چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔Man in Front on Lake

خاموشی کا سحر ٹوٹے۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

وفاوں کی۔۔۔ جفاوں کی۔۔۔

چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

بکھرے کی۔۔۔ بچھڑنے کی۔۔۔

بکھر کر پھر سمٹنے کی۔۔۔

بچھڑ کر پھر سے ملنے کی۔۔۔

میں تم سے دور ہو جاوں۔۔۔

تمہیں جب بھی طلب ہو مجھ سے ملنے کی۔۔۔

کسی ویران ساحل پر کھڑے ہو کر۔۔۔

مجھے آواز دے دینا۔۔۔

تیری پلکوں کی چوکھٹ پر جو دستک دے۔۔۔

سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں۔۔۔

(شاعرہ: ت ع)

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

7 responses to “چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: