ایک نمازی۔۔۔

اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔

آذان سنتے ہی میں نے فورا وضو کیا اور استری شدہ صاف ستھرے کپڑے پہنے، عطر لگایا اور آئینے میں اپنا جائزہ لیا۔۔۔ اچھا صاف ستھرا لگ رہا ہوں۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے مسجد کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔  دروازے  سے داخل ہو تے نظر دوڑائی، مسجد میں مجھ سے پہلے ہی کچھ نمازی موجود تھے۔۔۔  خیر اندر داخل ہوا اور تحیاۃ المسجد کے نفل پڑھے۔۔۔ سلام پھیر کر دیوار سے ٹیک لگا کر جماعت کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ اور ویسے ہی خالی دماغ ادھر ادھر نمازیوں کو دیکھتا رہا۔۔۔

ایک شخص، جو پہلے سے مسجد میں موجود تھا۔۔۔ اس پر نظر پڑی تو ناگواری کی کیفیت چھا گئی۔۔۔ اللہ۔۔۔ یہ کیا، اللہ کے گھر میں ہے اور اتنے گندے کپڑوں میں۔۔۔ یہ کیسا مسلمان ہے۔۔۔ جسے آداب تک نہیں آتے۔۔۔ “نیلا کوُر آل” پہنے، جس پر جگہ جگہ مٹی اور تیل کے نشان پکے ہو جکے تھے، وہ نمازی اپنی ٹانگوں میں سر گھسائے، کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔ میں نے غور کیا تو ہاتھ پاوں صاف تھے۔۔۔ داڑھی بڑھی ہوئی، شاید بہت دن سے اسے شیو کرنے کا وقت نہیں ملا تھا۔۔۔۔ معمولی شکل کا انسان جسے شاید “اللہ کے گھر” آنے کےآداب تک نہیں معلوم۔۔۔ ہونہہ۔۔۔

اقامت ہوئی۔۔۔ صفیں بندھنے لگیں۔۔۔ وہ شخص اتفاقا میرے ساتھ کھڑا ہو گیا۔۔۔ ہونہہِ، یہ کیا کہ اسے اتنے آداب نہیں کہ پاوں سے پاوں اور کندھے ہی ملا لے۔۔۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ پاوں ساتھ لگاو۔۔۔ اس نے میری ہدایت پر عمل کیا اور میرے اور قریب آ کر پاوں سے پاوں ملا کر تکبیر کا انتظار کرنے لگا۔۔۔

نماز ختم ہوئی اور تسبیح کےلیے میں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔ میں نے غور کیا کہ وہ شخص اب بھی اپنی جگہ پر دو زانو بیٹھا ہے اور اس کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہیں۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں اور وہ سرگوشی میں اللہ سے جانے کیا مانگ رہا ہے۔۔۔ میں اسے دیکھنے میں اتنا محو ہو گیا کہ تسبیح اور دعا سب بھول کر اس کا جائزہ لیتا رہا۔۔۔ دعا کے بعد وہ اٹھا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔۔۔ ایسا سکون جو انمول ہے۔۔۔ اس کے گال جو اس کے آنسووں سے اب بھی تر تھے، کسی نور کی مانند جگمگا رہے تھے۔۔۔ وہ اٹھا اور کچھ ورد کرتا ہوا مسجد سے باہر نکل گیا۔۔۔

میں اپنے صاف ستھرے معطر کپڑوں ملبوس وہیں بیٹھا رہا اور اسے جاتے دیکھ کر اچانک اس پر رشک آگیا۔۔۔ اس کے پرسکون چہرے پر رشک آگیا۔۔۔ اس کے آنسووں پر رشک آ گیا۔۔۔ اس کی سادگی پر رشک آ گیا۔۔۔ اچانک مجھے اپنا آپ غلاظت سے بھرا ایک جانور سا محسوس ہونے لگا۔۔۔ مجھے لگا کہ میری ظاہری صفائی اور بناوٹ ہی میرے ایمان میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔۔۔ مجھے اپنا دکھاوا دنیا کی گھٹیا ترین شے محسوس ہوا۔۔۔ مجھے اپنے صاف کپڑوں سے گھن آنے لگی۔۔۔اور اس شخص کے گندے کپڑے اور اس کے ایمان کی سادگی مجھ خود سے بہت اونچی محسوس ہونے لگی۔۔۔ بلاوجہ اس کو نیچھ سمجھنے پر اب خود اپنا آپ اس سے بھی زیادہ نیچھ لگنے لگا۔۔۔ ایسا لگا، کہ مسجد میں میری شکل میں دنیا کا سب سے گناہگار اور غلیظ شخص بیٹھا ہے۔۔۔ جسے صرف اپنے دکھاوے سے پیار ہے۔۔۔ اپنے گناہوں کے باوجود مجھے اپنا آپ اور اپنے کپڑے ہی سب سے اچھے لگتے ہیں۔۔۔ مجھے ان گناہوں کا پچھتاوا ہی نہیں جو میں جانے اور انجانے میں کیے ہیں۔۔۔ مجھے صرف اس بات پر غرور ہے کہ میں صاف ستھرے کپڑے پہن کر مسجد آ گیا ہوں۔۔۔ لیکن اب نا چاہتے ہوئے بھی غرور جیسا گناہ کر بیٹھا ہوں۔۔۔ مجھے وہ شخص اس دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان محسوس ہوا۔۔۔جس کو اللہ تبارک تعالیٰ نے آنسو اور توبہ جیسے نعمت سے نوازا۔۔۔۔ اور شاید اس کی توبہ قبول کر کے اس کے چہرے کو نور سے منور کیا۔۔۔ اس شخص کے کپڑے گندے تھے لیکن اس کا باطن صاف تھا۔۔۔ اور میں۔۔۔!!! میرا دکھاوا صاف لیکن باطن غلاظت سے بھرا ہوا۔۔۔ میرے کپڑے، میرا علم میرے کام نا آیا۔۔۔ عمل میں وہ گندے کپڑوں والاشخص بازی لے گیا۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

22 responses to “ایک نمازی۔۔۔

  • aisha

    bilkul thek kha ha..hum zahari khubsorti ko hi sub kuch manty ha..well dressed banday sa hi impress hoty ha uss ko hi modabbar samjahty ho chahay uss ki inner personalty worst ho . Or uss insan ki koi qaddar ni karty jo poise,ajaez ho per uss ki outer personalty kuch b ni per wo uss pak zaat ka qareeb ha..Allah hum sub ko garoor or takubur sa bachay or apna ajez banny ki tufeeq atta farmay..Ameen

  • عمران اقبال

    عاشی۔۔۔ بالکل صحیح سمجھی ہو۔۔۔ شکریہ تبصرے کے لیے۔۔۔

  • fikrepakistan

    حدیث ھے کہ صفائی نصف ایمان ھے۔ میلے اور داغ لگے کپڑوں میں فرق ہوتا ھے، اگر تو لباس میلا ہے بدبودار ہے تو اس حدیث کی رو سے ایسا شخص لائق تحسین ہرگز نہیں ھوسکتا، اور اگر لباس صاف ہے مگر اس پر تیل وغیرہ کے دھبے لگے ہیں تو یہ کوئی عیب کی بات نہیں ھے۔ حکم تو یہ ہی ھے کہ لباس میں سے بدبو نہیں آنی چاہیئے کے ساتھہ کھڑے نمازی کو ناگوار احساس ہو۔ آگے اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کے کیا وجہ تھی کے وہ اس حال میں مسجد میں آگیا۔

  • ضیاء الحسن خان

    باقی عمران اچھا لکھا ہے آپ نے ۔۔۔۔۔ ہاں اگر آپ ایسے کپڑے پہن کر اپنے دفتر نہیں جاسکتے اپنی کسی تقریب میں شرکت نہیں کت سکتے تو ایسے کپرے پہن کر مالک دوجہاں کے آگے کھڑے ہونا واقعی زیب نہیں دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اسطرح کے کپڑے پہن کت نماز پڑھنا مکروہ بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں وہ لوگ شامل نہیں جو ہر جگہ ایک سے حال میں چلے جاتے ہیں

  • عمران اقبال

    بھائیو، یہاں میرے لکھنے کا مقصد کپڑے ہر گز نہیں۔۔۔ ہو سکتا ہے کھ وہ شخص کسی تعمیراتی کمپنی میں کام کر رہا ہو اور کام کے وقفے میں نماز کے لیے آیا ہو۔۔۔ اب وہ نماز پڑھنے آیا ہے تو اسے پتا ہی ہوگا کہ آداب نماز کیا ہیں۔۔۔

    میرا مقصد اس کا خشوع اور ایمان کی پختگی بیان کرنا تھا۔۔۔ ہاں اپنے طور پر اپنی کم ایمانی کو جانچنے کا پیمانہ کپڑوں کو بنا دیا۔۔۔ میرا اس تحریر کا مقصد اس کے آنسو ہیں۔۔۔ جو بدقسمتی سے عرصہ دراز سے میں اللہ کے سامنے نہیں بہا پایا۔۔۔

    میرا مقصد تحریر میرے ظاہر اور اس کے باطن کا موازنہ ہے۔۔۔ کہ میرے جیسا کم فہم انسان صرف دکھاوے کو ایمان سمجھ بیٹھا اور اس شخص کے گندے کپڑے بھی اس کے اور اس کے ایمان میں کوئی رکاوٹ نا بن سکے۔۔۔

    کپڑوں کی طہارت ایک الگ مسئلہ ہے۔۔۔ جو انشااللہ کبھی پھر زیر بحث آئےگا۔۔۔

  • ایم اے راجپوت

    السلام علیکم
    اچھی تحریر ہے۔۔۔ جزاکم اللہ خیرا

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    نماز کے لئیے خشوع خصوع اللہ کی دین ہے۔ آنسو بہنے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ ندامت سے حزن تک اسکا باعث ہوسکتا ہے۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ خدا کے سامنے رونے والے اللہ تعالٰی کو دنیا کی ہر شئے اور اپنے سمیت ہر مخلوق سے سپریم سمجھ کر روتے ہیں۔

    ویسے تو نماز اور باالخصوص نما باجماعت اور خاصکر نماز جمعہ اور عیدین پہ صفائی ستھرائی اور لباس وغیرہ کا اہمام کرنا چاہئیے مگر اشد مجبوری یا کام سے عدم فرصتگی کی وجہ سے سیدھا نماز ادا کرنے کے لئیے آنے والوں کے دلوں کا حال اللہ جانتا ہے اور اسلام نے چھوٹ دے رکھی ہے۔

  • Dr.Jawwad Khan

    بہت اعلیٰ….بہت خوبصورت بات کی ہے.
    لیکن صفائی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے. خود کو اتنا کمتر بھی نہ سمجھے آپ نے اپنے رب کے حضور پیش ہونے میں اہتمام کیا ہے. یہ اہتمام بھی کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے. دونوں چیزیں اپنی جگہ اہم ہیں.
    ویسے نماز ایسی چیز ہے جو سالوں کی مشق اور مشقت کے بعد نتائج دیتی ہے. سارا کام ہی توجہ کو مرکوز رکھنے کا ہے. توجہ بار بار بھٹکے گی مگر آپکو واپس اسے اسکی صحیح جگہ لانا ہے. ویسے بھی نماز کو سکوں یا لذت کے لئے نہیں پڑھنا چاہیے. عارفوں نے تو عبادت کی لذت سے بھی پناہ مانگی ہے. مقصد صرف رب العالمین کے حکم کی بجا آوری ہونی چاہیے اگر اس کام میں لذت محسوس ہونے لگے تو کیا ہی بات مگر مقصود لذت نہیں صرف اور صرف حکم خدا وندی ہو.

  • حجاب

    کسی کی ظاہری شکل و صورت ٹھیک نہ ہو تو اس کو برا نہیں سمجھنا چاہیئے ۔۔۔ اصل علم تو اللہ کو ہے کیا پتہ وہ شخص اللہ کو محبوب ہو ۔۔۔ یہ بات کہیں پڑھی تھی کہاں یاد نہیں ۔۔

  • عمران اقبال

    راجپوت صاحب۔۔۔ خوشآمدید۔۔۔ اور شکریھ تبصرے اور پسندیدگی کے لیے۔۔۔

    جاوید گوندل بھائی۔۔۔ شکریہ۔۔۔

    ڈاکٹر صاحب۔۔۔ جی آیاں نوں۔۔۔ آپ کی اس بات نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ۔۔۔” عارفوں نے تو عبادت کی لذت سے بھی پناہ مانگی ہے’۔۔۔ پسندیدگی اور تبصرے کا بہت بہت شکرہہ۔۔۔ امید ہے چکر لگاتے رہیں گے اس ناچیز کے بلاگ پر۔۔۔

    حجاب۔۔۔ آپ بلکل درست فرما رہی ہیں۔۔۔ یہی مقصد ہے میری اس تحریر کا۔۔۔

  • بلاامتیاز

    عمران ۔۔
    بات تو دل کی کالک کی ہے۔۔
    جس کے دل پر کالک لگی ہو وہ پھر چاہے کچھ پہن لے یا زعفران میں نہا لے۔۔
    کسی کام کا نہیںجب تک دل سے وہ کالک نہ مٹائے۔۔
    اور سچ تو یہ ہے کہ وہ لوگ ہم سے سبقت لے گئے جو ایک جوڑے کپڑے میں زندگی گزار گئے ہم جوڑے تو بدلتے رہے لیکن دل نہ بدل سکے۔۔
    بقول بابا فرید گنج بخش
    ۔۔
    کالے ہیں کپڑے میرے
    نس نس میں بھرا پاپ
    لوگ کہیں دروش مجھے
    میں جانوں اپنا آپ ۔
    اللہ نے میرے اعمال پر پردہ ڈال رکھا ہے ورنہ وہ ظاہر کر دے تو میں ایک تاریک کمرے میں پوری عمر شرمندگی سے گزارنے پر مجبور ہو جائوں۔۔
    ویسے میں ایسی ہی پوسٹ ڈھونڈنے اس بلاگ پر آتا ہوں

  • عمران اقبال

    بلا امتیاز بھائی۔۔۔ بہت شکریھ تبصرے کے لیے۔۔۔ میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا تبصرہ میری اس تحریر سے بہت بہت اچھا ہے۔۔۔

  • خرم ابن شبیر

    اس پر کیا تبصرہ کروں ماشاءاللہ اچھا لکھا ہے

  • fikrepakistan

    ضیاء الحسن صاحب آپ نے حدیث ، صفائی نصف ایمان ھے کا ریفرنس مانگا تھا ریفرینس کے لئیے برائے مہربانی ، مشکوت شریف باب طہارت دیکھیں۔ اردو ٹائپنگ میں مہارت نہ ھونے کی وجہ سے میں مشکوت ٹھیک سے نہیں لکھہ پا رہا ہوں امید ھے آپ سمجھہ گئے ھونگے۔

  • محمد سعد

    میں تو سوچ رہا ہوں کہ ایک شخص کتنے سارے لوگوں کو فائدہ پہنچا گیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے اس کا علم ہی نہیں ہوگا۔ شاید یہی بہتر ہے کیونکہ اس طرح وہ تکبر کے خطرے سے محفوظ ہو گیا۔ اگر یہی وجہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو بھی اس سے محبت ہے چنانچہ اس سے اس خطرے کو دور کر دیا۔
    باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

  • فیصل

    اچھی تحریر ہے۔
    ایک چھوٹی سی بات کہ میرے ناقص علم کے مطابق فقہ حنفیہ میں پیر سے پیر نہیں ملائے جاتے اور نمازی اپنے دونوں پیروں کے درمیان ایک مخصوص فاصلے سے زیادہ نہیں رکھتا۔

    • عمران اقبال

      فیصل بھائی۔۔۔ پسندیدگی کا شکریہ۔۔۔

      مختلف مسالک کے بارے میں تو میں نہیں جانتا۔۔۔۔ لیکن میرے ناقص علم کے باوجود، میں اس حدیث پر یقین رکھتا ہوں۔۔۔

      "ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اور سیدھے کھڑے ہوا کرو”۔۔۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: