وڈًا بن یار۔۔۔

وڈًا بن یار۔۔۔ وڈًا بن۔۔۔

ابو جی بڑا تو میں ہوں۔۔۔ اب مزید کتنا بڑا بنوں۔۔۔

بیٹا، وڈًا عمر سے نہیں، کرموں سے بنا جاتا ہے۔۔۔ اپنے اندر بڑوں والی خصوصیات پیدا کر۔۔۔ دل بڑا کرے گا تو رتبہ بھی وڈًا ہو جائے گا خود ہی۔۔۔

اس وڈًا بننے کے چکر نے مجھے "میں”  نہیں رہنے دیا۔۔۔  وڈًا کہہ کہہ کر مجھے وڈًے بننے سے چڑ چڑھا دی ہے۔۔۔اب میرا کیا قصور کہ میں وڈًا ہوں۔۔۔ وڈًا پیدا ہوا ہوں۔۔۔

زندگی میں میری سب سے بڑی خواہش یہ رہی ہے کہ میرے والدین مجھے پر فخر کریں۔۔۔ ابو سینہ تان کر کہہ سکیں کہ میرا بیٹا بہت اچھا ہے۔۔۔ ہر طرح کی کوشش کر لی لیکن اپنے پرفیکشنسٹ  والد صاحب کو آج تک  مطمئن نہیں کر پایا۔۔۔

زندگی کے ہر دوسرے قدم پر اپنی خواہشات کا گلہ یہ سوچ کر گھونٹتا رہا کہ کہیں  ابو امی کی  دل آزاری نا ہو جائے۔۔۔ اپنے حصے کی چیز  اور خواہشات بھی چھوٹے بھائی اور بہنوں میں بانٹتا رہا کہ وڈًے کا تو کام ہی قربانی ہے۔۔۔ لیکن اس وڈًے بننے کے چکر نے مجھے اب تک کہیں کا نہیں رکھا۔۔۔ چھوٹے مجھے "ایز گرانٹڈ” لیتے ہیں۔۔۔ اور بڑے۔۔۔!!!!  یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ وڈًا ہے نا۔۔۔ وہ سنبھال ہی لے گا۔۔۔

حسد حرام ہے۔۔۔ رشک تو کیا جا ہی سکتا ہے۔۔۔ لیکن وڈًے بننے کی جدو جہد نے کہیں نا کہیں مجھ میں حسد پیدا کر ہی دیا ہے۔۔۔  دل ہی دل میں جلتا رہتا ہوں کہ یار چھوٹے ایسا نا کریں تو اچھا لیکن چھوٹوں پر مجھ سے بھی وڈًے کا دستِ شفقت ہے۔۔۔  انہیں مجھے "کراس” کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔۔۔ جہاں ان کا مطلب ہوتا ہے، وہاں میں ان کے لیے وڈًا بن جاتا ہوں ورنہ ۔۔۔!!! میں کون اور تو کون۔۔۔ !!!

اب جب میں اپنی حق تلفی محسوس کرتا ہوں اور یہ الفاظ مجھے سنائی دیتے ہیں کہ "وڈًا بن یار”۔۔۔ تو دل کھول اٹھتا ہے اور چاہتے نا چاہتے یہ کہہ اٹھتا ہوں کہ "اور کتنا وڈًا بنوں۔۔۔ اللہ نے بائے ڈیفالٹ بڑا بنا یا ہے۔۔۔ آپ مجھے مزید کتنا بڑا بنانا چاہتے ہیں”۔۔۔  اور پھر حسبِ معمول ابو کا جواب یہی ہوتا ہے "بیٹا ابھی تجھے احساس نہیں ہو رہا۔۔۔ تجھے ہی سب بہنوں اور بھائی کو اکٹھے رکھنا ہے۔۔۔ اور یہ کام کوئی بڑا ہی کر سکتا ہے۔۔۔ یہ بڑی زمہ داری ہوتی ہے۔۔۔ تو سمجھے گا لیکن دیر سے۔۔۔” اب اس جواب کے بعد تو خاموش رہنا ہی بنتا ہے۔۔۔ اور ہمیشہ کی طرح سر جھکائے ابو کا حکم اور خواہش کی تکمیل کی کوشش میں جت جاتا ہوں۔۔۔

کل میرا چار سالہ بھانجہ اپنی چھوٹی  بہن سے کوئی کھلونا چھین رہا تھا۔۔۔ تو بے اختیار میں کہہ اٹھا۔۔۔ "امام، وڈًا بن یار۔۔۔ "

ماموں۔۔۔ مجھے نہیں بننا وڈًا۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

12 responses to “وڈًا بن یار۔۔۔

  • انکل ٹام

    بہترین عمران بھائی بہت اچھا ایشو آپ نے اُٹھایا ہے ۔

  • ضیاء الحسن خان

    بہت اعلی ۔۔۔۔ اس چکر میں تو ۔۔۔ آج تک میں بھی ہوں ۔۔۔۔۔ مگر یہاں تو وڈا بن کر بھی لگتا ہے کہ ۔۔۔۔ ابھی تک کچھ کیا ہی نہیں

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    اعلی بھئی
    اس وڈا بننے نے تو کمر توڑ دی :biggrin:

  • DuFFeR - ڈفر

    یار بڑے کام کی بات لکھی ہے
    اب وڈا بن اور اس کو سمجھ بھی جا 😀
    آئی رئیلی لائکڈ دا پوسٹ 🙂

  • کوثر بیگ

    آپ بڑے بننے سے نالاں ہیں اور میں کبھی اپنے گھر چھوٹی ہونے پر تنگ تھی زباں کھولتے ہیں چپ کردیا جاتا کہ بڑوں کے بیچ بولنا بد تمیزی ہےکسی بات کی وضاحت کی جائے تو جواب دینا کہا جاتا۔گھر بھر کا حکم بجا لانا ہمارا فرض ہوتا۔ہم کسی کو کوئی کام کرنے نہیں کہے سکتے کیونکہ ہم گھر کے چھوٹے تھے۔۔چھوٹے ہو تو بھی پریشانی اور بڑے ہوتو بھی مشکل ۔۔بہت غور کرنے کے بعد سمجھ آیا کہ ہم خود کو اور حالات کو ہر حالت میں بہتر جانے اور اللہ کی مرضی سمجھ کرراضی رہیں تو تکلیف میں بھی راحت کا احساس ہوگا۔

  • افتخار اجمل بھوپال

    یہ شاید ہمارے مُلک کی زمین کا خاصہ ہے ۔ اس سے شاید ہی کوئی بچا ہو گا ۔ ہاں کوئی کم اور کوئی زیادہ مبتلا ہوا ہو گا ۔ میں نے کبھی دوستوں کے ساتھ جانے کی یا فلم دیکھنے کی جو میں دیکھتا ہی بہت کم تھا اجازت مانگی تو جواب ملا "تم بڑے ہو کر ایسے کرو گے تو چھوٹے کیا کریں گے”۔ چھوٹوں نے ایس چیز کا اظہار کیا اور مجھ سے پیسے مانگے تو ڈانٹ پڑی ” تم چھوٹوں کا خیال نہیں کرو گے تو اور کون کرے گا ؟” چناچہ پیسے دیئے جبکہ میں یا میری بیوی چھوٹوں کے پروگرام میں شامل نہ تھے ۔ والد صاحب کے فوت ہو جانے کے بعد جب کوئی کڑوا کام ہوتا ہے تو چھوٹے کہتے ہیں ” آپ بڑے ہیں ۔ آپ کریں” مگر میٹھے کام پر کوئی نہیں پوچھتا ۔ والدین کے چھوڑے ہوئے سامان کا حصہ نہیں ملا سوائے جائیداد کے جس میں بھی شرعی حصہ سے کم ملا حالانکہ سامان میں شادی سے پہلے اور بعد کا بھی میرا خریدا ہوا سامان تھا اور ایک مکان میں بھی میرا پیسہ لگا تھا
    میں پہلی بار اس کا اظہار کر رہا ہوں صرف آپ کی تسلی کی خاطر ۔ اللہ مجھے معاف کرے

  • وسیم رانا

    واقعہ یار آپ نے کمال کا نقطہ اٹھایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے تو کمر توڑ کر رکھ دی۔۔۔۔۔وڈا بن یار وڈا۔۔۔۔۔۔

  • وقاراعظم

    ہائے ربّا میں بھی وڈا ہوں 😉
    بہت خوب لکھا ہے۔۔۔

  • منیر عباسی

    میں وڈا نہیں ہوں. اس لئے آرام ای آرام اے.

    مگر میرا خیال ہے اس سارے مسئلے میں ہماری معاشرتی روایات کا بڑا ہاتھ ہے جنھوں نے زندگی کے مختلف پہلوؤں پہ بے جا پابندیاں لگائی ہوئی ہیں.

    ایک عدد معاشرتی انقلاب کی یہاں پہ بھی ضرورت ہے.

  • عمران اقبال

    ہم جانے کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ جس بڑے سے اتنی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔۔۔ وہ بھی انسان ہیں۔۔۔ اور ان کی بھی اپنی کچھ خواہشات ہیں۔۔۔ ان کی بھی کچھ چاہیں ہیں۔۔۔ کیوں بڑوں پر زمہ داریوں کا اتنا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جو وہ سنبھال نہیں پاتے۔۔۔ اور برے بن جاتے ہیں۔۔۔ اس میں ان کا کیا قصور۔۔۔ بڑوں کے پاس تو سبق سیکھنے کے لیے کوئی مثال بھی نہیں ہوتی، جبکہ چھوٹے بڑوں کو دیکھ کر وہ غلطیاں نہیں دوہراتے جو بڑوں نے کی ہوتی ہیں۔۔۔ یعنی چھوٹے سیانے ہوتے ہیں۔۔۔

    آخر بڑوں کو انسان کیوں نہیں سمجھا جاتا۔۔۔ اس میں ان کا کیا قصور ہے کہ وہ بڑے ہیں۔۔۔ ان سے اتنی توقعات کیوں وابستہ کر لی جاتی ہیں۔۔۔ اور آخر کب تک بڑے اپنی زمہ داریاں نبھانے کے لیے اپنی اپنی خواہشات مارتے رہیں گے۔۔۔

    @ ضیا بھائی۔۔۔ یہی المیہ تقریباً ادھر بھی ایسا ہی ہے کہ "اب تک کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔”

    @ انکل اجمل۔۔۔ جو حال آپ کا۔۔۔ وہی حال میرا۔۔۔ جو کام ہمارے لیے ممنوع ہیں، چھوٹے ببانگے دہل کر سکتے ہیں۔۔۔ اور یہی چیز مجھے انتہائی تکلیف دیتی ہے۔۔۔ لیکن کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔ سوائے صبر کے۔۔۔

    @ ڈفر۔۔۔ تجھے میری پوسٹ پسند آئی۔۔۔!!! بڑی بات ہے یار۔۔۔ میرے لیے یہ عزت والی بات ہے۔۔۔ بہت شکریہ۔۔۔

  • شفیق

    آہ ، کوی ہم "درمیانوں” سے بھی پوچھ لے کہ بچپن کیسا گذرا اور دل پر کیا گزری-

    بڑے سارا بچپن ہمیں یہی سمجھاتے رہے کہ "بڑوں کی عذرت کرو” اور "چھوٹوں سے شفقت سے پیش آو” لیکن یہ سمجھ نہیں آیا کہ "چھوٹے کب ہماری عزت کریں گے” اور "بڑے کب شفقت سے پیش آییں گے”-

    جب ہم باپ بنے توہمیں اپنی تکلیف یاد تھی اوراس سے حاصل ہونے والا سبق بھی، لہذا جب ہم باپ بنے تو ہم نے اس بات کو سختی سے کنٹرول کیا اور کسی کو اپنی پوزییشن کا ناجایز فایدہ نہِیں اٹھآنے دیا’ اور بچوں کو حکم کے بجاے حکمت سے سمجھایا-

    آپ کی تکلیف ابھی جاری و ساری ہے، مجھے امید ہے کہ آپ بھی اس امتحان سے قربانی و ایثار کے ساتھ کامیاب گذریں گے’ اس سے سبق سیکھیں گے اور اپنی آیندہ نسلوں کو اس امتحان سے بچاییں گے-

  • اسد حبیب

    سا نوں کی؟…… ہم تو "نِکے” ہیں… مگر "وڈوں” سے "وادا” واقعی ایک حقیقت ہے. اور ہم نے اپنے بڑوں کو بھی اس کیفیت سے گزرتے دیکھا ہے. بس یہ تو قدرت کا امتحان ہے. "نکوں” کے لئے بھی "سب اچھا” کب ہے؟….. صبر بھی تو کوئی چیز ہے ناں! صبر کریں. نکوں سے ایثار کریں تا کہ وہ آپ سے متاثر ہو کر آپ کی عزت کریں اور "میں کون اور تو کون” والا معاملہ ہو ہی ناں.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: