Monthly Archives: مارچ 2012

اللہ رے…

اکثر سوچتا ہوں، کہ آخر اس زندگی کی ساتھ انصاف کر پاوں گا۔۔۔ اس طرح جی پاوں گا کہ جیسے جینے کا حق ہے۔۔ کیا وہ سب کچھ کر پاوں گا، کہ جسے کرنے کے لیے زندگی بخشی گئی۔۔۔

یوں تو زندگی گزارنا اتنا مشکل بھی نہیں۔۔۔ کہ گزر ہی جاتی ہے کسی نا کسی طرح۔۔۔ ہاں، اس کے حقائق کے ساتھ زندہ رہنا اکثر نا ممکن سا ہو جاتا ہے۔۔۔ وہ حقائق جن کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں۔۔۔ جی ہی انہیں حقائق کے سر پر جاتی ہے۔۔۔

کیا ہمیشہ خوش نہیں رہا جا سکتا۔۔۔؟ کیا کسی اور کی خوشی میں خوشی ڈھونڈھی نہیں جا سکتی۔۔۔؟ کیا ہمیشہ اپنا غم ہی سب سے بڑا غم ہوتا ہے۔۔۔؟ کیا زندگی کسی اور کے لیے “جی” نہیں جا سکتی۔۔۔؟ کیوں نہیں ایسا ہوتا۔۔۔ کہ خود غرضی چھوڑ کر خود کو اور خود کی خوشیوں اور غموں کو کسی اور کو مکمل طور پر سونپ دیں۔۔۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔

کیا مجھ سمیت کوئی بھی زندگی سے انصاف کر سکا ہے۔۔۔؟ کیا سچے دل سے مطمئن ہو پایا ہے۔۔۔؟ کیا غموں کو اللہ کی مرضی کہہ کر نظر انداذ کرتاہے۔۔۔ اور کیا مسرتوں کے میلوں سےکسی بھی ڈر کے بغیر لطف اندوذ ہوا ہے۔۔۔؟

کبھی بہت ہی حقیقت پسندی سے اپنی اب تک گزری ہوئی زندگی کے بارے میں سوچوں تو یہ فقرہ ہمیشہ دماغ میں گونجتا ہے۔۔۔

What a Waste of Life…!!!

ہم جیئے جا رہے ہیں۔۔۔ غم پیئے جا رہے ہیں۔۔۔ شاعر نے تو کمال ہی کر دیا ۔۔۔ سمجھ گیا زندگی کی کیفیت کو۔۔۔ اور کہہ دیا۔۔۔ کہ غم پیئے جا رہے ہیں۔۔۔

زندگی بوجھ ہے کیا۔۔۔؟ کیوں گھسیٹتے پھر رہے ہیں اسے۔۔۔ ؟ جسے دیکھوں۔۔۔ وہ مجبورا ہی زندہ ہے۔۔۔ جیسے بس سانسیں لینے کی نوکری ملی ہو۔۔۔ اور اس نوکری کو “بادل ناخواستہ” کھینچنا ہی ہے۔۔۔ جب تک “یو آر فائرڈ” کا حکم نہیں آ جاتا۔۔۔

What a Waste of Life…!!!

مقصد ہی نہیں۔۔۔ بس آو، گزارو اور نکلو۔۔۔

یہی ہے زندگی۔۔۔۔ اللہ رے۔۔۔


%d bloggers like this: