لبیک – قسط دوم – الھفوف سے مکہ مکرمہ تک

 

عظیم میرا جگری دوست اور میری چچی کا بھانجا ہے۔۔۔ تقریباً آٹھ سال ہم نے دبئی میں ساتھ کام بھی کیا اور روم میٹ بھی رہے۔۔۔ توصیف اور خرم اس کے ماموں زاد بھائی ہیں ۔۔۔ تینوں احباب چار گھنٹوں سے میرے انتظار میں سوکھ رہے تھے۔۔۔ لیکن وہ بھی جانتے ہیں کہ سعودی حکام کا رویہ کیسا ہے۔۔۔ باہر آ کر سلام دعا ہوئی اور الحفوف کی جانب رواں دواں ہوئے۔۔۔ توصیف گاڑی چلا رہا تھا اور پچھلی سیٹ پر عظیم اور میں براجمان تھے۔۔۔ دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے بعدالحفوف پہنچے۔۔۔ جہاں توصیف کے والدین ہمارا انتظار کر رہے تھے۔۔۔

عظیم اور میرا پلان یہ تھا کہ جمعہ کی نماز کے بعد الحفوف سے ڈرائیو کر کے جدہ تک جائیں گے جو تقریباً سولہ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے عظیم صاحب کی گاڑی نے انہیں دغا دے دیا اور گیراج جانے کے لیے تیار کھڑی ہی ہو گئی۔۔۔ جمعہ کو تو کوئی گیراج کھلا نا تھا اس لیے ایک رات اور الحفوف میں گزارنی پڑی۔۔۔ اور بروز ہفتہ صبح صبح گاڑی لے کر گیراج چلے گئے۔۔۔ گاڑی ایک بجے تیار ہوئی اور ہم دونوں نے رختِ سفر باندھا۔۔۔

بہت یادگار لیکن تھکا دینے والا سفر تھا۔۔۔ رستے میں صرف نمازوں کے لیے رکے یا ایک بار کھانے کے لیے۔۔۔ تین سال بعد ہم دونوں دوست ملے تھے۔۔۔ توبہت سی باتیں تھی کرنے کے لیے۔۔۔ نا صرف ذاتی نوعیت کی بلکہ مذہبی اور سیاسی معاملات پر بھی پرمغز گفت و شنید ہوئی۔۔۔ عظیم خود کو فلاسفر سمجھتا ہے۔۔۔ اور کسی حد تک ہے بھی۔۔۔ دجال اور دنیا میں پھیلتے دجالی سسٹم کے بارے میں عظیم کے پاس بہت کچھ تھا کہنے کے لیے۔۔۔ میں خاموشی سےسنتا رہا۔۔۔ اور جب میں نے نوٹ کیا کہ یہ فلاسفر کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا ہے۔۔۔ تو میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ بس کر بھائی۔۔۔ میں چھٹیوں پر آیا ہوں۔۔۔ اور اپنے دماغ پر سوچنے سمجھنے جیسا مشکل بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔۔۔ تو وہ کھسیانا ہو کر چپ ہو رہا۔۔۔

 

clip_image002clip_image004

الحفوف سے الریاض تک کا راستہ ایسا ہی سنسان ہے۔۔۔ میلوں تک حدِ نگاہ صحرا ہی صحرا ہے

clip_image006

مجھے بتایا گیا کہ یہاں سے الریاض شروع ہوتا ہے

 

clip_image008

clip_image010

الریاض کے فوراً بعد بہت ہی خوبصورت پہاڑی سلسہ شروع ہوجاتا ہے۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بڑے بڑے پہاڑ کاٹ کر نہایت خوبصورت سڑکیں بنائی گئ ہیں۔۔۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا رہا جب تک شام کا اندھیرے نے مجھے مزید تصاویر لینے اور دیگر علاقاجات کے نام پڑھنے اور نوٹ کرنے سے محروم نا کر دیا۔۔۔

clip_image012clip_image014

 

مجھے اس کے ساتھ اپنے چچا زاد بھائی سلمان کے پاس جدہ جانا تھا جہاں عظیم کو مجھے چھوڑ کر ینبوع چلا جانا تھا۔۔۔ عظیم صاحب اپنے عادت کے مطابق جدہ کا راستہ بھول گئے۔۔۔ اور سلمان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے انہیں فون کیا۔۔۔ سلمان نے جو راستہ عظیم کو بتایا وہ طائف سے ہو کر گزرتا تھا۔۔۔ طائف سے جدہ کی سڑک خوبصورت لیکن نہایت خطرناک ہے جو پہاڑی سلسلے کو کاٹ کر بنائی گئی ہے۔۔۔ پیمائش تو نہیں مانپ سکالیکن سڑک تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔

کافی سفر کے بعد ایک بورڈ نظر آیا جس پر ایک طرف مکہ مکرمہ کا اشارہ تھا اور دوسری جانب "غیر مسلموں کے لیے باہر " جانے کا اشارہ تھا۔۔۔ سلمان صاحب کی ہدایت کے مطابق عظیم نے "غیر مسلموں کے لیے باہر" جانے کا راستہ لیا۔۔۔ جو ہمیں سیدھا جدہ لے جاتا۔۔۔ لیکن عظیم صاحب تو عظیم ہیں جو وہاں سے بھی راستہ بھول گئے اور ناجانےکس راستے نکل پڑے۔۔۔

دور سے "مکہ کلاک ٹاور" نظر آیا تو میں چیخ اٹھا۔۔۔ کہ بھیا ہم تو مکہ کی جانب جا رہے ہیں۔۔۔ عظیم تھوڑا پریشان ہو گیا۔۔۔ اور کہنے لگا ، یار اگر مکہ کی جانب آ گئے ہیں تو سمجھو سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بڑھ گیا ہے۔۔۔ گاڑی جوں جوں مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ رہی تھی، میرا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔ اور میں تیز ائیر کنڈیشن میں بھی پسینہ سے شرابور ہو گیا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔ کہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔ رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے اور زبان پر خود بخود سبحان اللہ کا ورد جاری ہو گیا۔۔۔

 

clip_image016 clip_image018

clip_image020

منیٰ سے گزرتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث سے کچھ خاص تصاویر نہیں لے سکا۔۔۔ بس یہی کوالٹی بن سکی

 

گاڑی کلاک ٹاور کے قریب سے ہوتے ہوئے منیٰ کے درمیان سے گزر رہی تھی اور میں دونوں جانب حاجیوں کے لیے بنائے گئے سفید خیمے دیکھ رہا تھا۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں جس مقصد کے لیے سعودی عرب آیا ہوں کیا میں وہ مقصد پورا کر پاوں گا۔۔۔ کیا میں گناہ گار اس قابل ہوں کہ اللہ کے گھر حاضری دے سکوں۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے گناہوں اور کوتاہیوں کے باعث اللہ تبارک تعالٰی مجھے بس یہیں سے واپس بھیج رہا ہے۔۔۔ اور بیت اللہ کا طواف کرنا بس میرا خواب ہی رہ جائے گا۔۔۔ کیا میرا قبیح جسم بیت اللہ پر قدم رکھنے کے قابل بھی ہے۔۔۔ شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو بہہ اٹھے۔۔۔ اور دل ہی دل میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور درخواست کی کہ مجھے اپنے گھر بلا لے۔۔۔

جدہ پہنچتے ہی سلمان اور بھابھی نے خوب خاطر مدارت کی ۔۔۔ تھکاوٹ کے مارے حال براتھا۔۔۔ عظیم تو کھانا کھاتے ہی سو گیا کہ اسے صبح صبح ینبوع کے لیے نکلنا تھا۔۔۔ سلمان صاحب کے ساتھ اگلے دن مورخہ 4 ستمبر کو عمرہ کا پروگرام بنا۔۔۔۔ سلمان ایک رینٹ-اے – کار کمپنی میں اسسٹنٹ آپریشن مینیجر ہے اور اس کا فون مستقل چلتا رہتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھ تو جائیں لیکن اس سے بات کرنا بہت مشکل ہے کہ اس کا زیادہ وقت فون پر ہی گزرتا ہے۔۔۔ بڑے ترلوں کے بعد اس کا فون بند کروانا پڑتا ہے۔۔۔

بروز 4 ستمبر ، سلمان دوپہر کو ہی گھر آ گئے ۔۔۔ انہوں نے ضد کی کہ احرام گھر سے باندھیں گے۔۔۔ جو مجھے قبول نا تھا۔۔۔ میں نے اپنے استاد صاحب کو عجمان فون کیا اور ان سے مسئلہ پوچھا کہ کیا میں بھی احرام جدہ سے ہی باندھ سکتا ہوں تو انہوں نے منع فرما دیا اور میقات پر جانے کا مشورہ دیا۔۔۔ بادل ناخواستہ سلمان کو میری بات ماننی پڑی اور ہم نے میقات الجحفہ جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔

 

clip_image022clip_image024

clip_image026clip_image028

clip_image030

 
 

مسجد میقات الجحفہ میں غسل کا بہترین اہتمام ہے اور مسجد کے باہر کچھ دکانیں ہیں جہاں سے زائرین اپنے لیے احرام، قینچی چپل، بیلٹ، صابن اور ریزر جیسی اشیاء خرید سکتے ہیں

مسجد میقات الجحفہ جدہ سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔۔۔ شام سوا چھے بجے مسجدِ میقات الجحفہ پہنچے اور پہلے نماز مغرب پڑھی پھر صفائی ستھرائی اور نہا دھو کر احرام باندھا۔۔۔ چونکہ یہ میرا پہلاعمرہ تھا اس لیے سلمان ہی میری رہنمائی کر رہا تھا۔۔۔ احرام باندھنے کے بعد مسجد میں دو نفل پڑھے اور نیت باندھنے کے بعد مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ گئے۔۔۔

 

جاری ہے۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

4 responses to “لبیک – قسط دوم – الھفوف سے مکہ مکرمہ تک

  • محمد سلیم

    اس سفر کی داستان کو آپ سے سننا اچھا لگ رہا ہے۔
    اچھا تو آپ ریاض سے مکہ کی بجائے پہلے جدہ کیوں چلے گئے؟ طائف میں بھی ایک میقات ہے وہاں سے احرام باندھ کر پہلے مکہ چلے جاتے! اب آپ لوگ بغیر احرام کے حدود حرم سے گزر گئے ہیں (اگر واقعی منیٰ سے گزرے ہیں تو منٰی تو حدود حرم میں ہی آتا ہے)، اس طرح تو آپ ایک شرعی حد کو توڑ چکے ہیں۔ باقی کسی اور سے راہنمائی حاصل کریں۔
    آپ کو جس نے کہا تھا کہ غیر مسلوں والے راستے سے ہوتے ہوئے (دوسرے لفظوں میں حدود حرم کے باہر باہر سے) جدہ چلے جانا، اُس نے ٹھیک کہا تھا مگر آپ لوگوں سے غلطی ہو گئی جسکا شرعا ایک ازالہ بھی کرنا پڑتا ہے جسے دم کہتے ہیں۔ اللہ آپ کی اس کوشش کو منظور و مقبول فرمائیں۔
    آئندہ حفوف کو ھفوف لکھیئے گا ورنہ سعودی ناراض ہو جاتے ہیں۔ ہاہاہا

  • ضیاءالحسن خان

    بہت اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ نہایت ہی اچھا ہوا کہ جدہ کے بجائے سیدھے مکہ پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمرہ پہلے کیا یہی اچھی بات ہے ۔۔۔۔ اللہ قبول فرمائے ۔۔ آمین

  • عمران اقبال

    @ سلیم بھائی… میں نے سعودیہ جاتے ہوئے عمرہ کی نیت نہیں کی تھی… اور ارادہ پہلے جدہ اپنے بھائی کے پاس جانے کا ہی تھا… اور اس کے بعد کے پروگرام کے مطابق ہمیں عمرہ کے لیے جانا تھا… اور ویسے ہی کیا…
    میرے استاد صاحب ہیں، جن سے وقتآ فوقتآ میں مشورے لیتا رہا… اور ان کے مشورے کے مطابق میں نے میقات الجحفہ سے ہی احرام باندھا اور عمرہ کی نیت کی…

    میں نے عمرہ کے دوران کافی بڑے بلنڈر blunders مارے ہیں… جن کا تذکرہ انشاءاللہ تعالیٰ اگلی قسط میں ہوگا… اللہ معاف فرمائے اور قبول کرے… آمین.

    @ ضیاء بھائی… یار میں پہلے ایک رات جدہ رکا اور پھر میقات الجحفہ سے احرام پہن کر عمرہ کے لیے روانہ ہوا…

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: