مخمصہ۔۔۔ ایک سوچ

کچھ ایسا کرنے کا جی چاہے، جس سے تھوڑا بہت سکون مل جائے۔۔۔۔ ابھی صرف سوچ ہی رہا ہو کہ وہ کام کرے۔۔۔ لیکن پھر خیال آئے کہ اوہ ہو۔۔۔ یہ تو منع ہے۔۔۔ گناہ ہے۔۔۔ سب کچھ بھول کر یہ کام کر بھی گزرے۔۔۔ تو خیالِ گناہ جینے نا دینے۔۔۔ بار بار ندامت دل کا دروازہ کھٹکھٹائے۔۔۔ بار بار آسمان کی جانب دیکھ کر آنسو بھر آئیں۔۔۔ چلتے چلتے ہاتھ جوڑ کر اللہ سے معافی بھی مانگے۔۔۔ پھر بھی سکون نا ملے۔۔۔ تو۔۔۔ یہ کیا معاملہ ہے۔۔۔؟ یہ کیا مخمصہ ہے۔۔۔؟

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

9 responses to “مخمصہ۔۔۔ ایک سوچ

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    خوبصورت رشین سیکریٹری۔۔۔۔۔۔

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    آخر وہ ہو ہی گیا جس کا ڈر تھا۔۔۔
    ارے بھائی اسی لیے لوگ باگ جوان جہان چھوروں کو دبئی میں رہنے سے منع کرتے ہیں۔
    :blink: :unsure: :wassat:

  • عمران اقبال

    ڈاکٹر صاحب، آپ بھی کمال ہی کرتے ہیں۔۔۔ اب اتنا بڑا بھی گناہ نہیں کیا، جیسا آپ سمجھ رہے ہیں۔۔۔ :cheerful:

  • برھان منہاس

    Yeh Zara Zara Si Baat Par,
    Tarah Tarah Ke Azab Kyun?
    Jo Kabhi B Mujh Se Khafa Na Ho,
    Mujhe Us Dil Ki Talash Hai.
    Mujhe Larzishon Pe Har Ghari,
    Koi Tokta Hai Bar Bar.
    Jise Kar K Dil Ko Dukh Na Ho,

    Mujhe Us Gunah Ki Talash Hai.

    Bina HUMSAFAR Ke Kab Talak,
    Koi Musafton Mein Laga Rahe.
    Jahan Koi Kisi Se Juda Na Ho,
    Mujhe Us Rah Ki Talash Hai.
    Mujhe Dekh Kar Jo Ek Nazar,
    Mere Sare Dard Samjh Sake.
    Jo Is Qadar Ho Chara Gar,
    Mujhe Us Nigah Ki Talash Hai.

  • افتخار اجمل بھوپال

    مؤمن سے جب انجانے میں گناہ سرزد ہو جائے تو پشیمان ہوتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے
    اللہ سبحانہ و تعالٰی کے بتائے ہوئے طریقہ سے بہتر کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا

  • وقاراعظم

    ہمممم جب احساس گناہ جینے نا دینے او ندامت بار بار دل کا دروازہ کھٹکھٹائے تو سمجھئیے کہ دل ناداں اور انکل ضمیر دونوں ابھی زندہ ہیں 😉

  • کوثر بیگ

    اسی کو ندامت کہتے ہیں اور یہ ہی قبولیت دعا کی علامت اور آگے روکنے کا ضامن بھی ہے کون اتنی کسسک برداش پھر کرنے تیار ہو گا بھلا اور یہ بات نیک ہونے کی بھی نشانی ہے الحمدللہ ۔ مگر جس چیر کو اللہ نے چھپا دیا ہو اس کے اظہار نہ کرے بندہ کے دل اور اللہ کے بیچ کا معاملہ ہی رہے ۔بہت اچھا لکھتے ہیں اآپ مجھے بہت اچھا لگتا ہے اور یہاں اکثر اچھے کمنٹ بھی پڑھنے کو ملتے ہیں ماشائاللہ

  • ا ل م

    گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست
    گر مجھے اس کا یقین ہو کہ ترے دل کی تھکن
    تیری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن
    میری دلجوئی، مرے پیار سے مت جائے گی
    گرمرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے
    جی اٹھے پھر ترا اُجڑا ہوا بے نور دماغ
    تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
    تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: