درخواست

جو گزروں کبھی میں تمہارے خیالوں میں۔۔۔untitled

تم میرا ہاتھ تھام لینا۔۔۔

میری آنکھوں میں اپنا چہرہ ڈھونڈھ لینا۔۔۔

خاموشی سے، اپنے سینے سے لگا لینا۔۔۔

میری دھڑکن میں اپنا نام سن لینا۔۔۔

قریب اپنے بٹھا کر۔۔۔

الفت کی دو باتیں کر لینا۔۔۔

میرا حال پوچھ لینا۔۔۔

اپنا حال سنا دینا۔۔۔

کچھ قدم میرے ساتھ چل لینا۔۔۔

تحفے میں اک مسکان دے دینا۔۔۔

روک لینا اس پل کو۔۔۔

اک لمحہ میرے نام کر دینا۔۔۔

(شاعرہ: ت ع)


Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

3 responses to “درخواست

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    روک لینا اس پل کو۔۔۔

    عمران بھائی۔ یہ پل ہی تو نہیں رکتا۔ آپ نے کبھی غور کیا ہوگا۔ اس دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ ساری عمر اسے لمحے ۔اس پل کو پانے کے لئیے بھاگتے رہتے ہیں۔ عمریں بِتا دیتے ہیں۔ وہ ایک لمحہ جس میں کوہ قاف کے جادگر کے طوطے کی طرح جس میں جادوگر کی جان بند ہوتی ہے۔ اس لمحے کی کوتاہی ۔ ایک پل کی لاپرواہی کی سنگینی ساری عمر بھگتے ہیں۔ لمحے کے پیچھے بھاگتے ان کی عمریں بیت جاتی ہیں۔ مگر وہ لمحہ جو کبھی حقیقت تھا ایسا سراب بن جاتا ہے جو کبھی حاصل نہیں آتا اور اس لمحے میں لوگوں کی زندگیاں بند ہوتی ہیں۔
    یہ انسان اس دنیا میں جسقدر پرانا ہے اسی قدر یہ لمحہ ، یہ پل بھی پرانا ہے۔
    روک لینا اس پل کو۔۔۔
    لمحے بھلا کبھی رکے ہیں؟۔

  • افتخار اجمل بھوپال

    جناب ۔ خيالوں ميں اتنا کچھ کيسے ہو جائے گا ؟ خواب کی بات اور ہے

  • عمران اقبال

    جاوید گوندل بھائی۔۔۔ آپ نے لکھا:
    اس دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ ساری عمر اسے لمحے ۔اس پل کو پانے کے لئیے بھاگتے رہتے ہیں۔ عمریں بِتا دیتے ہیں۔ وہ ایک لمحہ جس میں کوہ قاف کے جادگر کے طوطے کی طرح جس میں جادوگر کی جان بند ہوتی ہے۔ اس لمحے کی کوتاہی ۔ ایک پل کی لاپرواہی کی سنگینی ساری عمر بھگتے ہیں۔ لمحے کے پیچھے بھاگتے ان کی عمریں بیت جاتی ہیں۔ مگر وہ لمحہ جو کبھی حقیقت تھا ایسا سراب بن جاتا ہے جو کبھی حاصل نہیں آتا اور اس لمحے میں لوگوں کی زندگیاں بند ہوتی ہیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب۔۔۔ بس یہی کہانی ہے میرے لمحے کی۔۔۔ جس کی لاپرواہی میں شاید آخری سانس تک بھگتا رہوں گا۔۔۔

    افتخار اجمل انکل: درست فرمایا۔۔۔ کہ یہ ساری خواہشات "خواب” سی ہی لگتی ہیں۔۔۔ کاش سچ واقع ہو جائیں۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: