Monthly Archives: دسمبر 2011

عمران خان، تحریک انصاف۔۔۔ امید سحر کی بات سنو۔۔۔

 

imran_khan

عمران خان کے بارے میں مزید کچھ کہنا سورج کو چاند دکھانے کے مترادف ہے۔۔۔ انہیں نا صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں کرکٹ اور انسانیت کی خدمت کرنے والے ایک عظیم شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔۔۔

ان کے بارے میں یہ چھوٹی سی ڈوکومینٹری دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ کیا عمران خان کو اب حکمرانی کا ایک موقع نہیں ملنا چاہیے۔۔۔؟ کیا اب بھی انہیں دوسری کرپٹ جماعتوں سے کم ووٹ دینے چاہیے۔۔۔؟ اور کیا باقی سیاسی جماعتوں کے رہنما اب تک اتنا بھی کر سکیں ہیں جو تھوڑے سے عرصے میں عمران خان نے پاکستان اور عوام کے لیے کیا ہے۔۔۔

 

کچھ دن پہلے ایک تحریر نظر سے گزری۔۔۔ جو سعید مزاری صاحب نے عمران خان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھی۔۔۔ وہ بھی پیش حاضر ہے۔۔۔

“کچھ لوگ زمین پر اہل زمین کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلائی اور خیرخواہی کیلئے بھیجے جاتے ہیں ،وہ کوئی نبی یا اولیائ اللہ تو نہیں ہوتے لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے دلوں میں مخلوقِ خدا کی خدمت اور ان کیلئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ بدرجہ اتہم موجود ہوتا ہے ایسے لوگ زندگی کے کسی شعبے میں ہوں اور جس مقام پر ہوں ان کا دل ہمیشہ عوام کے ساتھ ہی دھڑک رہا ہوتا ہے۔اپنے ملک وقوم کی عزت وآبرو کیساتھ ساتھ غریب اور مظلوم لوگوں کا احساس انہیں ہروقت ہر میدان اور ہر مقام پر بے چین رکھتا ہے۔،یہ لوگ کھیل کے میدان میں ہوں تو ان کی نظر میں ملک و قوم کی عزت و وقار دنیا کی ہر نعمت سے معتبر ہوتا ہے اور اگر یہ سیاست کے پر خار راستوں پرمحو ِسفرہوںتو ان کے خیالات کا محور وہ مظلوم لوگ ہوتے ہیں جو جاگیرداروں ،وڈیروں، چوہدریوں اور مَلکوںکے جبر واستبدال کے آگے مجبور و محکوم دکھائی دیتے ہیں۔اللہ کے یہ بندے ہر لمحہ عوام کو انصاف کی فراہمی،اوران کی محرومیوں کے ازالہ کیلئے پریشان رہتے ہیں۔

ایسا ہی ایک باہمت اور پر عزم نوجوان 1971 ئ میں دنیابھر میں اپنے وطن عزیز اور قوم کا نام روشن و بلند تر کرنے کیلئے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوا ،اس نوجوان کے جوش و جذبے اور ملک وقوم سے بے انتہا عقیدت نے بہت جلد اسے ایک قومی ہیرو بنا دیا،1982 ئ میں اس کو قومی ٹیم کی کپتانی سونپ دی گئی کپتانی کے پہلے ہی سال اس نوجوان نے اپنے آپ کو ایک بہترین کھاڑی ثابت کر دیا سری لنکاکے خلاف ٹیسٹ سیریزمیںصرف 58 سکور دیکر 8 شاندار وکٹیں لیکر پوری دنیا کو حیران کردیا کپتانی نکی پہلی سال کے اختتام پر یہ نوجوان 13 ٹیسٹ میچوں میں88 وکٹیں حاصل کر لیں ۔پرکشش جسامت کیساتھ ساتھ سحرانگیز شخصیت کے مالک اس نوجوان نے اپنے قومی ٹیم کو تاریخ ساز کامیابیوں سے نوازا،تاریخ گواہ ہے کہ جو کامیابیاں اس کے دس سالہ دورکپتانی میں پاکستانی ٹیم کو حاصل ہوئیں ان کی مثال نہ اس سے پہلے ملتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد۔1992 ئ میں اس نوجوان نے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوا کرعالمی کرکٹ کا ٹائیگربنا دیااور پھر اس نوجوان نے کھیل کی پرتعیش دنیا کو باعزت اور قابل فخر انداز سے خیر باد کہہ کر اپنی زندگی کوسیاست جیسے یکسر مختلف راستے پر ڈال دیا تو اسے اس راستے پر بھی ہزاروںنہیں لاکھوں افراد نے خوش آمدید کہا۔

سیاست کے پرخار راستوں پر بڑی دلیری اور استقامت اور اصول پسندی کیساتھ ملک کے پسے ہوئے طبقے کو حق و انصاف کی فراہمی کا نعرئہ ِمستانہ لگا کر اپنے نئے سفر کا آغاز کردیااور انتہائی مختصر سے وقت میں اپنے آپ کو ایک قومی پائے کا سیاستدان ثابت کر دیا۔اتنی صلاحیتوں کا مالک یہ نوجوان عمران خان کے نام سے جانا جاتا ہے،عمران خان نے جس حب الوطنی، جوش و جذبے اور اصول پسندی کیساتھ کرکٹ میں نام بنا کر قوم کا سر بلند کیااسی طرح قوم اور خصوصاً غریب عوام کو ان کا حق یعنی اقتداراورانصاف دلوانے کا عزمِ عالی شان لیکرسیاست کے میدان میں قدم رکھا۔عمران خان نے اپنی سیاست کو روائتی ہتھکنڈوں سے نہ صرف دور رکھا بلکہ اپنی سیاست کو شیشے کیطرح صاف اور واضح بھی رکھا،عمران خان نے پاکستانی سیاست میں رائج لوٹا کریسی، جھوٹ، منافقت،تھانہ کچہری،لوٹ ماراور غنڈہ گردی کی خباثت سے آب زمزم کی طرح پاک رکھا۔

25اپریل1996ئ میں جب کرکٹ کے سپر سٹار عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے اپنی سیاسی پارٹی کا اعلان کیا تو اس وقت کے بڑے بڑے سیاسی سورمائوںنے عمران خان کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایااور کہا کہ یہ پارٹی چندہی ماہ میں خودبخود ختم ہو جائیگی۔سیاست کے ان نجومیوں کی ساری پیشنگوئیاں نہ صرف غلط ہو گئیں بلکہ الٹا اس جماعت نے چند ہی ماہ میں ملک کے طول و ارض میںاپنی حیثیت بھی منوا لی۔پاکستان تحریک انصاف نے جس تیزی سے عوامی پذیرائی حاصل کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی جماعت اتنی جلدی مقبولِ عام نہیں ہوئی۔عمران خان کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے 2005 میںامریکی جریدے نیوزویک میں اپنے 300 الفاظ پر مشتمل مضمون میںامریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کیخلاف آوازِ حق بلند کی۔اور اس وقت کے پاکستانی صدر پرویز مشرف پر زور دیا کہ وہ اس سانحے پر امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو معافی مانگنے پر مجبور کریں لیکن امریکی کٹھ پتلی صدر پرویز مشرف نے امریکی چاکری کو نبھانا قرآن مجید کی حرمت سے زیادہ اہم سمجھا اور 2006 کے جارج ڈبلیو بش کے دورئہ ِپاکستان کے موقع پرالٹا عمران خان کو نظربند کر دیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے روزاول ہی سے جاگیرداری،وڈیرہ شاہی اور وی آئی پی کلچر کی نہ صرف نفی کی بلکہ آج تک کسی ایسے شخص کو پارٹی میں نہیں لیا جو عوام کو غلام بنائے رکھنے،اپنی جاگیرداری اور وڈیرہ پن مسلط کرنے،یا پھر خود کو سپریم شخصیت ظاہر کرنے کی سوچ رکھتا ہو،یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں مرکز سے لیکرنیچے تک فیوڈل سوچ رکھنے والا کوئی عہدیدار نہیں ہے، یہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی خوش نصیبی ہے کہ ان کو عوام دوست محب وطن، ایماندار اور مخلص ساتھی میسر آئے ہیں جنہوں نے ذاتی نفع ونقصان کی پرواہ کیے بغیر دن رات ایک کر کے پاکستان تحریک انصاف کو منافقانہ سیاست کے کانٹوں سے بچائے رکھااور اسے ملک کی سب سے بڑی عوامی جماعت بنا دیا۔حال ہی میں دو عالمی اداروں WOT اورFAT نے پاکستان میں ایک سروے کیا جس کے مطابق 29 فیصدپاکستانی عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جبکہ دیگربڑی بڑی جماعتیں 10 فیصد سے بھی کم عوامی حمایت حاصل کر پائے،اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کی روز بروز بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کا اندازہ ایک پاکستانی قومی اخبار کی ویب سائیٹ پول کے حیران کن نتائج سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق 71 فیصد سے زائد افراد نے عمران خان کو اپنا لیڈر چن کر آئندہ الیکشن میں ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا جبکہ اس پول میں بھی دیگر جماعتیں مسلم لیگ ﴿ن ﴾ 22 فیصد اور پیپلزپارٹی 7 فیصد عوام کی پذیرائی حاصل کر پائیں۔

عمران خان یا پاکستان تحریک انصاف کو اس قدر عوامی پذیرائی صرف عوام دوست اور صاف شفاف دوٹوک پالیسیوں کے باعث ملی ہے اس میں جھوٹ منافقت،لوٹا کریسی یا جاگیردارانہ اثرورسوخ شامل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہ ہٹنے کے پاداش میں موجودہ زرداری حکومت نے 15 مارچ کو قائدِ غریب عوام عمران خان کو حکومت مخالف احتجاج کے الزام میں نظربند کر دیا۔پاکستان کی عوام غریب ،مظلوم اور بے بس ضرور ہیں مگر لاشعور اور کم عقل ہرگز نہیں ،وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہر بار شعبدہ بازی کر کے ان سے ووٹ لیکر کامیاب ہونے والے نام نہاد لیڈر منتخب ہونے کے بعد کس طرح انہیں مشکلوں اور مصیبتوں میں ڈالنے کے بعدخود اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر عیاشی کرتے ہیں، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کے جھوٹے وعدوں پر ٹرخا کر مہنگائی، بیروزگاری اور بد امنی کی دلدل میں ڈال کر بیرون ملک اربوں روپے کے ناجائز اثاثے بنانے والے کس طرح زلزلوں، بم دھماکوں ،ڈروں حملوں اور سیلاب جیسی آفتوں سے لڑنے کیلئے عوام کو اکیلا چھوڑ گئے،قوم پر جب بھی کڑا وقت آیا آج کل کے یہ تمام ن ق م وغیرہ نامی جماعتوں کے نام نہاد لیڈر بھاگ کر بیرون ملک اپنے آقائوں کے قدموں میں جا بیٹھتے تھے جبکہ پاکستانی قوم سسک سسک کر زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔

پاکستان تحریک انصاف وہ واحد جماعت ہے جس نے مشکل کی ہر گھڑی میں قوم کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ قوم کو مصیبتوں اور بحرانوں سے نکالنے کیلئے عالمی سطح کی کاوشیں کیں،حالیہ سیلاب کی قدرتی آفت میں بھی قائد تحریک اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے مصیبت زدہ عوام کی بھر پور مدد کیلئے عالم گیرتحریک ’’ پکار ‘‘ شروع کر کے سیلاب زدگان کی بحالی کا بیڑا اپنے سر اٹھایا۔عمران خان نے دن رات ایک کر کے سیلاب متاثرین کیلئے کروڑوں ڈالر امداد حاصل کر کے مستحقین میں تقسیم کی اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے یہ عمران خان ہی ہیں جنہوں نے ملک کے غریب عوام پر کوئی ٹیکس لگا کر نہیں بلکہ دنیا بھر کے مخیر افراد سے فنڈ اکٹھا کر کے لوگوں کو ماڈل گھر بناکر دینے کا اعلان کیا۔ پاکستان کی بڑی عوامی جماعت ہونے کے دعویداراور متعدد بار اقتدار کے مزے لوٹنے والی جماعتوں میں سے کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اپنے اربوں روپے کے اثاثوں میں سے ایک پائی بھی ان مصیبت زدہ لوگوں پرخرچ کرتے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں جس تیزی سے ملک کے کونے کونے میں اپنا سیاسی اثرورسوخ بڑھا رہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا ملک میں تبدیلی کا خواب پورا ہو گا اور پاکستان میں صحیح معنوں میں عوامی اور جمہوری حکومت پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے تلے قائم ہوگی۔”

 

 

 

 

 

 


تجربات اور زندگی کی اہمیت

زندگی کی ہر مشکل کسی نا کسی تجربے کی صورت ایک نیا سبق دیتی ہے۔۔۔  کسی  انتہا درجے کے آسان دنیاوی کام سے  لے کر کسی بے حد پیچیدہ مہم تک۔۔۔ زندگی ہمیں ہر لمحے کچھ نا کچھ نیا ضرور سکھا تی رہتی ہے چاہے ہم سیکھنا چاہیں یا نہیں۔۔۔  اکثر مجھے محسوس ہوتا ہےکہ یہ تجربے اتنے آسان نہیں ہوتے لیکن اگر ہم کچھ لمحے رکیں اور زندگی کی جانب ایک نظر دوڑائیں تو یہ تجربات ہمیں اپنے ہر گزرے ہوئے لمحے ، ہر کیفیت ،  ہر مایوسی  اور ہر خوشی میں نظر آتے ہیں۔۔۔  یہ تجربات ہر اداسی، ہر سکون، ہر تکلیف  اور ہر مسرت میں ہوتے ہیں۔۔۔  ہر تجربہ ایک نئے  اور اہم تجربے کا رستہ بنتا ہے ۔۔۔ اور ہر وہ تجربہ جسے ہم نظر انداز  کرتے ہوئے اس سے کچھ نہیں سیکھتے ، بار بار ہمیں دستک دیتا ہے ۔۔۔اور تب تک دستک دیتا رہتا ہے جب تک ہم اس سے کچھ سبق حاصل نہیں کرجاتے۔۔۔  بہر حال، زندگی ہمیں نت نئے تجربات سے نوازتی رہتی ہے۔۔۔  اور جتنا سبق ہم سیکھ لیتے ہیں ، زندگی اتنی ہی آسان ہو جاتی ہے۔۔۔

یوں تو ہم سب کا ایمانِ کامل ہے کہ ہماری  زندگی  فانی ہے۔۔۔  عنقریب  ہماری زندگی کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا۔۔۔  نا ہمیں کچھ لمحات میسر ہوں گے ، نا کچھ اضافی گھنٹے اور نا ہی خیرات میں دیئے گئے کچھ دن۔۔۔  وہ ساری دولت جو ہم جمع کرتے ہیں، سنبھالتے ہیں اور سنبھال کر بھول جاتے ہیں، کسی اور کی میراث بن جائے گی۔۔۔  ہماری دولت، حسن،  زہانت،  شہرت، عارضی طاقت مرجھا کر مٹی میں مل جائے گی۔۔۔  اور پھر اس بات کی  کوئی اہمیت نہیں رہ جائے گی کہ ہمارے پاس کیا کیا تھا۔۔۔۔!!!  ہمارے بغض، ہماری نفرتیں، ہماری ناکامیاں اور ہمارے سب حسد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گے۔۔۔  ہماری امیدیں،   ہماری آرزویں اور  ہمارے سب منصوبے اختتام کو پہنچ جائیں گے۔ وہ سب فتوحات  اور شکستیں جو کبھی زندگی  میں بہت اہمیت رکھتی تھیں، اچانک مدہم ہو جائیں گی۔۔۔ اور آخر کار   ہمیں یاد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔  تو آخر  قدر کس بات کو ہوگی۔۔۔؟  "ہمارا” تخمینہ کیسے لگایا جائے گا۔۔۔  اور ہماری زندگی کی کیا قیمت لگے گی۔۔۔؟

اہمیت اس بات کی نہیں ہوگی کہ ہم نے کیا خریدا۔۔۔ بلکہ ہم نے کیا  "تعمیر کیا”۔۔۔
اہمیت ہمارے پانے کی نہیں۔۔۔ بلکہ ہمارے صدقِ دل سے بانٹے ہوئے کی ہوگی۔۔۔
ا ہماری جیت کی نہیں۔۔۔  بلکہ ہماری اہمیت کی ہوگی۔۔۔
ہمارے  علم  حاصل کرنے کی نہیں۔۔۔ بلکہ علم  کی روشنی پھیلانے کی ہوگی۔۔۔
ہماری قابلیت کی نہیں۔۔۔ بلکہ ہمارے کردار کی ہوگی۔۔۔
ہمارے قول کی نہیں۔۔۔ بلکہ ہماری سوچ کی ہوگی۔۔۔
اہمیت ہمارے تعلقات کی تعداد کی نہیں۔۔۔ بلکہ ان اچھی یادوں اور الفاظ  کی ہوگی جو ہمارے مرنے کے بعد ہمارے تعلق ہمارے لیے استعمال کریں گے۔۔۔
اہمیت ہماری یادوں کی نہیں۔۔۔  بلکہ ان کی یادوں کی ہوگی جو ہم سے پیار کرتے ہیں۔۔۔
اہمیت اس بات کی ہوگی کہ ہماری قربانی ، ہمدردی اور ہمت کیسے نئی مثالیں قائم کرتی  ہے۔۔۔  ایک حادثہ کی صورت گزارنا  کوئی زندگی نہیں۔۔۔  معنی خیز  زندگی ایک صورتِ حال کی بجائے ایک انتخاب کی طرح جینا  ہے۔۔۔

زندگی میں کئی ایسے حادثات اور واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ہمیں کمزور، بے وقعت اور دل شکستہ بنا دیتے ہیں۔۔۔  جب ہمیں اپنا  وجود ایسی ریت کے طرح  لگتا ہے جوایک گرداب کی صورت زمین میں ڈوبے جا رہی ہے۔۔۔  اور ہم اس گرداب  سے نکلنے کے لیے کسی مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔   باوجود یہ کہ ہمیں مشکل سے نکالنے کے لیے  صرف مضبوط سہارا ہی  نہیں بلکہ مضبوط خود ارادی بھی درکار ہوتی ہے۔۔۔  اور یہ مضبوط ہاتھ کسی اور کا نہیں بلکہ صرف ہمارے پروردگار کا ہی ہو سکتا ہے۔۔۔ اور ہمارے رب نے اپنی کتاب میں ہر مشکل سے نپٹنے اور کامیاب ترین زندگی گزارنے کا ہر طریقہ لکھ دیا ہے۔۔۔

ہم اپنی ساری زندگی دوسروں کو خوش  کرنے  اور متاثر کرنے میں گزار دیتے ہیں۔۔۔  اور اس کوشش میں اس حد تک گزر جاتے ہیں کہ  دنیا کو "نہیں” کہنا بھول جاتے ہیں۔۔۔   اور یہاں تک کہ ہر وہ کام جاتے ہیں جو اللہ کی مرضی اور حکم کے خلاف ہو۔۔۔ جب کہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم نے اپنے رب کو کیسے خوش اور راضی کیا۔۔۔   انتخاب تو ہمارے نصیب میں ہے۔۔۔ کہ ہم کس کی خوشی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔۔۔ خالق کی یا مخلوق کی۔۔۔

زندگی بہت پیچیدہ ہے۔۔۔ اور ہماری منزل جنت ہونی چاہیے۔۔۔  دعا ہے کہ اللہ ہمیں ایک نیک  اور معنی خیز زندگی جینے کی استطاعت اور ہمت دے۔۔۔ اور ہمیں جنتِ فردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔


%d bloggers like this: