مزارِ قائد اور جسم فروشی

"کاشی یار، کراچی آیا ہوں۔۔۔ تو قائدِ اعظم کے مزار پر ہی لے چل۔۔۔ سلام ہی کر آوں انہیں۔۔۔ "

سڑکوں پر مٹر گشتی کرتے ہوئے میں نے کاشی سے درخواست کی۔۔۔ اور کاشی نے گاڑی مزارِ قائد کی طرف موڑ لی۔۔۔  ایک گیٹ پر اندر داخل ہونے لگے تو ڈیوٹی پر کھڑے اہلکار نے کہا کہ آج داخلہ منع ہے کیونکہ کوئی سرکاری وفد مزار پر حاضری دے رہا ہے۔۔۔ سیکیورٹی کے پیش نظر کسی بھی "سیویلین” کا حاضری دینا آج ممکن نہیں۔۔۔

میں نے کاشی کو کہا ، یار چل ادھر ہی کھڑے ہو کر سلام کرلیتے ہیں۔۔۔ کاشی نے گاڑی تھوڑی آگے کر کے کھڑی کر دی۔۔۔   میں اور کاشی کسی بات پر مشغول تھے، کہ باہر سے ایک نقاب پوش خاتون گاڑی کی طرف آتی دکھائی دیں۔۔۔ میں نے حیرت سے کاشی سے پوچھا کہ یہ بی بی ہماری جانب کیوں آ رہی ہے۔۔۔ بھکارن تو نہیں لگ رہی۔۔۔ جوابا کاشی نے قہقہ لگایا کہ بھائی جان، یہ کاروباری خاتون ہے۔۔۔ جس لہجے میں اس نے بتایا، میں سمجھ گیا کہ "کاروبار” سے مراد کونسا کاروبار ہے۔۔۔

  اس اثنا میں خاتون نے گاڑی کے بند شیشے پر دستک دی۔۔۔ ناجانے میرے پسینے کیوں چھوٹ گئے۔۔۔ میں نے کاشی کو کہا کہ چل یار، یہاں سے نکلیں۔۔۔ کاشی بھی میری کیفیت دیکھ کر مزے لینے کے موڈ میں تھا۔۔۔ اس نے بھی گاڑی نہیں بڑھائی۔۔۔ بلکہ ہنستا رہا اور کہا، کہ چل اب بی بی سے نپٹ۔۔۔ نقاب پوش خاتون  نےدو تین دفعہ دستک دینے کے بعد شاید یہ  اندازہ لگا لیا کہ گاڑی میں بیٹھے یہ دونوں بندے بس ٹائم پاس کر رہے ہیں۔۔۔  وہاں سے ہٹ کر وہ قریب میں کھڑے رکشے کے پاس جا کھڑی ہوئی اور ہماری طرف اشارے کرتے رکشہ ڈرائیور کو کچھ بتانے لگی۔۔۔ میں جو پہلے حواس باختہ ہوئے بیٹھا تھا اور ڈر گیا کہ اب رکشہ ڈرائیور آ کر کہیں ہم سے پھڈا ہی نا شروع کر دے۔۔۔ کاشی  صورتحال سے بھرپور مزے لے رہا تھا۔۔۔

"یار تو دبئی سے آیا ہے۔۔۔ اور اتنی سے بات پر تیرے پسینے چھوٹ گئے۔۔۔”

خیر اللہ اللہ کر کے اس نے گاڑی دوڑا دی۔۔۔ میں نے کاشی سے پوچھا  کہ یار "مزارِ قائد” میں بھی یہ سب کام ہوتے ہیں۔۔۔ !!! تو کاشی نے بتانا  شروع کیا کہ” یہاں پورا نیٹ ورک ہے جرائم پیشہ افراد کا۔۔۔۔  "جسم فروشی” کا کام جتنامزارِ قائد کے اردگرد اور احاطوں میں ہوتا ہے، شاید ہی کراچی کے کسی اور علاقے میں ہوتا ہو۔۔۔  نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے بھی "ڈیٹنگ” کا سب سے محفوظ مقام  مزارِ قائد کے اردگرد بنے خوبصورت گارڈن اور پارک ہیں۔۔۔ جہاں کونوں کدروں میں بیٹھے جوڑے راز و نیاز اور وہ  وہ کام کرتے ہیں جو شاید بند کمروں میں کرتے ہوئے بھی شرم کا باعث بنیں۔۔۔”

میں نے پوچھا کہ یار کھلے عام ، ان لوگوں کو ہمت کیسے بڑھ جاتی ہے، کیا یہاں  ان کی کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوتی۔۔۔؟   کاشی جو ایک مشہور ٹی وی چینل میں کام کرتا ہے،  کہنے لگا کہ  سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔۔۔ یہ عورتیں جو یہاں کھڑی ہوتی ہیں، یہ تو  صرف ڈیل کروانے والی ہیں۔۔۔  ان کے ساتھ سودا طے ہو جائے تو یہ گاہگ کو کسی اور جگہ لے جا کر لڑکیاں مہیا کرتی ہیں۔۔۔  اردگرد کے لوگوں کو خاموش رہنے کا الگ پیسہ دیتی ہیں اور پولیس کو الگ۔۔۔ تو کون ان کو روکے۔۔۔

میں قائدِ اعظم  محمد علی جناح کی آخری آرامگاہ کے تقدس کو پامال ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ حیرت ، اورتاسف کے جذبات لیے چلتی گاڑی میں ہاتھ اٹھا کر اپنے قائد کے لیے فاتحہ پڑھی  اور کراچی گھومنے آگے نکل گیا۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

8 responses to “مزارِ قائد اور جسم فروشی

  • جواد احمد خان

    جب سے پولیس سے نوجوان جوڑوں سے تفتیش کا اختیار لیا گیا ہے . پاکستان کی نوجوان نسل پاگل سی ہو گئی ہے.
    آخری مرتبہ جب میں پاکستان گیا تو سوچا کہ بچوں کو چڑیا گھر اور سفاری پارک گھما لاؤں.
    اللہ معاف کرے یہ جگہیں اب شریف لوگوں کی تفریح کی جگہ نہیں رہیں.
    سفاری پارک میں تو صرف غیر شادی شدہ جوڑے کھلے عام قابل ایسی حرکات کررہے تھے کہ خون کھول کھول جا رہا تھا.
    کاش پاکستان میں کوئی اللہ کا بندہ آجائے جو ایسی جوڑوں کو وہیں گولی مار نے کا حکم لاگو کردے..

  • کاشف

    باغ جناح یاد دلا دیا ۔۔۔ !!! یہ لکھتے ہی خیال آیا کہ جناح صاحب کے نام سے منسوب تمام یادگاروں میں یہ کام عام، بلکہ سرِعام ھے۔ باغ جناح دارالسلام لائبریری سے پڑھ کر عوام کا ریوڑ رات 11 بجے واپسی کی راہ باندھتا تھا تو گراسی پلاٹوں کے اندر سے شارٹ کٹ مارنے کے دوران کئی دفعہ انتہائی امپاسبل جگہوں پر چھپے یک جان دو قالب "جنًات” سے ٹکر کھا کر لوگ ٹپ ٹپ گرتے گرتے اور ھارٹ اٹیک کے ہاتوں مرتے مرتے بچتے تھے۔ 🙂

  • یاسرخوامخواہ جاپانی

    اسلامی جمہوریہ پاکستان۔۔۔
    بلاتبصرہ

  • کاشف نصیر

    مزار قائد، سفاری پارک اور بن قاسم پارک یہ تین ایسی جگہیں جہاں سے اہلیان کراچی دور دور رہتے ہیں، وجہ وہی ہے جو آپ نے بیان کیا۔

  • علی

    کیوں جی جب قائد اعظم سیاہ ست دانوں کو برداشت کر لیتے ہیں تو بیچارے عوام کا ان پر حق نہیں ہے
    🙂

  • mani

    روشن خیال قوم کا اپنے قائد کو ایصال ثواب پہنچانے کا ایک طریقہ اور ۔
    شتانجلی دینے کا بہترین زریعہ ہے۔ پھر تقلیدِ مغرب کا حق بھی تو ادا کرنا ہے ۔ یوں ہی سہی۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے
    کہ قربِ قیامت میں کوئی مرد کسی عورت کو راہ چلتے روکے گا اور اس سے اپنی شہوت پوری کرے گا۔ کوئی شریف النفس بندہ انہیں کہے گا ۔ راستے سے تو ہٹ جاتے۔ اور یہ تنبیہ کرنے والا اس وقت ایسا باعزت ہو گا جیسے تم میں ابو بکر رضی اللہ عنہ (اللہ کمی بیشی معاف فرمائے)۔

  • Ghazala Khan

    pata nahi keh hamary mulk ko kya ho gaya hai…jubhi tu yahan pe Allah k azab nazil hotay hein!

    Siasut danoon ne alug gaddar machaya hua hai aur ooper se avaam bhee bay rah ravi ka shikaar hai…..phir yeh qaum museebat mein mubtala kionker na ho ?

  • Qalam Nama قلم نامہ

    اس معاملے کے کئی پہلو ہیں۔ ایک المیہ تو یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی معاشرے میں نوجوانوں کی شہوت بھڑکانے کا تو تمام تر سامان موجود ہے۔ اشتہارات سے لیکر ٹی وی ڈراموں اور روز مرّہ کی گفتگو تک ہر سرگرمی ایسا کرنے پر لگی ہوئ ہے۔ دوسری طرف شہوت کی آگ بجھانے کا کوئ جائز ناجائز اہتمام نہیں ہے۔ مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کیلئے پھر ماحول بھی سازگار ہونا چاہئے۔ شرافت، حیا اور نظریں نیچی ہوں۔ ارد گرد شہوت کو بھڑکانے والے طوفان نہ برپا ہوں۔ ایک تبصرے میں باغ جناح کا بھی ذکر ہے۔ بھائ صاحب، یہ کراچی کا کوئ باغ ہے؟ ویسے اپنے لاہور کا باغ جناح بھی کوئ پیچھے نہیں ہے۔ بھلا ہو انتظامیہ کا کہ اب پارک سردیوں میں نو اور گرمیوں میں دس بجے رات بند کردیے جاتے ہیں۔ ویسے جناح اور اقبال کا اتنا قصور بھی نہیں ہے۔ ہم نے بھی بنی بنائ چیزیں ان کے نام کردیں۔ اچھا بھلا لارنس گارڈن تھا۔ بنایا بھی لارنس صاحب نے تھا۔ کیا ضرورت تھی نام تبدیل کرکے باغ جناح رکھنے کی۔ ہم خود کوئ تیر مار کر نئی چیز بنا لیں تو جو چاہیں نام رکھیں۔ یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے۔ اسلام آباد ائر پورٹ کا نام بینظیر بھٹو ایئر پورٹ رکھ دیا ۔ پشاور کے پھٹیچر ایئر پورٹ کو باچا خان ائر پورٹ کا نام دیا۔ کاش پشاوریوں کو ایک مناسب جگہ پر مکمّل سیویلین ائر پورٹ کا تحفہ دیکر اسکا جو بھی دل کرتا نام رکھا جاتا۔ معاف کیجیۓ گا میں ٹاپک سے ہٹ گیا، واپس مزار قائد کی طرف آتے ہیں۔ مانی صاحب نے مغرب کی تقلید پر تنقید کی ہے۔ عرض یہ ہے کہ کاش ہم مغرب کی تقلید کرسکتے۔ وہاں تو کام کے دوران موبائل فون استعمال کرنے کا کوئ تصور تک نہیں کرسکتا ۔ یہاں معاملہ اُلٹا ہے اور موبائل نے work place کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ مغربی معاشرے میں پبلک مقامات یہاں تک کہ بسوں اور ٹرینوں تک میں نا مناسب طریقوں سے ‘اظہار محبت‘ اور چوما چاٹی عام ہے۔ جو ہم پاکستانیوں کیلئے شدید دکھ کا باعث بنتا ہے۔ تاہم انکے نقطہ نظر سے دیکھا جاے تو وہ لوگ اس چیز کو بُرا نہیں سمجھتے اسلیئے گرفت بھی نہیں کرتے۔ اگر بُرا سمجھتے تو یقینا نہیں کرنے دیتے۔ لندن میں کوئ مثال تو دے پبلک مقامات پر جسم فروشی کے دھندے کا۔ کسی زمانے میں کنگ کراس جیسے مقامات پر جسم فروش عورتیں کھڑی ہوتی تھیں مگر اسکا مکمل روک تھام کردیا گیا۔ اسکے مقابلے میں کراچی اور لاہور کی سڑکوں پر “پک اینڈ ڈراپ “ سروس کا نظارہ کریں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کسی نےپولیس کو ‘اخلاقی تفتیش“ کے اختیارات دینے کی بات کی ہے۔ نا بابا نا۔۔۔۔۔۔یہ غضب نہ کیجیے۔ ضیا ء الحق کے دور میں پولیس نے نکاح نامے چیک کرنے اور شراب نوشی کے شبہے میں لوگوں کے منہ سونگھنے کے نام پر لوگوں کی زندگیوں کو عذاب بنا دیا تھا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: