کتنے اچھے تھے ہم دونوں..

کتنے اچھے تھے ہم دونوں..
دھن کے پکے تھے ہم دونوں…

ًمخلص مخلص، پاگل پاگل…
ایک ہی جیسے تھے ہم دونوں…

مل جاتے تو پورے ہوتے…
آدھے آدھے تھے ہم دونوں…

واپس آنا تھا نا ممکن…
گزرے لمحے تھے ہم دونوں…

خشک ہوا، صحرا کی صورت…
جھیل سے گہرے تھے ہم دونوں…

سلب کیا حالات نے ہم کو…
خودرو پودے تھے ہم دونوں…

یاد کرو اس پیار کی خاطر…
سو دکھ سہتے تھے ہم دونوں…

کیوں اتنے بے دید ہوئے…
دید کے پیاسے تھے ہم دونوں…

لوگ بہت عیار تھے فاتح…
بھولے بھالے تھے ہم دونوں…

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

2 responses to “کتنے اچھے تھے ہم دونوں..

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: