Monthly Archives: اپریل 2012

سوال تو بنتا ہے…

سوال تو یہ ہے جناب کہ چار سال بعد اچانک ملک صاحب کو میاں صاحب کی 32 ملین ڈالر کیسے یاد آ گئے۔۔۔

سوال تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میاں صاحب کو چار سال زرداری اور ٹولے کی کرپشن کیوں یاد نا آئی۔۔۔ اور اچانک ہی الیکشن سے پہلے زرداری مداری کیسے بن گیا۔۔۔؟

سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ مفاہمت کی سیاست کس کی اور کس سے مفاہمت کا نام ہے۔۔۔؟

سوال تو آخر پوچھنا ہی ہے کہ گیلانی آخر کب تک سپریم کورٹ  کو ذلیل کرتا رہے گا اور آخر کب تک سپریم کورٹ اپنی بے عزتی برداشت کرتی رہے گی۔۔۔ اور پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ بے عزتی برداشت کرنے کے علاوہ، سپریم کورٹ کر بھی کیا سکتی ہے۔۔۔؟

سوال پر سوال یہ کہ پچھلے تین دن سے گیلانی اور سپریم کورٹ آپس میں توُ توُ میں میں کو لے کر بے حد مصروف ہیں۔۔۔ تو وزیر اعظم صاحب جو خود کو پاکستان سے زیادہ زرداری کا وفادار ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔۔۔ انہیں لیاری میں خانہ جنگی کیوں نہیں نظر آ رہی۔۔۔

اور سب سے بڑا سوال یہ کہ طالبان، تحریک طالبانِ پاکستان یا "دہشتگردوں” کو مارنے اور دہشت پھیلانے کے لیے عام عوام ہی کیوں نظر آتے ہیں۔۔۔ سیاستدان ان کی رسائی سے دور کیوں ہیں۔۔۔

سوال پر سوال۔۔۔ سوال پر سوال۔۔۔  یہ سوال ختم ہی نہیں ہوتے جج صاحب۔۔۔ سوال تو تب ختم ہوں نا جب پہلے سوالوں کا جواب مل جائے۔۔۔

اور اب بھی اگر سوال پڑھ کر دل نا بھرا ہو۔۔۔ تو اپنے سوال یہاں لکھ دیں۔۔۔ کوئی اللہ کا بندہ شاید ان کے جواب ہمیں دے دے۔۔۔

Advertisements

یادیں

یہ بھی نہیں کہ۔۔۔

میں یاد نا آوں۔۔۔

میں یاد تو آونگا۔۔۔

جب بھی محبت کی بات چلے گی۔۔۔

کچھ کہنے لگو گی۔۔۔

کچھ لکھنے لگو گی۔۔۔

تو ایسے میں لمحے بھر کو۔۔۔

یاد کے دروازے پر اک دستک ہوگی۔۔۔

ٹھٹک کر رک جاو گی۔۔۔

سوچو گی۔۔۔

دل دھڑک جائے گا۔۔۔

میرا نام لب پر آیگا۔۔۔

آنکھ نم ہو جائے گی۔۔۔

سر جھٹک کر۔۔۔

بامشکل مسکراو گی۔۔۔

پھر سے مجھے بھول جاو گی۔۔۔

مگر ہاں۔۔۔ اتنا تو ہوگا۔۔۔

تم کچھ بھی کہہ نا پاو گی۔۔۔

کچھ لکھ نا پاو گی۔۔۔

لمحہ بھر ہی سہی۔۔۔

میری محبت سے۔۔۔

ہار جاو گی۔۔۔

 


ننگا پاکستان

نیٹو سپلائی پھرسے کھول دی گئی۔۔۔وینا ملک صاحبہ ، جو بمع اہل و عیال نوی نوی "تحریکِ انصاف” میں شامل ہوئی ہیں۔۔۔ نے نیٹو سپلائی کی اجازت دوبارہ ملنے پر بیان دیا کہ میں تو صرف اپنے کپڑے اتارتی ہوں لیکن سیاستدانوں نے تو پورے پاکستان کو ننگا کر دیا۔۔۔ لیجیے صاحب، یہ کون سی بات ہوئی۔۔۔ پاکستان تو کب کا ننگا  ہو چکا۔۔۔ عوام کے لیے ننگا ہونا تو اب کچھ بھی مشکل نہیں رہا۔۔۔  کوئی بھی بازار ہی لیجیے کہ کسی بھی خاتون کو مرد حضرات اپنی نگاہوں سے ہی ننگا کر دیں گے۔۔۔ تو ثابت یہ ہوا کہ ننگا ہونا کوئی ننگی بات نہیں رہی۔۔۔

کل ایک دوست سے سکائپ پر ویڈیو چیٹ ہو رہی تھی تو فرمانے لگے کہ عمران خان آوے ہی آوے۔۔۔ بلکہ آ چکا۔۔۔ میں نے کہا، کہاں آیا۔۔۔ اور نا ہی اس کے آنے کا کوئی بھی امکان ہے۔۔۔ دوست صاحب برا مان گئے کہ ہم منفی سوچ کے حامل لگتے ہیں، اسی لیے عمران خان کی مخالفت کر رہے ہیں۔۔۔ میں نے کہا بھیا، ہم عمران خان کرکٹ کپتان کے ہی نہیں بلکہ عمران خان سیاستدان کے بھی بڑے فین ہیں۔۔۔ ہمیں ان کے دکھائے ہوئے خواب(جو شاید ہماری عمر میں تو پورے نہیں ہوں گے) بڑے بھاتے ہیں۔۔۔  لیکن حقیقت کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔۔۔  کہ عمران خان ہمیں کافی سیدھا لگتا ہے۔۔۔ جبکہ ہمارے دیگر مایہ ناز اور تجربہ کار سیاستدان "سیاست” کو ایک گندا کاروبار بنا چکے ہیں۔۔۔ اس کاروبار  / سیاست  کو ایمانداری سے چلانا  بڑا مشکل ہے۔۔۔  اور اس گندے کاروبار کو چمکانے میں ہماری عوام کا  سو فیصد حصہ ہے۔۔۔  جس قوم کے  صدر سے لے کر فقیر تک کے  خون اور  فطرت  میں کرپشن  اور بے ایمانی ہو، وہاں ایک سیدھا سادہ عمران خان کیا خاک انقلاب برپا کرے گا۔۔۔ کیا خاک اپنے خوابوں کو پورا کرے گا۔۔۔  وہ عوام جو پانچ سو روپے میں اپنی  زندگی کے پانچ سال  اور کچھ اچھا کرنے کے مواقع بیچ دے۔۔۔ وہ کیا خاک عمران خان کو ووٹ دیں گے۔۔۔ کیا خاک ایمانداری کو موقع دیں گے۔۔۔

خیر  تو بات ہو رہی تھی کہ نیٹو سپلائی پھر سے کھول دی گئی۔۔۔ یار لوگ فیس بک اور ٹوئیٹر پر بڑے طعنے مار رہے ہیں حکومت کو۔۔۔ مارنے بھی چاہیے ۔۔۔ لیکن یار لوگوں کی سادگی پر بھی افسوس ہوتا ہے۔۔۔ کہ اب ایسا بھی  کیا نیا ہوا کہ پھر سے اداس ہو کر بیٹھ گئے۔۔۔ یارو ریمنڈ ڈیوس کیس بھول گئے کیا۔۔۔  ڈاکٹر عافیہ کسی کو یاد نہیں کیا۔۔۔  چلو ایمل کانسی کیس تو میں یاد کرو ا ہی سکتا  ہوں۔۔۔  اور بھائیو، مستقل ڈرون حملوں کے بعدبھی آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس ننگا نا ہونے کی کوئی وجہ باقی ہے۔۔۔  بس محسوس اب ہوا ہے کہ ننگے ہیں۔۔۔ لیکن فکر نا کریں۔۔۔ ننگا ہونے کی شرم بھی کچھ دنوں میں چلی جائے گی۔۔۔ اور ننگا ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے، من الحیث قوم  اس کا بھی احساس انشاءاللہ جلد ہی ہو جائے گا۔۔۔  ہاں اجتماعی خودکشی آسان  کام ہے۔۔۔ کیونکہ انقلاب تو ہم لانے کے نہیں۔۔۔ خودکشی آسان طریقہ  فرار ہے۔۔۔


%d bloggers like this: