بلاگنگ کا ایک سال

لکھنا شوق ہے۔۔۔ لیکن لکھنا آتا ہی نہیں تھا۔۔۔ اب بھی نہیں آتا۔۔۔ بس کوشش کرتا ہوں کہ اپنے الفاظ احباب تک پہنچا سکوں۔۔۔ بڑی مشکل سے پہلی تحریر لکھی۔۔۔ پھر دوسری اور پھر تیسری۔۔۔ اور آج اپنے بلاگ کے پورے ایک سال ہونے پر اپنی ترانویں تحریر لکھ رہا ہوں۔۔۔

سال ہوگیا بلاگنگ کرتے۔۔۔ پہلا تبصرہ "افتخار اجمل صاحب” کا تھا۔۔۔ جس نے مجھے مزید لکھنے کی رغبت دلائی اور ہمت افزائی کی۔۔۔ پھر کارواں بنتا رہا۔۔۔ اور آج بلاگرز کے جمِ غفیر میں مجھ ناچیز کو کوئی ایک لکھاری کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔۔۔

کیا کیا نا لکھا۔۔۔ مذہب پر اپنے جنون کا احوال، پاکستان کے بارے میں کچھ تجزیے، بلاگستان کے ماحول پر "پرمغز” تحاریر، کچھ اپنی ذاتی تجربات۔۔۔ اور کچھ فضول بندوں پر تنقید۔۔۔ کیا کیا نا لکھا۔۔۔!!!

اب ایسا لگ رہا ہے کہ لکھتے لکھتے الفاظ ہی ختم ہو گئے۔۔۔ کیا لکھوں، کیوں لکھوں، کس کے لیے لکھوں۔۔۔ کیا میرے الفاظ کی کچھ اہمیت ہے۔۔۔ کیا میرے الفاظ کسی کی سوچ بدل پائے ہیں۔۔۔ کیا میری تحاریر کسی ایک شخص کے لیے ہی معاون ہو پائی ہیں۔۔۔؟ اتنے سوال۔۔۔ اور حسب معمول، میرا کورا دماغ۔۔۔

بلاگنگ کا مقصد کیا ہے۔۔۔؟ کیا میں اپنی ذاتی سوچ اور تجربات کو قارئین کے ساتھ بانٹ سکتا ہوں۔۔۔ کیا میں اپنے مصائب دنیا کے سامنے لا سکتا ہوں۔۔۔ اور کیا دنیا میرے مصائب پر توجہ دے سکتی ہے۔۔۔؟ کیا مجھے میری مشکلات کے حل میرے مبصرین دے سکتے ہیں۔۔۔ ؟ پھر وہی بات۔۔۔ بلاگنگ کا صحیح مقصد میں سمجھ ہی نہیں پا رہا۔۔۔

کیوں لکھتا ہوں جب لکھتے ہوئے بھی سوچنا پڑتا ہے کہ زندگی کا فلاں پہلو، میری سوچ اور میرے نظریات دنیا کے سامنے لانے والے نہیں۔۔۔ خود تک چھپا کر رکھنا بہتر ہے۔۔۔ تو کیا فائدہ میرے لکھنے کا۔۔۔ جب کسی سے زبانی کہہ نہیں سکتا، اپنا آپ کسی سے بانٹ نہیں سکتا تو پھر لکھنے میں بھی "پراکسی” کیوں لگانی پڑ رہی ہے۔۔۔ کیوں میں کسی بھی طریقے سے خود کو دنیا کے سامنے نہیں رکھ پا رہا۔۔۔ کیوں لکھتے لکھتے، میرے الفاظ میرا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔

میں واقعی بلاگنگ کی صحیح روح کو سمجھ ہی نہیں پا رہا۔۔۔

ہاں بلاگنگ کا فائدہ کسی حد تک یہ ہوا کہ مجھے کچھ ایسے احباب مل گئے، جن سے دوستی کرنا ہی میرے لیے باعث فخر ہے۔۔۔ میرا دل چاہتا کہ کاش میں ان حضرات سے ملوں اور ان سے بہت کچھ سیکھوں۔۔۔ ان سے باتیں کروں اور ان کی باتیں سنوں اور سیکھتا رہوں۔۔۔

باتیں تو ایویں کی چلتی ہی رہتی ہیں۔۔۔ میں باتوں باتوں میں اپنے بلاگ کو سالگرہ مبارک کہنا نا بھول جاوں۔۔۔ تو اے میرے پیارے بلاگ، تو جیے ہزاروں سال۔۔۔ شیر لگا ایں سوہنیا۔۔۔

دل چاہ رہا ہے کہ اپنے بلاگ کے بارے میں کچھ اعدادوشمار آپ سے شئیر کروں۔۔۔ تو دل چاہے تو پڑھ لیں۔۔۔ نا چاہے تو نظر انداذ کر یں۔۔۔

22اگست 2010 سے 22 اگست 2011 تک:

کل تحاریر        :    93

کل تبصرے    :    770

بلاگ پڑھا گیا    :    تقریبا 13،000 مرتبہ

 

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

19 responses to “بلاگنگ کا ایک سال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: