Monthly Archives: اکتوبر 2012

بلاعنوان

میں امیگریشن کاونٹر سے آگے نہیں جا سکتا تھا۔۔۔ سفید فراک میں ملبوس میری پری، علیزہ بار بار پیچھے مڑ کر مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔ امیگریشن کاونٹر میں داخل ہونے سے پہلے وہ پھر سے مڑی۔۔۔ اور مجھے زور سے آواز دی۔۔۔ "بابا، آ جاو۔۔۔”

میں اپنی جگہ کھڑے اسے دیکھتا رہا۔۔۔ علیزہ نے سر اٹھا کر توتلی زبان میں اپنی ماں سے پوچھا۔۔۔ "ماما، بابا نہیں آلے۔۔۔؟”

اس کی ماں کو اشارہ کیا کہ اسے لے جاو۔۔۔ اور وہ امیگریشن کاونٹر میں داخل ہوتے ہی میری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔۔۔ بس علیزہ کی آخری نظر میں مجھے اداسی نظر آئی۔۔۔

امیگریشن کاونٹر  سے میری گاڑی تک دس منٹ کی پیدل مصافت تھی۔۔۔ میں بس یہ جانتا ہوں کہ گاڑی تک پہنچنے تک، میں چلتے چلتے ہچکیوں کے ساتھ رو رہا تھا۔۔۔  اور میرے آنسو  میرے چہرے کو مکمل طور پر بھگو چکے تھے۔۔۔

Advertisements

%d bloggers like this: