پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور زیادتی کے کیس

پاکستان میں خواتین اور کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔ آخر کیا بات ہے۔۔۔ کیا ایسی وجہ ہے جو ایسا وحشیانہ اور حیوانی گناہ کرنے پر ایک مرد کو اکساتی ہے۔۔۔

وجوہات کیا ہیں۔۔۔؟ کیا ہم میں ضمیر اور اخلاقیات جیسی کوئی چیز نہیں رہ گئی۔۔۔ کیا شہوت انسانی عزت اور زندگی سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔۔۔  کیا یہ گناہگاررشتوں اور عزتوں سے بلکل نا واقف ہیں۔۔۔ ہر دورے دن خبر آتی ہے کہ کمسن بچی یا بچے کو ہوس کا شکار بنا کر قتل کر دیا۔۔۔ آخر کیا قصور تھا اس پھول کا جسے یہ جانور بے دردی سے مسل دیتے ہیں اور وہ بھی چند لمحوں کی عیاشی کے لیے۔۔۔

میں پہلے بھی اپنی تحاریر میں لکھ چکا ہوں کہ ہماری ہر برائی کی بنیادی وجہ “اسلام” سے دوری ہے۔۔۔ اور اس مرتبہ بھی میں ایسے گھناونے گناہ اور جرم کی وجہ یہی کہوں گا۔۔۔ ویسے تو بطور مسلمان ہمارے ہر عمل اور سوچ کا ڈائریکٹ لنک اسلام کی تعلیمات سے ہے۔۔۔ چاہے وہ معاشرتی علوم ہوں، ازدواجی معاملات ہوں یا بنیادی لین دین۔۔۔ ہر نکتہ ہمیں تفصیلا بتااور سمجھا دیا گیا ہے۔۔۔

خیر ذکر ہے اس ایسی برائی کا جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ رہی ہے۔۔۔ اور جس کے سدباب کا کوئی راستہ فی الحال میری نظر میں نہیں سوائے اس کے کہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات سے مزین کر دیں۔۔۔

کچھ وجوہات ایسی ہیں جنہیں میں اپنی ناچیز عقل سے سوچ پایا ہوں۔۔۔ امید ہے آپ قارئین بھی اس سے متفق ہوں گے۔۔۔

  • میڈیا میں فحاشی کے لیے کھلے دروازے۔۔۔ پاکستان کا یہ وہ میڈیا ہے جہاں کبھی سنا ہے کہ نیوزکاسٹر کے لیے بھی لازم تھا کہ وہ دوپٹہ اوڑھے۔۔۔ اور اب کچھ عرصہ پہلے ایک نجی پاکستانی چینل پر ایک ڈرامہ کا سین دیکھا جس میں لڑکی اپنے بوائے فرینڈ سے پارک میں کھڑی کہ رہی تھی۔۔۔ کہ “میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔۔۔ اب تو مجھ سے شادی کر لو”۔۔۔ مجھے ایک جھٹکا لگا اور میں نے بغور چینل کا لوگو دیکھا تو وہ اپنا چینل ہی تھا۔۔۔
  • غیر ملکی چینلز کی بھر مار۔۔۔ بے حیائی اور فحاشی کے زریعے غیر ملکی چینلز نے ہمارے بیڈ رومز میں جگہ بنا لی۔۔۔ اب وہ ساری حرکات جو ان کے ممالک میں جائز ہیں۔۔۔ جب ہماری نسل انہیں دیکھتی ہے تو انہیں کمی محسوس ہوتی ہے اس آزادی کی۔۔۔ اور پھر جن کے پاس پیسہ نہیں وہ اپنی عیاشیوں کے لیے ایسے ہے اوچھے اور نا قابل معافی گناہ کر بیٹھتے ہیں۔۔۔
  • انٹرنیٹ میں ہر طرح کا فحش مواد باآسانی میسر ہے۔۔۔ اور پاکستان میں تو “پراکسی” نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔۔۔ ہر جگہ انٹرنیٹ کیفے عام طور پر ہر عمر کے لوگوں کے لیے کھلے پڑے ہیں۔۔۔ چھوٹے چھوٹے کیوبیکلز بنے ہیں ۔۔۔ ان میں آپ جو بھی دیکھیں۔۔۔ کسی کو کیا پتا چلتا ہے۔۔۔ اب جو مواد اتنی آسانی سے گلی گلی میں میسر ہے اس سے آپ نئی نسل کو کب تک اور کیسے بچا پائیں گے۔۔۔ ایسا مواد دیکھ کر پھر وہی کام ہوتا ہے جو میں اوپر لکھ چکا ہوں۔۔۔
  • سب سے اہم وجہ۔۔۔ “بچوں کو اپنے پاوں پر کھڑا تو ہونے دیں۔۔۔ ابھی بہن کی شادی کرنی ہے۔۔۔ اپنا گھر بنانا ہے۔۔۔ شادی بھی ہو جائے گی”۔۔۔ جب تک ایک نوجوان یہ کام نہیں کر لیتا اس کے لیے اپنی شہوانی خواہشات کی تکمیل کا کوئی جائز طریقہ ہمارے معاشرے میں نہیں ہے۔۔۔ جبکہ اسلام کہتا ہے کہ سن بلوغت تک پہنچتے ہی شادی ہو جانی چاہیے۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔ ابھی تو نوجوانوں کو دوسری بڑی زمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔۔۔ اور ان زمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ ایسے گناہ کر جائے جس کی تلافی نا ہو سکے تو اپنے ساتھ ساتھ کئی زندگیاں برباد کر چکتا ہے۔۔۔
  • کہیں پڑھا تھا۔۔۔ ریفرنس یاد نہیں۔۔۔ “جب نکاح مہنگا ہو جائے تو زنا سستا ہو جاتا ہے”۔۔۔ یہی صورتحال اب پاکستان میں ہے۔۔۔ دکھاوا اس حد تک ہے کہ ایک پوری نسل قرض کے بوجھ تلے آ جاتی ہے، ایک شادی کے چکر میں۔۔۔ ہر طرح کا چونچلا کرنا ہے۔۔۔ مخلوط محفلیں سجانی ہیں۔۔۔ مہنگے کپڑے لینے ہیں۔۔۔ کھانا بہترین ہونا چاہیے۔۔۔ اور جو شخص اس طرح دھوم دھڑکے سے شادی کرنے کا متحمل نہیں۔۔۔ اس کے پاس کیا چوایس رہ جاتی ہے۔۔۔
  • مخلوظ نظام تعلیم۔۔۔ میں یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔۔۔ کہ جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ایسے ہی ہر انسان اس گناہ میں شریک نہیں۔۔۔ لیکن رجحان مخلوظ نظام تعلیم سے ہی شروع ہوتا ہے۔۔۔ جب جنس متضاد کی قربت محسوس ہو تو کئی قسم کے گھٹیا خیالات دماغ میں آتے ہیں۔۔۔ جو میں یہاں لکھنا نہیں چاہتا۔۔۔ صاحب عقل معاملے کی تہہ تک پہنچ چکے ہونگے۔۔۔
  • سزا کا خوف نا ہونا۔۔۔ بنیادی طور پر آخرت تو ہم بھول ہی چکے ہیں۔۔۔ لیکن معاشرتی اور ملکی قوانین کے تحت سزا کا بھی کوئی ڈر خوف نہیں رہا۔۔۔ جہاں کوڑوں اور سنگ باری جیسی سزاوں کا حکم ہے۔۔۔ انہیں غیر انسانی سزاوں کا نام دے کر حذف کروا دیا گیا ہے۔۔۔ تو اب کیسی سزا اور کیسا ڈر۔۔۔

میں ہمیشہ قرانی آیات اور احادیث مبارکہ کا ریفرنس دیتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ کہیں کوئی غلطی نا رہ جائے۔۔۔ میں نے یہ تحریر نہایت ایمانداری اور نیک نیتی سے لکھی ہے۔۔۔ کیونکہ میرا دل جلتا ہے ایسے واقعات کے بارے میں پڑھ کر اور اپنے معاشرے میں اس ناسور کہ پنپتے دیکھ کر۔۔۔ میرے پاس عمدہ الفاظ کا زخیرہ نہیں ہے لیکن جو محسوس کرتا ہوں وہ کوشش کی ہے کہ لکھ دوں۔۔۔ اور بھی شاید کچھ وجوہات ہونگی اس بے حیائی اور بے راہ روی کے پھلنے پھولنے کی۔۔۔

آپ کی آرا پڑھ کر خوشی ہوگی۔۔۔ اور اگر کہیں کچھ غلط لکھ دیا یا کسی کی دل آزاری ہو تو پیشگی معذرت قبول فرمائیں۔۔۔

والسلام۔۔۔

 

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

10 responses to “پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور زیادتی کے کیس

  • fikrepakistan

    اچھی تحریر ھے، لیکن اس بربادی کا جتنا زمہ دار آپ نے میڈیا اور انٹرنیٹ کو ٹھرایا ھے وہ کچھھ ٹھیک نہیں لگتا، لوگوں کو شعور دینے میں تعلیم عام کرنے میں میڈیا اور انٹر نیٹ کا بہت بڑا کردار ھے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا، میڈیا پہ تو کیو ٹی وی اور پیس چینل جیسے چینلز بھی آتے ہیں تو انکو دیکھ کر لوگ اثر کیوں نہیں لیتے ؟ چھری سے سبزی بھی کاٹی جاتی ھے اور کچھھ لوگ اسکا غلط استعمال کر کے بندہ بھی مار دیتے ہیں، تو اس میں چھری کو موردالزام ٹھرانا جائز نہیں لگتا۔ یہ جتنی بربادیوں کا ذکر آپ نے کیا ھے یہ سب ہمارے اپنے اندر کا کنجر پن ھے اور کچھھ بھی نہیں، اس کے لئیے میڈیا یا انٹر نیٹ جیسی نعمتوں کو الزام دینا ہرگز جائز نہیں ھے۔

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    ہم کہلواتے مسلمان ہیں۔لیکن اسلام کی بنیادی تعلیمات تک نہیں ہیں۔میں پڑھے لکھے حضرات کو معاشرے کی خرابی کا زیادہ قصوروار سمجھتا ہوں۔
    کہ انپڑھ جاہل دیہاتی کو میں پھر بھی اخلاقی طور پر بہتر پایا۔
    پڑھے لکھے شہریوں کو ہوس نے پاگل کیا ہوا ہے۔
    تعلیم چاہے دو جماعت تک ہی کیوں نہ ہو۔اخلاقیات پر ہونی چاھئے۔
    اسلام میں بھی سب سے زیادہ اخلاقیات پر ہی زور دیا گیا ہے۔

  • Aniqa Naz

    میرے خیال میں اس روئیے کی وجوہات میں سر فہرست وہ معاشرتی تبدیلی ہے جس سے ہمارا معاشرہ گذر رہا ہے۔ لیکن اس تبدیلی سے ہمواری سے گذرنے میں جو چیز حائل ہے وہ آگہی اور تعلیم کی کمی ہے۔
    ایک طرف یہ ہمارء ضرورت ہے کہ ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے خواتین آگے آئیں دوسری طرف فرسودہ روایات کی پابندیاں سخت ہیں۔ اب حالات ایسے ہیں کہ کواتین کو بھی گھر سے نکلنا پرتا ہے اگر وہ روزی روزگار کے لئے نہیں نکلتی تو اسے اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے اور گھریلو اشیاء کی خریداری کے لئے نکلنا پڑے گا نہیں تو ہسپتال جانے کے لئے نکلنا پڑے گا۔ دوسری طرف افسوس کے ساتھ کہ مردوں کی بنیادی تربیت میں سخت کمی ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک فیوڈل سوچ کے تحت ہم اس چیز کی فکر نہیں کرتے کہ خواتین کے معاملے پہ بھِ انکی تربیت ہونی چاہئیے، ان سے بھی پوچھنا چاہئیے کہ وہ گھر سے باہر وقت کیسے گذارتے ہیں، انکے بھی گھر واپس آنے کے اوقات ہونے چاہئیں۔ انکے دوستوں پہ بھی نظر ہونی چاہئیے۔ یہ ایک بالکل عام رویہ ہے جو گھروں میں دیکھا جاتا ہے کہ لڑکے اپنا کمرہ بند کر کے جو دل چاہے دیکھتے رہتے ہیں۔ گھر والے ان پہ کسی بھی قسم کی پابندی لگانے کے قابل نہیں ہوتے البتی انہی گھروں میں گھر کی لڑکیاں اپنی تعلیم آگے جاری رکھنے کے لئے انہی بھائیوں کی مرضی کی پابند ہوتی ہیں۔
    بنیادی اخلاقیات سب کے لئے یکساں ہونی چاہئیں۔ کیونکہ سب انسان مل کر ایک معاشرہ بناتے ہیں۔ سب سے بڑی ذمہ داری والدین پہ عائد ہوتی ہے۔ انہیں مناسب طریقے سے اپنے بچوں پہ اخلاقی ذمہ داری ڈالنی چاہئیے۔ انہیں اپنے بچوں کے رجحانات پہ نظر رکھنی چاہئیے۔
    اگر شادیوں میں سے نام و نمود نکال دیا جائے تو بھی یہ ممکن نہیں کہ بلوغت کے فوراً بعد شادی ہو جائے۔ آخر انہیں زندگی کو توازن سے گذارنے کی تربیت دینا بھی تو ضروری ہے۔ تو اس بدلے ہوئے معاشی نظام میں یہ ممکن نہیں کہ یہ ممکن نہیں کہ پندرہ سولہ سال کی عمر میں شادیاں ہونے لگیں۔ لازمی طور پہ ہمیں بچوں کے اوپر یہ دباءو تو رکھنا پڑے گا کہ انہیں ایک مقررہ سطح تک تعلیم حاصل کرنی ہے۔ اپنے تعلیمی سلسلے کو بہتر طور پہ مکمل کرنے کے بعد انہیں یہ آزادی دینی چاہئیے کہ وہ اپنی شادی میں اپنی پسند شامل کر سکیں۔
    ایک اہم چیز جو نظر انداز کی جاتی ہے وہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں ہمہ وقت مصروف رکھنا۔ انہیں اگر بہت زیادہ سرگرم حالت میں رکھا جائے انکے پاس ایسے ٹارگٹ ہوں جنہیں حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کرنی پڑے تو عموماً بےکار باتوں کی طرف دھیان نہیں جاتا۔
    بیشتر کیسز میں یہ غیر شادی شدہ نہیں بلکہ شادی شدہ افراد ہوتے ہیں جو اخلاقی بد حالی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ بات ہمیشہ نہیں کہی جا سکتی کہ شادی نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ مسئلہ اس لئے بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کرنے والے کو پتہ ہے کہ وہ ایک جرم کر کے نہ صرف بچ جائے گا بلکہ معاشرہ اسے برا بھی نہیں سمجھے گا۔

  • افتخار اجمل بھوپال

    آپ نے معاشرہ کا درست نقشہ پيش کيا ہے

    فکرِ پاکستان صاحب
    کا خيال کہ "چھُری سے سبزی بھی کاٹی جاتی ہے اور انسان کا گلا بھی” درست ہے
    ليکن بات سوچنے کی يہ ہے کہ ناسمجھ کے ہاتھ ميں چھُری پکڑا دی جائے تو وہ نہ سبزی کاٹے گا نہ پھل بلکہ کسی کا نہيں تو اپنا ہی ہاتھ کاٹ لے گا

    ہمارے ناسمجھ معاشرے کو ان عوامل تک رسائی دے دی گئی ہے جہاں عِلم و عمل کی سمجھ رکھنے والے کو ہی جانا چاہيئے

    يہ ميں انٹرنيٹ کے حوالے سے کہہ رہا تھا ۔ ٹی وی کا جہاں تک تعلق ہے ميں پاکستان کے نجی ٹی چينل صرف خبريں سُننے ديکھنے کيلئے لگايا کرتا تھا ۔ خبروں کے دوران جو اشتہارات آتے تھے وہ مجھے چہرہ دوسری طرف کرنے پر مجبور کرتے تھے ۔ اس کے باوجود ميں نے اپنے آپ کو گنہگار ہوتے محسوس کيا اور عرصہ دراز ہوا ميں نے ٹی وی ديکھنا ہی چھوڑ ديا

    رہی بات پيس ٹی وی کی تو پاکستان ميں بہت کم کيبل آپريٹر ہيں جو پيس ٹی وی دکھاتے ہيں ۔ کيو ٹی وی ميں کچھ پروگرام درست ہيں باقی اللہ کے فرمان اور رسول اللہ کی سنت سے مطابقت نہيں رکھتے

    مزيد ہمارے ملک کے کئی سکولوں ميں کم عمر لڑکے لڑکيوں کو رومانی ڈراموں کے اداکار بنايا جا رہا ہے ۔ اللہ اس وقت سے بچائے جو اہل مغرب پر کئی دہائيوں سے طاری ہے [سکولوں کے غُسلخانوں ميں نومولود بچے]

  • دلاورخان

    جناب جی اسں طرح کے کیس زیادہ تر پنجاب شریف میں زیادہ کیوں ھوتے ھے جی ۔؟؟؟

  • عمران اقبال

    محترم قارئین۔۔۔ سب سے پہلے آپ سب کا شکریہ کہ آپ نے میری تحریر پڑھی اور اپنے مفید تبصروں سے نوازا۔۔۔

    فکر پاکستان: آپ نے درست فرمایا۔۔۔ کہ سارا قصور انٹرنیٹ یا ٹی وی کا نہیں ہے۔۔۔ میں بھی انہیں مکمل طور پر قصور وار نہیں ٹھراتا۔۔۔ لیکن یہ میرا یقین کامل ہے کہ آج کل کی نسل کو اگر آسان برائی اور مشکل اچھائی میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو ہم آسان برائی کو ہی چنتے ہیں۔۔۔ ہم ایسی نسل سے کیا امید رکھ سکتے ہیں جنہیں رشتوں کی پاکیزگی تک بھول گئی ہے۔۔۔ اور جنہیں فحاشی اور بے حیائی کی با آسان میسر ہونے کی وجہ سے اپنی اخلاقیات تک بھول چکی ہیں۔۔۔ اجمل صاحب نے بہت عمدہ جواب لکھ دیا ہے اس بات کا۔۔۔

    یاسر بھائی: میں آپ سے متفق ہوں کہ آج کل اخلاقیات کا شدید ترین قحط پڑھے لکھے یا عرف عام میں کہا جائے تو مہذب طبقے میں پایا جاتا ہے۔۔۔ واقعی علم حاصل تو کر لیا لیکن اس علم اور ٹیلنٹ کو ہم نے کس جگہ ضائع کر دیا ہے۔۔۔ ہم نے علم اور ترقی کے نام پر اپنی تہذیب کو کہاں دفن کر دیا ہے۔۔۔ گاوں میں رہنے والے دیہاتی اس معاملے میں ہم سے سو گنا اچھے ہیں۔۔۔ وہ بے غیرتی کے اس ناسور سے بچے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگیاں مزید "کمپلیکیٹڈ” ہونے سے بچا لیں ہیں۔۔۔ ہمارے سادہ اور خوبصورت دین کو تھامے رکھ کر۔۔۔

    عنیقہ ناز صاحبہ۔۔۔ خوشامدید۔۔۔ اور شکریہ کہ آپ نے اپنی سوچ سے ہمیں آگاہ کیا۔۔۔ آپ کی کئی باتوں سے میں متفق ہوں اور کئ سے نہیں۔۔۔ آپ درست کہتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو وہ مساوات حاصل نہیں جو کہ اسلام کی رو سے ہونی چاہیے۔۔۔ ہم اب بھی بیٹوں کی پیدائش پر خوشیاں مناتے ہیں اور بیٹیوں کو اللہ کی دی ہوئی ایک زمہ داری سے زیادہ وقعت نہیں دیتے۔۔۔ بیٹوں کو ہم ہر وہ کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں جو بیٹیوں کے متعلق ہم سوچ ہی نہیں سکتے۔۔۔ بیٹا گھر آ کر سب کو اپنی نئی نئی گرل فرینڈز کے بارے میں بتاتا ہے اور ماں باپ فخر کرتے ہیں کہ ہمارا بیٹا کتنا قابل اور خوبصورت ہے کہ لڑکیاں اس کے گرد منڈلا رہی ہیں۔۔۔ اور اگر کبھی کہیں بیٹی اپنی محبت کے بارے میں بات بھی کر دے تو "کارا کاری” یا غیرت کے نام پر قتل بھی ہو جاتے ہیں۔۔۔
    لیکن عنیقہ صاحبہ۔۔۔ کیا آپ کو علم ہے کہ مرد اور عورت میں کسی حد تک تفریق تو اسلام نے بھی رکھی ہے۔۔۔۔ حاکم اور محکوم کی بات چھوڑ کر بھی ہم سوچیں تو ہمیں ہماری زمہ داریاں آسان الفاظ میں سمجھا دی گئی ہیں۔۔۔ مرد باہر کمانے کے لیے جاتا ہے۔۔۔ اور عورت کی زمہ داری گھر داری کرنا ہے۔۔۔ گھر داری بھی ایک فل ٹائم جاب ہے۔۔۔ اور اگر کوئی سیانی عورت اپنی یہ جاب سمجھ داری، اسلامی تعلیمات کے مطابق اور پوری جانفشانی سے کرے تو ہمارا معاشرہ جنت بن جائے۔۔۔ گھر میں بیٹے یا بیٹی کی تربیت ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے۔۔۔۔ ماں کا پہلی زمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اپنی اولاد کی اخلاقیات کی تربیت کریں۔۔۔ یہ کام باپ کا بھی ہوتا ہے لیکن جونکہ زیادہ تر وقت بچے ماں کے ساتھ گزارتے ہیں تو ہم یہ توقعات ماں سے وابستہ رکھتے ہیں۔۔۔ اور آج کل کے بےہودہ ماحول میں ماں باپ کی زیادہ زمہ داری بن جاتی ہے کہ نا صرف بنیادی ٹریننگ کی جائے بلکہ اب کھل کر ہر وہ مسئلہ اپنی اولاد سے ڈسکس کیا جائے جس کے بارے میں پہلے بات کرنا معیوب سمجھا جائے۔۔۔ کہتے ہیں نا کہ شریعت میں شرم نہیں۔۔۔

  • عمران اقبال

    افتخار اجمل صاحب۔۔۔ آپ کے تبصرے کے لیے میں بہت شکرگزار ہوں۔۔۔ میں آپ کی رائے سے سو فیصد متفق ہوں۔۔۔ اور پھر جو آپ لکھتے یا کہتے ہیں اس کے بعد میرے جیسے نا چیز کے الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کو میری تحریر پسند آئی۔۔۔

    دلاور خان: یہ کیس صرف پنجاب میں ہی نہیں ہیں بلکہ پورے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔۔۔ لیکن بدقسمتی یا خوش قسمتی سے صرف اردو یا پنجابی میڈیا ہی ایسے کیسوں کو ابھار رہا ہے۔۔۔ اور منظر عام پر لا رہا ہے۔۔۔

  • UncleTom

    یہ واقعی ایک اہم مسلہ ہے ، اس بارے میں ، میں نے بھی اپنے بلاگ میں کچھ لکھا ہے جسکا لںک یہ ہے
    http://uncletom.wordpress.pk/articles/%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%b1%da%a9%da%be%d9%86%d8%a7/
    عنیقہ آنٹی کے کمنٹس میں بھی اچھا تجزیہ ہے ، میں صرف ایک بات سے شاید تھوڑا سا اختلاف کروں کہ بچوں کی شادیاں چھوٹی عمر میں کرنا ہی ضروری ہے تبھی وہ سیدھے رہیں گے ۔ اور شادی کے بعد بھی پڑھای مکمل کی جا سکتی ہے ، یہ کوی انوکھی بات نہیں ہے میری کلاس میں کتنے ہی لڑکے ہیں جنکی شادی ہو چکی ہے اور وہ پڑھ رہے ہیں بے شک ان کی عمریں بھی زیادہ ہیں لیکن اگر وہ شادی کے بعد پڑھ سکتے ہیں تو باقی کیوں نہین ؟؟؟ خود میرے والدین نے اپنی ڈگریاں شادی کے بعد مکمل کی تھیں ، میرا ایک دوست ہے جو میرا ہی ہم عمر ہے اسکی شادی ہو چکی ہے ، وہ اور اسکی بیوی دونوں پڑھ رہے ہیں ۔

    بچوں کی جلد شادی نہ کرنے سے بھی بہت سی برائیوں کا وجود ہے ، مجھے خود ایک لڑکے نے آج بتایا کہ وہ ڈیسپریٹ { اس وقت اسکا متبادل اردو لفظ میرے ذہن میں نہیں} ہے ، میں نے اسکو کہا کہ گھر والوں کو کہو کہ تمہاری شادی کر دیں ۔ وہ کہتا ہے چار دفعہ گھر سے بھاگ چکا ہوں ، اور کتنے ہی طریقوں سے کہہ چکا ہوں لیکن وہ تیار نہیں،، وہ لڑکا میرے سے کئی سال بڑا ہے ۔ اور صرف شادی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کتنی برائیوں میں مبتلا ہے ۔

    میں جو اس قسم کے معاملات کو اپنے ارد گرد کے ماحول میں دیکھا ہے اس سے یہ ہی سمجھا ہوں کہ بچے کی منگنی کم سے کم سولہ اور سترہ سال کی عمر میں کر دی جاے اور شادی اپنے حالات کی مناسبت سے بائیس سے چوبیس سال کی عمر تک لازمی کر دینی چاہیے ، منگنی سے اسکو یہ احساس رہے گا کہ میری کسی سے کمٹمنٹ ہے یہ احساس بھی اسکو برے کام سے بچنے میں مدد دے گا ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: