مقسوم

زندگی ہاتھوں سے لمحہ بہ لمحہ پھسلتی جا رہی ہے۔۔۔ ہر وقت کا دھڑکا ہے کہ اب چلے ، تو اب چلے۔۔۔ تبلیغی جماعت والوں کی طرز پر کہوں تو یہ ڈر ہے کہ "تیاری” کیا ہے اگلی منزل کی۔۔۔ ہوش سنبھالا اور خود سے لڑائی شروع ہوئی۔۔۔ اچھائی اور برائی کے درمیاں خود کو "کنفیوز” ہی پایا۔۔۔ جو کرنے کا جی چاہا ۔۔۔ وہ منع ہے، گناہ ہے۔۔۔ اور جس سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔۔۔ تو معلوم ہوا کہ اس کا صلہ تو اگلے جہاں ہی ملے گا۔۔۔

زندگی لمحہ بہ لمحہ گزرتی جا رہی ہے۔۔۔ کچھ یقین نہیں کہ اگلی سانس بھی لے سکوں۔۔۔ اور مر کے بھی چین نا پایا تو کہاں جاوں گا۔۔۔ قبر کی تاریکی ، جہاں روشنی کی کوئی پھوار نہیں۔۔۔ آواز سننے کو ترسنا۔۔۔ اور کیڑے مکوڑوں کی غذا بننا۔۔۔ کیا یہی منزل ہے ۔۔۔؟

موت کے بعد کا حال تو کوئی کیا ہی جانے۔۔۔ جو پڑھا، سنا۔۔۔ بڑا ہی ہولناک ہے۔۔۔ ہم تو زندگی کے حُسن میں ایسے کھوئے رہے کہ موت کی بدصورتی بھول ہی گئے۔۔۔ اگلی منزل تاریک تو ہوگی ہی ۔۔۔ کیا کشادہ ہو پائے گی۔۔۔ یا مزید سکڑتی سکڑتی ہماری رہی سہی پسلیاں بھی توڑ دے گی۔۔۔ وہ کون جانے۔۔۔

اگلی منزل کا ایمان تو لازم و ملزوم ٹھرا۔۔۔ اس کے تیاری کتنی مشکل ہے۔۔۔ یہ تیاری کرنے والا ہی جانے۔۔۔ بڑے سے بڑے حوصلے والا بندہ بھی صرف ایک چیز سے مجبور ہے۔۔۔ "نفس”۔۔۔ پھلتا پھولتا۔۔۔ تھپکیاں دے کر سلاتا۔۔۔ منزل سے غافل کرتا یہ نفس۔۔۔ ہر ایک کو مار دیتا ہے۔۔۔ ہر ایک کو پچھاڑ دیتا ہے۔۔۔ ہمارا سینہ نا چاک ہوا۔۔۔ ہمارا ہمزاد تابع ناہوا۔۔۔ تو آسانی کیسی۔۔۔ ہر عمل کر لیا۔۔۔ نیک بھی اور بد بھی۔۔۔ توبہ بھی کر لی۔۔۔ معافیاں بھی مانگ لیں۔۔۔ چھوڑ دیے گناہ۔۔۔ لیکن یہ نفس۔۔۔ پھر بھی سکون سے نا بیٹھا۔۔۔ اور نا بیٹھنے دیا۔۔۔ پھر بھی ہار نا مانا۔۔۔ پھر بھی تابع کرنے کو کوشش کرتا رہا۔۔۔ اور ہمیں شکست دیتا رہا۔۔۔

سانس کے آنے سے سانس کے جانے تک کی یہ جنگ۔۔۔ انسان ہمیشہ درمیاں میں پھنسا رہا۔۔۔ الجھن میں رہا۔۔۔ کیا کروں کہ میں سکون پاوں۔۔۔؟ کیا کروں کہ والدین، اہل و عیال، دوست احباب اور انسانیت ہمارے زریعے اطمینان پائیں۔۔۔ مزید کیا کروں کہ رب خوش ہو جائے۔۔۔ اور میری منزل آسان ہو جائے۔۔۔ میرا آخری گھر ہی پرسکون ہو جائے۔۔۔ یہی سوچ سوچ کر پھنستا گیا۔۔۔ پھنستا گیا۔۔۔ نفس نے نا اسے خوش ہونے دیا۔۔۔ اور نا رب کو۔۔۔ کہیں سکون نا لینے دیا۔۔۔ ساری زندگی ٹھوکریں کھاتا کھاتا جب آنکھیں بند کیں۔۔۔ تو نیا اور مزید تلخ حساب انتظار میں بیٹھا ہے۔۔۔

زندگی لمحہ بہ لمحہ ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے اور تیاری ہے کہ ہوتے نہیں ہوتی۔۔۔ نا اِدھر کے رہے ، نا اُدھر کے صنم…

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

7 responses to “مقسوم

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    یہ ہر کوئی محسوس کرتا ہے۔
    کوئی زیادہ کوئی کم۔
    جو محسوس نہیں کرتے وہ بے حس ہو تے ہیں۔
    اللہ سب کیلئے آسانیاں پیدا کرے ۔آمین

  • علی

    بندہ کہے تو کیا کہے
    اچھا سوچیں اور ایسا سوچتے ہیں تو ہمیں تو نہ ڈرائیں
    اللہ خیر کرے

  • جواد احمد خان

    عمران بھائی!
    کیوں اتنا پریشان ہوکر ہمیں بھی پریشان کردیتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو خوشیاں اور فراغت نصیب فرمائے

  • fikrepakistan

    عمران بھائی آپ ایک اچھے انسان ہیں اللہ کی زات سے اچھے کی امید ہی رکھیں، مجھے یقین ہے عذابِ قبر کی کیٹیگری میں آپ جیسے اچھے انسان نہیں آسکتے، گناہِ کبیرہ سے بچتے رہئیے باقی چھوٹے موٹے گناہ تو ہر انسان سے ہی سرزد ہوجاتے ہیں انکی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہیئے اللہ نے قرآن میں سورہ یاسین میں فرما دیا ہے کہ کسے عذابِ قبر ملے گا اور کسے نہیں ملے گا، یہ مجھے کامل یقین ہے کہ آپ نے ایسا شدید گناہ نہیں کیا ہوگا کوئی جس سے آپ ابو جہل اور فرعون کی طرح عذابِ قبر کے مستحق ٹھیریں، یقیناَ آپ کے اعمال انبیاء اکرام اور جلیل القدر صحابہ اکرام کی طرح نہیں ہونگے لیکن فرعون کی طرح بھی نہیں ہونگے نہ ہی آپ نے ایسا کوئی گناہ کیا ہوگا جس پر آپکو ابدی جہنم ملے، یہ ہی وجہ ہے کہ گناہِ کبیرہ سے بچتے رہنا چاہئیے اور اللہ سے معافی کا طلبگار رہنا چاہئیے مجھے امید ہے آپ ان درمیان کے لوگوں میں سے ہونگے جنکے لئیے سورہ یاسین میں اللہ نے فرما دیا ہے کہ یہ لوگ حشر کے روز اپنی اپنی قبروں سے کہتے ہوئے اٹھیں گے کہ یہ کس نے ہمیں نیند سے جگا دیا۔

  • نورین تبسم

    یہ وہ خود کلامی ہے جو غلطی سے آن ایر ہو گئی شاید وقت کا مائک کھلا رہ گیا یا پکار کی شدُت عرش تک جا کر ایکو کی صورت لوٹ آئی- جس نے بےقراری عطا کی قرار بھی اُسی سے ملے گا -بس لیتے جاؤ جو مل رہا ہے سرجھکا کر ،مقدر جان کر دُنیا میں کوئی ایسا بلاٹنگ پیپر نہیں جو انسان کے اندر کا کرب جذب کر سکے-اللہ ہم سب پر اپنی رحمتیں جاری رکھے -آمین

  • خلیق احمد مفتی

    بہت اچھی تحریر ھے ، موت اتنی ھی اٹل حقیقت ھے جتنی زندگی ، بلکہ سورة الملک ﴿آیت نمبر؛۲﴾ میں پہلے موت کا تذکرہ کیا گیا اور اس کے بعد زندگی کا ، موت کا خوف اور اس کیلئے تیاری کا احساس ھی تو برائی کی طرف اٹھتے ھوئے قدموں کیلئے زنجیر بن جاتا ھے ، یہی احساس انسان کے نفس کو لگام دیتا ھے اور پھر اس کیلئے انشاء اللہ جھنم سے نجات اور جنت میں داخلے کا سبب بن جائیگا ، موت کے خوف اور تیاری کی فکر جیسی اور کوئی چیز نھیں جو انسان کی اصلاح کیلئے اس قدر مفید ترین ھو ، اسی لئے حدیث میں ارشاد ھے ؛ کفی بالموت واعظا ، یعنی نصیحت حاصل کرنے کیلئے موت کا دھیان بہت کافی ھے ۔

  • mani

    ماشاء اللہ حساس سوچ ۔ ایک حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ کثرت سے موت کو یاد کیا کرو۔
    دنیا کی لذتوں اور رنگینیوں میں کہیں آخرت کو بھول نہ جائیں سو ایسی سوچیں اور خیالات ایک نیک روح کی ریچارجنگ کے لئے بہترین ہوتے ہیں
    جزاک اللہ خیرا کثیرا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: