Monthly Archives: فروری 2013

محبّت عذاب جان ہوتی ہے

محبّت جیت ہوتی ہے مگر ہار جاتی ہے…
کبھی دل سوز لمحوں سے…
کبھی بیکار رسموں سے…
کبھی تقدیر والوں سے…
کبھی مجبور قسموں سے…
کبھی یہ خواب ہوتی ہے…
کبھی بیتاب ہوتی ہے…
کبھی یہ ڈرجاتی ہے…
کبھی یہ مر  جاتی ہے…
محبّت جیت ہوتی ہے…
مگر یہ ہار جاتی ہے…

"نہیں … تم غلط که رہے ہو…محبّت نہ تو ہار سکتی ہے اور نہ ہی مر سکتی ہے… مگر… ادھوری ضرور رہ سکتی ہے… جس نے بھی محبّت کی ہے… جیت اسی کی ہوتی ہے… اور جو محبّت سمجھ نہ سکے… اس کی ہار ہوتی ہے… محبّت میں جو مٹ گیا… جیت اسی کی ہوتی ہے… اور جس نے محبّت کو تباہ کیا… اس کی ہار ہوتی ہے… اور لسٹ لمبی ہو جاےگی اگر میں نے گننا شروع کر دیا… تو بہتر ہے کہ میں یہیں خاموش ہو جاؤں… یہ میری سوچ ہے… شاید تم اتفاق نہ کرو…”

محبّت خواب ہوتی ہے…
محبّت بات ہوتی ہے…
جو کوئی پوچھ بیٹھے تو محبّت راز ہوتی ہے…
مچلتی ہویی امنگوں کا سہانا ساتھ ہوتی ہے…
جو کوئی ڈھونڈنا چاہے تو یہ نایاب ہوتی ہے…
محبّت پھول ہے شاید…
غموں کی دھول ہے شاید…
چمکتی رات ہے شاید…
کسی کی یاد ہے شاید…
محبّت پرسکون بھی ہے…
مگر بیتاب ہوتی ہے…
اگر مل نہ سکے تو…
پھر عذاب جان ہوتی ہے…

"سنو… یہ تو بتا دو کہ تمہارے نزدیک محبّت ہے کیا چیز…؟”

"آہ… بات یہ ہے کہ محبّت ہوتی تو  ایک جیسی ہے لیکن ہر کوئی کرتا  اپنے طریقے سے ہے… محبّت کی خوبصورتی ہر کوئی اپنے طور پر بیان کرتا ہے… اپنے لفظوں میں… اپنے خیالات کے مطابق… اور یہی بات یہ ثابت کرتی ہے… کہ کوئی بھی محبّت کے حقیقی معنی نہیں بیان کر سکتا… شاید محسوس تو کر لے لیکن بیان کرنا مشکل ہے… محبّت تو ایک احساس ہے…  جو ہمارے دماغ تک ایک تار کے ذریے پہنچتا  ہے… اور وہ تار ہمارے دل سے نکلتا ہے… اور  جس کے سامنے کوئی لوجیک کام نہیں کرتی…خیر یار… اگر احساس پاکیزہ ہو تو اسے بیان کرنا  یا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا…”

"محبّت ایک جنگ ہے یار… فرق صرف یہ ہے… کہ اگر جیت جائے تو میری بھی جیت ہے اور تمہاری بھی… اور اگر ہار جائے… تو جیتے گا صرف ہم میں سے کوئی ایک… اور ہاں محبّت مر نہیں سکتی… یہ جنگ ہمیشہ جاری رہے گی… جب تک دنیا باقی ہے… تب تک… کوئی نہ کوئی تباہ ضرور ہوتا رہے گا…”

اور کیا  تم مجھے سمجھا سکتے ہو… کہ محبّت میں کھو دینے اور ہار جانے میں کیا فرق ہے… تمہارے خیال میں کیا اپنی محبّت کو نہ پانا یا پا کر کھو دینا، محبّت کی شکست ہوتی ہے؟ اگر اپنی پوری زندگی میں تم کبھی اکیلے میں… یا پھر ایک ہجوم میں ہی صحیح… تم نے اپنے خواب خیال میں صرف اپنی کھوی ہویی محبّت کو ہی پایا ہو… یا کسی اور کی ہی کوئی بات تمہے اپنے محبوب کی یاد دلا دے… تو وہ ایک لمحہ ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے… کہ محبّت ہار نہیں سکتی… خیر یار تم مانو یا نہ مانو… میرا دل یہی کہتا ہے کہ محبّت ہار نہیں سکتی… "

"وہ رات ہر طرح سے مجھ پر بہت بھاری تھی… اس رات میں نے بہت  کچھ لکھا… میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ آج تک میں نے جو لکھا ہے وہ تمہارے سپرد کر جاؤنگی… تب مان لوگے کہ محبّت ہار نہیں سکتی… کیونکے تب مجھ سے اور بہت پیار ہو جاےگا… اور میرے نا ہوتے ھوے بھی میری محبّت کا احساس ہر پل… ہماری جیت کا احساس دلا یگا… دیکھ لینا… کچھ دن پہلے تم نے کہا تھا کہ محبّت میں اثر نہیں ہے… تو جواب میں میں نے کہا تھا کہ ایک دن ضرور ہوگا… شاید وہ بات سچ بھی ہے… کیونکے میں نے رو کر… تڑپ کر یاد کیا… مگر شاید تمہیں احساس ہی نہ ہوا… کیونکے میں جانتی ہوں کہ اگر احساس ہو جاتا میری تکلیف کا… تو خود کو نہ روک پاتے اور اگلے ہی لمحے مرے پاس ہوتے…”

میں ہار گیا ہوں…….. لیکن میری محبّت نہیں ہاری……… میری محبّت میری گور میں مرے ساتھ ہی جاےگی……… کیونکے میں ہار گیا ہوں… لیکن میری محبّت نہیں ہاری………..

(Earlier posted on my blog in November 2010)


کراچی میں ایک رات

رات د و بجے اٹریم مال  سے "دا سکائی فال” کا شو دیکھ کر نکلے۔۔۔   بڑے گیٹ سے باہر نکلتے ہی جو پہلا منظر دیکھا۔۔۔   وہ ایک بڑی گاڑی کا تھا، جس کے عقب میں کوئی چھ سات بندوق بردار حضرات بیٹھے کسی کے منتظر تھے۔۔۔ گاڑی کے آگے پیچھے رینجرز کی ایک ایک گاڑی کھڑی تھی۔۔۔   میں اور کاشی ایک سائیڈ پر کھڑے ہو گئے۔۔۔ اور انتظار کرنے لگے کہ معاملہ دیکھیں۔۔۔  کچھ دیر بعد ایک حسین و جمیل جوڑا ہاتھ تھامے مال سے نمودار ہوا اور درمیان میں کھڑی گاڑی میں بیٹھ ، ہارن بجاتے یہ جا اور وہ جا۔۔۔ ہم دونوں دوست ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے ۔۔۔ کاشی گویا ہوا کہ بھائی سیکورٹی صرف انہی کی ہے۔۔۔ ہو گا کسی سیاستدان یا بیوروکریٹ  کی اولاد ۔۔۔

کاشی کا موڈ پوری رات مٹر گشتی کرنے کا تھا۔۔۔  اٹریم مال سے روانہ ہوا اور کلفٹن کا رخ کر لیا۔۔۔   ارادہ ساحلِ سمندر  کے سکون کو محسوس کرنے کا تھا۔۔۔ راستے میں "عبداللہ شاہ غازی  کا مزار” تھا…  وجہ عقیدت تھی، کاشف سے درخواست کی کہ بھائی چل اندر چل کر بابا جی کے لیے دعائےِ خیر کرتے چلیں۔۔۔ کاشی نے گاڑی ایک طرف روک لی۔۔۔ گاڑی سے اترتے ہی جو منظر کریہہ منظر دیکھا ، وہ برداشت نا ہوا۔۔۔  مزار کی چوکھٹ پر ہی کچھ چرسی بیٹھے نشے میں دھت ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیوں سے نواز رہے تھے۔۔۔ تھوڑا آگے، کچھ ملنگ (جن پر شاید پانی حرام ہے) بیٹھے منکوں کا ڈھیر لگائے بلند آواز میں کچھ شرکیہ کلام پڑھ رہے تھے۔۔۔  کلام کے الفاظ یاد نہیں، لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ انہوں نے بابا عبداللہ شاہ غازی کو اللہ تبارک تعالیٰ کا ہم پلہ ضرور بنا دیا تھا  (نعوذ باللہ) ۔ یہ سب دیکھ کر واپس گاڑی میں بیٹھا اور کاشی کو چلنے کا کہا۔۔۔ کاشی ہکا بکا تھا کہ اچانک مجھے کیا ہو گیا۔۔۔ لیکن میرا وہاں رکنے کا تھوڑا سا بھی موڈ نا رہا۔۔۔

ساحلِ سمندر پرسکون تھا۔۔۔۔  چاندنی رات اور ہر طرف خاموشی ایک ایسا منظر پیش کر رہی تھی جس کو محسوس کرنے کی خواہش مجھے ہمیشہ سے ہی تھی۔۔۔  پیزا ہٹ کے قریب کاشی نے گاڑی پارک کی۔۔۔ اور  باہر بنی دیوار پر چڑھ کر بیٹھ گئے۔۔۔ باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔۔۔ کاشی سے تقریبا پانچ سال بعد ملاقات ہوئی تھی، اس لیے باتیں کرتے کرتے وقت کا بھی کچھ اندازہ نہیں رہا۔۔۔

پیزا ہٹ کے قریب کچھ نوجوان  کھڑے تھے۔۔۔ جن کے پاس تین موٹر سائیکلیں  تھیں۔۔۔  تھوڑی دیر میں ایک موٹر سائیکل ان کی طرف آتی دکھائی دی۔۔۔ جس پر تین پولیس والے سوار تھے۔۔۔ وہ ان لڑکوں کے پاس پہنچے اور ان میں کچھ تکرار ہونے لگی۔۔۔ اب کاشی مجھے لائیو کمنٹری سنانے لگا۔۔۔

"اب پولیس والے لڑکوں سے پیسے مانگ رہے ہیں۔۔۔   لڑکے تھوڑے بہت پیسے دے کر انہیں بھگانے کی کوشش کریں گے۔۔۔ لیکن پولیس والے نہیں مانیں گے”

میری نظریں اس منظر پر اٹکی ہوئی تھی۔۔۔  ان کی ہلکی پھلکی آوازیں ہم تک بھی پہنچ رہی تھیں لیکن سمجھنے کے لیے نا کافی تھیں۔۔۔

"اب ایک پولیس والا ان لڑکوں کی ایک موٹر سائیکل پر بیٹھ جائے گا اور اسے تھانے لے جانے کی دھمکی دے گا۔۔۔”

میں نے دیکھا کہ ایک پولیس والا  واقعی لڑکوں کی موٹر سائیکل پر بیٹھ گیا اور آگے ایک دوسرا لڑکا بیٹھ گیا۔۔۔ اسی طرح دوسری موٹر سائیکل پر بھی ایک پولیس والا اور ایک لڑکا بیٹھ گیا۔۔۔ چار موٹر سائیکلوں کا کارواں روانہ ہوا اور ہمارے سامنے سے گزر گیا۔۔۔

"اب یہ سب تھوڑی دور جا کر رک جائیں گے اور پولیس والے ان لڑکوں کو تھوڑا اور ڈسکاونٹ دیں گے۔۔۔ لیکن پیسے لیے بغیر جانے نہیں دیں گے”

ہمارے سامنے سے گزر کر تین چار سو میٹر کے فاصلے پر سب موٹر سائیکل والے پھر رک گئے اور پھر ان میں بحث ومباحثہ شروع ہو گیا۔۔۔  میں نے دیکھا کہ لڑکوں نے کچھ پیسے ان پولیس والوں کو دئیے ہیں لیکن پولیس والے پھر بھی ان سے بحث کر رہے ہیں۔۔۔ اسی اثنا میں ایک پولیس موبائل دور سے آتی دکھائی دی۔۔۔

"اب جیسے ہی یہ پولیس موبائل ان کے قریب پہنچے گی۔۔۔ یہ لوگ لڑکوں کو بھگا دیں گے اور خود سائیڈ پر کھڑے ہو جائیں گے”۔۔۔

پولیس موبائل کے قریب پہنچتے ہیں، لڑکے اپنی موٹر سائیکلوں پر بیٹھے اور ایسے روانہ ہوئے جیسے یہ ان کے لیے روز کی بات ہو۔۔۔  موبائل پولیس والوں کے قریب پہنچ کر کچھ دیر رکی اور  پھر آگے بڑھ گئی۔۔۔

میں نے کاشی کو کہا، کہ یار میں نے یہ سب کچھ پہلے سنا ضرور تھا لیکن کبھی دیکھنے کا تجربہ نہیں ہوا۔۔۔ اور آج جب مشاہدہ ہو گیا ہے تو اندازہ ہوا ہے کہ پاکستانیوں کی زندگی واقعی بہت مشکل اور ذلت آمیز ہے۔۔۔

خیر، کچھ دیر بیٹھ کر ہم  نے گھر جانے کا پروگرام بنایا۔۔۔ پولیس والے اب تک وہیں کھڑے تھے۔۔۔   گاڑی ان کے قریب سے گزارتے ہوئے، کاشی نے اونچی آواز میں پولیس والوں کو کہا۔۔۔ "میں نے دیکھ لیا ہے سب کچھ۔۔۔” اور یہ کہہ کر گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔


%d bloggers like this: