Monthly Archives: اکتوبر 2011

ایک پنجابی اور کراچی والے

پنجابی اور وہ ایم بی اے کی کلاس میں پہلی دفعہ ملے تھے۔۔۔ اور دونوں شدید محبت کرنے لگے۔۔۔ وہ کراچی کی تھی۔۔۔ اور بہت اچھی تھی۔۔۔ اتنی اچھی کہ پنجابی اس کے عشق میں گرفتار ہوتا ہوتا اس حد تک پہنچ گیا کہ پنجابی کے دل بھی بس اسی کے نام سے دھڑکتا تھا۔۔۔ دونوں نے بہت خواب دیکھے۔۔۔ بہت خوبصورت خواب۔۔۔ ایک دوجے کے ساتھ زندگی گزارنے کے خوبصورت خواب۔۔۔ ایک دوجے کا ہاتھ تھامے زندگی کے ہر لمحے کومزید خوبصورت بنانے کے خواب۔۔۔

پنجابی نے کبھی نا سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کراچی کی ہے۔۔۔ اور اس کے دل و دماغ میں پنجابی کے "پنجابی ” ہونے کا کوئی تصور نہیں تھا۔۔۔ بس دونوں ایک دوجے کی محبت اور ساتھ میں ڈوبتے ہی چلے گئے ۔۔۔

پنجابی کا آفس اس کے آفس سےصرف ایک کلومیٹر دور تھا۔۔۔ ہر شام دونوں کام ختم کرنے بعد ، رستے میں موجود ایک کفتیریا کے باہر اپنی اپنی گاڑیاں کھڑی کرتے اور چائے پیتے۔۔۔ چائے کی چسکیاں بھرتے، دونوں کی نظریں ٹکراتی رہتی لیکن لب کم ہی ہلتے تھے۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ دونوں کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔ بس نظروں کا اٹھنا، جھکنا اور ایک دوسرے سے ٹکرانا ہی ساری گفتگو تھی۔۔۔

چائے ختم ہوتے ہی، دونوں اللہ حافظ کہہ کر اپنے اپنے گھر کی جانب روانہ ہو جاتے۔۔۔ لیکن گھر پہنچتے پہنچتے موبائل پر پھر سے رابطہ ہوتا اور وہ ساری باتیں کی جاتی جو آمنے سامنے کہہ نا پاتے۔۔۔

ساری ساری رات فون پر دل کے احوال کہے اور سنے جاتے۔۔۔ کئی بار لنچ یا ڈنر کے لیے بھی باہر جاتے۔۔۔ اتنے قریب اور تنہا ہونے کے باوجود ، پنجابی نے کبھی اسے ہاتھ تک نا لگایا، کہ پنجابی کو اس کی عزت اور عصمت کی بہت فکرتھی۔۔۔

پھر اچانک، اس کے گھر والوں کی ضد نے اس کی اور پنجابی کی زندگی اجاڑ دی۔۔۔ اور دونوں اپنے خواب کھو بیٹھے۔۔۔ اس کی منگنی طے کر دی گئی۔۔۔ پنجابی پر یہ خبر قہر بن کر گری۔۔۔ اور قریب تھا کہ پنجابی اپنے حواس کھو بیٹھتا۔۔۔ پنجابی نے بہت سوچ کر اسے، ہر قسم کے وعدوں اور قسموں سے آزاد کیا اور اسے تلقین کی کہ وہ اپنے والدین کے فیصلوں کو خوشی سے قبول کرے اور اپنے نئے ہمسفر کے ساتھ بھی وفا کرے۔۔۔

کچھ ہی عرصے میں اس کا رویہ پنجابی سے بلکل بدل گیا ۔۔۔ اور اب وہ پنجابی کو حد درجہ نظر انداز کرنے لگی۔۔۔ پنجابی جو دل کو اب تک سمجھا رہا تھا، اس نظر اندازی کو برداشت نا کر پایا۔۔۔ وہ اس کے سامنے رویہ گڑگڑایا کہ کم از کم دن میں ایک بار چند لمحوں کے لیے ہی سہی ، لیکن اپنی آواز تو سنا دے۔۔۔ کہ شاید اس کی آواز ہی پنجابی کا آخری سہارا تھی۔۔۔ لیکن وہ اپنے منگیتر کے ساتھ مصروف ہوتی گئی۔۔۔۔ اور پنجابی کو ایک ہمیشہ کے لیے محبت کے جہنم میں ڈھکیل گئی۔۔۔ اب پنجابی ہمیشہ جلتا اور کڑھتا رہتا ہے۔۔۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کس نے چھوڑا، "اس” نے یا "محبت” نے۔۔۔ پنجابی اب بھی اس سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔۔۔ لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ اب اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے ۔۔۔ اور پنجابی کی دسترس میں بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی، وہ اب تک "اس” کی عزت کی حفاظت کر رہا ہے۔۔۔

_____________________________________

وہ پنجابی کے سامنے بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔۔۔ اس کے ویزٹ ویزے کے خاتمہ میں بس دس دن رہ گئے تھے اور اسے نوکری کی اشد ضرورت تھی۔۔ اور وہ کراچی واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔۔۔ پنجابی اس کی ریزومے کو بغور پڑھ رہا تھا۔۔۔

چند دن پہلے ہی پنجابی نے اپنے "پرچیزر” کو نکالا تھا۔۔۔ اور کام کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا تھا۔۔۔ پنجابی نے اس کمپنی کے لیے خون پسینہ بہایا تھا ۔۔۔ کینیڈا کے مالک پنجابی پر بہت اعتماد کرتا تھا۔۔۔ پنجابی نے دن رات کی محنت سے اس کمپنی کو صحرا سے اٹھا کر 15 ملین ڈالر کی کمپنی بنا دیا تھا۔۔۔ پنجابی پاکستان سے بہت محبت کرتا تھا۔۔۔ سٹیل فیبریکیشن کی کمپنی میں پاکستان سے 150 ویلڈر اور فیبریکیٹر منگوائے ، انہیں اچھی تنخواہیں دیں، ہر طرح کی سہولت دی۔۔۔ پاکستان سے آنے والے محنت کشوں میں 70 صرف کراچی سے تھے۔۔۔ سارے ملازم پنجابی سے شدید محبت کرتے تھے اور اسے اپنا مائی باپ سمجھتے تھے۔۔۔ پنجابی کی عادت ہی محبت کرنا اور دوسروں کے کام آنا تھا۔۔۔

پنجابی کو دو ہفتے بعد چھٹی پر پاکستان جانا تھا۔۔۔ ریزومے پڑھتے ہی پنجابی نے "اس” کی جانب دیکھا اور کہا، "یو آر ہائرڈ۔۔۔ کل سے آفس آ جاو۔۔۔ اپاونٹمنٹ لیٹر ہیومن ریسورس آفس سے لے لو۔۔۔ میں ابھی وہاں فون کر دیتا ہوں۔۔۔ ” اس نے پنجابی کا شکریہ ادا کیا اور جنرل مینیجر کے آفس سے نکل گیا۔۔۔

دو ہفتے میں اس نے اپنی محنت سے ثابت کر دیا کہ پنجابی نے اسے پرچیزر رکھ کر کوئی غلطی نہیں کی۔۔۔ اور وہ سیکھنے کی بہت لگن رکھتا ہے۔۔۔ پنجابی اپنا کام مختلف ڈیپارٹمنس کو سونپ کر چھٹی پر چلا گیا۔۔۔ یہ چار سال میں اس کی پہلی چھٹی تھی۔۔۔ اور وہ بھی صرف ایک ماہ کے لیے۔۔۔

ایک ماہ کے آرام کے بعد پنجابی واپس آیا۔۔۔ تو اس نے آفس کا ماحول میں واضح تبدیلی محسوس کی۔۔۔ کمپنی کا مالک بھی پنجابی سے اس گرم جوشی سے نا ملا ، جیسے وہ پہلے ملتا تھا۔۔۔ کچھ وفادار ملازم ایک شام اس سے باہر ملے اور اس تبدیلی کی وجہ بیان کی۔۔۔ بقول ان کے، "اس” نے پنجابی کے پاکستان جاتے ہی مالک سے میل جول بڑھانا شروع کر دیا۔۔۔ اور زیادہ وقت اس کے زاتی کام کرنے میں گزارتا تھا۔۔۔ اور کئی بار لوگوں نے مالک سے اسے پنجابی کی برائیاں کرتے بھی سنا۔۔۔ مالک جو شاید کچے کان کا تھا، اسے پنجابی سے متنفر ہونے میں زیادہ وقت نا لگا۔۔۔ اس نے مالک کو یقین دلا دیا کہ وہ ملازمین کی تنخواہیں کاٹ کر یا کم کر کے منافع میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔۔۔ پنجابی اس پلان کے آڑے آ گیا۔۔۔ وہ محنتی ملازمین کو ان کی محنت کے مطابق تنخواہ دینے کا حامی تھا۔۔۔ کئی بار پنجابی نے اسے اپنے آفس بلا یا تاکہ وہ اسے ان حرکات سے باز رکھ سکے۔۔۔ لیکن وہی شخص ، جو نوکری حاصل کرنے کے لیے پنجابی کے سامنے آنسو بہا رہا تھا، اس نے پنجابی کی ہر بات سننے سے انکار کر دیا اور پیغام بھیج دیا کہ پنجابی اسے جو بھی کہنا چاہتا ہے، مالک کے توسط سے کہہ دے۔۔۔

یوں کام کرنا پنجابی کے لیے عذاب بن گیا، اور چھ ماہ بعد پنجابی نے اس کمپنی سے استعفیٰ دے دیا، جس کو اس نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا۔۔۔

_________________________________________

ایک شام پنجابی اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا، اپنی محبت کی بے وفائی اور نوکری چلی جانے کی روداد سنا رہا تھا۔۔۔ دوست نے سرد آہ بھری اور اسے کہا ۔۔۔ "یار کراچی کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں، بے وفا اور خودغرض۔۔۔ اب ان سے بچ کر رہنا۔۔۔” اس نے چونک کر اپنے دوست کی جانب دیکھا۔۔۔ اور پھر حیرت میں ڈوب گیا۔۔۔ اس نے تو کبھی ان سطور پر سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ شاید پہلے بھی کئی دوست اسے دغا دے گئے، ان میں سے بھی کئی دوست کراچی کے تھے۔۔۔ تو کیا سارے کراچی والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔؟

پنجابی کو تو نئی نوکری مل گئی، جو پہلی نوکری سے بھی اچھی اور پرسکون تھی۔۔۔ وہ اسی محنت اور محبت کے ساتھ پھر سے کام پر لگ گیا۔۔۔ لیکن جب کچھ لمحے سکون کے ملتے تو وہ خود سے سوال کرتا کہ آخر اس نے کیا گناہ کیا۔۔۔؟ کیا محبت، محنت، وفاداری، انسان پروری، اعتبار اور اعتماد گناہ ہیں۔۔۔؟ کیا اس نے یہ سب کر کے کچھ غلطی کی۔۔۔؟ کیا اب وہ ساری عمر ، ان خوبصورت لیکن تلخ یادوں سے پیچھا چھڑا سکے گا۔۔۔ ؟ کیا وہ پھر کسی پر اعتبار کر سکے گا۔۔۔؟ کیا جو کچھ اس کے ساتھ ہوا، ایسا کرنا "کراچی” والوں کی خصلت میں ہے۔۔۔؟

نہیں، سارے کراچی والے برے نہیں، اسے کاشی یاد آ جاتا۔۔۔ جو اس کا گہرا دوست ہے۔۔۔ اور ہر دوسرے ہفتے کراچی سے فون کر تا ہے۔۔۔ اور وہ اسے شدید محبت کرتا ہے۔۔۔ نہیں سارے کراچی والے برے نہیں ہوتے۔۔۔۔ یہ تو بس ایک تجربہ تھا، جو اسے ہونا ہی تھا۔۔۔

_________________________________________

کچھ دن پہلے ایک تحریر میں پنجاب اور پنجابیوں کی خصلتوں پر بہت کڑی تنقید کی گئی تھی۔۔۔ صاف ظاہر تھا کہ محترمہ میں کس حد تک تعصب ہے۔۔۔ میں پھر سوچنے پر مجبور ہو گیا۔۔۔ کہ میں تو ایک محدود دائرہ کا باسی ہوں۔۔۔۔ میرے دکھ اور میری ساری خوشیاں تو مجھ سے شروع ہو کر زیادہ سے زیادہ میرے والدین ، بیوی بچی اور بھائی بہنوں تک ہی محدود ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور میرے جیسے سادہ انسان بھی چند واقعات اور تجربات کی بنیاد پر کسی ملک، مذہب اور ثقافت پر اپنی اچھی یا بری رائے قائم کر سکتا ہے۔۔۔ تو پھر میں پاکستان کے ہر شہر، ہر صوبے، ہر زبان سے یکساں محبت کیوں کرتا ہوں۔۔۔ جبکہ مجھے بھی اپنے پاکستانی بھائیوں سے ہی کوئی دھوکے ملے ہیں۔۔۔ جب میرے ساتھ کوئی برا کرتا ہے تو کیوں یہ نہیں سوچ پاتا کہ کسی کراچی یا سندھی نے میرے ساتھ برا کیا۔۔۔ یا پنجابی، بلوچی اور پٹھان نے مجھے دھوکہ دیا۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ کیوں مجھ میں ایسا تعصب نہیں ہے۔۔۔ جیسا کہ محترمہ اپنی ہر دوسری تحریر میں زہر کی صورت نکالتی ہیں۔۔۔

بڑا شکر کرتا ہوں اللہ کا، کہ اللہ نے مجھے متعصب نہیں بنایا۔۔۔ سب سے محبت کرنے والا اور اپنے مذہب و ملک سے حد درجہ محبت کرنے والا بنایا۔۔۔

 

Advertisements

%d bloggers like this: