Monthly Archives: نومبر 2011

اردو، سیارہ، بلاگز اور ایوارڈز

آج کل اردو سیارہ سُونا سُونا سا ہے۔۔۔ کافی عرصے سے ایسی کوئی تحریر پڑھنے کو ملی ہی نہیں جسے پڑھ کر ایسا محسوس ہوا ہو، کہ بلاگر سے ملاقات ہو رہی ہے۔۔۔ روزانہ "اردو سیارہ” میں خبروں کا ہجوم نظر آتا ہے۔۔۔ جیسے اردو سیارہ نہیں "جنگ اخبار” پڑھنے کو مل رہا ہو۔۔۔ بس فرق صرف چندے الفاظ کا ہی ہوتا ہے۔۔۔

اگر اخبار نا ہوا تو کچھ اقتباسات اور شاعری پڑھنے کو مل جاتی ہے۔۔۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لکھاریوں کے پاس اب کچھ "اوریجنل” رہا ہی نہیں لکھنے کے لیے۔۔۔ کاپی پیسٹ، ترجمے پر ترجمے اور وہی سیاسیات پر خبریں۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا یہی "بلاگ” کی صحیح روح ہے۔۔۔ بلاگ کا مطلب کیا ہے اور کیا سے کیا بن گیا ہے۔۔۔؟ میرے ایک عزیز قاری "جناب بلا امتیاز” صاحب نے کچھ عرصے پہلے میری ایک تحریر پر تبصرہ یوں کیا تھا کہ تحریر "واہ واہ” کرنے کے لیے نہیں، اپنی سوچ کی پیاس بجھانے کے لیے ہونی چاہیے۔۔۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بلاگز شخصی بھڑاس نکالنے اور ذاتی سوچ پھیلانے کے لیے نہیں، بلکہ پراپگینڈہ اور تعریفیں سمیٹنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔۔۔

اور پھر یوں ہوا کہ "بلاگ ایوارڈز” کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔ کہا گیا کہ اپنا بلاگ خود "نامزد” کریں، اور خود ہی ووٹ کی اپیل بھی کریں۔۔۔ چونکہ بلاگ ایوارڈز والوں کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں، جو اچھے بلاگز کی تلاش کرے اور اپنی "قابل” جیوری کے ذریعے انہیں ایوارڈ سے نوازے۔۔۔ اب اگر "افتخار اجمل بھوپال صاحب” یا "ڈاکٹر جواد خا ن صاحب” یا "محمد سلیم صاحب” اپنا بلاگ بذاتِ خود نامزد نہیں کریں گے تو کیا ان کا بلاگ اس قابل نہیں کہ وہ ایوارڈ جیت سکے۔۔۔

ایوارڈز کے لیے اردو کیٹیگری میں جتنے بلاگز نامزد ہوئے ہیں، اس کا واحد مثبت پہلو یہ ہے کہ اردو سیارہ کی بیرونی دنیا اس حقیقت سے روشناس ہوجائے کہ پاکستان میں "اردو بلاگز اور بلاگرز” بھی موجود ہیں۔ جو ہمہ وقت اردو زبان کے فروغ اور اپنی ذاتی رائے عمدہ زبان و بیان کے ساتھ ایک چھوٹی سے دنیا تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔۔۔

اب مجھے کوئی یہ بتائے کہ اردو میں خبریں دینے والی ویب سائیٹ ایک بلاگ کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔؟ یا ایک ایسی سائیٹ جس میں شاعری کاپی پیسٹ کی گئی ہے۔۔۔ وہ بلاگ کہلانے کے قابل ہے۔۔۔؟

انگریزی بلاگز اور اردو بلاگز میں زمین آسمان کا فرق صرف زبان ہی نہیں، بلکہ سوچ کا بھی ہے۔۔۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر انگریزی بلاگ "ترقی پسندی” کے نام پر وطن ، ثقافت اور مذہب کے بڑے نقاد ہیں۔۔۔ چونکہ انگریزی زبان میں بات کرنا اور لکھنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے۔۔۔ اور اس فیشن کی مزید جدت "تنقید” ہے۔۔۔ انگریزی زبان میں فقرے کسنا ہے۔۔۔ پاکستان، اسلام اور ثقافت کی ہر ہر بات پر طنز کرنا ہے۔۔۔

اردو بلاگر وں سے مجھے بڑی امیدیں ہیں۔۔۔ نا صرف اردو زبان کا فروغ ضروری ہے، بلکہ اس میں نئی اور مثبت قوتِ تخلیق بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔۔۔۔ اردو بلاگروں میں چند بہت عمدہ لکھنے والے حضرات موجود ہیں۔۔۔ ان صاحبان کے بلاگزکو فروغ دینا بھی دیگر بلاگروں کے لیے ضروری ہے تاکہ نئے پڑھنے والوں کواردو بلاگز کا پہلا تاثر ہی مثبت اور عمدہ ملے۔۔۔

اور پھر اردو بلاگرز کو "ناپختہ ذہنیت” کا الزام بھی سہنا پڑتا ہے۔۔۔ کہتے ہیں کہ جگت بازی اور مذہب کے سوا اردو بلاگروں کے پاس اور کوئی نیا موضوع ہے ہی نہیں۔۔۔ اب یہ الگ بات ہے کہ "کہنے والے” خود جگتوں اور مذہبی تبلیغ کا سب سے بڑا نشانہ رہے ہیں۔۔۔ اورانہوں نے تعصب کو بنیاد بنا کر اچھے لکھاریوں کے بلاگزسے اپنا منہ موڑ رکھا ہے۔۔۔ اس لیے ان میں اور کبوتر میں مجھے کوئی ذیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔۔۔

میں تو سوچ رہا ہوں کہ چھوڑیں جی "انگریزی مارکہ ایوارڈز” کو۔۔۔ آئیے ہم اپنا اردو بلاگ ایوارڈ -ایوارڈ کھیلتے ہیں۔۔۔

نوٹ: اردو سیارہ چونکہ باقاعدگی سے "اپڈیٹ” نہیں ہو پا رہا ۔۔۔ اور منتظمین بہت مصروف معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ انتظامیہ دوسرے ہاتھوں میں سونپ دی جائے تاکہ اردو سیارہ مستقل طور پر اپڈیٹ ہوتا رہے۔۔۔؟


احساسات

منظر جیسے بھی ہوں، اپنے اندر ایک احساس رکھتے ہیں۔۔۔ نگاہ جس پر پڑے ایک نیا  اثر،  بینائی کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔۔۔ ماحول اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ خوشگوار احساسات، اداس سائے، خوش گمانیاں، آس، بے یقینی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور۔۔۔ انہی جیسے احساسات پر مبنی شب و روز ہیں، جو گویا گزرے ہی چلے جا رہے ہیں۔۔۔ ہر پل ایک نیا احساس دل ودماغ کو ایک نئی راہ دکھاتا ہے۔۔۔

مگر جو پل بیت جاتے ہیں ، وہ بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔ کم از کم کچھ ہونے کا احساس تو دلاتے ہیں۔۔۔ کوئی خوشی ہو یا کیسا بھی غم ہو۔۔۔ انسان اس کو جھیل ہی لیتا ہے۔۔۔ مگر جو وقت آنے والا ہے، اس کے انتظا ر کے کیا ہی کہنے۔۔۔!!!

اس پر مزید یہ کہ انسان سداکا خوش گمان ٹھرا۔۔۔ کتنی ہی بے یقینی کیوں نا ہو۔۔۔ ایک بجھتا دیا اپنے لرزتے ہاتھوں کے حصار میں لیے رہتا ہے۔۔۔ ناجانے کب اس کی لو جان پکڑ لے۔۔۔ یا اس دیے کے کشکول میں کچھ تیل بھیک میں مل جائے ، جو اس کو کچھ اور پل ، کچھ اور گھڑیاں جلائے رکھے۔۔۔

دیے کا تو کام ہی ہے جلنا، اور آخر ایک دن خاک ہو جانا۔۔۔ مگر ان لرزتے ہاتھوں کا کیا جو اس کو زندگی دینے کی کوشش میں خود کو تنگ اور پریشان کرتے رہے، کہ کاش کوئی آس ، کوئی امید اس دیے کی لو کو کچھ سمے جلتا رکھے۔۔۔

صبح کا منظر کتنا خوشگوار ہوتا ہے۔۔۔ ہر نئی صبح ، سنا ہے ایک نیا پیغام لاتی ہے۔۔ مگر جس طرح اس صبح کا بھی زوال ہے، اسی طرح۔۔۔ زوال کو بھی کسی نئے عروج کی کوکھ سے جنم لینا ہے۔۔۔ اب اس جنم لینے میں جتنی اذیت ہو، وہ تو اس ماحول کا مقدر ٹھرا۔۔۔

اسی عروج و زوال میں بیت رہی ہے زندگی میری۔۔۔


%d bloggers like this: