Monthly Archives: اگست 2011

پردیس کی عید اور جدائی

عید کا دن یہاں کئی لوگوں کے لیے اداسی لاتا ہے۔۔۔ آج صبح مسجد میں نمازِ عید کے بعد کئی ایسے چہرے دیکھے ، جو بے رنگ اور بے تاثر تھے۔۔۔ان کو شاید امید اور آس تھی کہ کوئی اپنا آئے اور انہیں عید مبارک کہہ کر گلے لگا لے۔۔۔ اور وہ گھر جائیں تو اپنے والدین، بیوی بچوں کے ساتھ عید کا مزہ لیں۔۔۔ لیکن، مجبوریِ روزگار انہیں اپنوں سے بہت دور لے آیا ۔۔۔ جہاں تنہائی میں یہ لوگ انہیں یاد کر کے رو سکتے ہیں، سسکیاں بھر سکتے ہیں لیکن مہنگے کالنگ چارجز ہونے کے سبب اپنے پیاروں سے تفصیلاً بات نہیں کر سکتے۔۔۔ چھٹی نا ملنے اور ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نا رکھنے کے باعث اپنے لوگوں کے ساتھ عید نہیں منا سکتے۔۔۔


میں خود کو بہت خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ میرے والدین، بھائی، بہنیں اور ان کے اہل و عیال، میری بیگم اور بیٹی میرے ساتھ ہیں۔۔۔ میں گھر آیا، ان سب کو دیکھا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں اپنوں کے ساتھ ہوں۔۔۔ سب نے بیٹھ کر ساتھ ناشتہ کیا، ہنسے کھیلے اور عید کو "عید” کی طرح منایا۔۔۔

اب جب سب سکون سے اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں۔۔۔ تو میری آنکھوں کے سامنے وہی اداس چہرے پھر گھوم رہے ہیں۔۔۔ میں وہ کیفیات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں، جن سے میرے پردیسی بھائی گزر رہے ہیں۔۔۔

کاش جدائی جیسی کوئی زحمت ہو ہی نا۔۔۔ سب مل جل کر ہمیشہ ہمیشہ، ہر حال میں ساتھ رہیں۔۔۔ ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں ایک دوسرے کا کندھا بنیں۔۔۔۔ کاش میرے پردیسی بھائی، ہمیشہ خوش رہیں اور ہنستے کھیلتے رہیں۔۔۔ کاش یہ مجبوری روزگار جدائیاں نا بنائے۔۔۔

Advertisements

بلاگنگ کا ایک سال

لکھنا شوق ہے۔۔۔ لیکن لکھنا آتا ہی نہیں تھا۔۔۔ اب بھی نہیں آتا۔۔۔ بس کوشش کرتا ہوں کہ اپنے الفاظ احباب تک پہنچا سکوں۔۔۔ بڑی مشکل سے پہلی تحریر لکھی۔۔۔ پھر دوسری اور پھر تیسری۔۔۔ اور آج اپنے بلاگ کے پورے ایک سال ہونے پر اپنی ترانویں تحریر لکھ رہا ہوں۔۔۔

سال ہوگیا بلاگنگ کرتے۔۔۔ پہلا تبصرہ "افتخار اجمل صاحب” کا تھا۔۔۔ جس نے مجھے مزید لکھنے کی رغبت دلائی اور ہمت افزائی کی۔۔۔ پھر کارواں بنتا رہا۔۔۔ اور آج بلاگرز کے جمِ غفیر میں مجھ ناچیز کو کوئی ایک لکھاری کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔۔۔

کیا کیا نا لکھا۔۔۔ مذہب پر اپنے جنون کا احوال، پاکستان کے بارے میں کچھ تجزیے، بلاگستان کے ماحول پر "پرمغز” تحاریر، کچھ اپنی ذاتی تجربات۔۔۔ اور کچھ فضول بندوں پر تنقید۔۔۔ کیا کیا نا لکھا۔۔۔!!!

اب ایسا لگ رہا ہے کہ لکھتے لکھتے الفاظ ہی ختم ہو گئے۔۔۔ کیا لکھوں، کیوں لکھوں، کس کے لیے لکھوں۔۔۔ کیا میرے الفاظ کی کچھ اہمیت ہے۔۔۔ کیا میرے الفاظ کسی کی سوچ بدل پائے ہیں۔۔۔ کیا میری تحاریر کسی ایک شخص کے لیے ہی معاون ہو پائی ہیں۔۔۔؟ اتنے سوال۔۔۔ اور حسب معمول، میرا کورا دماغ۔۔۔

بلاگنگ کا مقصد کیا ہے۔۔۔؟ کیا میں اپنی ذاتی سوچ اور تجربات کو قارئین کے ساتھ بانٹ سکتا ہوں۔۔۔ کیا میں اپنے مصائب دنیا کے سامنے لا سکتا ہوں۔۔۔ اور کیا دنیا میرے مصائب پر توجہ دے سکتی ہے۔۔۔؟ کیا مجھے میری مشکلات کے حل میرے مبصرین دے سکتے ہیں۔۔۔ ؟ پھر وہی بات۔۔۔ بلاگنگ کا صحیح مقصد میں سمجھ ہی نہیں پا رہا۔۔۔

کیوں لکھتا ہوں جب لکھتے ہوئے بھی سوچنا پڑتا ہے کہ زندگی کا فلاں پہلو، میری سوچ اور میرے نظریات دنیا کے سامنے لانے والے نہیں۔۔۔ خود تک چھپا کر رکھنا بہتر ہے۔۔۔ تو کیا فائدہ میرے لکھنے کا۔۔۔ جب کسی سے زبانی کہہ نہیں سکتا، اپنا آپ کسی سے بانٹ نہیں سکتا تو پھر لکھنے میں بھی "پراکسی” کیوں لگانی پڑ رہی ہے۔۔۔ کیوں میں کسی بھی طریقے سے خود کو دنیا کے سامنے نہیں رکھ پا رہا۔۔۔ کیوں لکھتے لکھتے، میرے الفاظ میرا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔

میں واقعی بلاگنگ کی صحیح روح کو سمجھ ہی نہیں پا رہا۔۔۔

ہاں بلاگنگ کا فائدہ کسی حد تک یہ ہوا کہ مجھے کچھ ایسے احباب مل گئے، جن سے دوستی کرنا ہی میرے لیے باعث فخر ہے۔۔۔ میرا دل چاہتا کہ کاش میں ان حضرات سے ملوں اور ان سے بہت کچھ سیکھوں۔۔۔ ان سے باتیں کروں اور ان کی باتیں سنوں اور سیکھتا رہوں۔۔۔

باتیں تو ایویں کی چلتی ہی رہتی ہیں۔۔۔ میں باتوں باتوں میں اپنے بلاگ کو سالگرہ مبارک کہنا نا بھول جاوں۔۔۔ تو اے میرے پیارے بلاگ، تو جیے ہزاروں سال۔۔۔ شیر لگا ایں سوہنیا۔۔۔

دل چاہ رہا ہے کہ اپنے بلاگ کے بارے میں کچھ اعدادوشمار آپ سے شئیر کروں۔۔۔ تو دل چاہے تو پڑھ لیں۔۔۔ نا چاہے تو نظر انداذ کر یں۔۔۔

22اگست 2010 سے 22 اگست 2011 تک:

کل تحاریر        :    93

کل تبصرے    :    770

بلاگ پڑھا گیا    :    تقریبا 13،000 مرتبہ

 


میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح


لوگ کہتے ہیں مجھے اکثر کہ میں
درد میں ڈوبی ہوئی آواز ہوں
آہ بن کر گونج اٹھے جو روح میں
بربطِ غم کا میں ایسا ساز ہوں

٭٭٭

کیوں نہیں لکھتا خوشی کے گیت میں
چیختی ہے کیوں میری یہ شاعری
ہوک سی اٹھتی ہے کیوں الفاظ سے
رو رہی ہے کیوں کہ فن کی بانسری

٭٭٭

میں غموں کا، آنسووں کا ترجماں
قہقہوں کی داستان کیا لکھوں
بہہ رہی ہیں آبشاریں خون کی
میں انہیں کیوں نور کا جھرنا لکھوں

٭٭٭

آرزووں کا، تمناوں کا خون!
خون خوابوں کے لٹے گلزاروں کا
قریہ قریہ دیکھتا ہوں ہر طرف
خون بھوکے مفلس و نادار کا

٭٭٭

مر رہے ہیں لوگ میرے سامنے
دندناتی پھر رہی ہیں وحشتیں
چیختی ہے آبرو مظلوم کی!
گونجتی ہیں ظالموں کی دہشتیں

٭٭٭

میں اس بستی کا باسی ہوں جہاں
جل رہے ہیں بھوک سے دیوار و در
حق جہاں ملتا نہیں حقدار کو
جو نہیں جھکتے، وہ کٹ جاتے ہیں سر

٭٭٭

میں بھی اس بستی کا باسی ہوں جہاں
حکمراں بےحس ہیں اور عیاش ہیں
مر گیا جن کا ضمیرِ زندگی!
جو فقط اک چلتی پھرتی لاشیں ہیں

٭٭٭

تشنگی اتنی بڑھی کہ حبس میں
پیاس سے باہر زبانیں آ گئیں
جس نے مانگی بوند بھی اس کے لیے
خون میں ڈوبی کمانیں آ گئیں

٭٭٭

کٹ رہی ہیں گردنیں ہر موڑ پر
اٹھ رہے ہیں ہر نگر لاشے ابھی
سرخ ہوتی جا رہی ہے سرزمیں
درد کے سائے نہیں سمٹے ابھی

٭٭٭

کارخانوں سے دھواں اٹھتا ہے
جل رہا ہے جسم یہ مزدور کا
کارخانہ دار کا اس کے سبب
گھر ہے مرمر کا، بدن کافور کا

٭٭٭

بہتے زخموں میں ڈبوتا ہوں قلم
اور لکھتا ہوں انہیں کی داستاں
میرے دکھ بانٹیں ہواوں کے ہجوم
خون کے آنسو بہائے آسماں

٭٭٭

دردِ غم، زخم جدائی، بے بسی
کیسے کیسے ہیں یہاں اترے عذاب
قافلے والو! بتاو تو سہی!
کون ہے جس نے نہیں دیکھے عذاب

٭٭٭

آنکھ ویراں، ہونٹ پتھر ہو گئے
دوستو میں مسکراوں کس طرح
مارتا جاتا ہے، سب کو غم یہاں
میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح

(محمد انوار المصطفیٰ)


چھوٹا شیطان، بڑا شیطان

رمضان آ گیا۔۔۔ شیطان قید کر دیا گیا۔۔۔ چھوٹے شیطان اب بھی دھرتی پر دندناتے پھر رہے ہیں۔۔۔ شیطان چھوٹا ہو یا بڑا، شیطان تو شیطان ہوتا ہے۔۔۔

معاف کیجیے گا۔۔۔ پاکستانی حکمرانوں کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ بلکہ عام عوام کی بات کر رہا ہوں۔۔۔ اور عام عوام میں بھی میرا مقصد صرف پاکستانی ہی نہیں۔۔۔ دنیا جہاں کے مسلمان ہیں۔۔۔ مسلمان کم اور شیطان کے پرستار زیادہ ہو گئے۔۔۔ اللہ سے محبت کے دعویٰ لیکن اللہ کی ماننی نہیں۔۔۔ شیطان سے بھرپور دبانگ سے پناہ مانگنا لیکن کھلے عام اس کی پیروی بھی کرنا۔۔۔ تو ہوئے نا چھوٹے شیطان۔۔۔

کچھ دن پہلے سوچ رہا تھا کہ جب شیطان قید کر دیا گیا ہے تو کم از کم رمضان میں ہی وسوسے کیوں نہیں جان چھوڑتے۔۔۔ ایک حضرت سے ہنستے ہنستے یہ سوال کر دیا۔۔۔ حضرت کوئی قابلِ تسلی جواب تو نا دے سکے۔۔۔ سارا الزام چھوٹے شیطان پر ڈال دیا۔۔۔

اب سوچ میں اضافہ یہ ہوا۔۔۔ کہ چھوٹے شیطان کو قید کیوں نہیں کیا گیا۔۔۔ کیا رمضان میں بھی ہمارا امتحان مقصود تھا۔۔۔ کیوں جی۔۔۔ رمضان میں تو ہم ویسے ہی ایک با برکت امتحان سے گزر رہے ہیں۔۔۔ تو آخر یہ منحوس امتحان ہمارے سروں پر ڈالنا ضروری تھا۔۔۔؟

شیطان تو ہماری روح پرایسا قبضہ کر کے بیٹھا ہے جیسے خون ہمارے جسم میں مستقل آوارہ گردی کر رہا ہے۔۔۔ جان ہی نہیں بخشتا۔۔۔ اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو چکا ہے۔۔۔ کہ برے کام، گناہ اور جرائم ہم سے شیطان کروا رہا ہے۔۔۔ یا ہم بذاتِ خود شیطان بنے یہ کام کر رہےہیں۔۔۔ شیطان کو الزام دینا تو بڑا آسان ہے۔۔۔ لیکن خود کا محاسبہ کیسے کریں۔۔۔ آخر ہمارا نفس جو مہا شیطان ہے، وہ اپنی غلطیاں ماننے سےبھی تو انکاری ہے۔۔۔ اور ماننا تو دور کی بات۔۔۔ غلطیاں پہچاننا اور سمجھنا بھی نا ممکن ہو گیا ہے۔۔۔

فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم شیطان کے زیرِ اثر ہیں یا شیطان ہمارے زیرِ اثر آ چکا ہے۔۔۔ اگر دوسری بات سچی ہے تو مبارک ہو جی۔۔۔ ہم ابلیس سے بڑے ابلیس بن چکے۔۔۔ اور ابلیس اپنے چیلوں سے نہیں، ہم جیسے انسانوں سے مشورے کرنا اپنے لیے باعث فخر سمجھ رہا ہوگا۔۔۔ مبارک ہو جی۔۔۔ ہم شیطان سے جیت چکے۔۔۔۔


میری موت

چھوڑ دو مجھے، مت لے کر جاو۔۔۔ میں نہیں جاتا تمہارے ساتھ۔۔۔ مجھے یہ کپڑے کیوں پہنا رکھے ہیں۔۔۔ کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے۔۔۔ چھوڑ دو مجھے، مجھے میرے گھر والوں کے پاس رہنے دو۔۔۔ یہ سب کیوں رو رہے ہیں۔۔۔ مجھے کہاں بھیج رہے ہیں۔۔۔ خدا کے واسطے مجھے چھوڑ دو۔۔۔ مجھے نہیں جانا۔۔۔

تم لوگ میری بات کیوں نہیں سنتے۔۔۔ کیا میری آواز تم کو نہیں آتی۔۔۔ کیوں مجھے نظر انداز کر رہے ہو۔۔۔ تم لوگ مجھے یہیں چھوڑ دو۔۔۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یہ کہاں چھوڑ دیا مجھے۔۔۔ اتنا اندھیرا کیوں ہے یہاں۔۔۔ اوہ ہو، اتنی مٹی۔۔۔ اتنی گرمی۔۔۔ اف، کوئی مجھے اس کپڑے سے نجات دے۔۔۔ میں تو گرمی سے پگھل رہا ہوں۔۔۔ کیسا گھٹا ہوا ماحول ہے۔۔۔ میری تو جان نکل رہی ہے۔۔۔

کوئی ہے۔۔۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو۔۔۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو۔۔۔ کوئی ہے۔۔۔؟

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔ آپ کون ہیں؟ او ر یہاں کیا کر رہے ہیں؟

ہم منکر نکیر ہیں اور تم سے تمہاری زندگی کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں۔

کیا کہا؟ کون ہو تم؟ کیا میں مر چکا ہوں؟ تم لوگ کیا پوچھو گے مجھ سے؟ مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے واپس میں دنیا میں جانے دو۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے تم کو۔۔۔ مجھے جانے دو۔

شور مت کرو، تم مر چکے ہو اور اب واپسی کا کوئی رستہ نہیں۔ اب ہمارے سوالات کا جواب دو۔۔۔ بتاو کہ تمہارا رب کون ہے؟

میرا رب۔۔!!! میرا رب۔۔۔ کون ہے میرا رب۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے یاد نہیں میرا رب کون ہے۔۔۔

تمہارا رسول کون ہے؟

خدا کے واسطے مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ میرا رسول کون ہے مجھے نہیں معلوم۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔

تمہارا مذہب کیا ہے؟

مذہب نہیں معلوم۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔ میرے آنسووں پر رحم کرو اور مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرا رب کون ہے، میرا رسول کون ہے اور میرا مذہب کیا ہے۔۔۔؟ مجھے کچھ نہیں معلوم۔

تمہارا رب اللہ تبارک تعالیٰ ہے، تمہارے رسول محمدﷺ ہیں اور تمہارا مذہب ، اسلام ہے۔ اور تمہیں کچھ یاد اس لیے نہیں آ رہا، کہ تم نے اپنی ساری زندگی اپنے رب اور اس کے احکامات کو جھٹلایا ہے۔۔۔ اس کی نافرمانی کی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے وجود کو مانتے تو اس کے احکامات پر عمل کرتے، احکامات کو مانتے تو محمد ﷺ کی سنت پر عمل کرتے اور محمدﷺ کی سنت کو مانتے تو دین اسلام کے ہر ہر حکم اور اصول پر پابند ہوتے۔

اے ابن آدم، تم نے اپنی زندگی برباد کر دی۔ شور شرابے اور کفر میں گزار دی۔ عیش و عشرت میں مبتلا رہے اور اپنا رب نا پہچان سکے۔ روزانہ پانچ دفعہ اللہ کی پکار سنتے رہے کہ وہ تمہیں بار بار اپنے پاس بلاتا رہا کہ اس کی طرف آو، نماز پڑھو اور اس کو یاد کرو، لیکن تم نے اللہ کی پکار کو نظر انداز کیا، اب تمہیں نافرمانی کی سزا ملے گی۔ تمہارے ہر گناہ کی سزا ملے گی۔

مجھے معاف کر دو۔۔۔ مجھے ایک بار پھر دنیا میں بھیج دو۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ کی عبادت میں اپنی ہر سانس مصروف کر دوں گا۔۔۔ اس کے ہر حکم کا تابع رہوں گا۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔

نہیں اے بشر، تیری مدت ختم ہو چکی۔۔۔ اب تو واپس نہیں لوٹ سکے گا۔ اب تو قیامت تک سزا بھگتتا رہے گا۔ اب آخری فیصلہ اللہ ہی روزِ قیامت کرے گا۔ تب تک تو مجرم ٹھرا اور سزا تیرا مقدر ٹھری۔

بچاو۔۔۔ کوئی تو مجھے بچاو۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔ اے اللہ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے قبر کی ہولناکی سے بچا۔۔۔ اے اللہ مجھے بچا۔۔۔ اے اللہ میرے گناہ معاف فرما دے۔۔۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لیے تصویر پر کلک کریں

 



%d bloggers like this: