ابا جان عرف سر جی

ابا جان بڑے سخت ہیں۔۔۔ اور پھربڑے کٹر معلم یعنی استاد بھی ہیں۔۔۔

سکول میں جب ان کا پیریڈ ہماری کلاس میں لگنے کا کوئی چانس ہوتا تھا تو منتیں ماننے والوں میں سب سے پہلے میں ہوتا تھا کہ اللہ میاں سر جی کا پیریڈ ہماری کلاس میں نا لگوانا۔۔۔ پورے دس نفل پڑھوں گا۔۔۔

یہ سن عیسوی 1993 کا زکر ہے  ابا جان یعنی سر جی ہمیں میتھ میٹکس پڑھاتے تھے۔۔۔ اب میرے جیسا نکما بچہ جو حساب کتاب اور پھر سر جی کے پڑھانے کے انداز سے زہنی مطابقت ہی نہیں رکھتا تھا، ڈرتا گھبراتا سر جی کی ہاں جی ہاں جی میں سر دائیں سے بائیں گھوماتا رہتا تھا کہ جیسے سب سمجھ آ رہا ہے جی۔۔۔ وہ الگ بات ہے کہ جب سر جی کلاس میں ٹیسٹ لیتے اور میں اعلی اور امتیازی نمبروں سے فیل ہوتا تو جہاں فیل یافتہ طلباء کو دو دو ڈنڈے ہاتھوں پر پڑتے تھے، مجھے ان گنت ڈنڈوں کا سواد ملتا تھا اور اب یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہ کہاں کہاں ملتا۔۔۔ بس کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ کہیں بیٹھا ہوں یا نہیں۔۔۔

ابا جان بہت نفیس آدمی ہیں۔۔۔ سکول کے تقریبا سارے طلبا ان کے مداح تھے۔۔۔ لیکن میں ہی ایک ایسا جانباز تھا جس نے ان کے “مجھ” پر تشدد کے خلاف بغاوت کا علم اٹھایا اور بھر پور سیاسی انداز میں امی جان سے پرنسپل کو فون کروا دیا۔۔۔ کہ جی “ میں سر جی کی بیگم نہیں بلکہ ان کے ایک شاگرد کی والدہ کے طور پر بات کر رہی ہوں۔۔۔ سر جی نے میرے معصوم بچے پر پھر سے قہر نازل کیا ہے اور معصوم بچہ دن رات  درد سے کراہتا رہتا ہے۔۔۔ آپ سر جی کو پابند کریں کہ جتنی سزا باقی بچوں کو ملتی ہے اتنی ہے میرے معصوم بچے کو دیا کریں۔۔۔ نا کم نا زیادہ”۔۔۔ پرنسپل صاحب نے امی جان کو یقین دہانی کروائی کہ سر جی کو قانون کی پاسداری پر پابند کر دیں گے۔۔۔ میں اپنی اس کامیابی پر پھولے نہیں سما رہا تھا۔۔۔ آج پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ آج سر جی میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔۔۔ خیر۔۔۔ سر جی کا ٹیسٹ اور پھر سزا کا مرحلہ بڑی آسانی سے گزر گیا اور امی کی سفارش رنگ لائی۔۔۔ میں حسب معمول فیل ہو گیا لیکن خلاف توقع مجھے وہ دو ڈنڈے بھی نہیں پڑے ۔۔۔ میں حیران تھا کہ سر جی کے دل میں اتنی پدرانہ شفقت کیسے امڈ آئئ۔۔۔

لیکن پھر اچانک دل میں  ایک ہوک سی اٹھی۔۔۔ چھٹی حس مشکل وقت کے آمد آمد کی نوید سنا رہی تھی۔۔۔ لیکن یہ مشکل وقت ہو گا کیا کیسا۔۔۔ سر جی کی مار سے تو چھٹکارا مل گیا تھا۔۔۔ اب اس سے زیادہ مشکل وقت اور کیسا ہو سکتا ہے۔۔۔

تھکا ہارا سکول سے گھر پہنچا۔۔۔ اور امی کی مدد کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ اماں خاموش کھڑی دروازے کو تک رہی تھیں۔۔۔ ابا جی بھی سکول سے تشریف لا چکے تھے۔۔۔  نہایت شفقت سے مجھے مخاطب ہوئے۔۔۔ کہ “بیٹا، ہر بار کلاس ٹیسٹ میں فیل ہوتے ہو۔۔۔ میری ناک کیوں کٹواتے ہو۔۔۔ آج سے شام کو تم مجھ سے پڑھا کرو گے۔۔۔” میں نے مجبورا اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔ لیکن ان کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ کہنے لگے۔۔۔ “سکول میں تو تمہاری والدہ کی سفارش نے تمہیں بچا لیا۔۔۔ لیکن گھر میں تو کوئی پرنسپل صاحب نہیں ہیں۔۔۔”

اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ سواد مجھے اس دن بھی ملا۔۔۔ بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ جگہوں پر ملا۔۔۔

نوٹ: مجھے خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بہت عرصے بعد ایک ہندی فلم “تارے زمن پر” بھی بنا ئی گئی ہے۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

5 responses to “ابا جان عرف سر جی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: