خاندانی منصوبہ بندی یا توکل۔۔۔

untitled

آصف نے آفس کے ایک کونے میں پڑی اپنی میز سے سر اٹھایا۔۔۔ اور اونچی آواز میں مجھے پکارا۔۔۔ مولانا۔۔۔ اس خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔۔۔؟ میں اپنے کسی کام میں حد درجہ مصروف تھا۔۔۔ دیوانے کی ایک بھڑک سمجھ کر اس کی بات کو نظر انداز کر دیا۔۔۔ آصف پھر چلایا۔۔۔ مولانا۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے تو خاندانی منصوبہ بندی کی اجازت نہیں دی تھی۔۔۔ میں نے گردن گھما کر ایک بار پھر اسے دیکھا۔۔۔ اور کہا۔۔۔ کہ کہنا کیا چاہ رہا ہے بھائی۔۔۔ تیری تو شادی بھی نہیں ہوئی اب تک۔۔۔ تو تجھے کیا پریشانی ہے۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میں اٹھا اور اس کی میز کے پاس چلا گیا اور ساتھ رکھی ہوئی آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر سگریٹ جلا لی۔۔۔ آصف نے بات دوبارہ شروع کی۔۔۔ اور کہنے لگا۔۔۔ مولانا۔۔۔ میرے خیال میں خاندانی منصوبہ بندی بھی ایک فتنہ ہے جو امت مسلمہ میں ڈالا گیا ہے۔۔۔ مغرب ڈرتا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔۔۔ یوں ایک دن آئے گا کہ مغرب میں بھی مسلمانوں کی حکومت ہوگی۔۔۔اور مغربی ممالک میں شرعی قوانین لاگو ہو جائیں گے۔۔۔ جس سے ان ممالک کو ڈر لگتا ہے۔۔۔

اس کی بات سن کر میں نے کہا کہ آصف، دنیا بھر میں تو مسلمانوں کی تعداد تقریبا ایک ارب ہو ہی چکی ہے ۔۔۔ اور وہ ایک ارب مسلمان اب تک اپنے ملکوں میں صحیح  “شرعی” حکومت نہیں بنا پائے تو مغرب میں کیسے بنا لیں گے۔۔۔ خاندانی منصوبہ بندی “مسلمانوں کی تعداد” کا معاملہ نہیں، “ایمان” کا معاملہ ہے۔۔۔

آصف مجھے ٹوکتے ہوئے بولا۔۔۔ مولانا پاگل ہوگئے ہو۔۔۔ کہاں خاندانی منصوبہ بندی جیسا معاشرتی مسئلہ اور کہاں ایمان کا معاملہ۔۔۔ دونوں کا کیا لنک بنتا ہے۔۔۔

میں نے جواب دیا۔۔۔ آصف۔۔۔ اللہ پر، تقدیر اور قسمت پر اور اللہ کی دی ہوئی ہر اچھی یا بری چیز پر “توکل” کرنا ایمان ہے۔۔۔ دنیا اور دین کو ایک ساتھ لے کر چلنا ایمان ہے۔۔۔ اپنے کل کے خوف میں مبتلا ہوئے بغیر اپنے آج میں جدوجہد کرنا ایمان ہے۔۔۔ ہم میں یہ خوف پیدا کیا گیا ہے یا پیدا ہو گیا ہےکہ ہماری فی الحال ہماری تنخواہ دس ہزار روپے ہے تو ہم ایک سے زیادہ بچے پالنے کے کیسے متحمل ہو سکتے ہیں۔۔۔ ہم اپنی روٹی کا بندوبست کریں گے کہ بچے کی فیسوں اور کپڑوں کا۔۔۔ ہم دنیا کے مرید زیادہ ہو چکے ہیں اور اللہ سے ہماری جان پہچان کم ہو چکی ہے۔۔۔ اور توکل کی اسی کمی نے ہمیں اس قسم کی منصوبہ بندی کی بنیاد رکھنے پر مجبور کیا ہے۔۔۔

یوں ہم یہ تو “جانتے ہیں” ہیں کہ اللہ پتھر میں کیڑے کو بھی رزق فراہم کرتا ہے۔۔۔ لیکن ہم یہ “نہیں مانتے” کہ اللہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو بھی ہمارے نصیب اور کوششوں کے مطابق رزق دے گا۔۔۔ ہم یہ تو “جانتے” ہیں کہ “اللہ ہے”۔۔۔ لیکن یہ “نہیں مانتے” کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور ہم جو مرضی کر لیں۔۔۔ ہمیں اور ہمارے بچوں کو وہی ملے گا جو نصیب میں ہے۔۔۔ اور ہم دنیا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اللہ کو بھول جاتے ہیں۔۔۔

خاندانی منصوبہ بندی کو اگر عورت کی صحت کا سوچ کر کیا جائے تو کوئی مذائقہ نہیں۔۔۔ لیکن بذات خود میں نسل کشی کے سخت مخالف ہوں۔۔۔ اب کچھ روشن خیال یہ کہیں گے کہ بچوں کی تربیت، پرورش، اچھی تعلیم اور ہمارے بجٹ کا خیال رکھنے کے لیے منصوبہ بندی بہتر ہے۔۔۔ تو میرا ماننا یہ ہے کہ جس روح نے جب جب اس دنیا میں آنا ہے وہ کسی طرح بھی آ کر رہے گی۔۔۔ اور ہمیں، تمہیں یا کسی کو بھی زندگی کی “کوالٹی” کا خیال ہے تو میرا یہ بھی ایمان ہے کہ زندگی کی کوالٹی بھی ہمارے نصیب میں ہے۔۔۔ کہ میں اچھی زندگی گزاروں گا یا بنجارہ بن کر در در ٹھوکریں کھاوں گا۔۔۔ ہاں ہمیں ہر لمحہ بہتر سے بہترین کی کوشش کا حق ضرور عطا کیا گیا ہے۔۔

آصف، جو میری بات سن کر اس سے متفق بھی نظر آ رہا تھا۔۔۔ کہنے لگا۔۔۔ مولانا۔۔۔ لیکن “توکل” کیسے پیدا کیا جائے۔۔۔ کیا توکل خود میں پیدا کیا جاتا ہے یا اللہ نے ہمارے دل دماغ کے کسی کونے میں پہلے سے ہی اسے فٹ کیا ہوا ہے۔۔۔

میں نے جواب دیا کہ بھائی۔۔۔ توکل تو ہمارے وجود کے ساتھ ہی اس دنیا میں آتا ہے۔۔۔۔ ہاں اسے خود میں کھوجنا پڑتا ہے۔۔۔ اور یہ کھوج تب شروع ہوتی ہے جب اس بات پر پہلے دفعہ فخر محسوس کرو گے کہ تمہارا پروردگار “اللہ” ہے۔۔۔ وہی تمہارا رب بھی ہے۔۔۔ اور  اسی نے تمہیں “مسلمان” پیدا کر کے تمہیں ایک عزت اور شرف بخشا۔۔۔ جب یہ ایمان پیدا ہو جائے گا تو نا صرف “توکل” بلکہ “اطاعت” جیسے نعمت بھی نصیب ہوگی۔۔۔ “توبہ” جیسا شرف بھی بخشا جائے گا۔۔۔ اور مزید سے مزید سیکھنے کی اور اللہ کو جاننے کی مزیدار پیاس سے بھی نوازا جائے گا۔۔۔ پھر دنیا اور دین کو برابر ساتھ لے کر چلنا بھی آ جائے گا۔۔۔ اور یہ سب آ جائے تو تجھے “خاندانی منصوبہ بندی” کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔۔۔ بس تیرا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ نے دیا ہے۔۔۔ وہی رازق ہے اور وہی پالنے میں ہماری مدد بھی کرے گا۔۔۔

آصف، جو عام طور پر میری بہت کم باتوں کو “مانتا” اور “سمجھتا” ہے، مسکراتا ہوا اٹھا۔۔۔ مولانا۔۔۔ کام مشکل  ہے لیکن ہو جائے گا انشاءاللہ۔۔۔ اور یہ کہہ کر سگریٹ جلاتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

9 responses to “خاندانی منصوبہ بندی یا توکل۔۔۔

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    جتنا زور غربت سے ڈر کر خاندانی منصوبہ بندی پہ دیا جاتا ہے اگر اتنا ہی زور وساعل پیدا کرنے پہ دیا جاتا تو واللہ پاکستان اور اسطرح کے دوسرے ممالک موجودہ سے کئی گنا زیادہ آبادی کے لئیے بہتر وسائل مہاء کرسکتے تھے۔ مگر چونکہ دیانتداری، محنت وغیرہ کو ہم مولوی سے نتھی کر دیتے ہیں اور منصوبہ بندی اپنی موجودہ حالت میں مغرب کی دین ہے۔ اسلئیے دیانتدار اور محنت سے وسائل میں اضافہ کرنے کی کوشش ہمیں موت اور منصوبہ بندی کے زور پہ بچے کم پیدا کرنے سے لیکر ہر قسم کے تعلقات بہت بھاتے ہیں۔

    پاکستان میں جو بدیانتی اور کامچوری کی عادت ہے یہ اگر یونہی رہی تو یہ پاکستان کی نصف آبادی کے لئیے بھی قابل عزت دو وقت کی روٹی مہاء کرنے کے وسائل پیدا نہیں کر سکیں گے۔

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    میں نے تو اپنی زندگی سے سیکھا ہے۔
    بے شک اللہ رزق دیتا ہے۔وہ مسبب الاسباب ہے۔
    جیسے گندم جب تک تیار نہیں ہوتی اس وقت تک اس کی کوالٹی کا معلوم نہیں پڑتا۔
    اسی طرح اللہ انسانوں کی کوالٹی بھی بعد میں ظاہر کر دیتا ہے۔

  • UncleTom

    بلکل صحیح کہا کہ اپنے ملکوں میں تو اسلامی نظام نافظ نہ کر سکے مغرب میں کیا کریں گے ۔۔۔

  • افتخار اجمل بھوپال

    اللہ نے فرما ديا ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی اُس نے کوشش کی ۔ يہ اصول ہمہ گير ہے ۔ اسے کسی ايک نہيں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ پر لگايئے ۔ پھر اس پر اللہ کا دوسرا فرمان لگايئے کہ انسان جو کچھ بھی ہے اور انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی دی ہوئی توفيق سے ہے ۔

    اب دو چھوٹی چھوٹی مثاليں ديتا ہوں ۔
    امريکا نے کئی راکٹ چھوڑے جو کاميابی کے ساتھ فضا ميں دور تک ہو کر آئے ۔ جب ساری دنيا کو يقين ہو گيا کہ فضا ميں دور تک جانا اور واپس آنا آسان ہو گيا ہے تو ايک راکٹ واپس آتے ہوئے فضا مين پھٹ گيا اور خلا نوردوں کے جسم کے ٹکڑے بھی نہ مل سکے
    جاپان پر امريکا نے ايٹم بم گرائے ۔ 6 دہائياں بعد جاپان ترقی کے عروج پر پہنچ گيا ۔ اور جب کسی کے وہم و گمان ميں نہ تھا چند منٹوں ميں بربادی کا نمونہ بن گيا۔

    کہہ ديجئے کہ ميں اللہ کو بغير کسی دليل کے مانتا ہوں اور اُسی کے حکم کا تابع ہوں

    اب آتے ہيں ضبطِ توليد کی طرف جسے بہبودِ آبادی کا نام ديا گيا ہے اور ميں اسے خانہ بربادی کہتا ہوں ۔ وجہ يہ ہے کہ اپنی ملازمت کے دوران جو مختلف کورسز مجھے کرائے گئے اُن ميں ايک بہبودِ آبادی کی تشخیص اور تخمينہ کا بھی تھا ۔ اُس ميں يہی معلوم ہوا تھا کہ 15 سال کی کارگذاری کے بعد ان طريقوں کو اُن لوگوں نے تو شاد و نادر ہی اپنايا جنہيں اس کا ہدف بنايا گيا تھا مگر اس کے نتيجہ ميں بے راہروی خُوب پھيلی

  • Hamza Baloch

    Well said . I agree with this. Lakin aj hum loog duniya ko zeada ehmiat daity hia jiss ki waja sey dunyaivi sihraroo ki mided laity hiaa

  • دوست

    میرا ایمان ہے کہ رازق اللہ کریم کی ذات ہے اور وہ مجھے ایسے ایسے ذرائع سے دیتا ہے کہ مجھے گمان بھی نہیں ہوتا۔ الحمداللہ۔ لیکن میرے پیش نظر رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث بھی رہتی ہے کہ توکل تب کرو جب اپنا اونٹ کھونٹے سے باندھ لو۔ ہمارا تو اونٹ بےمہار پھر رہا ہے، ہم اپنے بچوں کو ماں کو بچے پیدا کرنے والی مشین بنائے دیتے ہیں، وسائل پیدا نہیں کرتے اور مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کے نعرے لگاتے ہیں تو پھر ضبط تولید ہی حل ہے۔ یا تو وسائل بڑھا لیں، تب آبادی بھی بڑھانا شروع کردیں گے۔ اور دور نہیں جانا، میرے اپنے شہر فیصل آباد میں آبادی نے زرعی زمینوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، نواحی بستیاں تیزی سے شہر کے اندر آرہی ہیں، وہاں گندی گندی غریب بستیاں اور اچھی اچھی امیر بستیاں اور ٹاؤن بن رہے ہیں۔ اور میں حریان ہوں کہ میرے ملک کے بھوکے بچوں کے لیے کھانا کہاں اگے گا؟ اس کنکریٹ کے جنگل میں؟ میرا تو اونٹ بے مہار پھرتا ہے سائیں، میرا توکل تو آنے کا بھی نہیں۔

  • fikrepakistan

    دوست صاحب نے بلکل ٹھیک بات کی ہے غور کرنے کے قابل ہے انکی بات۔ اور جہاں تک رہی وسائل بڑھانے کی بات تو وسائل کیسے بڑھیں گے ؟ حالت یہ ہے کہ قرضوں کی قسط چکانے کے لیئے قرضے لینا پڑھہ رہے ہیں، فلحال وسائل بڑھانے کے لیئے سب سے بہتر طریقہ ہی یہ ہے کے اپنے اخراجات پر کنٹرول کیا جائے، ظاہر ہے جتنے زیادہ بچے ہونگے اخراجات بھی اتنے ہی ہونگے۔ کچھہ لوگ کہتے ہیں کے جو بچہ دنیا میں آتا ہے وہ دو ہاتھہ ساتھہ لے کر آتا ہے، تو بھائی وہ دو ہاتھہ تو کم از کم پندرہ بیس سال بعد کمانے لائق ہوتے ہیں مگر پیٹ تو ماں کے پیٹ سے ہی غذا مانگتا ہے۔ چونسٹھہ سال سے اور کچھہ نہیں بدل پائے تو کم از کم اپنے حال پر رحم کرتے ہوئے اپنی یہ لگی بندی سوچ ہی بدل لو اللہ کے واسطے۔

  • Darvesh Khurasani

    بہت اچھی بات لکھی ہے۔ آپ نے ایک بڑی بات کی طرف لوگوں کی توجہ دلائی ہے۔ مجھے تو یہ پوسٹ بہت پسند آیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: