ایسی دنیا ہے تو یا رب یہ دنیا کیوں ہے

ایسی دنیا ہے تو یا رب یہ دنیا کیوں ہے۔۔۔

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے۔۔۔ یہ عبرت کی جاہ ہے تماشہ نہیں ہے۔۔۔

دنیا میں تم آئے ہو تو جینا ہی پڑے گا۔۔۔

یا رب۔۔۔

میں تیری اس دنیا سے گھبرا گیا ہوں۔۔۔ کیوں مجھے اس دنیا سے کچھ بھی نہیں بھاتا۔۔۔ میں اکتا گیا ہوں میرے مالک۔۔۔ زندہ لاش کی طرح۔۔۔ ایسی مشکل دنیا۔۔۔ کیوں یا رب۔۔۔ یہ دنیا اتنی مشکل کیوں بنائی۔۔۔

اے میرے مولا۔۔۔ میرا جینا محال ہوچکا ہے۔۔۔ اتنی بےحسی کے دور میں بےحس بن کر رہنا میرے لیے بہت مشکل ہو چکا ہے۔۔۔ یا ربِ تعالیٰ کچھ آسانیاں پیدا فرما۔۔۔ یوں تو تُو آہستہ آہستہ ہر اچھی شے اس دنیا سے اُٹھاتا جا رہا ہے۔۔۔ ہر وہ شے جو مجھے بھاتی تھی۔۔۔ میری نظر سے اوجھل ہوچکی ہے۔۔۔ کیا میری روح کی بینائی بھی تُو نے واپس چھین لی۔۔۔!!!

اے میرے رب۔۔۔ یہ کیسی سزا تو دے رہا ہے مجھے۔۔۔ نا دنیا عزیز نا آخرت کی فکر۔۔۔ نا زندگی میں لطف۔۔۔ نا موت کے آرام کی فکر۔۔۔ یہ کیسی سزا ہے میرے مالک۔۔۔

میں نے تو خبریں پڑھنا بھی بند کر دیا ہے۔۔۔ جس میں بچوں کی تذلیل اور ان کے ساتھ تشدد کی اخبار ہوتی ہیں۔۔۔ میں تو وہ ویڈیو بھی نہیں دیکھتا جس میں معصوم لوگوں کے اجتماعی قتل کی عکس بندی ہوتی ہے۔۔۔ میں توان بوڑھوں کے احوال بھی نہیں سنتا جن کی سننے والا اب کوئی نہیں۔۔۔ سوائے تیرے میرے مولا۔۔۔ سوائے تیرے۔۔۔ پھر کیوں۔۔۔!!!

یہ کیا دنیا ہے میرے مالک۔۔۔ جن کو تو نے اس دنیا میں بھیجا۔۔۔ ان کو واپس تیری طرف بھیجنے والے کیوں پیدا کیے۔۔۔ کیوں ان کے دل پتھر کے بنائے۔۔۔ کیوں ان کے دل میں رحم نا ڈالا۔۔۔

اے میرے اللہ۔۔۔ دین کے نام پر تشددوقتل کی اجازت تو نے کب دی۔۔۔ میں تو سمجھتا تھا کہ تو نے دین کو امن بنایا سب کے لیے۔۔۔ لیکن یہاں تو اس دین اور تیرے نام پر تیرے بندے متشدد اور قاتل بنے پھرتے ہیں۔۔۔ یہ کیسی دنیا ہے مالک۔۔۔!!! یہ کیسے لوگ ہیں مالک۔۔۔!!!

اے میرے رب۔۔۔ مجھے نہیں رہنا ایسی دنیا میں۔۔۔ جہاں مجھ جیسے کو بھی اپنی سانسں کا مقصد سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ جہاں میں ہر سو استحصال دیکھتا ہوں۔۔۔ جہاں محبت کے نام دھوکہ دہی ہے۔۔۔ جہاں صرف نفسا نفسی ہے۔۔۔ پیسہ خدا ہے تو تُو کون ہے میرے رب۔۔۔ تو نے کیسے اجازت دے دی ہمیں پیسے کو پوجنے کی۔۔۔ پیسے کے نام پر رشتے خراب کرنے کی۔۔۔ کیوں اجازت دی تو نے۔۔۔!!! جواب دے مالک۔۔۔!!! کیا یہی دنیا تھی جو تو نے اشرف المخلوقات کے لیے چنی تھی۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں۔۔۔ تو پھر دنیا کو ایسا بننے کیوں دیا۔۔۔!!! کب تک تو طرح طرح سے ہمارا امتحان لیتا رہے گا۔۔۔!!! ہم ہار گئے مولا۔۔۔ ہم تجھ سے ہار گئے۔۔۔ بس کر۔۔۔ بس کردے۔۔۔ ہم تیرے امتحان کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔۔۔

میں تھک گیا ہوں یہ سب دیکھتے دیکھتے یا رب۔۔۔ میرا دل ہر لمحہ کٹتا ہے۔۔۔ ہر لمحہ خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔ کسی اور کے لیے نہیں۔۔۔ خود کے لیے۔۔۔ خود کی حالت پر۔۔۔

یہ دنیا ہم سے واپس لے لے مولا۔۔۔ ہم اس کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔۔۔

Advertisements

About عمران اقبال

میں آدمی عام سا۔۔۔ اک قصہ نا تمام سا۔۔۔ نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔ نہ بات میں کمال سا۔۔۔ ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔ اداسیوں کی شام سا۔۔۔ جیسے اک راز سا۔۔۔ خود سے بے نیاز سا۔۔۔ نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔ نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔ رانجھا، نا قیس ہوں انشا، نا فیض ہوں۔۔۔ میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔ وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔ میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔ اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔ میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔ یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔ عمران اقبال کی تمام پوسٹیں دیکھیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: