Monthly Archives: مارچ 2011

خاندانی منصوبہ بندی یا توکل۔۔۔

untitled

آصف نے آفس کے ایک کونے میں پڑی اپنی میز سے سر اٹھایا۔۔۔ اور اونچی آواز میں مجھے پکارا۔۔۔ مولانا۔۔۔ اس خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔۔۔؟ میں اپنے کسی کام میں حد درجہ مصروف تھا۔۔۔ دیوانے کی ایک بھڑک سمجھ کر اس کی بات کو نظر انداز کر دیا۔۔۔ آصف پھر چلایا۔۔۔ مولانا۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے تو خاندانی منصوبہ بندی کی اجازت نہیں دی تھی۔۔۔ میں نے گردن گھما کر ایک بار پھر اسے دیکھا۔۔۔ اور کہا۔۔۔ کہ کہنا کیا چاہ رہا ہے بھائی۔۔۔ تیری تو شادی بھی نہیں ہوئی اب تک۔۔۔ تو تجھے کیا پریشانی ہے۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میں اٹھا اور اس کی میز کے پاس چلا گیا اور ساتھ رکھی ہوئی آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر سگریٹ جلا لی۔۔۔ آصف نے بات دوبارہ شروع کی۔۔۔ اور کہنے لگا۔۔۔ مولانا۔۔۔ میرے خیال میں خاندانی منصوبہ بندی بھی ایک فتنہ ہے جو امت مسلمہ میں ڈالا گیا ہے۔۔۔ مغرب ڈرتا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔۔۔ یوں ایک دن آئے گا کہ مغرب میں بھی مسلمانوں کی حکومت ہوگی۔۔۔اور مغربی ممالک میں شرعی قوانین لاگو ہو جائیں گے۔۔۔ جس سے ان ممالک کو ڈر لگتا ہے۔۔۔

اس کی بات سن کر میں نے کہا کہ آصف، دنیا بھر میں تو مسلمانوں کی تعداد تقریبا ایک ارب ہو ہی چکی ہے ۔۔۔ اور وہ ایک ارب مسلمان اب تک اپنے ملکوں میں صحیح  “شرعی” حکومت نہیں بنا پائے تو مغرب میں کیسے بنا لیں گے۔۔۔ خاندانی منصوبہ بندی “مسلمانوں کی تعداد” کا معاملہ نہیں، “ایمان” کا معاملہ ہے۔۔۔

آصف مجھے ٹوکتے ہوئے بولا۔۔۔ مولانا پاگل ہوگئے ہو۔۔۔ کہاں خاندانی منصوبہ بندی جیسا معاشرتی مسئلہ اور کہاں ایمان کا معاملہ۔۔۔ دونوں کا کیا لنک بنتا ہے۔۔۔

میں نے جواب دیا۔۔۔ آصف۔۔۔ اللہ پر، تقدیر اور قسمت پر اور اللہ کی دی ہوئی ہر اچھی یا بری چیز پر “توکل” کرنا ایمان ہے۔۔۔ دنیا اور دین کو ایک ساتھ لے کر چلنا ایمان ہے۔۔۔ اپنے کل کے خوف میں مبتلا ہوئے بغیر اپنے آج میں جدوجہد کرنا ایمان ہے۔۔۔ ہم میں یہ خوف پیدا کیا گیا ہے یا پیدا ہو گیا ہےکہ ہماری فی الحال ہماری تنخواہ دس ہزار روپے ہے تو ہم ایک سے زیادہ بچے پالنے کے کیسے متحمل ہو سکتے ہیں۔۔۔ ہم اپنی روٹی کا بندوبست کریں گے کہ بچے کی فیسوں اور کپڑوں کا۔۔۔ ہم دنیا کے مرید زیادہ ہو چکے ہیں اور اللہ سے ہماری جان پہچان کم ہو چکی ہے۔۔۔ اور توکل کی اسی کمی نے ہمیں اس قسم کی منصوبہ بندی کی بنیاد رکھنے پر مجبور کیا ہے۔۔۔

یوں ہم یہ تو “جانتے ہیں” ہیں کہ اللہ پتھر میں کیڑے کو بھی رزق فراہم کرتا ہے۔۔۔ لیکن ہم یہ “نہیں مانتے” کہ اللہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو بھی ہمارے نصیب اور کوششوں کے مطابق رزق دے گا۔۔۔ ہم یہ تو “جانتے” ہیں کہ “اللہ ہے”۔۔۔ لیکن یہ “نہیں مانتے” کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور ہم جو مرضی کر لیں۔۔۔ ہمیں اور ہمارے بچوں کو وہی ملے گا جو نصیب میں ہے۔۔۔ اور ہم دنیا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اللہ کو بھول جاتے ہیں۔۔۔

خاندانی منصوبہ بندی کو اگر عورت کی صحت کا سوچ کر کیا جائے تو کوئی مذائقہ نہیں۔۔۔ لیکن بذات خود میں نسل کشی کے سخت مخالف ہوں۔۔۔ اب کچھ روشن خیال یہ کہیں گے کہ بچوں کی تربیت، پرورش، اچھی تعلیم اور ہمارے بجٹ کا خیال رکھنے کے لیے منصوبہ بندی بہتر ہے۔۔۔ تو میرا ماننا یہ ہے کہ جس روح نے جب جب اس دنیا میں آنا ہے وہ کسی طرح بھی آ کر رہے گی۔۔۔ اور ہمیں، تمہیں یا کسی کو بھی زندگی کی “کوالٹی” کا خیال ہے تو میرا یہ بھی ایمان ہے کہ زندگی کی کوالٹی بھی ہمارے نصیب میں ہے۔۔۔ کہ میں اچھی زندگی گزاروں گا یا بنجارہ بن کر در در ٹھوکریں کھاوں گا۔۔۔ ہاں ہمیں ہر لمحہ بہتر سے بہترین کی کوشش کا حق ضرور عطا کیا گیا ہے۔۔

آصف، جو میری بات سن کر اس سے متفق بھی نظر آ رہا تھا۔۔۔ کہنے لگا۔۔۔ مولانا۔۔۔ لیکن “توکل” کیسے پیدا کیا جائے۔۔۔ کیا توکل خود میں پیدا کیا جاتا ہے یا اللہ نے ہمارے دل دماغ کے کسی کونے میں پہلے سے ہی اسے فٹ کیا ہوا ہے۔۔۔

میں نے جواب دیا کہ بھائی۔۔۔ توکل تو ہمارے وجود کے ساتھ ہی اس دنیا میں آتا ہے۔۔۔۔ ہاں اسے خود میں کھوجنا پڑتا ہے۔۔۔ اور یہ کھوج تب شروع ہوتی ہے جب اس بات پر پہلے دفعہ فخر محسوس کرو گے کہ تمہارا پروردگار “اللہ” ہے۔۔۔ وہی تمہارا رب بھی ہے۔۔۔ اور  اسی نے تمہیں “مسلمان” پیدا کر کے تمہیں ایک عزت اور شرف بخشا۔۔۔ جب یہ ایمان پیدا ہو جائے گا تو نا صرف “توکل” بلکہ “اطاعت” جیسے نعمت بھی نصیب ہوگی۔۔۔ “توبہ” جیسا شرف بھی بخشا جائے گا۔۔۔ اور مزید سے مزید سیکھنے کی اور اللہ کو جاننے کی مزیدار پیاس سے بھی نوازا جائے گا۔۔۔ پھر دنیا اور دین کو برابر ساتھ لے کر چلنا بھی آ جائے گا۔۔۔ اور یہ سب آ جائے تو تجھے “خاندانی منصوبہ بندی” کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔۔۔ بس تیرا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ نے دیا ہے۔۔۔ وہی رازق ہے اور وہی پالنے میں ہماری مدد بھی کرے گا۔۔۔

آصف، جو عام طور پر میری بہت کم باتوں کو “مانتا” اور “سمجھتا” ہے، مسکراتا ہوا اٹھا۔۔۔ مولانا۔۔۔ کام مشکل  ہے لیکن ہو جائے گا انشاءاللہ۔۔۔ اور یہ کہہ کر سگریٹ جلاتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔

Advertisements

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔Man in Front on Lake

خاموشی کا سحر ٹوٹے۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

وفاوں کی۔۔۔ جفاوں کی۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

بکھرے کی۔۔۔ بچھڑنے کی۔۔۔

بکھر کر پھر سمٹنے کی۔۔۔

بچھڑ کر پھر سے ملنے کی۔۔۔

میں تم سے دور ہو جاوں۔۔۔

تمہیں جب بھی طلب ہو مجھ سے ملنے کی۔۔۔

کسی ویران ساحل پر کھڑے ہو کر۔۔۔

مجھے آواز دے دینا۔۔۔

تیری پلکوں کی چوکھٹ پر جو دستک دے۔۔۔

سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں۔۔۔

(شاعرہ: ت ع)


اطلاع عام

اطلاع عام

سب بلاگرز کو اطلاع دی جاتی ہے کہ کوئی نطفہ مشکوکہ میرے نام سے مختلف بلاگز اور خاص طور پر خواتین کے بلاگز پر فحش اور لغو تبصرے کر رہا ہے۔۔۔ میں یعنی عمران اقبال ان گالیوں اور فحش تبصروں سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں۔۔۔


اکیلے نا جانا۔۔۔

پاکستانی فلم آرمان کا ایک خوبصورت گیت جو زیبا اور وحید مراد پر فلمایا گیا۔۔۔

یہی گیت جب نجم شیراز نے گایا تو ایک نئی تازگی کا احساس ہوا۔۔۔



اک تڑپ میرے خون میں بھی ہے

مائیک انگلستان سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔ ہماری کمپنی کا ریجنل مینیجر ہے۔۔۔ اور کرکٹ سے خاص شغف رکھتا ہے۔۔۔

کچھ دین پہلے میں نے صبح صبح مائیک کو فون کیا اور بڑے جوش سے کہا۔۔۔

“Mike, did you see the match yesterday between England and Ireland… see how bad England played”

میری اس بات کا جواب مائیک نے کچھ لمحات کی خاموشی کے بعد یوں دیا:

“hmmmmm… what happened to Shahbaz Bhatti… I saw on the TV that some Islamists killed him for supporting blasphemy law”…

اب خاموش ہونے کی باری میری تھی۔۔۔ کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد میں نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے مائیک کو کہا۔۔۔

“Good one Mike… I’ll talk to you later…”

اب میں سوچ رہا ہوں کل مائیک صبح مجھے فون کرے گا اور طنزیہ انداز میں کہے گا۔۔۔

“how come you let that basturd go…, where is your national pride”…

اور میں حسب معمول سارا قصور حکمرانوں کے سر پر ڈال دوں گا۔۔۔ اپنی سیاستدانوں  کا رونا رووٰ ں گا۔۔۔ وہ خاموشی سے میری باتیں سنے گا۔۔۔ اور آخر میں کہے گا۔۔۔

“It doesn’t happen in UK, you know۔۔۔”

شام سے کئی بیان سن چکا ہوں پنجاب حکومت کے۔۔۔ کئی بہانے بتائے جا رہے ہیں۔۔۔ مقتولین کے خاندان نے پیسے لے لیے۔۔۔ “دیت” عین شرعی ہے۔۔۔ مقتولین کے اہل خانہ خاموش ہیں۔۔۔ ان کا بیان اب تک یہی سنا ہے کہ زبردستی دستخط لیے گئے۔۔۔ ریمنڈ ڈیوس امریکہ چلا بھی گیا۔۔۔ کس شان سے مقتل سے نکل کر اپنے آشیانے کی طرف کوچ بھی کر گیا۔۔۔ اکیس کروڑ قیمت بھی لگ گئی۔۔۔ اب کیا سچ اور کیا جھوٹ۔۔۔

مجھے تو بس ایک احساس ہو رہا ہے۔۔۔ احساس کمتری۔۔۔ کہ ہم کیسی کتی قوم ثابت ہوئے ہیں۔۔۔ ہم نے اپنے بھائی بھی بیچ دیے۔۔۔ اپنی بہنیں بھی۔۔۔ اور اب اپنی لاشیں بھی۔۔۔

ہم سے اچھا ایک قاتل ہی رہا۔۔۔ اس کی پوری قوم اس کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔۔۔ یہ دیکھے بغیر کہ وہ مجرم ہے۔۔۔ بس سب کہ یہ یاد رہا کہ وہ پہلے “امریکی” ہے۔۔۔ اور بعد میں قاتل۔۔۔ اور قاتل کو بھی کوئی قلق نہیں ہوگا کہ اس نے تین گھر اجاڑ دیے۔۔۔

ابھی ٹی وی چینل پر سنا کہ پی پی کا کوئی نمائندہ اس معاملے پر بولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔۔۔ ہیلری کلنٹن صاحبہ نے نیا فرمان جاری کیا ہے کہ “دیت” کی رقم امریکہ کی جانب سے نہیں دی گئی۔۔۔ جنرل حمید گل صاحب کے مطابق آج کا دن سقوط ڈھاکہ جیسا غمناک اور ہولناک ہے۔۔۔ اور امریکیوں کو اتنی چھوٹ دینے کے بعد اب ان کی رسائی ہمارے ایٹمی اثاثوں پر آسان بنا دی گئی ہے۔۔۔

میرے دوست کا فون آیا۔۔۔ اور چھوٹئے ہی کہنے لگا۔۔۔ “دیکھ لیا اپنے پاکستان کا حال۔۔۔ یہ ہے تمہارا ایٹمی ملک۔۔۔ یہ ہے تمہاری طاقت۔۔۔ کس لیے بنائے اپنے ایٹمی ہتھیار۔۔۔ ہم پاکستانی نہیں۔۔۔ امریکہ کی ایک غلیظ کالونی ہیں۔۔۔ بھاڑ میں جائے ہمارے ایٹم بم اگر ہم نے ایسے ہی امریکیوں اور آئی ایم ایف کے آگے سر خم کرنا ہے۔۔۔ بڑا پاکستان پاکستان کرتا ہے تو۔۔۔ یہ ہے تیری اوقات”۔۔۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا کہنے کے لیے۔۔۔ صرف اتنا کہہ سکا۔۔۔ “صحیح کہہ رہا ہے بھائی تو”۔۔۔

یہ پڑھیے اور سر دھنیے۔۔۔ کیا بات کہہ دی ہے کسی منچلے “گمنام” شاعر نے۔۔۔

سر جلائیں گے روشنی ہوگی

اس اجالے میں فیصلے ہوں گے

روشنائی بھی خون کی ہو گی

اور وہ فاقہ کش قلم جس میں جتنی چیخوں کی داستانیں ہیں, ان کو لکھنے کی آرزو ہو گی

نہ ہی لمحہ قرار کا ہو گا، نہ ہی رستہ فرار کا ہو گا

وہ عدالت غریب کی ہو گی جان اٹکی یزید کی ہو گی

اور پھر اک فقیرکا بچہ مسندوں پر بٹھایا جائے گا

اور ترازو کےدونوں پلڑوں میں سرخ لمحوں کو تولا جائے گا

سابقہ حاکمین حاضر ھوں، نام اور ولد بولا جائے گا

جو یتیموں کی طرف اٹھے تھے ایسے ھاتھوں کو توڑ ڈالیں گے

اور جس نے روندی غریب کی عصمت اس کی گردن مروڑ ڈالیں گے

جس نے بیچی ہے قلم کی طاقت جس نے اپنا ضمیر بیچا ہے

جو دوکانیں سجائے بیٹھے ہیں

سچ سے دامن چھڑائے بیٹھے ہیں

جس نے بیچا عذاب بیچا ہے

مفلسوں کو سراب بیچا ہے

دین کو بے حساب بیچا ہے

کچھ نے روٹی کا خواب بیچا ہے

اور کیا کہوں قوم نے خود کو کس طرح باربار بیچا ہے

میں بھی پاکستانی ہوں

اک تڑپ میرے خون میں بھی ہے

آنکھ میں سلسلہ ہے خوابوں کا

اک مہک میرے چار سو بھی ہے

جونپڑی کے نصیب بدلیں گے پھر انقلاب آئےگا

بیٹھ رہنے سے کچھ نہیں ہو گا ایک دن انقلاب آئے گا


اے دلِ نادان


محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

 

ابھی ہنسنے کو دل چاہے۔۔۔

تو رو دینا۔۔۔

محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

ابھی تم دل کو رہنے دو۔۔۔

ابھی چپ چاپ سہنے دو۔۔۔

ؐمحبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

ابھی اشکوں کے ایندھن میں۔۔۔

ہمارے خواب جلتے ہیں۔۔۔

محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

ابھی منزل کہاں کوئی۔۔۔

رہِ برباد میں ہوگی۔۔۔

محبت اب نہیں ہوگی۔۔

یہ کچھ دن بعد میں ہوگی۔۔۔

محبت اب نہیں ہوگی۔۔۔

 


%d bloggers like this: