Monthly Archives: جولائی 2011

ماہ رمضان اور میرے ایمان کی کمزوری

رمضان آنے کو ہے اور پہلا روزہ کل یا پرسوں متوقع ہے۔ متحدہ عرب امارات ، سعودی رویت ہلال کمیٹی کی تلقید کرتی ہے۔ عشاء کی نماز کے فوراً بعد روزہ ہونے یا نا ہونے کی خبر آ جائے گی۔

سچ بتاوں تو دل بہت گھبرایا ہوا ہے۔ ایک ڈر دل میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس دفعہ روزے بھی کافی لمبے ہونگے۔ تقریباً پندرہ گھنٹے کا۔ 48 سے 50 فارہنایٹ ڈگری کی گرمی اور بنا پانی کے پندرہ گھنٹے۔۔۔!!! اف، کتنے مشکل روزے ہونگے۔ بھوک پیاس کو اتنا برداشت کیسے کروں گا۔

ایمان کی کیسی زبردست کمزوری ہے۔ ہاں دل کا سچا حال لکھنے کی ہمت ضرور ہے کہ کئی حضرات کی طرح دلوں میں روزے رکھنے کی جھنجلاہٹ چھپائے دنیا دکھاوے کے لیے "رمضان مبارک” کے ایس ایم ایس فارورڈ نہیں کرتا۔

نیکی کرنے کا خوف کس حد تک بیٹھ گیا ہے میرے دل میں کہ ڈائٹ کے نام پر ہفتہ ہفتہ کچھ نا کھاوں پیوں تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن احکام الہیٰ پورے کرتے میری جان جا رہی ہے۔

شاید میرے جیسا حال اور بہت سے حضرات کا ہے۔ شاید وہ بھی دنیاوی تکلیف کا سوچ کر آخرت کی حساب اور جزا سزا کو بھول رہے ہیں۔ شاید کہ میری یہ تحریر میرے اور ان کے دلوں کے حال بدل دے۔

اسلام کے کسی بھی مسلک میں رمضان کی اہمیت، فرضیت، قوانین و قواعد اور ثواب محترم ہیں۔ میرے جیسے "بے ایمان” اور "شیطان کا تابع” انسان اگر مندرجہ ذیل نکات پر غور کرلے اور ان کو سنجیدگی سے خود پر طاری کر لے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ ہمیں معاف فرما دیں اور ہمارے روزے ہمارے لیے باعث ِلطف اور کارخیر ثابت ہو سکتے ہیں

دعا ہے کہ اللہ مجھ سمیت سب مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے روزوں کوقبول فرمائے۔ آمین

Advertisements

رحمٰن ملک اور تبلیغی مرکز

مولانا رحمٰن ملک کا نیا فتویٰ سننے کو ملا کہ رائیونڈ والاتبلیغی مرکز دہشت گردوں کا مرکز ہے۔ اور دہشت گردی کی زیادہ تر کاروائیوں کا کوئی نا کوئی سرا تبلیغی جماعت سے ضرور ملتا ہے۔ اب جتنے عالم فاضل اور لائق فائق عالمِ دین مولانا رحمٰن ملک خود ہیں، ان کے احترام میں اس بیان کے بعد تو فوج کا رخ رائیونڈ کی طرف مڑ جانا چاہیے، کوئی بعید نہیں کہ کچھ دنوں میں مفتی کیانی صاحب رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع میں کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ مولانا صاحب کی بات بھی تو نہیں ٹھکرائی جا سکتی نا۔

211035_164708723590509_6377340_n

کس حد تک خطرناک ہیں ہمارے تبلیغی بھائی۔ چاہے جس بھی مسلک سے ہوں بس بوری بستر اٹھایا اور نکل پڑے مسلمانوں کو مزید مسلمان کرنے۔ نا آگے کی خبر نا پیچھے کا پتا۔ بس جنون سوار ہے، کہ مسلمان کسی طرح اللہ کے قریب ہو جائیں۔ کسی طرح اپنی موت کو یاد رکھیں اور اگلی زندگی کی تیاری کر لیں۔ اب یہ ساری باتیں تو خطرناک ہیں ہی۔ دراصل مولانا رحمٰن ملک صاحب کا خدا زرداری اور دین نام نہاد جمہوریت ہے۔ وہ اپنے خدا کی خدائی میں اللہ کو شامل کر کے "کفر” کے مرتکب نا ہو جائیں گے۔ آخر مولانا صاحب اور ان کے خدا تو بخشے بخشائے آئے ہیں۔ نا ان کو موت آنی ہے اور نا ان کا حساب کتاب ہونا ہے۔ بس زرداری صاحب کی جنت میں داخل ہونے والے اولین جنتی ہونے کا حق بھی تو "مولانا صاحب” کا ہی تو ہے۔


سیدھے سادھے تبلیغی بھائیوں کو دہشت گرد بنا دیا۔ اور کوئی رہ گیا ہے کیا۔۔۔؟ سنی دہشت گرد، بریلوی دہشت گرد، وہابی دہشت گرد، دیوبندی دہشت گرد اور سارے مسلمان ہی دہشت گرد۔ امن پسند رہ گئے تو زرداری صاحب اور ان کے پیامبر جناب مولانا رحمٰن ملک صاحب۔ ہاتھوں میں ملک و ملت کی کنجیاں لیے دنیا بھر کی سیر کو نکلے، مسلمانوں کی سب سے پر امن جماعت کو بھی دہشت گردی کے زمرے میں ڈال دیا۔

بیان دینا آسان تھا، لیکن اس کا حل تو نا نکال سے۔ کیا حل نکلے گا۔ کچھ دنوں بعد تھوڑا اسلحہ مرکز سے برآمد ہو گا اور مرکز غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔اور بہت سے بھولے بھٹکے مسلمان راستہ ڈھونڈنے سے محروم ہو جائیں گے۔ اللہ کو بھلا دیا جائے گا اور مسلمانیت صرف نام کی رہ جائے گی۔

میں یہ جانتا ہوں کہ دین اسلام تبلیغی جماعتوں کے مرہون منت نہیں۔ لیکن وقت کے تقاضے کے مطابق تبلیغی بھائی بڑی محنت کر رہے ہیں۔ میری نظر سے تو کبھی تبلیغی جماعت کی طرف فرقہ واریت کا کوئی بیان نہیں گزرا۔ بلکہ انہوں نے ہمیشہ امن و سلامتی کا پیغام ہی پھیلایا ہے۔میں خود شارجہ کے تبلیغی اجتماع میں شامل ہوتا رہا ہوں اور مجھے تو ان سے کبھی نفرت اور لغو بیان بازی سننے کو نہیں ملی، جو آج کل کے کئی مذہبی جماعتوں اور مسالک کا وطیرہ ہے۔ انہوں نے تو کبھی امریکہ اور اس کے چیلوں کے بارے میں بھی فتویٰ نہیں دیا۔ وہ تو بس ان خامیوں کو کھوجنے کے لیے کہتے ہیں کہ جن کی وجہ سے آج ہم پر طاغوتی قوتوں کا راج ہے۔ وہ تو ہمارا یہ ایمان مضبوط کرنے پر لگے ہوئے ہیں کہ اللہ کے احکامات کو بھول کر ایسے ہی ذلیل رہوگے جیسے آج ہو، اس لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ جب دین درست ہوگا تو دنیا بھی ہمارے قدموں میں ہوگی۔ وہ تو کبھی رفع یدین یا نمازکے مسائل پر اپنا وقت نہیں اجاڑتے، وہ تو کہتے ہیں کہ جیسے بھی کرتے ہو، بس کرو اور صدق دل سےکرو۔

سمجھ نہیں آتی کہ رحمٰن ملک کس پراپگینڈہ کولے کر چل رہے ہیں۔ خود تو سورۃ الاخلاص کجا بسم اللہ بھی صحیح طرح نہیں پڑھ سکتے اور چلے ہیں تہمتیں لگانے۔ تف ہے تم پر رحمٰن ملک۔

 


میرے نئے بلاگ پر خوش آمدید


ستمبر 2010 سے شروع ہونے والا بلاگنگ کا میرا سفر ورڈ پریس ڈاٹ کام سے ہوتا ہوا ڈاٹ کو ڈاٹ س سی تک پہنچا اور اب ترقی کی منازل طے کرتا ہوا میرے ذاتی ڈومین ڈاٹ کام پر آ پہنچا ہے۔ اپنا ذاتی ڈومین ہونے کی بھی اپنی ہی خوشی ہوتی ہے۔۔۔ کہ چلو جی کوئی چیز تو ایسی ہے جس پر صرف میرا نام ہے اور میرے ہی تصرف میں ہوگی۔۔۔

میرے بلاگنگ کے سفر میں بہت سے ایسے دوست ہیں، جنہوں نے وقتاً فوقتاً میری مدد کی اور میرا ساتھ دیا۔۔۔ نام نہیں لوں گا کہ میرے دوست جانتے ہیں کہ میں ان کی بات کر رہا ہوں۔۔۔

خیر جناب۔۔۔ اب میرا بلاگ مستقل طور پر اپنے نئے ڈومین پر منتقل ہو گیا ہے۔۔۔ جب تک اردو سیارہ کے منتظمین میرے نئے بلاگ  کا لنک اپ ڈیٹ نہیں کرتے، تب تک مجبوراً میری نئی تحاریر کا کچھ حصہ میرے پرانے بلاگ پر ملے گا۔۔۔ اور پوری تحریر میرے اس نئے بلاگ پر۔۔۔

آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے بلاگ رول، بک مارکس اور فیورٹس میں میرے نئے کو لنک کو اپڈیٹ کر لیں۔۔۔ اور تمام تبصرے میرے نئے بلاگ پر کریں۔۔۔

میرے بلاگ کے سب قارئین اور مبصرین کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے مجھ جیسے ناچیز کی تحاریر کو اپنایا، پڑھا اور سراہا۔۔۔ اور مجھے اپنوں میں جگہ عنائیت کی۔۔۔

والسلام

دعاووں کا طالب

محمد عمران اقبال


میں نے جب لکھنا سیکھا تھا…

میں نے  جب لکھنا سیکھا تھا…

پہلے تیرا نام لکھا تھا…

میں وہ اسم عظیم ہوں جس کو…

جن و ملک نے سجدہ کیا تھا…

میں وہ صبر صمیم ہوں جس نے…

بار امانت سر پر لیا تھا…

تو نے کیوں میرا ہاتھ نہ پکڑا…

جب میں رستے سے بھٹکا تھا…

پہلی بارش بھیجنے والے…

میں تیرے درشن کا پیاسا تھا…

(ناصر کاظمی)

الله نے پکارا… ہے کوئی جو میری ایک امانت کا بوجھ اٹھاے… یہ سن کر سمندر کی سانسیں ٹوٹنے لگیں… پہاڑ ہیبت سے لرزنے لگے… پوری کائنات پر لرزہ طاری ہو گیا… کسسی کو طاقت نہ تھے کہ وہ یہ بوجھ اٹھاتا… پھر الله نے وہ امانت انسان کو سونپ دی… اور انسان اسے اٹھاے مضطرب اور سرگرداں ہے… یہ کائنات کا سب سے بڑا صبر ہے…

وہ امانت الله کی تمام صفات کا پر تو ہے… ہلکا سا عکس…

الله نے اپنی تمام صفات انسان کو سونپ دی… رحم، کرم، قہر، جبر، پوری ٩٩ صفات… اور اپنا اسم ذات نور سے لکھ کر پہلے ہی اس کی پیشانی میں رکھ دیا… الله نے جب جن و ملائک کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو وہ شرک کا حکم نعوذ باللہ نہیں دیا تھا… وہ سجدہ آدم کے لئے نہیں تھا بلکے وہ تو پیشانی میں محفوظ اسم ذات کے لئے تھا… الله کے لئے تھا…  اس لئے شاعر نے کہا کے میں وہ اسم عظیم ہوں جس کو جن و ملک نے سجدہ کیا تھا… پھر اپنی ٩٩ صفات کا عکس انسان پر ڈالا تو اس نے یہ  بتا  دیا کہ انسان اس کا خلیفہ، اس کا نائب ہے… اس میں اتنا صبرہے کہ وہ یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے… تو انسان میں رحیمی بھی ہے…  جباری  بھی ہے…اور قہاری بھی ہے… اب انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ان صفات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے… رحمتوں کا اور صفات کا یہ توازن صرف ایک انسان نے قائم کر کے دکھایا ہے… اور وہ ہیں… رحمت العالمین صل الله ہو علیہ وسلم…

یوں انسانیت سرخرو ہوئ اور امانت کا حق ادا ہوا…

علیم حقی کی کتاب "عشق کا عین” سے اقتباس

 


حجامۃ–رسولﷺ کا طریقہِ علاج

عرب ممالک میں حجامۃ ایک ایسا طریقہ علاج ہے جسے رسول اللہ ﷺ کی سنت قرار کیا جاتا ہے۔ میری کم علمی ہی سمجھ لیں کہ مجھے حجامۃ کے بارے میں دو دن قبل ہی علم ہوا۔ میرے والد صاحب کے کندھوں، کمر اور گھٹنوں میں شدد درد رہتا تھا۔ ایک حضرت گھر تشریف لائے اور انہوں نے دعوٰی کیا کہ حجامۃ سے میرے والد صاحب کو سو فیصد آرام آ جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حجامۃ رسول اللہﷺ کی سنت ہے اور معراج شریف کے دوران فرشتوں نے رسول اللہﷺ کو حجامۃ کرنے کی تلقین کی تھی۔ ان حضرت نے ایک کتاب پڑھنے کے لیے دی جس میں صحیح حدیثوں کی ریفرنس سے حجامۃ کے بارے میں تفصیلاًلکھا گیا تھا۔ وہ کتاب تو حضرت کل واپس لے گئے اس لیے ریفرنس نوٹ کرنا یاد نہیں رہا۔

hijama

ایک حدیث یہ بھی پڑھی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ” شفا تین چیزوں میں رکھی گئی ہے،، شہد، حجامۃ اور آگ سے داغنے میں، لیکن آگ کے داغنے کو میں پسند نہیں کرتا۔” واللہ و اعلم بالصواب

قصہِ مختصر یہ کہ پرسوں جناب نے میرے والد صاحب کے گھٹنوں کے نزدیک چار جگہ حجامۃ کیا اور کل کندھوں کی دنوں جانب، کندھوں کے  درمیان، کمر میں ایک جگہ، اور ٹخنوں کے پاس چار جگہ حجامۃ کیا۔ فرق یہ پڑا کہ میرے والد صاحب کی ٹانگوں اور کمر کے درد میں نمایاں کمی ہوئی اوربقول ان کے، وہ کافی ہلکا پھلکامحسوس کر رہے ہیں۔ کندھوں میں درد کم ضرور ہوا ہے لیکن ابھی مکمل طور پر سکون نہیں ملا۔

حجامۃ کرنے کا طریقہ یوں ہے کہ ایک پلاسٹک کی کھلی شیشی درد والی جگہ پر رکھی جاتی ہے اور ایک چھوٹی سی گن نما اوزار کی مدد سے جسم پر شیشی کو چسپاں کیا جاتا ہے۔ جوں جون شیشی جسم پر چسپاں ہوتی ہے،  جسم کے وہ حصہ ابھرنا شروع ہو جاتا ہے، دور سے دیکھا جائے تو ایک بڑی پھنسی لگتی ہے۔ بقول حضرت، جسم کے قریبی حصوں کا گندہ خون اور گیس اس ابھری ہوئی جگہ پر جمع ہو جاتی ہے۔ پانچ منٹ تک انتظار کیا جاتا ہے اور پھر شیشی اتار کا بلیڈ کی مدد سے جسم کے اس پھولے ہوئے حصے پر چھوٹے چھوٹے کٹ  نہایت مہارت سے لگائے جاتے ہیں۔ کٹ لگانا ہی سب سے بڑا فن ہے، کہ کہیں چمڑی کے نیچے نس نا کٹ جائے۔ جب ان چھوٹے چھوٹے ذخموں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے تو پھر سے اسی شیشی کو چسپاں کیا جاتا ہے تا وقتیکہ کہ شیشی کے اندر گندہ خون اور گیس نا بھر جائے۔ جب شیشی خون سے بھر جاتی ہے تو جگہ دوبارہ صاف کر کے شیشی کو دو مرتبہ اور چسپاں کیا جاتا ہے۔

بقول حضرت، ہمارے جسم کی زیادہ تر دردیں، گندے خون اور گیس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ جن کا وقتاً فوقتاً خارج ہونا جسم کے لیے بہت بہتر ہے۔  حجامۃ کے لیے کرنے والے کاماہر ہونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ چھوٹے چھوٹے کٹ لگانا ہی سب سے زیادہ اہم اور شفا ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ ہو سکے تو اس تحریر کے تبصروں میں صحیح حدیثوں کے ریفرنس مہیا کر دیں۔ اللہ آپ سب کو اس چیز کی جزا عطا فرمائے گا۔ انشاءاللہ

نیچے دی گئی ویڈیو میں حجامۃ کے طریقے کار کو بخوبی دکھایا گیا ہے۔


میری دادی اماں

ابو نے اپنی گود میں بیٹھی علیزہ سے پوچھا۔۔۔ بیٹا دادی امی کہاں ہیں۔۔۔ علیزہ کی انگلی دیوار پر لگی میری دادی اماں کی تصویر کی طرف اٹھ گئی۔۔۔ پھر علیزہ نے تصویر کی جانب اپنے دونوں بازو پھلا دئیے۔۔۔ ابو اٹھے اور علیزہ کو دیوار تک لے گئے۔۔۔ علیزہ نے اچک کر تصویر دیوار سے اتاری اور اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پہلے اپنے سینے سے لگا لیا اور پھر اپنے ہونٹ دادی کی تصویر پر لگا دیئے، ایسے کہ جیسے اسے چوم رہی ہو۔۔۔

میں بغور ابو اور علیزہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ یہ ان دونوں کا روز کا معمول ہے۔۔۔ ابو روز علیزہ سے دادی اماں کے بارے میں پوچھتے ہیں اور علیزہ ایسے ہی دادی اماں کو چومتی ہے۔۔۔

دادی اماں کو ہم سے بچھڑے تین سال ہو چکے ہیں۔۔۔ کل یہی کچھ دیکھتے ہوئے بہت کچھ یاد آ گیا۔۔۔ سن 2006 میں، میں پاکستان گیا۔۔۔ دادی اماں کی گود میں سر رکھے میں نے مذاقا ان سے ابو کی شکایت کرتے ہوئے کہا، دادی امی، ابو میری شادی کیوں نہیں کروا رہے۔۔۔ اب اتنا انتظار نہیں ہوتا۔۔۔ دادی اماں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پنجابی میں کہا۔۔۔ ”میں تیرے پیو نال گل کراں گی۔۔۔”یہ سننا تھا اور میں نے ابو کو فون ملا کر دادی اماں کو پکڑا دیا۔۔۔ دادی اماں ابو سے کہنے لگی۔۔۔ ”وے اقبال۔۔۔ عمران بڑا پریشان پھردا ہے۔۔۔ گل کی اے؟”۔۔۔ ابو نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔ تو دادی نے انہیں مصنوعی غصے سے کہا۔۔ ” میں تینوں کہندی پئی آں، میرے منڈے دا ویا جلدی کر دے۔۔ “ میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔۔۔ ابو نے انہیں جانے کیا کیا کہانیاں سنائیں۔۔۔ لیکن دادی اماں بٖضد تھیں کہ میرے منڈے دی جلد شادی ہونی چائیدی اے۔۔۔

دادی اماں کی وفات سے ایک ہفتہ پہلے، میں نے ان کی صحت کا پوچھنے کے لیے انہیں پاکستان فون کیا۔۔۔ تو طبیعت کافی خراب تھی۔۔۔ کہنے لگیں۔۔۔”پتر۔۔۔ ہون لگدا اے کہ بلاوا آن والا اے۔۔۔ “۔ میں نے کہا کہ ”دادی امی۔۔۔ اللہ آپ کو صحت دے۔۔۔ ابھی تو آپ نے ہمارے بچوں کے ساتھ بھی کھیلنا ہے۔۔۔ “

میرے چھوٹے بھائی کا یہیں دبئی میں رشتہ طے ہوا۔۔۔ ابو نے پاکستان دادی امی کو فون کیا۔۔۔ اور تقریبا ایک گھنٹہ بات ہوئی۔۔۔ دادی اماں نے بھائی کے ساس سسر سے بھی بات کی۔۔۔ سب کو خوب دعائیں دیں۔۔۔

اگلے دن۔۔۔ شام کو چاچو کو فون آیا۔۔۔ کہ دادی امی اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ صبح سے دادی اماں بہت خوش تھیں۔۔۔ سب رشتے داروں کو خود فون کر کے بتایا کہ میرے چھوٹے منڈے دا وی رشتہ ہو گیا۔۔۔ میں اپنے سارے بچے پگتا لئے۔۔۔ شام کو اچانک طبیعت خراب ہوئی۔۔۔ ہسپتال لے کر جاتے ہوئے رستے میں ہی ان کا انتقال ہو گیا۔۔۔

میری منگنی میری دادی نے خود کروائی تھی۔۔۔ اور میری جانب سے میری منگیتر کو انگوٹھی بھی خود انہوں نے پہنائی تھی۔۔ان کے انتقال کے ایک سال بعد میری شادی ہوئی۔۔۔۔ میرے ابو بہت اداس تھے۔۔۔خوشی کے اس موقع پر دادی ہمارے ساتھ نہیں تھیں۔۔۔

دادی کے ساتھ ابو کا پیار بہت ہی زیادہ تھا۔۔۔ دادی کا ہر حکم مانتے تھے۔۔۔ اور ہر حکم کی تعمیل کے بعد بہت خوش ہوتے تھے۔۔۔ ہمیں جب بھی بات ابو سے منوانی ہوتی تھی۔۔۔ تو دادی اماں سے کہلواتے تھے۔۔۔ اور ابو ان کا حکم ٹال ہی نہیں سکتے تھے۔۔۔

آخری عمر میں دادی اماں کی نظر کافی کمزور ہو گئی تھی۔۔۔ ایک دفعہ میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ تو اچانک کہنے لگیں۔۔۔ "پتر تو سگریٹ پینا ایں۔۔۔” میں نے گھبرا کر جھوٹ بول دیا کہ نہیں دادی اماں۔۔۔ میں نے تو کبھی سگریٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔۔ ”پتر چوٗھٹ نا بول۔۔۔ تیرے دند پیلے ہوندے جا رے نے۔۔۔”

دادی اماں کے ساتھ میرا بہت کم وقت گزرا۔۔۔ لیکن۔۔۔ ان کا پیار ہمارے لیے بے بہا تھا۔۔۔ میرے ساتھ ان کا بہت مذاق تھا۔۔۔ ہر وقت ان کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتا رہتا۔۔۔ اور دادی اماں خوشی خوشی اپنے ہمسایوں کو میرے کارنامے بتاتی۔۔۔ ‘اج میرے منڈے نے مینوں اے کیا۔۔۔ اج میرا منڈا اے کردا پیا سی۔۔۔’

کل علیزہ دادی اماں کی تصویر چوم رہی تھی۔۔۔ اور میں یادوں میں گھرا ہوا تھا۔۔۔ میرے منہ سے نکلا۔۔۔ کاش آج دادی امی زندہ ہوتی تو وہ کتنی خوش ہوتیں۔۔۔

اللہ دادی اماں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ آمین


ڈپلومیسی۔۔۔

خوامخواہ کی یاریاں نبھاتے میں تو تھک گیا ہوں بھائی۔۔۔ اتنا بھی مجھے دنیا اور دنیا کے لوگوں سے پیار نہیں، جتنا دکھانا اور سمجھانا پڑتا ہے۔۔۔ اب یہ ڈرامہ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔ کہ سامنے والا بک بک پر بک بک کیے جا رہا ہے۔۔۔ اور آپ دستورِ دنیا نبھانے کو اس کی ہاں میں ہاں اور فضول سی مسکراہٹ کے بدلے ایک چھوٹا سا گھٹیا قہقہہ لگانا ضروری سمجھتے ہیں۔۔۔

یار یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔ کوئی بندہ پسند نہیں ہے تو اس کے منہ متھے کیوں لگنا۔۔۔ جب دل نہیں چاہ رہا کسی سے بات کرنے کا، تو ایسی کیا مجبوری آ گئی کہ اٹھ کر اس سے گلے بھی ملا جائے۔۔۔ کیا یہ ڈپلومیسی آج کل ہماری جان نہیں مار رہی۔۔۔؟

بنیادی طور پر میں حد درجہ کا بور بندہ ہوں۔۔۔ تنہائی پسند۔۔۔ شور شرابے سے نفرت کرنے والا۔۔۔ سکون کا متلاشی۔۔۔ لیکن شو مئی قسمت کہ سکون اور تنہائی سے میرا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔۔۔ اب جب بیٹھے بیٹھے کوئی بندہ اپنا سا منہ لے کر میرے منہ لگنے کی کوشش کرتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ اس کا منہ پن کے رکھ دوں۔۔۔ مثال کے طور پر:

‘ عمران صاحب، پاس کی کمپنی میں آیا تھا، سوچا آپ سے بھی ہیلو ہائے کرتا چلوں’۔۔۔

’ بھائی تو اُدھر آیا تھا تو اِدھر تیرا کیا کام۔۔۔ مجھے تیری ہیلو ہائے سے کیا لینا دینا۔۔۔’ (اب یہ بھی دل میں سوچا جا سکتا ہے۔۔۔) منہ سے تو نکلا، اچھا کیا جناب چکر لگا لیا۔۔۔ کافی دن سے آپ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔ (آئے ہائے۔۔۔ یہ کیا کہہ دیا۔۔۔ وہ تو واقعی سچ سمجھ بیٹھا۔۔۔ اور یہ کیا، کرسی کھینچ کر بیٹھ بھی گیا۔۔۔ )

‘چائے پلائیں عمران صاحب، بڑی طلب ہو رہی ہے’

‘تیری تو۔۔۔ ً!#$٪ۂۂ&’ بیٹھ بھی گیا تو !#$٪ۂۂ۔۔۔ ‘ (کاش یہ سب کچھ بھی دل میں سوچنے کی بجائے اس کے منہ پر مار دیتا۔۔۔ کم از کم میری جان چھوڑ کر بھاگ جاتا اور پھر کبھی ادھر کا چکر نا لگاتا۔۔۔۔ !#$٪ۂۂ)

اب اس حضرت بندے کی بکواس کا سلسلہ شروع ہوتا ہوتا ایک آدھ گھنٹے تک پہنچ گیا اورمیں اپنی مصروفیت یا کہہ لیں کہ تنہائی کے چند قیمتی لمحات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔۔۔

اب میں تو ہوں ہی ایسا۔۔۔  منہ متھے اس لیے لگتا ہوں کہ کسی دانشور کا قول کبھی پڑھ لیا تھا کہ بھائی کسی بھی بندے کے ساتھ برا مت پیش آو۔۔۔ کیا پتا کل کلاں تجھے اس کی ضرورت پڑ جائے۔۔۔ اب کل کی ضرورت کا تو پتا نہیں۔۔۔ یہ ضرور جانتا ہوں کہ میرے آج کا سکون اس بندے کے ہیلو ہائے نے خراب کر دیا۔۔۔ وہ سکون جو میری تنہائی کے روپ میں مجھے ملتا ہے۔۔۔ لیکن سکون اور تنہائی کا مجھ سے کیا واسطہ۔۔


%d bloggers like this: