لبیک – قسط سوم – مکہ مکرمہ اور بیت اللہ

نوٹ: میری اس تحریر کا مقصد "ریاکاری” ہرگز نہیں ہے۔۔۔ نا ہی مجھے دنیا کے سامنے نیک بننے کا شوق ہے۔۔۔ اور نا ہی مجھے یہ یقین ہے کہ میں اچھا انسان ہوں۔۔۔ بلکہ میرا ماننا ہے کہ یقیناً روئے زمین پر مجھ سے زیادہ گناہگار انسان کوئی نہیں ہے۔۔۔ براہ کرم اس تحریر کو صرف ایک سفرنامہ اور ایک تجربے کے طور پر لیجیے۔۔۔ شکریہ

پہلا عمرہ اور پہلا نظارہِ بیتُ اللہ۔۔۔ کیا احساسات ہو سکتے ہیں انسان کے۔۔۔؟

جوں جوں گاڑی مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ دل کی دھڑکن نہایت تیز ہو گئی۔۔۔ بےقراری ہی سمجھ لیں جس نے دو گھنٹے کی مسافت کو ناجانے کتنے سالوں کے لمحات بنادیا۔۔۔ جو ختم ہونے کا نام ہی نا لے رہی تھی۔۔۔ دل ندامت سے بھرپور تھا۔۔۔ اُسی سوچ کے ساتھ کہ جانے میرے گناہ مجھےاتنی پاک جگہ کیسے جانے دیں گے۔۔۔ میں تو اس قابل ہی نہیں کہ مجھے زیارتِ بیت اللہ کا شرف بخشا جائے۔۔۔ میں وہ ساری دعائیں دل ہی دل میں دہرانے لگا جو مجھے کعبہ کے پہلے دیدار پر مانگنی تھیں۔۔۔ اور بھی بہت سے لوگوں کی دعاووں کے لیے گزارشات یاد آئیں کہ جب بھی کوئی مجھے دعا کے لیے کہتا ، میں صرف انشاءاللہ ہی کہہ پاتا اور دل میں سوچتا کہ میں اس قابل کہاں کہ کسی کے لیے دعا کر سکوں۔۔۔

عشاء کی نماز راستے میں ہو گئی لیکن سلمان صاحب گاڑی روکنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے کہ دیر ہو جائے گی۔۔۔ نماز حرم جا کر ہی پڑھیں گے۔۔۔ میں بادلِ ناخواستہ خاموش ہو گیا کہ اپنی موجودہ حالت کی وجہ سے سلمان سے ضد کرنے کی ہمت نہیں جتا پا رہا تھا۔۔۔

دس بجے مکہ مکرمہ کی حدود میں داخل ہوئے۔۔۔میں زبان پر مسلسل تلبیہ کا ورد کر رہا تھا۔۔۔ اور گاڑی کی رفتار سے بھی تیز گزرتی ہوئی نئی بنی عمارتوں کو تک رہا تھا۔۔۔ کہ کبھی یہاں صحابہ کرام رہتے ہونگے۔۔۔ کبھی یہاں رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا ہو گا۔۔۔ کتنی مبارک زمین ہے یہ۔۔۔

اچانک سلمان نے میری توجہ بائیں طرف گزرتی ایک خوبصورت مسجد کی طرف مبذول کرائی اور بتایا کہ یہ مسجد عائشہ ہے۔۔۔ مکہ مکرمہ میں رہنے والے مسجد عائشہ سے ہی احرام باندھتے ہیں۔۔۔ اس وقت مجھے مسجد عائشہ کی تاریخی حیثیت کا علم نہیں تھا۔۔۔ فارغ وقت میں کچھ ریسرچ وغیرہ کی تو یہ پتا چلا کہ مسجد عائشہ حرم پاک سے تقریباً ساڑھے سات کلومیٹر کی دوری پر ہے۔۔۔ اور حجۃ الوداع کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے عمرہ کے لیے احرام اور نیت یہاں باندھی تھی۔۔۔


مسجد عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا

اب مکہ کا مشہور "کلاک ٹاور” بہت واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ جس سے مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ ہم حرم پاک کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔۔۔ پانچ منٹ کی مزید ڈرائیو کے بعد حرم پاک کے مینار نظر آئے۔۔۔ میں دور سے ہی میناروں کے نظارے میں گم تھا کہ پھر اچانک سلمان صاحب کی آواز آئی کہ بھائی ہوٹل پہلے دیکھ لیں یا عمرہ کے بعد۔۔۔ میں نے کہا ، بعد میں ہوٹل کا بندوبست کریں گے، ابھی سیدھا بیت اللہ چلو۔۔۔ اب مزید انتظار مشکل ہے۔۔۔




کچھ فاصلے سے گاڑی سے ہی حرم پاک کا پہلا منظر

مسجد الحرم کے باہر ایک پل کے جانب لگا یہ بل بورڑ، جس پر مستقبل کے توسیعی منصوبہ کی تصویر ہے۔ انشاءاللہ چند سالوں میں کعبہ کے اردگرد ایسی ہی بلندو بالا عمارتیں کھڑی ہونگی، جو حجاج کرام کی سہولت کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔

سلمان کا چونکہ مکہ مکرمہ باقاعدگی سے آنا جاناہوتا ہے تو اس نے کہا ویسے تو گاڑی کے لیے پارکنگ ملنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ لیکن ہم حرم پاک کے بلک سامنے واقع ہلٹن ہوٹل کی بیسمنٹ میں پارکنگ کریں گے۔۔۔

ماہ رمضان کے بعد تو ویسے بھی زائرین کا رش بہت کم ہوتا ہے۔۔۔ اس لیے ہمیں سڑکوں پر بھی کچھ خاص ٹریفک اور چہل پہل نظر نہیں آئی۔۔۔ گاڑی ہلٹن ہوٹل کی پارکنگ میں پارک کرنے کے بعد میں اپنا احرام سنبھالتے باہر نکلا ۔۔۔ چونکہ پہلی دفعہ تھی اس لیے "لنگی” کی طرح باندھنے میں مشکل ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن خیر کسی نا کسی طرح وہیں کھڑے کمر کس ہی لی۔۔۔

لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمدہ والنعمۃ لک والملک، لاشریک لک پڑھتے ہوئے میں اور سلمان مسجد الحرم کی جانب بڑھے۔۔۔ سلمان نے یاد دہانی کروائی کہ بھائی، کعبہ کو پہلی نظر دیکھتے ہی جو بھی دعا کرو، وہ قبول ہوتی ہے۔۔۔ اس لیے یاد کر لو کہ کیا کیا دعا مانگنی ہے۔۔۔ دماغ میں اچانک بھابھی (سلمان کی زوجہ محترمہ) کی بھی بات یاد آگئی کہ انہوں نے کہا تھا کہ بھائی، آپ جتنا بھی سوچ لوکہ کیا کیا مانگنا ہے یا دعا کرنی ہے، وہاں پہنچ کر کیفیت کچھ ایسی ہو جاتی ہے کہ بہت کچھ دماغ سے نکل جاتا ہے، بس دل سخت ہو جاتا ہے۔۔۔




مسجد الحرم کی جانب بڑھتے ہوئے انتہائی قریب سے لی گئی تصاویر

جاری ہے۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

6 responses to “لبیک – قسط سوم – مکہ مکرمہ اور بیت اللہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: