بلوچ، فوج اور غدار

یار یہ بلوچستان میں کیا ہو رہا  ہے۔۔۔؟

کیوں کیا ہوا۔۔۔؟

یار سنا ہے کہ وہاں بڑا ظلم ہو رہا ہے۔۔۔ کون کر رہا ہے یہ ظلم۔۔۔؟

کونسا ظلم ہو رہا ہے میرے بھائی۔۔۔ سب ٹھیک ہے وہاں۔۔۔

اچھا۔۔۔ یار اخبار میں آجکل بہت چھپ رہا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی بندے غائب کر رہی ہے۔۔۔  تشدد کرکے کسی اجاڑ میں لاش پھینک دیتی ہے۔۔۔ اور حد تو یہ کہ لاشیں مسخ بھی کر دیتی ہے۔۔۔

تمہیں کس نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی اس میں ملوث ہے۔۔۔ ؟

یار ہر بندہ یہی کہہ رہا ہے ۔۔۔

نہیں بھائی۔۔ بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔۔۔ اگر بھارت، اسرائیل اور امریکہ بلوچستان میں ہاتھ نا ڈالیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ فوج تو عوام کی حفاظت کر رہی ہے۔۔۔  یہ ممالک نہیں چاہتے کہ پاکستان میں امن ہو۔۔۔ اس لیے ان کے ایجنٹ قتل و غارت اور دہشت گردی کر رہے ہیں ۔۔۔

تو پھر ان دشمن ممالک کی دہشت گردی  اورغیر قانونی مداخلت روکنے کے لیے ہماری فوج اور حکومت کیا کر رہی ہے۔۔۔

یار۔۔۔ بہت سے دہشت گرد پکڑے ہیں فوج نے۔۔۔ ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔۔۔

ہممم۔۔۔ تو یہ سارے دہشت گرد جو پکڑے گئے ہیں۔۔۔ وہ بھارئی، اسرائیلی اور امریکی قومیت رکھتے ہیں۔۔۔۔!!!

نہیں یار۔۔۔ وہ بلوچی ہی ہیں۔۔۔ جو ان ممالک سے پیسے لے کر ان کے لیے کام کر رہے ہیں۔۔۔ ان کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔۔۔ قتل کرتے ہیں۔۔۔ اور نیا بلوچی ملک بنانے کے لیے ان ممالک سے پیسہ لیتے ہیں۔۔۔

تو کیا آج تک کوئی ثبوت ملا ۔۔۔ کسی سے کوئی غیر قانونی کرنسی ملی، کوئی نقشے ، کوئی اسلحہ۔۔۔؟

ہاں ملا نا۔۔۔ کئی بار ملا۔۔۔

تو کیا جتنے بندے پکڑے ہیں فوج نے وہ سارے کے سارے دہشت گرد ہیں۔۔۔؟

یار سارے نا بھی ہوئے تو کچھ تو ہونگے ہی نا۔۔۔

تو وہ جو پکڑے گئے اور تشدد کر کے مار دیے گئے۔۔۔ وہ دہشت گرد نا ہوئے تو۔۔۔؟؟؟؟ ان  کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ان کے باپ کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ان کے بیٹوں کا کیا قصور ہوا۔۔۔ان کے خاندان کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ؟ کیا اب وہ اس ناانصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے۔۔۔ اور کیا ان کی آواز کو دہشت گردی سمجھ کر پھر سے نہیں دبا دیا جائے گا۔۔۔  کیا ایک معصوم اور مظلوم شخص کا بیٹا اس ظلم کا بدلہ لینے نہیں اٹھے گا۔۔۔ اور کیا وہ دہشت گرد نہیں بن جائے گا۔۔۔؟؟؟

یار فوج تو اپنی ہے۔۔۔ جو کر رہی ہے ملک کی بہتری کے لیے کر رہی ہے۔۔۔ اب غلطیاں تو سب سے ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔

لیکن کیا یہ غلطیاں اتنی بھیانک نہیں۔۔۔ جو نفرتیں پھیلا رہی ہیں۔۔۔ جو قاتل کا ساتھ دے رہی ہیں۔۔۔ یہی تو ہمارے دشمن ممالک چاہتے ہیں۔۔۔ کیا اب ہماری عوام ہماری فوج پر بھروسہ کر سکتی ہے۔۔۔ اس فوج کا ساتھ دے سکتی ہے جو اپنی ہی عوام کے قتلِ عام میں ملوث ہے۔۔۔  وہ لوگ جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے الزام میں دھر لیے جاتے ہیں۔۔۔ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔۔۔ حق آواز بلند کرنے کی پاداش میں تشدد سہتے ہیں۔۔۔ لیکن جھکتے  نہیں اور قتل کر دیے جاتے ہیں۔۔۔  کیا ان کا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ نا انصافی کی داستانیں دنیا تک پہنچا سکیں۔۔۔ اور اپنی حکومت اور فوج کی بےمروتی اور بے وفائی دیکھتے ہوئے، مایوس ہو کر اپنے لیے ایک الگ ملک کا مطالبہ کر سکیں۔۔۔ کیا یہ بھی غلط ہے۔۔۔؟

یار تم تو غداروں والی باتیں کر رہے ہو۔۔۔ یہ کیسا ہو سکتا ہے کہ بلوچستان کو الگ کر دیں۔۔۔ وہ ہمارا صوبہ ہے۔۔۔ ہمیں محبت ہے اس صوبے سے۔۔۔

اچھا۔۔۔ میں غدار ہی ٹھرا۔۔۔ مارتے رہو معصوموں کو۔۔۔ بناتے رہو مزید دہشت گرد۔۔۔  لیتے رہو بد دعائیں۔۔۔ اس ملک کا اللہ ہی حافظ۔۔۔  

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

6 responses to “بلوچ، فوج اور غدار

  • ا ل م

    یقین نہیں آتا

  • عبدالقدوس

    قصور فوج کا نہیں میڈیا کا ہے جو سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید ظاہر کرنے کا ماہر ہے

  • خاور کھوکھر

    آپ کی یه پوسٹ تاریخ میں اس بات کا ثبوت هو غی که بلوچستان کی علیحدگی سے پہلے بھی لوگ بلوچوں کی مظلومیت اور فوج کے جبر کی باتیں لکھا کرتے تھے
    آپ نے بهت خوب لکھا

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    بہت خوب لکھا۔
    بحرحال بلوچستان علیحدہ نہیں ہو سکتا۔
    علیحدہ ہونے کی صورت میں بلوچی عوام آزادی سے بھی جائیں گے ۔
    اور اس سے بھی برے حالات کا شکار ہوں گے۔
    آزاد بلوچستان ایران کیلئے ناقابل ہے۔چین کیلئے قطعی پر ناقابل قبول ہے۔
    افغانستان کو ہم اس لئے بھلا رہے ہیں کہ حالت جنگ میں ہے۔
    افغانی بھی آزاد بلوچستان قبول نہیں کریں گے۔
    آزاد کرنے کیلئے بے چین امریکہ اور اس کے حواری ہیں۔
    خفیہ ادارے تشدد کا رستہ اپنا کرعوام میں مزید بد دلی کاشت کر رہے ہیں۔
    سیاستدان مکمل طور پر آزاد ہو کر حکومت کے قابل ہی نہیں ۔
    سیاستدانوں حکومت کرنے قابلیت کی کمی ہے۔۔اس میں فوج کی مداخلت ہے بھی تو اگر قابل سیاستدان ہوں تو کوئی نا کوئی حل نکل سکتا ہے۔
    بحر حال ہمارا احتجاج یہی ہے کہ غیر انسانی تشدد ختم ہو نا چاھئے۔

  • کاشف نصیر

    بہت خوب ۔ بلوچستان سمیت پورا پاکستان "پاک فوج” سے آزادی چاہتا ہے۔

  • عبدالرؤف

    بات ذرا جلدی مکا دی ورنہ اس جملے کے بعد :
    یار تم تو غداروں والی باتیں کر رہے ہو۔۔۔ یہ کیسا ہو سکتا ہے کہ بلوچستان کو الگ کر دیں۔۔۔ وہ ہمارا صوبہ ہے۔۔۔ ہمیں محبت ہے اس صوبے سے۔۔۔
    اگلا جملہ ایسا ہوسکتا تھا کہ:
    زرا دوبارہ کہنا کیا کہا کہ وہ ہمارا صوبہ ہے۔۔۔ ہمیں محبت ہے اس صوبے سے۔۔۔یہ کیسی سوتیلی ماں جیسی محبت ہے؟ کہ ادھر کی ساری معدنیات آپ کی اور ادھر کی عوام کے کی قسمت میں جوتے اور دھکے؟ ذیادہ تٖفصیل میں کیوں جائیں۔۔۔ کیا یہ گیس جوکہ آپ کے گھروں میں دستیاب ہے آپ کی ملکیت ہے؟ نہیں ناں مگر پھر بھی آپ کو بلوچستان کی یہ نعمت میسرہےپھر آخر انہوں نے ایسا کیا جرم کیا ہے کہ انہیں اپنے ہی صوبے کی یہ نعمت میسرنہیں ہے۔۔۔
    وغیرہ وغیرہ۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: