخ رسول تو ہم سب ہیں۔۔۔

  • Hina

    I completly agree with ur point of view… Dosro p tanqeeed
    bohat asaan hoti hai..lakin hum khud p ungli uthany ki zehmat nai
    karty..

  • عامر مشتاق

    عمران ہم لوگ کوتاہی کا شکار ہیں مگر الحمداللہ گستاخ نہیں ہیں۔ آپ کوشش اور دعا کریں کہ اللہ ہمیں گستاخی جیسے کبیرہ گناہ کرنے سے مخفوظ رکھے۔

  • عمران اقبال

    عامر بھائی۔۔۔ مذہب میں کوتاہی بھی گستاخی ہی ہے۔۔۔ کیا ہو اگر ہم اسی کوتاہی میں مر جائیں۔۔۔ حکم نا ماننا گستاخی کی نشانی ہی تو ہے۔۔۔ اب ہم جب اپنے والدین کا حکم نہیں مانتے تو وہ کہتے ہیں کہ بڑے گستاخ ہو گئے ہو۔۔۔ جب والدین کے لیے ان کا حکم نا ماننا گستاخی ہے تو یہاں تو ہم بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کے احکامات کی نافرمانی کی کر رہے ہیں۔۔۔ ہمارا مسئلہ یہ بن چکا ہے کہ ہم بہت پڑھ لکھ گئے ہیں اور لفظون کی بازیگری ہمارے لیے اب کو خاص بات نہیں۔۔۔
    بہرحال میری دعا ہے کہ اللہ ہمیں اپنا نیک اور تابعدار بندہ بنائے۔۔۔ آمین۔۔۔

  • احمد عرفان شفقت

    عمران، یہ بات سو فیصد درست ہے کہ اللہ کے رسول کے احکامات کو نظر انداز کرنا اور اپنی روز مرہ زندگی میں اللہ اور اس کے رسول کی بتائی باتوں کو کوئی جگہ نہ دینا۔۔۔یہ سب گستاخی ہی ہے۔
    لیکن یہ اتنی تلخ حقیقت ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کو ماننے کو تیار نہیں۔ تاہم، جیسا آپ نے کہا، الفاظ کے ہیر پھیر سے ہم اس بات سے آنکھین تو چرا سکتے ہیں مگر یہ حقیقت ہی رہے گی۔ قرآن میں جو کئی بار اطیع اللہ و اطیع الرسول کا جو حکم ہے وہ کوئی مذاق نہیں ہے۔

    یہ تحریر بھی کچھ اسی موضوع پر ہے:
    http://sarapakistan.blogspot.com/2010/05/blog-post.html?utm_source=feedburner&utm_medium=feed&utm_campaign=Feed%3A+blogspot%2FrkMV+%28%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%81+%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%29

  • افتخار اجمل بھوپال

    اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات پر جان بوجھ کر عمل نہ کرنا يا ان کے مطابق اپنی زندگی استوار نہ کرنا ۔ اللہ اور رسول کی نافرمانی ہے اور اسے گُستاخی بھی کہہ سکتے ہيں
    ليکن جو آدمی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری اور خوشنودی کی پوری کوشش کرے پھر بھی کوئی بھُول چُوک ہو جائے تو اس آدمی کو گُستاخ نہيں کہا جائے گا
    اللہ مسلمانوں کو اور بالخصوص مجھے گستاخی اور بھول چوک سے بھی بچائے

  • m.d

    اب بحث کا رخ اُسی جانب مُڑ رہا کہ جس جانب آپ اشارہ کر رہے ہیں کہ دوسرے کی طرف اُنگلی اُٹھا نے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہئے ۔ پہلا پتھر وُہ مارے جو گُناہ گار نہ ہو ۔ اگر ہر شخص
    بجائے دوسروں پر تنقید کرنے کے صرف اپنی اصلاح پر توجہ دے تو یہ دُنیا نمونہ جنت بن جائے۔ جہاں تک ممکن ہوسکے مُجھے اپنا احتساب کرنا ہے ۔ اور اپنے میں موجود بُری باتوں کو دُور کرناہے ۔ تاکہ مُجھے اطمینان قلب حاصل ہو ۔ ۔ ۔ جب مُجھے اطمینان قلب حاصل ہوگا ، تب ہی مُجھے پُرسکون موت آئیگی۔ شُکریہ۔

  • fikrepakistan

    عمران اقبال صاحب آپکی تحریر میں بہت انہماک سے پڑھتا ھوں بہت اچھا لکھتے ہیں آپ، اچھی سوچ ھے آپکی اللہ آپکو جزاء دیں آمین۔

  • عمران اقبال

    @فکر پاکستان: جناب حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔۔۔ امید ہے کہ آپ یونہی اپنی آرا سے نوازتے رہیں گے۔۔۔

    @m.d: جناب آپ میری سوچ بلکل درست سمجھے۔۔۔ آپ کے تبصرے کا بہت شکریہ۔۔۔

    @ اجمل صاحب: آپ ہم سب کے لیے بھی دعا کیجیے کہ اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

    @ احمد صاحب: آپ کی رائے اور تبصرے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔

  • طارق راحیل

    ان میں سے کئی دبے دبے لفظوں میں کھُل کر یہ کہہ چکے ہیں اور کئی یہ لکھ چکے ہیں کہ سلمان تاثیر ناموسِ رسالت پر بیان دے کر ایسی حد پار کر چکے ہیں جس کے دوسری طرف موت ہے۔

    وہ موت قادری کے ہاتھ سے آسکتی ہے، محلے کے کِسی مولوی کے ہاتھوں ہوسکتی ہے،ایک بپھرے ہوے ہجوم کے ہاتھوں ہوسکتی ہے، کِسی جج کے قلم سے لکھی جاسکتی ہے۔ یہ موت گورنر کا حفاظتی حِصار توڑ کر اُس تک پہنچ سکتی ہے۔اور جیسا کہ پہلے ہو چکا ہے جیل کی کسی کوٹھڑی میں بھی آسکتی ہے۔

    یہ حد کِسی عالِم دین کے فتوے سے مقرر نہیں ہوئی نہ یہ جنرل ضیاء نے مقرر کی تھی نہ ہی سارا قصور مذہبی جماعتوں کا ہے۔ یہ ایمانی لکیر ہم سب کے دِلوں کی اندر کھنچی ہوئی ہے۔
    سلمان تاثیر نے جو حد پار کی وُہ ہم سب کے اندر موجود ہے۔ کبھی کبھی ہم ڈرتے ہیں کہ ہم نے اس حد کے دوسری طرف تو قدم نہیں رکھ دیا؟ ہمیں اپنا ایمان اتنا کمزور لگتا ہے کہ اُس کی سلامتی کے لیے کسی کو قربانی کا بکرا بنانا ضروری ہے۔

    ہمیں آخر اپنے ملک میں دو فیصد سے بھی کم غیر مُسلموں سے اتنا خوف کیوں آتا ہے؟ آخر ہمیں اُس مہربان نبّی کی عزت کے نام پر گلے کاٹنے کا اِتنا شوق کیوں ہے جِس نے ایک قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا تھا۔ آخر غازی عِلم دین شہید کو غازی اور شہید کہہ کر اپنے کونسے ڈر کو چھپا رہے ہیں اور اپنے اندر چھپے کس مجاہد کو دلاسا دے رہے ہیں؟

    آخر ہم روزہ رکھنے سے لے کر سورج گرہن کے اسباب جانے کے لیے مفتی منیب الرحمٰن کے پاس کیوں بھاگے بھاگے جاتے ہیں؟

    آخر ہمیں کس نے یقین دلایا کہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو بچانے کے لیے قوم کی بیٹی آسیہ کا سر تن سے جدا کرنا ضروری ہے؟

    اُسی اِسلام آباد شہر میں جہاں سلمان تاثیر کا قتل ہوا صِرف دو ہفتے پہلے ناموسِ رسالت کانفرنس میں کون کون شامل تھا۔ کیا اُس میں وہ لوگ شامل نہیں تھے جن کے پارٹی منشور میں ہر شیعہ، احمدی، ہندو، یہودی کو قتل کرنے کا عندیہ نہیں دیا گیا۔
    آخر ہمیں اُس مہربان نبّی کی عزت کے نام پر گلے کاٹنے کا اِتنا شوق کیوں ہے جِس نے ایک قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا تھا۔

    کیا ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں، میڈیا میں اور سرکاری اداروں میں شامل نہیں ہیں؟ کیا ایسے لوگوں کے ساتھ ہم شادیوں اور مہندیوں میں کھانا نہیں کھاتے؟

    سلمان تاثیر نے جو حد پار کی وُہ ہم سب کے اندر موجود ہے۔ کبھی کبھی ہم ڈرتے ہیں کہ ہم نے اس حد کے دوسری طرف تو قدم نہیں رکھ دیا؟ ہمیں اپنا ایمان اتنا کمزور لگتا ہے کہ اُس کی سلامتی کے لیے کسی کو قربانی کا بکرا بنانا ضروری ہے۔

    اور اگر ہمارا دِل اِتنا کمزور ہے کہ ہم خود چُھری نہیں چلا سکتے تو چلانے والے کی مدح تو کر سکتے ہیں۔ وہ جو اپنے آپکو لبرل مسلمان سمجھتے ہیں وُہ زیادہ سے زیادہ اپنی ناک پکڑ کر مُنہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔ کیا مفکرِ پاکستان علامہ اِقبال نے غازی عِلم دین شہید کے جنازے پر نہیں فرمایا تھا کہ یہ ان پڑھ ہم سے بازی لے گیا؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: