کوئی شرم حیا ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے – حصہ دوم

مصنف: ZAF / مانوبلی

پہلاحصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

کافی دن سے چند موضوعات سوچوں کا محور بنے ہوئے تھے۔ وقت اور دھیان نہ ہونے کے سبب انہیں تحریری شکل نہیں دے پا رہی تھی۔ ان موضوعات میں سرِ فہرست بینظیر کے خلاف قومی اسمبلی میں لائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کی سازش جو ‘آپریشن مڈنائٹ جیکال’ کے نام سے مشہور ہوئی اور سیاست میں ‘چھانگا مانگا سیاست’ جیسی اصطلاحات جس کے موجد شریف برادران ہیں، کی تفصیلات تھیں لیکن آج تحریکِ انصاف کے ایک رکن اسمبلی رائے حسن نواز کو اثاثے چھپانے کی پاداش میں تاحیات پابندی کی سزا سنائی گئی تو انصاف کے اس ننگے کھیل نے مجھے میرا موضوع بدلنے پر مجبور کردیا۔ 

گورنمنٹ کالج لاہور سے تھرڈ ڈویژن میں گریجویشن کرنے کے بعد اور کئی پیشوں میں ناکامی کے بعد جب نواز شریف قبلہ سن ۸۱ میں ضیاالحق کی مہربانی اور ابا جی کی ڈپلومیسی کے بل بوتے پر پنجاب کے وزیرِ خزانہ بنے تو پاکستان کا وہ آئین معطل تھا جس کی دہائیاں دے دے یہ اور ان کے حواری خود کو جمہوری ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ 

وزیرِ خزانہ کے خاندان کے اس وقت کے اثاثہ جات اور آمدنی محض چند لاکھ روپے تھے اور یہ ایک رولنگ مل کے مالک تھے۔ یہاں سے انکی ترقی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ نواز شریف کی ڈوریاں انکے شاطر دماغ ابا جی ہی ہلاتے تھے۔

اقتدار کے ایوانوں تک انکی رسائی ہوتے ہی اتفاق فاؤنڈری اتفاق گروپ آف کمپنیز بنتی چلی گئی اور یہ نام نہاد جدّی پشتی رئیس ملکی خزانے کو لوٹنے کی تاریخ رقم کرتے گئے۔ ۸۵ کے ڈھونگی انتخابات میں نواز شریف جیسے کئی سیاسی یتیم لوگ اسمبلیوں میں پہنچے تھے۔ نواز شریف کیونکہ فوجیوں کے نہایت تابعدار تھے اسلئے قرعہ فال انکے نام نکلا اور یہ اس وفاداری کے عوض وزیرِاعلی پنجاب لگا دیا گیا۔ انکے اثاثے کب کب رجسٹر ہوئے یہ سب ریکارڈ پر ہے۔

1982 میں اتفاق شوگر مل، 1983 میں برادرز سٹیل، 1985 میں فاروق برکت پرائیویٹ لمیٹڈ، 1986 میں برادرز ٹیکسٹائل اور برادرز شوگر مل،1987 میں  اتفاق ٹیکسٹائل یونٹس اور رمضان بخش ٹیکسٹائلز، 1988 میں خالد سراج ٹیکسٹائل وغیرہ۔ 

یہ تمام اثاثے حکومت سے قرضے حاصل کرکے بنائے گئے جنہیں بعد میں ضیاالحق سے معاف کروا لیا گیا۔

بینظیر کے پہلے دور میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جب معاف کیئے گئے قرضوں کی تفصیلات کھنگالیں تو گجرات کے چوہدری بائیس  اور نواز شریف کا خاندان کا اکیس بلین روپے کا دہندہ تھا جسے ضیاالحق معاف کر چکا تھا۔ اس بات کی تصدیق کیلئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ۱۹۸۹ کا ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے۔ 

ضیاالحق کے مرنے تک شریفوں کی کل سالانہ آمدنی تین ملین ڈالر ہو چکی تھی لیکن ٹیکس دینے کا کہیں کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ 

اسی کی دہائی کے اختتام تک یہ آمدنی چھ بلین روپے سے زائد ہو چکی تھی۔ انکے اپنے بیان کے حساب سے بھی یہ آمدنی ۳۵۰ ملین ڈالر تھی اور ٹیکس زیرو۔ 

یہ اثاثے اور آمدنی صرف وزیرِ اعلی بننے تک کے ہیں ۔ قومی خزانے میں  جو ڈاکے نواز شریف نے وزیرِاعظم بننے کے بعد مارے انکی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسلم کمرشل بینک کی پرائیویٹائزیشن اور میاں منشا کے ساتھ مل کر لوٹ مار صرف ایک ایسا کیس ہے جسے سن کر ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جانا چاہیئے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیرِاعظم بننے کے بعد یہ ملکی اور کسٹم قوانین کو اپنی سہولت کے حساب سےجب جی چاہتا بدل دیتے. 

مثال کے طور پر اپنی کرپشن اور احتساب سے بچنے کیلئے احتساب ایکٹ میں ترمیم کرکے اسے 1985 کی بجائے 1990 سے نافذالعمل کیا تاکہ پنجاب میں کرپشن کا جو بازار انہوں نے گرم کیا اس پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔ 

یہ سب documented facts ہیں اور کوئی بھی چیز میری ذہنی اختراع نہیں ہے۔ وزارتِ عظمی کی کرپشن اگلی دفعہ لکھوں گی لیکن پڑھنے والے خود فیصلہ کریں کہ تاحیات پابندی اگر رائے نواز پر اثاثے ظاہر نہ کرنے پر لگائی گئی ہے تو ملک لوٹنے والوں کے پاس اسکا اخلاقی اور قانونی جواز ہے؟ انصاف سب کیلئے مساوی کیوں نہیں ہے؟

 برادری ووٹ پر پلنے والی ان جونکوں سے پاکستان کو نجات تب ملے گی جب ہم ان سے سوالات کرنا شروع کرینگے ورنہ ہم انکے اور ہماری اولاد انکی اولادوں کی غلامی ہی کرتے مر جائینگے اور خاکمِ بدہن نجانے یہ ملک بھی بچے گا یا نہیں۔ 

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

9 responses to “کوئی شرم حیا ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے – حصہ دوم

  • کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے

    […] عمران بہت اچھے دوست ہیں۔ انکی مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے بلاگ پر اس تحریر کو پبلش کرنے کی اجازت دی۔   دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں […]

  • نعمان قریشی

    مختصر لیکن حقیقت۔ میرے مرحوم والد پنجاب منسٹری آف انفارمیشن میں افسر تھے۔ ان کی زبانی شریف خاندان کی کرپشن کی لاتعداد کہانیاں سنی ہیں۔ اگلے حصے کا انتظار رہے گا۔

  • Abu Abdullah

    Very well compiled …showing the real & ugly face of so called ” SHARIF ” regime

    ON YOUR FACE NOONIES !!

    KEEP IT UP MAANO …. VERY WELL DONE !!

    • imran

      تقریبا تمام لوگ بلاگ صرف اس لئے لکھتے ھیں کھ بلاگ لکھا جائے

      اس بلاگ کو پڑھ کر محسوس ھوا کھ دل سے آواز نکلی اور بغیر کسی نافقت کے بلاگ کی صورت میں بکھر گئی

      سٹیٹس کو اور ون پرسنٹ جو اس ملک کا خون پیراسائیٹ بن کر چوس رھے ان کے کردار کی ھلکی سی جھلک

  • افتخار اجمل بھوپال

    موجودہ وزرِاعظم پاکستان محمد نواز شریف 25 دسمبر 1949ء کو لاہور میں پیدا ہوا ۔ گورنمنٹ کالج (اب یونیورسٹی) لاہور سے گریجوئیشن کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا ۔ اس کے بعد خاندان کے کاروبار میں شامل ہو گیا ۔ متعدد کمپنیوں کا ڈائریکٹر اور منیجنگ ڈائریکٹر رہا ۔ ایک تعلیمی ادارہ ”اتفاق اسلامک اکیڈمی“ کے نام سے بنایا جس کا سربراہ طاہرالقادری کو بنایا ۔ اتفاق ہسپتال کی بنیاد رکھی ۔ اسی دوران سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور پنجاب کی صوبائی کونسل کا رُکن رہا ۔ 1981 میں صوبہ پنجاب کی کابینہ کا رُکن بنا اور وزیرِ مالیات کے فرائض انجام دیئے ۔ 1985ء کے انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی کا رُکن منتخب ہوا ۔ 9 اپریل 1985ء سے یکم دسمبر 1988ء تک پنجاب کا نگران وزیرِاعلٰی رہا ۔ 2 دسمبر 1988ء سے 16 اگست 1990ء تک پنجاب کا بااختیار وزیرِاعلٰی رہا ۔ 6 نومبر 1990ء کو پہلی بار پاکستان کا وزیرِاعظم بنا
    آپ نے صرف انٹرنیٹ پر ہی تھوڑی سی جُستجُو کی ہوتی تو بہت معلومات حاصل ہو جاتیں اور آپ زہرآلودہ جھوٹ نہ لکھتیں

  • زعف

    محترم اجمل صاحب، آپکی طرح میری معلومات کا انحصار ویکیپیڈیا اور انٹرنیٹ پر نہیں ہے۔ آپکی جنریشن کا پرابلم یہ ہے کہ حقائق سننے کو تیار نہیں۔ میری جنریشن آپکے نقشِ قدم پر چلنے کو تیار نہیں جس میں صرف منافقت بھری ہوئی ہے۔ اگر وسائل ہیں تو گورنمنٹ کالج لاہور کا ریکارڈ چیک کروا لیں۔
    ایک مخلصانہ مشورہ ہے کہ انٹرنیٹ پر لکھے مضامین سے معلومات نہ اٹھایا کریں، صرف شرمندگی ہوگی۔ حقائق کیونکہ سچ ہوتے ہیں اسلیئے تلخ ہوتے ہیں۔
    آپ مجھے ثابت کردیں کہ یہ تمام ملیں اور فیکٹریاں جن کا میں نے ذکر کیا، انکے اقتدار میں آنے سے پہلے کی تھیں تو میں سب کے سامنے آپ سے معافی مانگ لونگی۔
    آپکی جنریشن نے ہمیں سوائے تباہی ، شرمندگی اور بربادی کے کچھ نہیں دیا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ے کہ میری جنریشن آپکی legacy کو لے کر چلنے سے انکار کرتی ہے کیونکہ اس میں عزتِ نفس کو بالائے طاق رکھ کر صرف غلامی کرنا پڑتی ہے۔ میرا ضمیر، میرا شعور اور میری عزتِ نفس مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دیتی۔
    آپ کے لکھے گئے بلاگ اور یہاں آپکے تحریر کردہ الفاظ صاف ظاہر کرہے ہیں کہ آپ فرسٹریٹ ہو رہے ہیں۔ میری لکھی تمام باتیں ریکارڈ میں موجود ہیں۔ آپ سے صرف ٹیکس ریٹرن مانگے تھے۔ اگر وہ دے سکیں تو بات ہو سکتی ہے ورنہ مجھے وقت ضائع کرنے کا شوق نہیں کیونکہ میری معلومات انٹرنیٹ سے اٹھائی ہوئی نہیں ہوتیں۔
    شکریہ۔

  • افتخار اجمل بھوپال

    بی بی ۔ آپ بہت ارفع و ارلٰی ہیں اور جو آپ باتوں سے متفق نہ ہو وہ صرف جھوٹا ہی نہیں منافق بھی ہے ۔ بہت خوب ۔ میرا کام صرف آپ کوتھوڑی سی روشنی دکھانے کا تھا سو میں نے کر دیا ۔ آپ میرے متعلق الف بھی نہیں جانتیں اور مجھے چھوٹتے ہی منافق کا خطاب دے دیا تھا ۔ جھوٹا اور منافق تو وہ ہوتا ہے جو ایک بات سُنے اور بغیر تصدیق کے آگے بیان کر دے
    دوسری بات یہ ہے کہ آپ بقول آپ کے 1991ء میں پیدا ہوئیں تو آپ کم از کم 2003ء میں کچھ سوچنے کے قابل ہوئی ہوں گی اور وہ سکول تک ۔ تو کیا اُن واقعات کی آپ چشم دید گواہ ہیں جنہیں آپ بڑے وثوق کے ساتھ بیان کر رہی ہیں اور نہ ماننے والے کو منافق قرار دیتی ہیں ؟
    آپ کو کوئی معجزہ ہی راہِ راست پر لا سکتا ہے ۔ میں مزید کوشش سے باز آیا

  • زعف

    اجمل صاحب، بصدِ احترام میں نے آپکو نہیں نواز شریف کے تمام سپورٹرز کو منافق کہا ہے۔ فوج کے تلوے چاٹ کر GHQ کے گملوں میں اگے یہ لیڈر جب جمہوریت کے چیمپئین بنیں تو میں انہیں منافق نہ کہوں تو کیا کہوں؟
    آپ میرے بارے میں کیا جانتے ہیں جو میری معلومات پر معترض ہیں؟ عام لوگ شریفوں کی ریاکاری اور عیاری کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اسلئے میں انکی حقیقت بیان کررہی ہوں اور آپ جیسے سینئیر سیٹیزن انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    اب وہ زمانہ چلا گیا۔ آپ لوگ دربار کے تابعدار پیادے ہیں لیکن ہم لوگ اس ملک کا مستقبل ہیں اور یقین کیجئے کہ ہم منافقت ہرگز نہیں کریں گے۔ اگر کچھ نہ کر سکے تو درباری پھر بھی نہ بنیں گے۔
    اطلاع کیلئے عرض ہے کہ حقائق جاننے کیلئے اس دور میں موجود ہونا کوئی ضروری نہیں ہوتا۔ اور یہ تاریخی حقائق تو بس بیس تیس سال پرانے ہی ہیں۔
    آپکا تلخ انداز بتا رہا ہے کہ آپکا کیس کمزور ہے۔ غلط کا ساتھ دینے والا بھی گناہگار ہوتا ہے۔ ہمارے لیئے کچھ اچھا تو نہ کر سکی آپکی جنریشن کم سے کم ہمیں غلط کو صحیح کہنے کی ترغیب نہ دیں نا ورنہ ہمیں تو چھوڑیں جس زمین کا آپ نے نمک کھایا ہے وہی آپکو معاف نہیں کریگی۔ جب حساب اوپر ہو گا تو ویکیپیڈیا نہیں بچائے گا اس لیئے اپنی آخرت سنوار لیجئے اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔ شکریہ۔

  • imran

    Excellent Blog

    Sach Sach hi hota hai aur sach likhnay wala mahsoos hoo jata hai

    Hats off

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: