لکهو

کبھی اگر کچھ کہنے کادل چاہے تو لکھ لینا کہ لکھنا دل میں رکھنے سے بہتر ہے۔۔۔

ضروری نہیں کہ ہمیں سننے والا بھی کوئی موجود ہو۔۔۔ اور کوئی ہو بھی تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ آپ کی سن کر سمجھ بھی سکے۔۔۔!!! اس لیے بہتر ہے کہ لکھ لیا جائے۔۔۔ دل کا بوجھ اتر جائے گا اور ایک ہم راز بھی مل جائے گا۔۔۔

ہمراز۔۔۔ جو ہم سب کی ضرورت ہے۔۔۔ مجبوری بھی ہے اور طاقت بھی۔۔۔

اگر لکھ لیا تو چھپا دو کہ جو لکھ سکتے ہو وہ کسی دوسرے کے سامنے بول نہیں سکتے۔۔۔

جو راز صفحہ چھپا سکتا ہے، انسان نہیں چھپا سکتا۔۔۔

اور جو راز صفحے میں سما سکتا ہے۔۔۔ وہ دل میں نہیں سما سکتا۔۔۔

ہزاردوں دکھ لکھ لو۔۔۔ ہزاروں سکھ لکھو لو کہ تاریخ بن جائے۔۔۔ تاریخ محفوظ ہو جائے۔۔۔

جو کل بھول جاو، وہ آج لکھ لو ۔۔۔ تاکہ ذہن کے کسی کونے میں یہ خوش فہمی تو پنپ سکے کہ کوئی ہمراز ہے جو تمہارے ہزاروں قصوں کو محفوظ رکھے چُھپا بیٹھا ہے۔۔۔

اپنی محبتیں لکھ دو۔۔۔ اپنی نفرتیں لکھ لو۔۔۔

اپنے تجربے لکھ دو۔۔۔ اپنی ناکامیاں لکھ دو۔۔۔

اور اگر سمجھو تو مرنے سے پہلے اپنی تحاریر کسی کو سونپ جانا۔۔۔ کہ دنیا محسوس صرف دوری کے بعد کرتی ہے۔۔۔  قدر صرف جدائی اور محرومی کے بعد کرتی ہے۔۔۔

سونپ دینا اپنا اثاثہ۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

7 responses to “لکهو

  • علی

    لکھ تو مسلسل رہا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے مر کر لوگوں نے پڑھا تو کہیں گے ایکٹنگ نہیں کرتا تھا ااصل میں چول تھا 🙂

  • ڈفر

    تیرے کہنے پہ لکھا تو جتنی گالیاں پڑیں گی تیرے ذمے۔ منظور ہے تو بتا

  • ریاض شاہد

    کافکا نے مرتے وقت اپنی بہن کو وصیت کی کہ اگر تمہیں مجھ سے محبت ھے تو گھر میں تلاش کر کے میری ہر تحریر جلا دینا جو کچھ میں نے لکھا وہ اس قابل نہیں کہ لوگ اسے پڑھیں ۔
    نفسیات میں ایک چیز فری رائٹنگ کہلاتی ہے ۔ تنہائی میں بیٹھ کر کاغذ پر قلم سے بغیر سوچے سمجھے لکھتے جانا اس بات کی پرواہ کیئے بغیر کہ کیا لکھا جا رہا ھے بس لکھتے جانا ہوتا ھے اور اس کے بعد اس کاغذ کو پڑھ کر تلف کر دینا ھوتا ھے۔ کیس ہسٹریز کے مطالعے سے نفسیات دان اس نتیجے پر پہچے کہ اپنی اندر کی گھٹن اور منفی جذبات کو نکالنے کا یہ سب سے بہترین طریقہ ھے لاشعور میں دبے ہوبی ہوئی خواہشیں اور حسرتوں کے ابال کا اخراج نہ کیا جائے تو مایوسی کا حملہ بہت شدید بلکہ بعض حالات میں خود کشی کی طرف لے جا سکتا ھے ۔
    صوفیا کا طریقہ بھی یہی تھا کہ غرض مندوں کی تکالیف کا علاج ان کی بات تحمل نرمی اور محبت سے سن کر کیا کرتے تھے غرض مند کی آدھی تکلیف اپنا دکھ بیان کرنے سے ہی دور ہو جاتی تھی اور بقیہ کسی دوا دارو سے ۔
    لیکن نجی زندگی کے انتہائی خفیہ رازوں کو تحریر کرنے کے معاملے یہی دیکھا ہے کہ جلد یا بدیر وہ تحریر کسی نہ کسی حاسد یا کم از کم بیوی کے ہاتھ تو ضرور لگ جاتی ہے اور اس کے بعد کا انجام تو معلوم ھے :پ تو ہر تحریر سینت کر رکھنے کے قابل نہیں ہوتی
    ہاں کچھ معیاری ہے تو یہ تجویز و نصیحت بالکل صائب ھے

  • نعیم اکرم ملک

    میرے عزیز دوست، کاش آپ شادی شدہ ہوتے تو آپکو پتہ چلتا کہ پچیس سال پرانی محبت کا قصہ قلمبند کرنے کی سزا بیگم کی نظر میں اگلے پچیس سال تک بزتی کے سوا کچھ اور نہیں۔ب
    البتہ غبار نکالنے کے لئے لکھنا اور پھر جلا دینا اچھی اپروچ ہے۔
    اکثر اوقات ہمارے خیالات گڈ مڈ ہو رہے ہوتے ہیں اور اگر بندہ انکو کاغذ پنسل لے کر لکھنے بیٹھ جائے تو کافی کلیرٹی آ جاتی ہے۔ سٹیفن کووے تو کہتا ہے کہ اپنی زندگی کی مشن سٹیٹمنٹ لکھو اور لازمی لکھو، اسی بات کو لے کر میں اسکی کتاب کے دوسرے باب سے آگے نہیں جا سکا۔

  • نعیم اکرم ملک

    اکثر اوقات ہمارے خیالات گڈ مڈ ہو رہے ہوتے ہیں اور اگر بندہ انکو کاغذ پنسل لے کر لکھنے بیٹھ جائے تو کافی کلیرٹی آ جاتی ہے۔ سٹیفن کووے تو کہتا ہے کہ اپنی زندگی کی مشن سٹیٹمنٹ لکھو اور لازمی لکھو، اسی بات کو لے کر میں اسکی کتاب کے دوسرے باب سے آگے نہیں جا سکا۔
    میرے عزیز دوست، کاش آپ شادی شدہ ہوتے تو آپکو پتہ چلتا کہ پچیس سال پرانی محبت کا قصہ قلمبند کرنے کی سزا بیگم کی نظر میں اگلے پچیس سال تک بزتی کے سوا کچھ اور نہیں۔ب
    البتہ غبار نکالنے کے لئے لکھنا اور پھر جلا دینا اچھی اپروچ ہے۔

  • نعیم اکرم ملک

    غلطی سے ایک ہی تصبرہ دو مرتبہ کر دیا، دوسری باری والے میں ذرا چلاکی دکھائی اور کمپیوٹر کو فراڈ لگانے میں کامیاب ہوگیا۔ کہتا تھا کہ ایک ہی تبصرہ دوبارہ نہیں کرنا مجھے اپنا تبصرہ نظر نہیں آ رہا تھا سو پیراگراف اوپر نیچے کر کے دوبارہ پوسٹ کیا اور دھوکا کھا گیا بےنقوف کمپٹوٹر۔۔۔

  • sarwat AJ

    لکھنا بھی کئی قسم کا ہے . . .اور ہر قسم کی اپنی الگ کتھا ہے۔ جیسے کچھ لوگ لکھنے کی کیفیت خود پر طاری کرکے جو بھی چاہیں لکھ لیتے ہیں۔ کچھ لوگ لکھنے کے لئے عمداََ موضوع حاصل کرتے ہیں جیسے کرائے کے لکھاری. . .اور کچھ ایک مخصوص ذہنی کیفیت کے بغیر نہیں لکھ سکتے. . .ان کو لکھنے کے لئے وہی مخصوص کیفیت اور ذہن کا فوکس چاہیئے ہوتا ہے ۔
    ہر طرح کے لکھنے والوں کا اثر بھی الگ ہوتا ہے ۔ ہر صورت میں لکھنا ذہن کے خیالات کو رواں کرنے اور ترتیب دینے میں معاون ہوتا ہے ۔
    بھلا ہو

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: