میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح


لوگ کہتے ہیں مجھے اکثر کہ میں
درد میں ڈوبی ہوئی آواز ہوں
آہ بن کر گونج اٹھے جو روح میں
بربطِ غم کا میں ایسا ساز ہوں

٭٭٭

کیوں نہیں لکھتا خوشی کے گیت میں
چیختی ہے کیوں میری یہ شاعری
ہوک سی اٹھتی ہے کیوں الفاظ سے
رو رہی ہے کیوں کہ فن کی بانسری

٭٭٭

میں غموں کا، آنسووں کا ترجماں
قہقہوں کی داستان کیا لکھوں
بہہ رہی ہیں آبشاریں خون کی
میں انہیں کیوں نور کا جھرنا لکھوں

٭٭٭

آرزووں کا، تمناوں کا خون!
خون خوابوں کے لٹے گلزاروں کا
قریہ قریہ دیکھتا ہوں ہر طرف
خون بھوکے مفلس و نادار کا

٭٭٭

مر رہے ہیں لوگ میرے سامنے
دندناتی پھر رہی ہیں وحشتیں
چیختی ہے آبرو مظلوم کی!
گونجتی ہیں ظالموں کی دہشتیں

٭٭٭

میں اس بستی کا باسی ہوں جہاں
جل رہے ہیں بھوک سے دیوار و در
حق جہاں ملتا نہیں حقدار کو
جو نہیں جھکتے، وہ کٹ جاتے ہیں سر

٭٭٭

میں بھی اس بستی کا باسی ہوں جہاں
حکمراں بےحس ہیں اور عیاش ہیں
مر گیا جن کا ضمیرِ زندگی!
جو فقط اک چلتی پھرتی لاشیں ہیں

٭٭٭

تشنگی اتنی بڑھی کہ حبس میں
پیاس سے باہر زبانیں آ گئیں
جس نے مانگی بوند بھی اس کے لیے
خون میں ڈوبی کمانیں آ گئیں

٭٭٭

کٹ رہی ہیں گردنیں ہر موڑ پر
اٹھ رہے ہیں ہر نگر لاشے ابھی
سرخ ہوتی جا رہی ہے سرزمیں
درد کے سائے نہیں سمٹے ابھی

٭٭٭

کارخانوں سے دھواں اٹھتا ہے
جل رہا ہے جسم یہ مزدور کا
کارخانہ دار کا اس کے سبب
گھر ہے مرمر کا، بدن کافور کا

٭٭٭

بہتے زخموں میں ڈبوتا ہوں قلم
اور لکھتا ہوں انہیں کی داستاں
میرے دکھ بانٹیں ہواوں کے ہجوم
خون کے آنسو بہائے آسماں

٭٭٭

دردِ غم، زخم جدائی، بے بسی
کیسے کیسے ہیں یہاں اترے عذاب
قافلے والو! بتاو تو سہی!
کون ہے جس نے نہیں دیکھے عذاب

٭٭٭

آنکھ ویراں، ہونٹ پتھر ہو گئے
دوستو میں مسکراوں کس طرح
مارتا جاتا ہے، سب کو غم یہاں
میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح

(محمد انوار المصطفیٰ)

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

3 responses to “میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح

  • میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح (جشن آزادی کی مناسبت سے ایک نظم) | Tea Break

    […] میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح (جشن آزادی کی مناسبت سے ایک ن… […]

  • میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح ؟؟؟ - پاکستان کی آواز

    […] میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح ؟؟؟ shafresha vbmenu_register("postmenu_545347", true); 09-08-12, 05:23 AM لوگ کہتے ہیں مجھے اکثر کہ میں درد میں ڈوبی ہوئی آواز ہوں آہ بن کر گونج اٹھے جو روح میں بربطِ غم کا میں ایسا ساز ہوں ٭٭٭ کیوں نہیں لکھتا خوشی کے گیت میں چیختی ہے کیوں میری یہ شاعری ہوک سی اٹھتی ہے کیوں الفاظ سے رو رہی ہے کیوں کہ فن کی بانسری ٭٭٭ میں غموں کا، آنسووں کا ترجماں قہقہوں کی داستان کیا لکھوں بہہ رہی ہیں آبشاریں خون کی میں انہیں کیوں نور کا جھرنا لکھوں ٭٭٭ آرزووں کا، تمناوں کا خون! خون خوابوں کے لٹے گلزاروں کا قریہ قریہ دیکھتا ہوں ہر طرف خون بھوکے مفلس و نادار کا ٭٭٭ مر رہے ہیں لوگ میرے سامنے دندناتی پھر رہی ہیں وحشتیں چیختی ہے آبرو مظلوم کی! گونجتی ہیں ظالموں کی دہشتیں ٭٭٭ میں اس بستی کا باسی ہوں جہاں جل رہے ہیں بھوک سے دیوار و در حق جہاں ملتا نہیں حقدار کو جو نہیں جھکتے، وہ کٹ جاتے ہیں سر ٭٭٭ میں بھی اس بستی کا باسی ہوں جہاں حکمراں بےحس ہیں اور عیاش ہیں مر گیا جن کا ضمیرِ زندگی! جو فقط اک چلتی پھرتی لاشیں ہیں ٭٭٭ تشنگی اتنی بڑھی کہ حبس میں پیاس سے باہر زبانیں آ گئیں جس نے مانگی بوند بھی اس کے لیے خون میں ڈوبی کمانیں آ گئیں ٭٭٭ کٹ رہی ہیں گردنیں ہر موڑ پر اٹھ رہے ہیں ہر نگر لاشے ابھی سرخ ہوتی جا رہی ہے سرزمیں درد کے سائے نہیں سمٹے ابھی ٭٭٭ کارخانوں سے دھواں اٹھتا ہے جل رہا ہے جسم یہ مزدور کا کارخانہ دار کا اس کے سبب گھر ہے مرمر کا، بدن کافور کا ٭٭٭ بہتے زخموں میں ڈبوتا ہوں قلم اور لکھتا ہوں انہیں کی داستاں میرے دکھ بانٹیں ہواوں کے ہجوم خون کے آنسو بہائے آسماں ٭٭٭ دردِ غم، زخم جدائی، بے بسی کیسے کیسے ہیں یہاں اترے عذاب قافلے والو! بتاو تو سہی! کون ہے جس نے نہیں دیکھے عذاب ٭٭٭ آنکھ ویراں، ہونٹ پتھر ہو گئے دوستو میں مسکراوں کس طرح مارتا جاتا ہے، سب کو غم یہاں میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح؟؟؟ (محمد انوار المصطفیٰ) […]

  • Sajid mehmood

    Dua hai ke mera pakistan aisa Gulistan ban jaye ke jis ko kabhi Andesha Khizan na ho.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: