کیا بے مقصد زندگی ہے۔۔۔

depression-drawing

بڑی بے مقصد زندگی ہے یار۔۔۔ ایسا تو پہلے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا۔۔۔ ہر چیز خالی خالی لگتی ہے۔۔۔ کوئی بھی بات، کوئی بھی منظر من کو پسند نہیں آتا۔۔۔ اتنا خالی پن تو کبھی زندگی کا حصہ ہی نہیں بنا۔۔۔  ہر چیز میں نقص ہی نظر آ رہے ہیں۔۔۔ ہر بات بری لگ رہی ہے۔۔۔

نا تو اللہ کے قریب ہوں اور نا اللہ کے بندوں کے۔۔۔ تنہائی میں رہتا ہوں تو تھوڑا سا سکون مل جاتا ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی نہیں معلوم کہ سوچ کیا رہا ہوں۔۔۔ کیا کر رہا ہوں۔۔۔ کیوں کر رہا ہوں۔۔۔ جیسا خالی دماغ لے کر بیٹھتا ہوں ویسا ہی لے کر اٹھ جاتا ہوں۔۔۔

اور یہ کیفیت گھر پر ہی نہیں بلکہ ہر جگہ مجھ پر سوار ہے۔۔۔ آفس میں اتنا سست کبھی نہیں تھا جیسا آج کل ہوں۔۔۔ لوگ بات کرتے ہیں اور میں ان کی سنتا بھی نہیں۔۔۔ پتا ہی نہیں چلتا کہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔ میز پر آفیشل ڈاکومنٹس کے انبار لگتے جا رہے ہیں۔۔۔ کاموں کی لسٹ لمبی ہوتی جا رہی ہے لیکن جیسے مجھے ان کی پرواہ ہی نہیں۔۔۔ جس کام پر مجھے فخر تھا۔۔۔ اب اس طرح کا کام مجھ سے ہو ہی نہیں پا رہا۔۔۔

اماں ابا الگ پریشان ہیں کہ بیٹے کو کیا ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔ وہ پوچھتے ہیں اور میرے پاس ان کے کسی سوال کا جواب ہی نہیں ہوتا۔۔۔

سب سے تکلیف دہ کیفیت یہ ہے۔۔۔ کہ نماز میں دل نہیں لگتا۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کھڑا ہوا، زمیں پر گرا، بیٹھا اور مسجد سے نکل آیا۔۔۔ پھر یہ کیفیت ہوگئی کہ آذان سنتے ہی بے چینی بڑھ جاتی ہے۔۔۔ دل چاہتا ہے کہ مسجد کے علاوہ کہیں بھی نکل جاوں لیکن مسجد نا جاوں۔۔۔۔ وہاں کچھ زیادہ ہے بے مقصدیت کا احساس بڑھ جاتا ہے۔۔۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔ وہ ہر وقت ہنسنے کھیلنے والا شخص کہاں کھو گیا ہے۔۔۔ مجھے ہنسنے سے نفرت کیوں ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ مجھے لوگوں کے ہجوم سے گھن کیوں محسوس ہو رہی ہے۔۔۔

زندگی بے مقصد کیوں لگ رہی ہے۔۔۔ ؟؟؟ شاید میری یہ تحریر بھی میری سوچ کی طرح بے مقصد ہی ہے۔۔۔

والسلام۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

14 responses to “کیا بے مقصد زندگی ہے۔۔۔

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    ہممممم
    نماز میں دل نہیں لگتا تو۔۔ ٹکریں ماریں اور صرف فرض ہی پڑھ لیا کریں۔
    خضوع و خشوع جسم و دماغ سے نماز میں آتا ہے۔
    بس اللہ میاں سے دل ہی دل میں بات چیت کرتے رہا کریں۔
    ذہن پر سکوں ہو جائے گا۔
    جب میری عمر پچیس سے تیس کے درمیان تھی تو میرا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔
    ہر کسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔
    کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔

  • abdullah adam

    mera apna yei haal hay

    shaid iss ki wja yeh hay k hum allah k sath””set”” hinay ki koshish he nhe krtay

  • Asma

    We feel wonder what is the real aim of our existence, why are we there? Very lucky are those who find the answers of all above queries, and become successful to get their true aim of life. That is indeed disguise into "Serve Humanity

  • Zafri

    ہر انسان کی زندگی میں ایسا بارہا ہوتا ہے ۔ زندگی جمود کو پسند نہیں کرتی ۔ الجھن محسوس کرتی ہے ۔ ہماری صلاحیتیں نکھرنا چاہتیں ہیں ۔ مگر روزآنہ کی ایک مخصوص روٹین ان صلاحیتوں کو پیچھے دھکیل دیتیں ہیں ۔ جس سے اندر گھٹن پیدا ہوجاتی ہے ۔ انسان کا بیزار ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک پتھر کی طرح کسی راستے میں پڑا رہنا نہیں چاہتا ۔ بلکہ زندگی کے ہر اُس لمحے سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے ۔ جو اللہ نے اس کو بخشی ہے ۔ ورنہ ایسے بھی لوگ ہیں جو کوٹھری میں پیدا ہوتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں ۔ مگر اپنی زندگی کے وجود کے اسباب کو سمجھ نہیں پاتے ۔ آپ کے اندر وہ تمام محرکات ہیں ۔ جو اس سوچ کو ظاہر کرتے ہیں کہ اپنے وجود کے اسباب کی تلاش کیسے کی جائے ۔ اور یہی سوچ شعبہِ ہائے زندگی میں بڑے بڑے نام پیدا کرتی ہے ۔ یہ بیزاریت نہیں جستجو ہے ۔ یہی جستجو تحقیق بنتی ہے ۔ اور تحقیق علم کے دروازے وا کرتی ہے ۔ آپ اس احساس کو منفی راستے میں ڈال کر نااُمیدی پیدا نہ کریں ۔ بلکہ اپنے آس پاس دیکھیں کہ کن کن لوگوں کو آپ کی ضرورت ہے ۔ یقین مانیئے آپ کو اپنے ہونے کا جواز مل جائے گا اور اپنی بیزاریت کا سبب بھی سمجھ آجائے گا ۔
    رہی نماز میں دل نہ لگنے والی بات تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے ۔ ایسا تقریباً ہر انسان کے ساتھ ہوجاتا ہے ۔ اللہ اپنے بندوں کا حال جانتا ہے ۔ بس نمازیں نہ چھوڑیں ۔ ایک دن یکسوئی حاصل ہوجائے گی ۔

  • افتخار اجمل بھوپال

    جس کيفيت کا آپ نے ذکر کيا ہے طاری ہونا کوئی عجوبہ نہيں ہے ۔ زندگی کا مقصد انسانوں ميں تلاش نہ کيجئے کيونکہ اکثريت ہميشہ سے بھٹکی رہی ہے ۔ فی الحال اپنے اس کام کو بھگتايئے جس کے عوض آپ کو رزق ملتا ہے ۔ پھر اگر وقت ملے تو اس کتاب کا مطالعہ کيجئے جو سار جہان کے خالقق و مالک نے ہميں عطا کی ہے اور اسے سمجھنے کی کوشش کيجئے ۔ فالتو وقت ميں مندرجہ ذيل ويب سائٹ کو کھولئے اور پڑھيئے

    http://www.allamaiqbal.com

  • Saad

    کسی ماہر نفسیات سے مشورہ کریں شاید وہ کچھ بتا سکے۔

  • fikrepakistan

    آتے نہیں ہیں زلزلے بلا سبب عدم
    ارماں کسی کے زیر زمین مچلتے ہونگے۔

    انسان خوش ھوتا ھے تو اس کے پیچھے بھی وجہ ہوتی ھے، اور اداس ھوتا ھے تو اس کے پیچھے بھی وجہ ھوتی ھے، یہ ضروری نہیں کے معمالات خود ہمارے ساتھھ ہی ھوں تب ہی ہم خوش یا اداس ھوں، اکثر اوقات ایسا بھی ھوتا ھے کہ ہمارے پیاروں کے ساتھھ جو اچھے یا برے معاملات ھوجاتے ہیں وہ ہمارے مزاج پر بھی اثر انداز ھوتے ہیں۔ جو کیفیت آپ نے بیان کی ھے وہ بے سبب نہیں ھے کہیں نہ کہیں کچھھ ٹوٹا ھے کہیں نہ کہیں کچھھ بکھرا ھے، ان معمالات کی طرف دھیان کیجئیے اور جہاں بھی سوراخ ملے اسے بھرنے کی کوشش کیجئیے، جواب مل جائے گا آپکو۔ نماز اور تلاوت بہترین علاج ہیں ذہنی سکون کے لئیے اپنے اس فعل کو جاری رکھئیے۔

  • امن ایمان

    اقبال آپ بالکل بھی فکر نہ کریں۔۔۔آپ پر بھی آج کل بیزاریت کا سایہ معلوم ہوتا ہے۔۔۔مجھے بھی اس طرح کے حالات کا سامنا تھا لیکن اللہ کا شکر ہے میں کچھ دن بعد کافی حد تک ٹھیک ہوگئی۔۔۔آپ بھی ذرا دھیان سے سوچیں۔۔۔آپ کسی کے انتظار میں تو نہیں۔۔؟؟ چیز یا انسان انتظار دونوں کا ہو تو سکون ختم ہونے لگتا ہے۔(میرے ساتھ تو ایسا ہی ہوتا ہے)

  • امتیاز

    ارے جناب اس کا اپکو بہت آسان سا حل بتاتا ہوں ۔۔
    باہر گلی میں جائیے دن کے وقت جہاں کچھ بچے کھیل رہے ہوں چھوٹے چھوٹے ۔۔
    ان کا کچھ دیر مشاہدہ کیجیئے ان کی مسکراہٹیں دیکھیے ان کی توانائی کا مشاہدہ کیجِئے۔۔
    they will bring you back to life..
    اور کسی دیہاتی سے ماحول میں اگر میسر ہے تو کچھ سادہ سے لوگوں کو کسی مقامی کھیل میں مشغول مشاہدہ کیجیئے ۔۔ زندگی کچھ منٹوں میں نہیں تو گھنٹوں میں ضرور لوٹ آئے گی۔۔

    ایک اور کام بھی کر سکتے ہیں۔ اگر کبھی باکسنگ سے کوئی شناسائی رہی ہو تو باکسنگ سے پہلے جو باکسر موومنٹ کرتا ہے وہ کیجئیے ۔۔
    just push urself..

  • ناعمہ عزیز

    کبھی یوں ہوا کہ تیری یادنے میری نمازیں قضا بھی کیں،،
    کبھی یوں ہوا کہ تیری یاد نے مجھے میرے رب سے ملا دیا۔
    انسان زیادہ تر لاحاصل کی تلاش میں ہی بے سکون ہوتا ہے۔ اگر آُپ کو ان سب مشوروٕٕں کے بعد بھی سکون نا ملے تو کسی کمرے میں اکیلے بیٹھ جائیں اور وہ خوب جی بھر کے رو لیں۔ دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے گا۔ یا پھر کسی شام اکیلے چھت پہ بیٹھ جائیں اور اللہ تعالی سے باتیں کریں ہر وہ بات جو آپ کسی اور کو نہیں کہہ سکتے۔ دورد شریف پڑھتے رہا کریں اس سے مضطرب دلوں کو سکون ملتا ہے۔ اور نماز کی پابندی رکھیں۔ میرا بھی آج کل کچھ ایسا ہی حال ہے پر میں خود بھی کنٹرول کر لیتی ہوں۔

  • حجاب

    عمران ۔۔۔ آپ کی پوسٹ پڑھ کے یوں لگا جیسے آپ نے وہ سب کچھ لکھ دیا ہے جو میں جان بوجھ کے نہیں لکھتی ۔۔۔ اس طرح سب کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔ اپنی ہر سوچ کو پسِ پشت ڈال کر ان لوگوں کو کچھ دیر کے لیئے سوچا کریں جن کے پاس وہ کچھ نہیں میسّر جو آپ کے پاس ہے ۔۔۔ پھر ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اچھی لگے گی ۔۔۔ پھول پودے اگر ہیں گھر میں تو دیکھا کریں ۔۔۔ 🙂

  • عمران اقبال

    حجاب، ناعمہ، امتیاز، امن ایمان، فخر پاکستان، سعد، افتخار اجمل صاحب، ظفری، اسماء اور یاسر بھائی۔۔۔ آپ سب کے تبصروں اور مشوروں کا بہت شکریہ۔۔۔ میں آپ سب کے خلوص کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور آپ کے مشوروں پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔ آپ سب سے دعا کی درخواست ہے۔۔۔
    والسلام۔۔۔

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    اللہ تعالٰی آپکے دل کو سکون جیسی نعمت سے سرفراز کرے اور ہمیشہ سرفراز رکھے۔ آمین۔

    عمران اقبال بھائی!

    یہ اتنا پرشان کن مسئلہ نہیں۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا ضرور ہوجاتا ہے۔ کسی پہ اس کیفیت کا دو رانیہ زیادہ ہوتا ہے کسی پہ کم۔ اور اللہ کا فضل شامل حال رہے تو ایک دن گیر محسوس طریقے سے یہ کفیت ختم ہوتے ہوتے یکسر ختم ہوجاتی ہے۔

    عموما اداسی کی دو بڑی وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک اسباب ظاہری ہوتے ہیں اور یہ بیرونی اداسی میں لی جاتی ہے۔ دوسری قسم کی اداسی کے اسباب واضح نہیں ہوتے اور قسم اندرونی ہوتی ہے جس کا بیرونی دنیا کی کسی شئے سے تعلق نہیں ہوتا۔

    پہلی قسم کی اداسی کے اسباب معلوم کر کے ان پہ کسی طور۔ کسی حد تک قابو پا کر اداسی کو ختم یا کم کیا جاسکتا ہے۔ مگر اندرونی اداسی جس کا بظاہر باہر سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا مگر دل کو بے چین رکھتی ہے۔ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ اور اس پہ قابو پانے کے بھی کئی ایک طریق ہیں۔

    اول تو آپ ہر اس معاملے سے جان چھڑا لیں جو آپ کو گراں گزرتا ہے۔
    دوئم۔ اپنے ماضی کو ٹتولیں کیا اسمیں کسی ناپختگی کا کوئی شعوری یا لاشعوری حوالہ ملتا ہے۔ اگر تو یوں ہے۔ تو کوشش کریں دل میں چھپی سبھی خواہشوں، یادوں، جن کا تعلق عمر کے سی دور سے ہو۔ یا کسی جگہ یا اپنے آباء یعنی جیسے دادا، دادای ، یا کوئی اور عزیز رشتے دار وغیرہ سے ہو ۔ جس سے آپ کو انسیت رہی ہو، یا کچھ اسطرح کا کوئی واقعہ یا عمر کا کوئی دور وغیرہ۔ ایسی صورت میں جب بھی ممکن ہو انھی جگہوں کو یا عزیز و اقارب وغیرہ سے دوبارہ ملیں ۔ وہ جگیں گھومیں۔ وہاں ایک بار نہیں بار بار جائیں۔ یہ ایک قسم کی تھراپی ہے جس سے ہاتھ سے چھوٹے وقت کے دہاگے کسی حد تک دوبارہ مل جاتے ہیں۔

    ایک حل یہ بھی ہے کہ اپنی زندگی کی روٹین بدلیں اور صرف وہ کچھ کریں جس سے آپ اطیمنان ملے۔ لوگوں سے ملے جلیں اور پاکستان میں کسی غریب بچے کی تعلیم کا بوجھ اٹھا لیں۔ اس کے تمام اخراجات گودلے لیں۔ اگر نہیں تو اس سے ملتا جلتا کوئی اور کام اپنے ذمے لگا لیں۔ کسی کے کام آئیں۔ جن کو آپ جیسی نعمتیں میسر نہیں انکے مصائب میں انکا ہاتھ بٹائیں۔ دل خود بخود آمادہ کار ہو جائے گا۔ جو نہیں رہا اس پہ پشیمان نہ ہوں اور جو میسر ہے اس پہ اللہ کا شکر ادا کریں۔

    خدا آپکو سکون قلب عطا فرمائے۔ آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: