محلے کی آنٹی

برے دنوں کا ذکر ہے۔۔۔ایک محلے میں ایک خاتون رہا کرتی ہیں۔۔۔ عمر کی تو اتنی پکی نہیں لیکن آس پاس کے ہمسائے نا جانے کیوں انہیں آنٹی کہہ کر عزت بخشتے ہیں۔۔۔

آنٹی اتنی ذہین تو نہیں لیکن انہیں بڑی بڑی باتیں کرنے کا بڑا شوق ہے۔۔۔ انگریزی زبان کی بڑی دلدادہ ہیں لیکن شو مئی قسمت انگریزی بولنے میں مار کھا گئیں۔۔۔ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا ہےکہ اردو کو منہ گھما کر انگریزی لہجے میں بول کر رعب جمانے کی ناکام کوشش کرتی ہیں۔۔۔  آنٹی فلاسفر بننے کی مسلسل کوشش میں ہیں۔۔۔ لیکن دماغ میں خون کی مکمل فراہمی نا ہونے کے باعث اب تک فلاسفر کے انگریزی ہجے ہی یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔۔۔

اب جب آنٹی “کہلاتی” ہی ہیں تو آنٹی “بننے” کا بھی بڑا شوق ہے۔۔۔ اکثر چیخ چلا کر سارے محلے کو روشن خیالی کی تبلیغ کیا کرتی ہیں۔۔۔ اپنی ہاں میں ہاں ملوانے کے لیے دو عدد بارہ سنگھے پال رکھے ہیں۔۔۔ اگر عام عوام میں سے کبھی کوئی ان کی روشن خیالی کے خلاف  اٹھ کھڑا ہوتو وہ اپنے دونوں پالتووں کو ان پر چھوڑ دیتیں ہیں۔۔۔اور وہ پالتو مگر بہادر بارہ سنگھے تب تک پرائی لڑائی سے اپنے سینگھ نہیں نکالتے جب تک عوام ان کو ذلیل کر کر کے ادھ موا نا کر دیں۔۔۔ معلوم نہیں کیا کھلاتی ہیں انہیں کہ پھر بھی یہ بارہ سنگھے آنٹی کے لیے سماج سے لڑ جاتے ہیں۔۔۔ شاید آنٹی کے ہاتھوں ذلالت کی بیعت لے چکے ہیں۔۔۔

آنٹی کو “عورت” زات سے بڑا بیر ہے۔۔۔ محلے کی کم و بیش تمام خواتین سے پھڈے بازی کر چکی ہیں۔۔۔  اور تو اور انہیں وہ مرد حضرات بھی بہت کم ظرف محسوس ہوتے ہیں جو خواتیں کی عزت کرتے ہیں۔۔۔ کیونکہ بقول آنٹی وہ “بلاوجہ” عزت نہیں کرتے۔۔۔ کوئی نا کوئی تو بات ہو گی۔۔۔ خیر تو بات چل رہی تھی آنٹی کے خواتین کے ساتھ ان گنت مسائل کی۔۔۔ محلے کی خواتین نے ان کے رویے کی وجہ یہ نکالی کہ چونکہ آنٹی خود حسن کی دولت سے مالامال نہیں، اس لیے انہیں دوسری حسیناوں سے حسد ہے۔۔۔ اور مرد حضرات یہ چہ مگوئیاں کرتے کہ کیونکہ ہم آنٹی کو کوئی لفٹ نہیں کرواتے، اس لیے انہیں دوسری عزت دار خواتین نہیں بھاتی۔۔۔ اب حقیقت کیا ہے۔۔۔ یہ آنٹی جانیں یا اللہ میاں۔۔۔

آنٹی روشن خیالی کی ایک زندہ مثال ہیں۔۔۔ خواتیں کی بے پردگی کو جائز ٹھراتے ہوئے “حجاب” کی بھرپور مذمت کرتی ہیں۔۔۔ ان کا مقصدِزندگی ہے کہ اسلام میں جکڑی ہوئی خواتین کو آزادی دلائیں اور ان میں شعور پیدا کریں کہ وہ عورت نہیں، ایک “کموڈیٹی” ہے۔۔۔ جس کا مقصد “دکھی انسانیت” کی ہمیشہ ہمیشہ خدمت کرنا ہے۔۔۔

آنٹی کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ “متحدہ قومی مردار” کے قائد “چلبل پانڈے عرف بھیا جی” کے ہاتھوں بالمشافہ بیعت لینا ہے۔۔۔ آنٹی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر پاکستان میں رہتے ہوئے “گوری میم عرف بڑی آنٹی عرف ملکہ الزبتھ” کے ایجنڈوں پر عمل کرنے کی قسم کھائی ہے اور اب ان کی پوری کوشش ہے کہ محلے کی کچھ کمسن بچیاں ہی لونگ سکرٹ پہن کر “بھیا جی – زندہ باد” کا نعرہ لگا دیں۔۔۔

آنٹی کو “ادب” بہت پسند ہے۔۔۔ مسندِبارہ سنگھا سے یہ شعر ان کو بہت پسند ہے:
آوٰ بچو سیر کرائیں تم کو “بلاگستان” کی۔۔۔
جس کی خاطر سہی ذلالت ہم نے دنیا جہاں کی۔۔۔

ادب کی خاطر ان کی قربانیاں رہتی دنیا یاد کی جائیں گی۔۔۔ انہوں نے ادب کے لیے ہر قسم کے ادب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بے ادبی کی انتہا کی ہے۔۔۔ اور پھر بھی دوسروں سے ادب کی امید رکھتی ہیں۔۔۔ آخر آنٹی ہیں تو ان کا ادب کرنا تو “بنتا ہے نا باس”۔۔۔

محلے والوں نے اس جمعہ کو بعد از نماز جمعہ “آنٹی” کی دماغی صحت مندی کے لیے خصوصی مولوی کا انتظام کیا ہے۔۔۔ جو اللہ کے حضور رو رو کر آنٹی کے لیے دعا مانگے گا۔۔۔ آپ سب صرف آمین ہی کہہ دو۔۔۔ شاید آپ کی ہی سنی جائے اور محلے والے آپ کے ممنون ہو جائیں۔۔۔

ٓٓٓٓٓٓٓۤ———————————————————————————

میری اس تحریر کا کوئی سر پاوں نہیں۔۔۔ لیکن آنٹی کی باتوں کا بھی تو کوئی سر پاوں نہیں ہوتا نا۔۔۔ اس لیے جس نے میری یہ تحریر پڑھی ہے اس پر فرض ہے کہ وہ اسے نا صرف پسند کرے بلکہ اچھا سا تبصرہ بھی کرے۔۔۔ ورنہ گناہ میں برابر کا شریک ہوگا۔۔۔

ۤۤۤۤۤۤۤۤۤٓٓٓٓٓٓٓ

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

41 responses to “محلے کی آنٹی

  • aisha

    hahaha good..it means tum acha mazha b likh laty ho..jo ka aik mushkil kam hai..God bless u and save u from this anty .

  • Tweets that mention محلے کی آنٹی « دائرہ فکر… عمران اقبال -- Topsy.com

    […] This post was mentioned on Twitter by Urdublogz.com, Imran Iqbal. Imran Iqbal said: محلے کی آنٹی http://wp.me/p12iX2-60 […]

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔ عمران بھائی! لگتا ہے آپکی آنٹی سے ٹھن گئی ہے۔ آپ بھی بڑے "انتہاء پسند” ثابت ہوئے ہیں۔ بار سنگھا کے ذکر کے ساتھ آپ نے شاگرد ہر دل عزیزی کا ذکر نہیں کیاـ؟

    ویسے آپ نے مزاح کریٹ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

  • غلام مرتضیٰ علی Ghulam Murtaza Ali

    محترم عمران اقبال صاحب
    آپکی اس پوسٹ پر کوئی تبصرہ کیے بغیر میں آپکے بلاگ کی پیشانی پر درج حکیم الامت کے اس لافانی شعر کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔
    ہوس نے کر ديا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
    اخوت کا بياں ہو جا ، محبت کی زباں ہو جا
    وما علینا الاالبلاغ

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    بہت اچھے جی۔۔۔۔۔
    لیکن آپ نے جو جمعہ کی نماز بعد مولوی صاحب کا بندوبست کیا ہے نا۔۔۔آپ غلط فہمی ہوگئی ہے۔
    وہ تو مولبی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • عامر

    عمران صاحب!
    آپ کا اشارہ عنیقہ ناز کی طرف ہے؟

    کیا آپ سب ذاتیات کو چھوڑ نہیں سکتے؟ گناہ ثواب کی تو بات کیا، یہ تو اخلاقیات کے عام اصولوں کے مطابق بھی بہت نیچ حرکت ہے!
    قوم ترقی کیسے کرے؟ قوم تو ہم ہی ہیں نا!، سقوط بغداد کے وقت بھی عوام و خواص اسی طرز کے مکالمات و مناظرات میں پیہم مشغول تھے!!!
    اگر ہم یہ ذاتیات چھوڑیں تو کوئی تعمیری تحریر سامنے آسکے!!!

  • بلا امتیاز

    ارے عمران ۔ ۔ ۔
    انداز تحریر بہت خوب ہے
    لیکن
    جو ہمدردی کے لائق ہو ان پر غصہ نہیں کیا جاتا۔۔

  • وقار اعظم

    ہمممم، یعنی کہ ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے، ہاہاہاہا۔۔۔۔
    یار ٹھوڑی تحقیق ضرور ہونی چاہیے کہ آنٹی اپنے باراسنگھوں کو کیا کھلاتی ہیں۔۔۔۔۔
    اور آخری بات یہ کہ اب مجھ میں مزید گناہ سمیٹنے کی ہمت نہیں ہے لہذا۔۔۔۔۔
    بہت خوب، کیا کہنے تحریر کے اور جزاک اللہ خیر۔۔۔۔
    :mrgreen:

  • فیصل

    میری ناقص رائے میں اس پوسٹ کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اگر کسی سے اختلاف ہو تو منطقی جواب دیا جا سکتا ہے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو نظر انداز ہی کر دینا بہتر ہوتا ہے۔
    باقی آپکا بلاگ ہے اور آپکی مرضی۔۔۔

  • ضیاء الحسن خان

    مولوی صرف دعا کروائے گا …………. اور اتنی روشن خیالی کے بعد تو تجدید نکاح اور ایمان کی بھی ضرورت ہوتی ہے

  • عمران اقبال

    سب سے پہلے تو میں اس بات سے پورا اتفاق کرتا ہوں کہ واقعی اس پوسٹ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ ہمیں واقعی "ذاتیات” پر نہیں اترنا چاہیے۔۔۔ اور بقول عامر بھائی میری یہ تحریر نہایت نیچھ حرکت ہے۔۔۔ میں اس بات سے بھی پورا پورا اتفاق کرتا ہوں۔۔۔

    لیکن یہ اصول صرف میرے لیے ہی کیوں ہے۔۔۔؟ جس تحریر کے جواب میں یہ تحریر لکھی گئی ہے، اُس تحریر کی مذمت کیوں نہیں کی گئی؟ اگر اُس تحریر کی مصنفہ کی یہ لاجیک ہے کہ ان کی "اپنی رائے” ہے۔۔۔ تو پھر میں بھی بڑے وثوق سے یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ میری یہ تحریر بھی میری "ذاتی رائے” ہے۔۔۔

    @ عائشہ۔۔۔ شکریہ تعریف کے لیے۔۔

    @ جاوید گوندل صاحب۔۔۔ میرا ماننا یہ ہے کہ "بیماری” کو نظر انداز کرنے سے بیماری پھیلتی ہے۔۔۔ کم از کم اس کی تشخیص تو ہونی ہی چاہیے۔۔۔ اور پھر علاج تو کوئی نا کوئی کر ہی دے گا۔۔۔ شکریہ میرے مزاح کو سمجھنے کے لیے۔۔۔

    @ غلام مرتضیٰ صاحب۔۔۔ میری اس تحریر پر تبصرہ نا کرنے کے لیے شکریہ۔۔۔ آپ نے اگر میرے بلاگ کی باقی تحاریر پڑھی ہیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ میں جذبہ اخوت اور محبت کا بڑا حامی ہوں۔۔۔ لیکن طنزو مزاح میرا بھی حق ہے۔۔۔ اب طنز و مزاح کے لیے میں کوئی الگ بلاگ تو بنانے سے رہا۔۔۔

    @ یاسر بھائی۔۔۔ میں مولبی صاحب کو اس تنازعے میں شامل کرنا ہی نہیں چاہتا۔۔۔ اور ویسے بھی سعودیہ میں بیٹھ کر غائبانہ دعا کروانے کا فائدہ نہیں۔۔۔ کراچی کے محلے کے لوکل مولوی ہی یہ خدمت انجام دے دیں گے۔۔۔

    @ عامر صاحب۔۔۔ نا تو میں نے کوئی نام لیا اس تحریر میں اور نا آپ کو لکھنا چاہیے تھا۔۔۔ اخلاقیات کے عام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، مصنفہ نے نام لے کر اپنی تحریر میں دوسروں کا نا صرف مذاق اڑایا ہے بلکہ "ذاتیات” پر وہی اتری ہیں۔۔۔ اگر آپ نے "دائرہ فکر” کا پورا دورا کیا ہے تو آپ کو یہاں زیادہ تر تعمیری تحاریر ہی ملیں گی۔۔۔

    @ امتیاز بھائی۔۔۔ شکریہ۔۔ بڑے دن بعد آپ کا کوئی تبصرہ آیا۔۔۔ بہت اچھا لگا۔۔۔ واقعی وہ ہمدردی کے قابل ہیں۔۔۔ لیکن میں نے تو صرف اتنی جسارت کی ہے کہ بیماری کی گردن پر ہی زرا ہاتھ مار لوں۔۔۔ شاید تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی بلڈ پریشر نارمل ہو جائے۔۔۔ 🙂

    @ وقار بھائی۔۔۔ اچھا کیا کہ تعریف کر دی آپ نے۔۔۔ ورنہ گناہ عظیم میں مبتلا ہو جاتے۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔ یار اب سارے کام میں ہی کروں۔۔۔ تھوڑی تحقیق آپ بھی کر لیں۔۔۔ کہ کس قسم کی اجناس بارہ سنگھوں پر ضائع ہو رہی ہیں۔۔۔

    @ فیصل بھائی۔۔۔ آپ کے تبصرے اور مشورے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ مجھے اختلاف بے شک ہے۔۔۔ لیکن خاموشی کسی چیز کا حل نہیں۔۔۔ میں نظر انداز کرنے کو تیار ہوں۔۔۔ لیکن مصنفہ نے بھرپور شوخی سے اپنی تحریر میں دوسرے کی ذات پر جو انگلیاں اٹھائیں ہیں اور دوسروں کی ذاتی زندگی میں ٹانگ اڑانے کی جو کوشش کی ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔۔۔؟

  • QASIM

    nasihat karne walon se guzarish hai k wo anti ko bhi nasihat karen warna khamosh rahen ke ibtida imran ki taraf se nahin hai aur anti ye rawayya 1 se ziyadabar dikha cuki hain

  • QASIM

    apka tabsira mene tabsira karne k bad parha mai aap ke tabsire se 100 fisad ittifaq karta hun aur yahi bat mene kehne ki koshish ki thi magar aap k tabsire k bad us ki zarorat nahin rehti

    • عمران اقبال

      قاسم۔۔۔ ایک بار پھر شکریہ۔۔۔ امید ہے کہ اب دوبارہ مجھے ایسی "نیچھ” تحریر کی ضرورت نہیں رہے گی۔۔۔ اور سمجھنے والی بھی سمجھ چکی ہوں گی۔۔۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    ویسے عمران بھائی! اب آپ غصے کو جانے دیں۔ جو ہوا سو ہوا۔ ویسے بھی وہ کیا کہتے ہیں کہ مرد بردبار ہوتا ہے۔ اور انکے خاتوں ہونے کے ناطے ہم پہ انکی عزت کرنا فرض بنتا ہے۔ وہ خواہ کچھ بھی کہیں لکھیں۔ ہر کسی کو اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا حق ہے جسمیں بہرحال ہمیں دوسرے کی عزت کا خیال رکھنا چاہئیے تاوقتیکہ وہ آپ کی عزت کا خیال رکھے اور جینا دوبھر نہ کر دے۔

    پہلے میں سمجھا شاید یہ جعفر بھائی کی مزاحیہ مگ طنزیہ تحریر پڑھ رہا ہوں پھر سے آپ کا نام دیکھا۔ آپ نے اپنے شکوے کو جس پر مزاح انداز میں بیان کیا ہے اس وجہ سے سب مسکرائے ہونگے۔البتہ اگر آپ نے سیدھا سادا تنقید کی ہوتی تو شاید میرے سمیت سبھی قاری آپ سے اسطرح کرنے پہ شکوہ کرتے۔

    میری رائے میں بہر حال یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہے اور جواب آں غزل در جوآب آں غزل جاری نہیں ہونا چاہئیے۔

    • عمران اقبال

      جاوید بھائی۔۔۔ واقعی اب یہ سلسلہ بند ہو جانا چاہیے۔۔۔ دونوں طرف سے۔۔۔ بیماری کا بھی مستقل علاج ہو ہی جانا چاہیے۔۔۔ وہ بھی چپ اور ہم بھی چپ۔۔۔

      مزاح کو سمجھنے اور تعریف کے لیے بے حد شکریہ۔۔۔

  • ضیاء الحسن خان

    اب تو اپنے اوے گروپ کا مشہور جملہ لکھنا پڑے گا ـــــــــــــــــــــــــــ ایڈا تو مشوم 🙂

  • ڈفر

    میں تو صرف تصحیح رنا چاہتا ہوں ہ بارہ سنگھے ٹانگیں نہیں پھنساتے جھاڑیوں میں سنگھ الجھا بیٹھتے ہیں
    باقی نہ کیا جانے والا تبصرہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے 😀

    • عمران اقبال

      ڈفر پا۔۔۔ معذرت قبول فرمائیں۔۔۔ میرا جنرل کنالج اتنا اچھا نہیں بارہ سنگھوں کے بارے میں۔۔۔

      نا کیا جانے والا تبصرہ کر دیتے تو گناہ نا کماتے۔۔۔ یہ موقع بھی ہاتھ سے گنوا دیا۔۔۔ اور کتنا بوجھ ڈالو گے اپنے بائیں کندھے پر میرے بھائی۔۔۔ چلو کرو ایک ڈفری سے تبصرہ۔۔۔ شاباش۔۔۔

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    عمران ہمارے عالمی انجمن انتہا پسند اردو بلاگستان میں خوش آمدید

  • ماوراء

    واہ، آنٹی کی شہرت میں تو مزید اضافہ ہوا ہوا ہے:-)

  • جعفر

    اف توبہ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ خالی جگہیں مناسب الفاظ سے پر کرلیں
    میں ذرا آجکل بے ادبی کی بجائے ادب پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرنے میں پھاوا ہورہا ہوں

  • عبید فاروق

    واہ! کیا پوسٹ لکھ دی بھائی صاحب، اللہ آپ کے ہاتھوں اور انگلیوں کو سلامت رکھے-

  • تانیہ رحمان

    مجھے آنٹی کے بارے میں پڑھ کر اور جان کر بہت اچھا لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم اس آنٹی میں اتنی ہمت تو ہے کہ سچ کو سچ کہتی ہیں ۔ منافقیت سے کام لیتے ہوئے خود کچھ اور اور کریں کچھ اور ۔۔۔۔ مجھےاندازہ نہیں ہے کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا ۔۔۔ لیکن میرے بہت ہی اچھے بھائی ۔۔۔۔ کبھی بھی دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنے آپ کو برا مت کہلاو ۔۔۔ لوگوں کا کام ہے آگ لگانا۔۔۔ آپ کے ساتھ اچھا بن کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں ۔۔۔۔ مجھے پڑھ کر حیرت ہپوئی ۔ اور افسوس بھی کہ میرا بھائی ایسے تو نہیں تھا ۔ جب میرے بلاگ پر آکر دوسروں کو سمجھنانے والا عمران اقبال کہاں ہے ۔۔۔عمران میں نے ایک دفعہ کسی کے لیے ایک دفعہ کسی کو برا کہا تھا ۔۔۔ جس کا مجھے آج تک افسوس ہے ۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ جن کو اپنا سمجھ کر انکے لیے کچھ کرتے ہو وہی آپ کے دشمن ہو جاتے ہیں ۔۔۔ اس لیے میرے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آنتی جو بھی ہیں ۔۔۔ جیسی بھی ہیں ہمارا کام سے کام ہونا چاہئے ،،، اپنے آپ کو یوں ضائع مت کرو ۔ پلیز ۔ میں امید کروں گی ۔ کہ میری بات اگر بری لگی ہو تو ضرور معاف کرو گے ۔ خوش رپو ۔۔۔ یہ تھوڑی دیر کی واہ واہ سے بہت بہتر ہے ۔ کہ اپنے کام پر توجہ دو ۔۔۔۔ میرے بلاگ پر کیا کچھ نہیں کہا گیا ۔۔۔ میری نا ہی کسی سے دشمنی ہے ۔ اور ناہی کسی کو بغیر کسی وجہ سے کچھ کہا ہے ۔ لیکن کتنی باتیں سننے کو ملیں ۔۔۔۔۔اور جس نے بھی کیا ۔ میں اسکے لیے یہی دعا کرتی رہی ۔ کہ مجھے حوصلہ اور اس کو توفیق عطا کرئے میرا ربَ

    • عمران اقبال

      تانیہ آپا۔۔۔ سب سے پہلے تو آپ کے تبصرے کا شکریہ۔۔۔ آپ میرے بلاگ پر آئیں اور آپ نے میری تحریر پڑھی۔۔۔ مجھے بہت اچھا لگا۔۔۔

      تانیہ آپا۔۔۔ میں نے یہ تحریر ازراہ مزاق لکھی ہے۔۔۔ کسی کی ذات کو بھی ڈائریکٹ نشانہ نہیں بنایا۔۔۔ ہاں جن کے لیے لکھی ہے تو اس کی بھی کوئی نا کوئی وجہ ہو گی۔۔۔ آپ خود بتائیں۔۔۔ کہ کل کو میں اگر آپ کا نام لے کر اپنے بلاگ پر آپ کا مذاق اڑاوں یا آپ کے ذاتی فیصلوں اور ذاتیات پر انگلی اٹھاووں تو آپ کو کیسا لگا۔۔۔
      جیسے میں آپ کو اپنی آپا کہتا ہوں اسی طرح دوسری خواتین بلاگرز بھی میری بہنیں ہی ہیں۔۔۔ اور میں ان سب کی بہت عزت کرتا ہوں ویسے ہی جیسے اپنی بہنوں کے لیے میرے دل میں عزت ہے۔۔۔
      میں نے تحریر کسے کے کہنے یا اکسانے پر نہیں لکھی۔۔۔ مجھے ذاتی طور پر دکھ ہوا جب میں نے اپنی بہنوں کے بارے میں کسی کے بلاگ پر طنزیہ اور لغو باتیں پڑھیں۔۔۔ ذومعنی تو چھوڑ دیں، سیدھا نام لے کر طنز کیا گیا تھا۔۔۔
      میری اس تحریر کا مقصد صاف یہ ہے کہ کسی کو احساس ہو کہ عزت بھی کچھ شے ہوتی ہے۔۔۔ اور دوسروں کی عزت بھی ویسی ہی مقدم ہے کہ جیسی ہماری خود کی۔۔۔
      مجھے امید نہیں تھی کہ مجھے ایسا ریسپانس ملے گا۔۔۔ لیکن آپ تبصرے دیکھ کر اندازا لگائیں کہ لوگوں کو کتنی شکایات ہیں آنٹی سے۔۔۔
      آپا۔۔۔ میں ذاتی طور پر خود بھی کسی کو طنز نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اور نا ہی ان باتوں میں اپنا وقت گزارنا چاہتا ہوں لیکن آپا آپ میں بہت ظرف ہے کہ آپ معاف کر دیتی ہیں۔۔۔ میری سوچ مختلف ہے۔۔۔ کہ جس سے آپ کو شکایت ہے اس کا علاج ضرور ہونا چاہیے۔۔۔ میں ہر گز خود کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اور نا کسی کو خوش کرنے کے لیے یا کہنے پر میں اپنی سوچ اور زندگی کو بدلنے پر یقین رکھتا ہوں۔۔۔
      آپا، آپ میرے لیے بہت بہت بہت قابل احترام ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔۔۔ آپ کو دکھ ہوا تو میں معافی کا طلبگار ہوں۔۔۔ لیکن آپا، میری بلاگر بہنوں کا نام دوبارہ کسی بھی جگہ استعمال ہوا تو میں پھر اپنی سی کوشش کروں گا کہ اب کی مستقل علاج ہو جائے۔۔۔
      والسلام۔۔۔

  • عمران اقبال

    @ یاسر بھائی۔۔۔ موسٹ خوشآمدید بھائی جان۔۔۔

    @ جعفر۔۔۔ تھوڑا ادب ہی لکھ دیتے یار۔۔۔

    @ عبید۔۔۔ شکریہ بھائی۔۔۔

  • تانیہ رحمان

    عمران میرے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت اچھی بات ہے کہ آپ بہنوں کی عزت کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کرئے یہی سوچ ہماری سب بہن بھائیوں کی ہو جائے تو ۔۔۔۔۔ آج ہم یوں پریشان نا پھر رہے ہوتے ۔۔۔

  • باجو '

    میں بھی تانیہ سے ایگری کرتی ہوں .. تانیہ نے جو کہا بلکل ٹھیک کہا ہے ۔

  • Jafar

    مجھے کچھ تبصروں سے ایسا تاثر ملا ہے کہ بس آپ ٹھیک ہوجائیں، آپ یہ ہو جائیں، آپ وہ ہوجائیں۔۔۔ یہ مشورے کبھی اپنی ممدوح کو بھی دینے چاہییں جو منافقت سے دور ہیں بلکہ ان کے پاس منافقت کے سرٹیفیکٹ بانٹنے کی ایجنسی ہے۔
    سات خون معاف۔۔۔
    ڈارلنگ ، آنکھوں سے آنکھیں چار کرنے دو۔۔۔۔۔
    روکو نہ روکو نہ ، مجھے بلاگ کرنے دو۔۔۔

  • تانیہ رحمان

    شکریہ باجو کسی نے تو اتفاق کیا ورنہ تو مجھ سے زیادہ تر لوگوں کو اختلاف ہی رہا ہے ۔۔۔۔ خوش رہیے ۔

  • Hina

    Very well written bhai..Aunti khud parh len ek baar to aur maza ajaye….
    :))

  • UncleTom

    آپ کی تو داڑھی بھی نہیں ہے تو آپ مولوی اور دہشت گرد بھی نہیں ہو سکتے ، میں یہ سوچ رہا ہوں کہ آنٹی آپکو کس خطاب سے نوازیں گی ؟؟؟

    • عمران اقبال

      انکل ٹام۔۔۔ بہت اچھا سوال کیا آپ نے۔۔۔ "آنٹی” بلاگستان کا ایک تخیلاتی کردار ہیں۔۔۔ اس لیے وہ ہمیں کوئی خطاب نہیں دے سکتی۔۔۔ اگر دینا بھی چاہیں تو سمجھیں کہ کسی بارہ سنگھے کی سازش ہے۔۔۔

  • Darvesh Khurasani

    عمران بھائی لگتا ہے کہ بہت سے لوگ ان انٹیوں اور بارہ سینگوں سے سخت نالاں ہیں، ورنہ اس پوسٹ پر اتنے کمنٹس نہ ہوتے۔

    پھر یہ بیچارے کیا کرے۔ فارسی میں کہتے ہیں کہ

    ہرچیز بو خو عادت نہ برو۔

  • M Behzad Jhatial

    ایسا لگا جیسا آنٹی کو دیکھ کے لگتا۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: