گفتگو

میں:       حاضر ہوں جی۔

بابا:          تجھے سکون نہیں۔۔۔!!!

میں:       سکون ہوتا تو آپ کے پاس کیوں آتا۔۔۔

بابا:         سچ بتا، کیا چاہیے تجھے۔۔۔؟

میں:       سکون۔۔۔

بابا:         کیسا سکون چاہتا ہے۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         تو پھر میں تیری مدد کیسے کروں؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         سب کچھ تو ہے تیرے پاس۔۔۔ پھر کیا بے چینی ہے تیری۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         جا۔۔۔ تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔

میں:       کیوں۔۔۔؟ میں نے تو سنا ہے کہ آپ کے بس میں بہت کچھ ہے۔۔۔

بابا:         تجھے کس نے کہا۔۔۔؟

میں:        پڑھا تھا،  کہ آپ چاہو تو  جنت۔۔۔ آپ چاہو تو جہنم۔۔۔

بابا:         پڑھ تو لیا۔۔۔ اب یقین بھی کر۔۔۔

میں:       میری مدد تو کرو۔۔۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا ہے کہ مجھے بے چینی کیا ہے۔۔۔

بابا:         سن ، تو اپنے آپ سے خوش نہیں ہے۔۔۔  تیرے پاس سب کچھ ہے لیکن تو اس  سے بھی خوش نہیں ہے۔۔۔ اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے۔۔۔

میں:       وہ کیا۔۔۔؟

بابا:         کہ تیرا کوئی اپنا تیرے سے خوش نہیں ہے۔۔۔ جا اسے خوش کر۔۔۔

میں:       یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ میری خوشی سے کسی کا کیا تعلق۔۔۔؟

بابا:         یہ ہوئی نا بات۔۔۔ جب تیری خوشی صرف "میری خوشی "سے نکل کر "سب کی خوشی” بن جائے گی تو مل جائے گا سکون۔۔۔

میں:       ایسا کرنے کا حل تو بتائیے۔۔۔

بابا:         حل بڑا آسان ہے۔۔۔ اب سے تو جو اپنے لیے کرتا ہے، جو اپنے لیے سوچتا ہے، وہ سب کے لیے کرنا اور سوچنا شروع کر دے۔۔۔ تو خود کو اچھا سمجھتا ہے تو دوسروں کو بھی اچھا سمجھنا شروع کر دے۔۔۔ اپنی کوتاہیوں کو چھپانا چاہتا ہے تو دوسروں کی کوتاہیوں کو بھی نظر انداز کرنا شروع کر دے۔۔۔  تو چاہتا ہے نا کہ تیرا رب تجھے معاف کر دے۔۔۔ تو ، تُو بھی سب کو معاف کر دے۔۔۔

میں:       یار، یہ کرنا اتنا آسان ہر گز نہیں۔۔۔ کیسے کر دوں سب کو معاف۔۔۔

بابا:         ویسے ہی، جیسے اللہ نے تجھے طاقت  اور ہمت دی ہے معاف کرنے کی۔۔۔

میں:       اچھا۔۔۔تو پھر کیا سکون مل جائے گا۔۔۔؟

بابا:       گرنٹیڈ۔۔۔ پکا۔۔۔ آزما کر دیکھ لے۔۔۔

بابے کی باتیں سمجھ کر گاڑی کا دروزہ کھولا، بیک سیٹ سے اپنا بیگ نکالا اور ایک گھنٹے کے "تنہا سفر” کے بعد گھر کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

3 responses to “گفتگو

  • علی

    کل اصل جاوید چوہدری صاحب نے بھی اسی بارے لکھا ہے۔
    پر اصل کہانی یہاں کے آگے شروع ہوتی ہے کیا آپ نے عمل کرنا شروع کیا اور کیا تو کیا سکون پایا یا رشتہ داروں اور قرض داروں نے آپ کو اصل سکون سے روشناس کرایا دنیا تیاگ جانے والا سکون؟ جواب تفصیلی لکھیں مصالحوں کے نمبر علیحدہ ہوں گے

  • جواد احمد خان

    دعا ہے کہ آپکی بےسکونی کو سکون آجائے۔
    ویسے ایک طریقہ اور بھی ہے اس بےسکونی کو ختم کرنے کا اور وہ یہ ہے کہ آپ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے باتیں کرنا شروع کردیں جیسے کسی سامنے بیٹھے شخص سے کی جاتی ہیں ۔ اور بار بار اپنا مسئلہ بیان کرتے رہیں۔ شاید کہ آپکا مسئلہ حل ہوجائے۔ یا کم از کم حل کرنے کی توفیق اور ہمت مل جائے۔

  • جوانی پِٹّا

    سر جی۔
    اصل بات یہ ھے کہ آپ کو سکون آ گیا ہے اور اب آپ اُس کیفیت میں ہیں کہ "سکون آنے کے بعد سکون کہاں رہتا ہے”۔
    اپنے متعلق کچھ بدلیں۔
    جاب چینج کریں یا زندگی میں نئے ٹارگٹ رکھیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: