Category Archives: ارض عالی شان

میاں صاحب کی ڈائری

shrek

8 جون 2015

آج کا دن بھی سستی اور کاہلی میں گزرا۔۔۔ روز مرہ کی یہی روٹین بن چکی ہے۔۔۔ اماوس کی رات ڈھلتی نظر نہیں آتی۔۔۔ اور ڈھلے بھی کیسے، عوام کو یہ ثابت کر کے دکھانا ضروری ہے کہ ان کی کرتوتوں کا کرم انہیں صرف آخرت میں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہماری حکومت میں بھی ملے گا۔۔۔ لیکن عوام  بھی میری طرح "چُنی کاکی” ہی نکلی، وہ بھی سبق نہیں سیکھتی۔۔۔

آج حسب ِ معمول صبح سو کر اٹھا، شرٹ اتارنے ہی لگا تھا کہ سوچا، چلو رہنے دو۔۔۔ یہ جسم کسی کو دکھانے لائق تھوڑا ہے۔۔۔ دوڑ تو دور کی بات، میرے لیے تو اب دو قدم چلنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔۔۔ یاد  آیا کہ اعوان روڈ کی ایک گلی میں بنی نئی نالی کے افتتاح کے لیے مدعو ہوں۔۔۔ عوامی خدمت ہو اور میری تصاویر اخباروں میں شائع نا ہوں، یہ ہو نہیں سکتا۔۔۔  تو بادل ناخواستہ  اپاونٹمنٹ لینے کیمرہ مین کے کوارٹر کی طرف جانا پڑا۔۔۔ سانس تک پھول گئی، پسینے سے شرابور۔۔۔ افف گرمی۔۔۔  کوارٹر تک پہنچا ہی تھا کہ اندر سے عطااللہ عیسی خیلوی کے گانے کی آواز آئی۔۔۔ "جب آئے گا عمران۔۔۔ سب کی شان۔۔۔ بنے گا نیا پاکستان”۔۔۔ یہ سنتے ہیں میرے پسینے مزید چھوٹ گئے۔۔۔ غصے سے حالت پتلی ہو گئی۔۔۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو کیمرہ مین کا بیٹا لال اور سبز شرٹ میں ملبوس باہر نکلا۔۔۔ اس کا گریبان پکڑ کر اس سے اس کے باپ کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت تو گلگت بلتستان چلے گئے ، کسی "ارجنٹ” کام سے۔۔۔

بوجھل قدموں سے واپس پہنچا تو کلثوم اور مریم ناشتے کے میز پر میرا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔ میری نظر مریم کے پہلو میں صفدر کو ڈھونڈتی رہی۔۔۔ پھر خود ہی خاموش رہا کہ اب بیٹی کے سامنے کیا گالیاں دوں داماد کو۔۔۔ جب بیٹی راضی تو کیا کرے گا ابا جی۔۔۔

ٹی وی آن کیا تو  80 انچ کے ایل ای ڈی پر مریم اپنے پسندیدہ کارٹون "Shrek” دیکھ رہی تھی۔۔۔ پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ Shrek اچانک سبز سے دودھیا سفید کیسا ہو گیا۔۔۔ اور  کیا فیونا پر چھایا سحر ٹوٹ گیا ۔۔۔ اچانک مریم گویا ہوئی کہ پاپا آپ کی شادی پر تو آپ بہت ہینڈسم لگ رہے تھے۔۔۔ احساس ہوا کہ کارٹون shrek نہیں۔۔۔ میں خود ہوں۔۔۔ خود میں ہی شرمندہ ہوکر رہ گیا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں چھوٹا بھی اپنے ننھے کے ساتھ ناشتہ کرنے پہنچ گیا۔۔۔  جانے کیوں چھوٹے کی اینڈکس انگلی بھی ہمیشہ کھڑی اور ہلتی ہی رہتی ہے۔۔۔  بے چارہ غریب چاہ کر بھی اپنی انگلی کنٹرول میں نہیں رکھ پاتا۔۔۔ خیر،  کلثوم نے ننھے کو بِب باندھی اور نہاری  اس کے آگے رکھ دی۔۔۔ چھوٹا جو کُن اکھیوں سے نہاری کو دیکھ رہا تھا اس نے اچک کر نہاری کا ڈونگا ننھے کے سامنے سے اٹھا لیا اور اپنا منہ شریف پورے کا پورا ڈونگے میں ڈال دیا۔۔۔ افف، کب سلجھیں گے یہ لوگ۔۔۔ پیسہ آ گیا لیکن رہے لوہار کے لوہار۔۔۔ اندر سے ایک آواز آئی کہ میں خود بھی تو لوہار ہوں۔۔۔ اور میں پھر سے خود میں ہی شرمندہ ہو کر رہ گیا۔۔۔

ابھی ناشتے سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے، سوچا کہ آج کلثوم سے رومانس کیا جائے گا۔۔۔ ویسے بھی نہ کوئی کام ہے کرنے کو اور اگر ہو بھی تو کہاں کچھ کرنے کا جی چاہتا ہے۔۔۔ خیر۔۔۔ بات ہو رہی تھی کلثوم کی۔۔۔ اہ سوری۔۔۔ رومانس کی۔۔۔ تو رومانس سے یاد آیا کہ طاہرہ سید بھی کیا غضب کا گایا کرتی تھی۔۔۔ اوہ سوری۔۔۔ بات ہو رہی تھی رومانس کی۔۔۔ تو کلثوم کے ساتھ کچھ وقت تنہا گزارنا چاہتاتھا ۔۔۔ کچھ اپنی کہنا چاہتا تھا ۔۔۔ کچھ اس کی سننا چاہتا تھا۔۔۔ کلثوم تو رہی سدا کی اللہ لوک۔۔۔ جو کہنا تھا مجھے ہی کہنا تھا۔۔۔ اللہ بھلا کرے مینا ناز کا، جس کے کتابیں پڑھ کر کچھ رومانٹک باتوں کی پرچی بنا لی تھی۔۔۔  جیب میں ہاتھ ڈالا کہ پرچی نکال سکوں اور کلثوم سے بات کر سکوں۔۔۔ تو یاد آیا کہ پرچی تو کل کی پہنی شلوار کی جیب میں تھی۔۔۔ اور شلوار، لانڈری میں۔۔۔  اب کیا کریں۔۔۔ خاموشی پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔۔۔ لمبی خاموشی۔۔۔ نہ اللہ لوک کچھ بولی۔۔۔ اور میرے پاس تو کچھ کہنے کو تھا ہی نہیں۔۔۔

اسی اثنا میں عطاالحق قاسمی صاب کا فون آ گیا۔۔۔ وہ جنگ کے دفتر سے بول رہے تھے۔۔۔ ان کی ڈیمانڈ تھی کہ بول جلد از جلد بند کیا جائے۔۔۔ میں نے چھوٹے سے مشورہ کیا۔۔۔ کہ کیا کریں۔۔۔ چھوٹا بولا۔۔۔ بھائی جان، شرط یہ رکھیں کہ جنگ والے سب مل کر کپتان کو گندا کریں۔۔۔ تو ہم بھی بول کو بند کرنے کا سوچیں گے۔۔۔  عطاءالحق قاسمی صاب ٹھرے "شریف” آدمی۔۔۔ ان کو پٹانا کیا مشکل۔۔۔ بس ایک بنک ٹرانسفر۔۔۔ اور پھر ہم جو چاہیں گے قاسمی صاب وہی کریں گے۔۔۔ دیکھا۔۔۔ ہمارے جیسا ہوتا ہے لیڈر۔۔۔ اور ایسا ہوتا ہے ہمارا ویژن۔۔۔

گلگت بلتستان اور منڈی بہاوالدین میں پولنگ شروع ہو چکی ہے۔۔۔ ہمارے آدمی جیت کا  سب بندوبست کر چکے ہیں۔۔۔ بس ہمیں انتظار ہے عرفان صدیقی کا ۔۔۔ کہ کب وہ آئے اور ہماری وکٹری سپیچ لکھے۔۔۔ عجیب ہی خلقت ہیں عرفان صاب بھی۔۔۔ انہوں نے آتے آتے بھی بارہ بجا دیے۔۔۔ اور یہاں انتظا ر کی کوفت سے ہم "ہلکے” ہو جا رہے تھے۔۔۔ یہ بھی کیا بات ہوئی کہ وزیر اعظم پاکستان، ایک سپیچ رائٹر کا انتظار کریں۔۔۔ کاش ابا جی نے بچپن میں ہی میری پٹائی کی ہوتی تو میں کچھ لکھ پڑھ جاتا۔۔۔ اور بولنے سے پہلے نوٹس کا انتظار تو نا کرنا پڑتا۔۔۔

اس کے بعد قیلولہ کیا ۔۔۔  اور شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خدمت ، محنت اور گڈ گورننس پر تقریر کی خوب مشق کی۔۔۔ یہ تقریر میں نے آج اعوان ٹاون میں کرنی تھی۔۔۔ مشق کے بعد چھوٹے سے پوچھا کہ کہ کیسی لگی تقریر۔۔۔ تو چھوٹے نے کہا کہ میں تو اپنی انگلی قابو کرنے کے مصروف تھا۔۔۔ اب ایک ہی بات کتنی بار سنوں۔۔۔ میں آپ کا بھائی ہوں، پٹواری غلام نہیں کہ جو آپ کہیں اس کو پکڑ کر منہ متھا کھول دوں سب کا۔۔۔ چھوٹے کی صاف گوئی مجھے پانی پانی کر گئی لیکن پھر ننھے کو اپنی طرف گھورتا دیکھ کر خاموش  رہنا ہی بہتر سمجھا۔۔۔

افتتاحِ نالی و گٹر ، اعوان ٹاون ۔۔۔ روانہ ہوا تو راستے سے ایک نیا کیمرہ مین پکڑ لیا۔۔۔ اور اسے ہدایت دی کہ کیمرہ صرف میرے اور چھوٹے پر فوکس ہونا چاہیے۔۔۔ چھوٹا تا اتنا جذباتی ثابت ہوا ہے کہ لانگ شوز بھی ساتھ لےآیا۔۔۔ ارادہ تھا کہ لانگ شوز پہن کر گٹر میں اتر کر تصویر کھینچوائے گا جو کل کے اخبار میں لگے گی۔۔۔ اب چھوٹے کے سامنے میری کہاں چلتی ہے۔۔۔ جوچاہے کرے۔۔۔

میرا ٹویٹر اور فیس بک سے کیا لینا دینا۔۔۔ مریم نے سوشل میڈیا غلاموں کی ایک بھاری فوج بنا رکھی ہے۔۔۔ جو سارا دن میرے لیے مخالفین کو ذلیل کرتے ہیں۔۔۔ مریم کی سب سے اچھی خوبی ہے کہ "مین مینجمنٹ” میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔۔۔ اس نے بتایا تھا مجھے کہ ہر بندے کو ٹیم میں بھرتی کرنے سے پہلے اس کی نفسیاتی ٹریننگ کی جاتی ہے، جس میں انہیں یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ ان سے اچھا کوئی نہیں سوائے ہمارے۔۔ ان سے  زیادہ پڑھا لکھا اور کوئی نہیں سوائے ہمارے۔۔۔ ان سے اچھی اردو کوئی اور نہیں بول سکتا سوائے ہمارے۔۔۔ غرض یہ کہ ان میں ایک خاص قسم کی احساسِ برتری کوٹ کوٹ کر بھری جاتی ہے۔۔۔ اور جب یہ بندے ٹویٹر پر بیٹھ کر میرا دفا ع کرتے ہیں۔۔۔ تو مجھے  فخر ہوتا ہے کہ مریم نے کیا ہجڑوں کی فوج بنائی ہے جو ہمارے لیے اپنے ماں باپ کی عزت بھی بھول جاتے ہیں۔۔۔ واہ مریم واہ۔۔۔ تمہارے پاپا کو تم پر فخر ہے۔۔۔

 

_nSEWA2E (1)

اتنی مصروفیت کے بعد تھکاوٹ ہو گئی۔۔۔ تو سوچا آج جلدی سو جاوں۔۔۔ سونے کے لیے لیٹا تو خیال آیا کہ کافی عرصہ ہو گیاڈائری لکھے۔۔۔ لکھنے بیٹھا تو کچھ نا لکھ پایا۔۔۔ مجبورا عرفان صدیقی صاحب کو بلا کر ڈائری مکمل کی۔۔۔

 آج کا دن بھی سستی اور کاہلی میں گزرا۔۔۔ روز مرہ کی یہی روٹین بن چکی ہے۔۔۔ اماوس کی رات ڈھلتی نظر نہیں آتی۔۔۔ اور ڈھلے بھی کیسے، عوام کو یہ ثابت کر کے دکھانا ضروری ہے کہ ان کی کرتوتوں کا کرم انہیں صرف آخرت میں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ ہماری حکومت میں بھی ملے گا۔۔۔

شب بخیر۔

Advertisements

کوئی شرم حیا ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے – حصہ دوم

مصنف: ZAF / مانوبلی

پہلاحصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

کافی دن سے چند موضوعات سوچوں کا محور بنے ہوئے تھے۔ وقت اور دھیان نہ ہونے کے سبب انہیں تحریری شکل نہیں دے پا رہی تھی۔ ان موضوعات میں سرِ فہرست بینظیر کے خلاف قومی اسمبلی میں لائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کی سازش جو ‘آپریشن مڈنائٹ جیکال’ کے نام سے مشہور ہوئی اور سیاست میں ‘چھانگا مانگا سیاست’ جیسی اصطلاحات جس کے موجد شریف برادران ہیں، کی تفصیلات تھیں لیکن آج تحریکِ انصاف کے ایک رکن اسمبلی رائے حسن نواز کو اثاثے چھپانے کی پاداش میں تاحیات پابندی کی سزا سنائی گئی تو انصاف کے اس ننگے کھیل نے مجھے میرا موضوع بدلنے پر مجبور کردیا۔ 

گورنمنٹ کالج لاہور سے تھرڈ ڈویژن میں گریجویشن کرنے کے بعد اور کئی پیشوں میں ناکامی کے بعد جب نواز شریف قبلہ سن ۸۱ میں ضیاالحق کی مہربانی اور ابا جی کی ڈپلومیسی کے بل بوتے پر پنجاب کے وزیرِ خزانہ بنے تو پاکستان کا وہ آئین معطل تھا جس کی دہائیاں دے دے یہ اور ان کے حواری خود کو جمہوری ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ 

وزیرِ خزانہ کے خاندان کے اس وقت کے اثاثہ جات اور آمدنی محض چند لاکھ روپے تھے اور یہ ایک رولنگ مل کے مالک تھے۔ یہاں سے انکی ترقی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ نواز شریف کی ڈوریاں انکے شاطر دماغ ابا جی ہی ہلاتے تھے۔

اقتدار کے ایوانوں تک انکی رسائی ہوتے ہی اتفاق فاؤنڈری اتفاق گروپ آف کمپنیز بنتی چلی گئی اور یہ نام نہاد جدّی پشتی رئیس ملکی خزانے کو لوٹنے کی تاریخ رقم کرتے گئے۔ ۸۵ کے ڈھونگی انتخابات میں نواز شریف جیسے کئی سیاسی یتیم لوگ اسمبلیوں میں پہنچے تھے۔ نواز شریف کیونکہ فوجیوں کے نہایت تابعدار تھے اسلئے قرعہ فال انکے نام نکلا اور یہ اس وفاداری کے عوض وزیرِاعلی پنجاب لگا دیا گیا۔ انکے اثاثے کب کب رجسٹر ہوئے یہ سب ریکارڈ پر ہے۔

1982 میں اتفاق شوگر مل، 1983 میں برادرز سٹیل، 1985 میں فاروق برکت پرائیویٹ لمیٹڈ، 1986 میں برادرز ٹیکسٹائل اور برادرز شوگر مل،1987 میں  اتفاق ٹیکسٹائل یونٹس اور رمضان بخش ٹیکسٹائلز، 1988 میں خالد سراج ٹیکسٹائل وغیرہ۔ 

یہ تمام اثاثے حکومت سے قرضے حاصل کرکے بنائے گئے جنہیں بعد میں ضیاالحق سے معاف کروا لیا گیا۔

بینظیر کے پہلے دور میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جب معاف کیئے گئے قرضوں کی تفصیلات کھنگالیں تو گجرات کے چوہدری بائیس  اور نواز شریف کا خاندان کا اکیس بلین روپے کا دہندہ تھا جسے ضیاالحق معاف کر چکا تھا۔ اس بات کی تصدیق کیلئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ۱۹۸۹ کا ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے۔ 

ضیاالحق کے مرنے تک شریفوں کی کل سالانہ آمدنی تین ملین ڈالر ہو چکی تھی لیکن ٹیکس دینے کا کہیں کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ 

اسی کی دہائی کے اختتام تک یہ آمدنی چھ بلین روپے سے زائد ہو چکی تھی۔ انکے اپنے بیان کے حساب سے بھی یہ آمدنی ۳۵۰ ملین ڈالر تھی اور ٹیکس زیرو۔ 

یہ اثاثے اور آمدنی صرف وزیرِ اعلی بننے تک کے ہیں ۔ قومی خزانے میں  جو ڈاکے نواز شریف نے وزیرِاعظم بننے کے بعد مارے انکی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسلم کمرشل بینک کی پرائیویٹائزیشن اور میاں منشا کے ساتھ مل کر لوٹ مار صرف ایک ایسا کیس ہے جسے سن کر ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جانا چاہیئے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیرِاعظم بننے کے بعد یہ ملکی اور کسٹم قوانین کو اپنی سہولت کے حساب سےجب جی چاہتا بدل دیتے. 

مثال کے طور پر اپنی کرپشن اور احتساب سے بچنے کیلئے احتساب ایکٹ میں ترمیم کرکے اسے 1985 کی بجائے 1990 سے نافذالعمل کیا تاکہ پنجاب میں کرپشن کا جو بازار انہوں نے گرم کیا اس پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔ 

یہ سب documented facts ہیں اور کوئی بھی چیز میری ذہنی اختراع نہیں ہے۔ وزارتِ عظمی کی کرپشن اگلی دفعہ لکھوں گی لیکن پڑھنے والے خود فیصلہ کریں کہ تاحیات پابندی اگر رائے نواز پر اثاثے ظاہر نہ کرنے پر لگائی گئی ہے تو ملک لوٹنے والوں کے پاس اسکا اخلاقی اور قانونی جواز ہے؟ انصاف سب کیلئے مساوی کیوں نہیں ہے؟

 برادری ووٹ پر پلنے والی ان جونکوں سے پاکستان کو نجات تب ملے گی جب ہم ان سے سوالات کرنا شروع کرینگے ورنہ ہم انکے اور ہماری اولاد انکی اولادوں کی غلامی ہی کرتے مر جائینگے اور خاکمِ بدہن نجانے یہ ملک بھی بچے گا یا نہیں۔ 


کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے

 

کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے…
 
مجھے لکھنا نہیں آتا، نہ ہی میٹھے میٹھے الفاظ میں لپیٹ کر بغض نکالنا آتا ہے۔ بلاگز لکھنے کا ہرگز کوئی شوق یا ارادہ نہیں لیکن مجھے تاریخ پڑھنے کا جنون ہے۔ پاکستانی سیاست کی رولر کوسٹر تاریخ پر ہر طرح کی کتابیں اور تجزیئے زیرِ مطالعہ رہی ہیں۔ کس چیز کے تانے بانے کہاں جا کر ملتے ہیں اور اسکے محرکات کیا ہیں، سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہوتا بشرطیکہ آپ کو تاریخ کا صحیح علم ہو۔ 

 

پسندیدہ تاریخ پڑھنا اور اسی کو دلائل کیلئے استعمال کرنا ہمارے ملک میں درباری کلچر کو فروغ دینے میں خاصہ مددگار ثابت ہوا ہے۔ میں سیاسی غیر جانبداری کا دعوی تو نہیں کرتی لیکن اتنا دعوی ضرور کرتی ہوں کہ جو تاریخی حقائق بیان کرونگی من و عن کرونگی اور اس سے میری کسی سیاسی وابستگی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں


لانگ مارچ کیوں۔۔۔؟

سوال: جب حکومت خان صاحب کے مطالبات مان رہی ہے تو خان صاحب لانگ مارچ کیوں کررہے ہیں۔۔۔

جواب: خان صاحب پچھلے ڈیڑھ سال سے حکومت سے مطالبات کر رہے ہیں کہ حلقے کھولے جائیں۔۔۔ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں۔۔۔ یہاں تک کہ خان صاحب جب سپریم کورٹ گئے تو افتخار چوہدری صاحب نے کیس سننے سے انکار کر دیا کہ وہ بہت مصروف ہیں۔۔۔اور ان کی اعلیٰ عدالت میں بیس ہزار سے کیس اپنی "پینڈنگ” ہیں۔۔۔ ( یہ الگ بات ہے کہ چیف جسٹس ایویں کے "سوموٹو” لینے کے لیے مشہور ہیں اور یہ بھی الگ بات ہے کہ ان "سوموٹو کیسز” کا نتیجہ شاید ہی کبھی نکلا ہوا)۔۔۔

اب جب ہر دروازہ کھٹکھٹا کر کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو آخری حل یہی تھا کہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے۔۔۔ جب حکومت کو نظر آیا کہ اب مشکل سے ہی جان چھوٹے گی تو خان صاحب کی منتیں ترلے شروع کر دئیے کہ اب ہم آپ کی بات مانیں گے، مذاکرات کر لیں۔۔۔ لیکن اب کی خان صاحب نے ان کی درخواستیں سننے سے انکار کیا اور عوام سے جو وعدہ کیا تھا اسے پوراکرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔

 

download

 

قابل ِ غور بات یہ ہے کہ خان صاحب بھی جانتے ہیں کہ "چار حلقوں کی تحقیقات ہو بھی جائیں اور نتائج ان کے حق میں نکل بھی آئیں تب بھی وہ پنجاب یا وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتے۔۔۔ ان کا مقصد بہت سادہ اور عام فہم ہے کہ ایسے قدم اٹھائے جائیں کہ اگلی بار ایسی دھاندلی نا ہو۔۔۔ ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے جو ایسی تاریخی دھاندلی میں ملوث تھے۔۔۔

پاکستانی عوام اس بات کی بھی گواہ ہے کہ خان صاحب نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کو اہم قرار دیا ہے۔۔۔ لیکن ڈیڑھ سال تک ان کے ہر درخواست، ہر مطالبے کا مذاق اُڑایا گیا۔۔۔ یہاں تک کے آپریشن ضرب عضب کے لیے بھی اُن سے مشاورت نہیں کی گئی۔۔۔جبکہ سب جانتے تھے کہ آپریشن کے بعد آئی ڈی پیز کا رُخ خیبر پختونواہ ہو گا۔۔۔ اور کے پی کے کی حکومت کو انہیں سنبھالنا ہو گا۔۔۔ پھر پنجاب اور سندھ نے تو اِ ن متاثرین کے لیے اپنے دروازے بند کر دئیے۔۔۔ یہاں تک کہ صرف پچاس کروڑ کی مدد کے اعلان کے باوجود رقم کے پی کے حکومت کے حوالے نہیں کی گئی۔۔۔ بلکہ وفاق کی طرف سے جن فنڈز کا وعدہ کے پی کے سے کیا گیا تھا ۔۔۔ انہیں بھی روک لیا گیا۔۔۔ اس سب کے بعد بھی پٹواری حضرت پوچھتے ہیں کہ عمران خان نے کے پی کے میں کیا کر لیا۔۔۔ تو میری درخواست اُ ن سب سے یہی ہے کہ براہ کرم، ہم سے مت پوچھیں۔۔۔ کے پی کے کا چکر لگا لیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔۔۔ کہ محدود وسائل کے باوجود، سسٹم میں بہترین تبدیلی کی جا رہی ہے۔۔۔ اور ہماری بات پر یقین نا آئے تو کسی خیبر پختونخواہ کے عقلمند سے پوچھ لیں۔۔۔ انشاءاللہ پٹواریوں کو اچھا جواب ملے گا۔۔۔

سیدھی بات ہے کہ اس وقت پاکستان میں جمہوریت نہیں، بادشاہت ہے۔۔۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت گلو بٹ اورپومی بٹ کلچر ہے، جس کے مائی بات یہی شریف خاندان ہے۔۔۔ جو اپنی فرعونیت میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں عوام سوائے کیڑے مکوڑوں کے کچھ نظر نہیں آتے۔۔۔ اتفاق فاونڈریز کے کاروبار کو چار چاند لگانے کے لیے حکومت نے ایسے منصوبے شروع کیے ، جس سے عنقریب تو عوام کو کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آتا۔۔۔

‘ مزید یہ کہ عمران خان اور اس کی حکومت خیبر پختونخواہ میں دودھ کی نہریں بھی بہا دیں۔۔۔ اگر یہی سسٹم جاری رہا۔۔۔ جو آج ہے۔۔۔ تو وہ کبھی بھی وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتا۔۔۔ کیونکہ دھاندلی ایسے ہی چلتی رہے گی۔۔۔ اور ہم پر زرداری اور شریف جیسے بدمعاش / کرپٹ مجرم مسلط رہیں گے۔۔۔

چلیں یہ بھی مان لیں۔۔۔ کہ عمران خان اپنی "ہڈ دھرمی” کے باعث جمہوری حکومت کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔۔۔ اوہ اور اس کی جماعت کسی "تیسری قوت” کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔۔۔ توکیا عوام بھی بے وقوف ہے ، جو اس کے ساتھ لمبا سفر طے کرتے لانگ مارچ میں شامل ہیں اور کیا وہ سب "ہزاروں / لاکھوں” لوگ بھی بے وقوف ہیں، جو پاکستان میں ایک اچھی تبدیلی کے لیے تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔۔۔

باقی فیصلہ آپ کے ہاتھ۔۔۔


مزارِ قائد اور جسم فروشی

"کاشی یار، کراچی آیا ہوں۔۔۔ تو قائدِ اعظم کے مزار پر ہی لے چل۔۔۔ سلام ہی کر آوں انہیں۔۔۔ "

سڑکوں پر مٹر گشتی کرتے ہوئے میں نے کاشی سے درخواست کی۔۔۔ اور کاشی نے گاڑی مزارِ قائد کی طرف موڑ لی۔۔۔  ایک گیٹ پر اندر داخل ہونے لگے تو ڈیوٹی پر کھڑے اہلکار نے کہا کہ آج داخلہ منع ہے کیونکہ کوئی سرکاری وفد مزار پر حاضری دے رہا ہے۔۔۔ سیکیورٹی کے پیش نظر کسی بھی "سیویلین” کا حاضری دینا آج ممکن نہیں۔۔۔

میں نے کاشی کو کہا ، یار چل ادھر ہی کھڑے ہو کر سلام کرلیتے ہیں۔۔۔ کاشی نے گاڑی تھوڑی آگے کر کے کھڑی کر دی۔۔۔   میں اور کاشی کسی بات پر مشغول تھے، کہ باہر سے ایک نقاب پوش خاتون گاڑی کی طرف آتی دکھائی دیں۔۔۔ میں نے حیرت سے کاشی سے پوچھا کہ یہ بی بی ہماری جانب کیوں آ رہی ہے۔۔۔ بھکارن تو نہیں لگ رہی۔۔۔ جوابا کاشی نے قہقہ لگایا کہ بھائی جان، یہ کاروباری خاتون ہے۔۔۔ جس لہجے میں اس نے بتایا، میں سمجھ گیا کہ "کاروبار” سے مراد کونسا کاروبار ہے۔۔۔

  اس اثنا میں خاتون نے گاڑی کے بند شیشے پر دستک دی۔۔۔ ناجانے میرے پسینے کیوں چھوٹ گئے۔۔۔ میں نے کاشی کو کہا کہ چل یار، یہاں سے نکلیں۔۔۔ کاشی بھی میری کیفیت دیکھ کر مزے لینے کے موڈ میں تھا۔۔۔ اس نے بھی گاڑی نہیں بڑھائی۔۔۔ بلکہ ہنستا رہا اور کہا، کہ چل اب بی بی سے نپٹ۔۔۔ نقاب پوش خاتون  نےدو تین دفعہ دستک دینے کے بعد شاید یہ  اندازہ لگا لیا کہ گاڑی میں بیٹھے یہ دونوں بندے بس ٹائم پاس کر رہے ہیں۔۔۔  وہاں سے ہٹ کر وہ قریب میں کھڑے رکشے کے پاس جا کھڑی ہوئی اور ہماری طرف اشارے کرتے رکشہ ڈرائیور کو کچھ بتانے لگی۔۔۔ میں جو پہلے حواس باختہ ہوئے بیٹھا تھا اور ڈر گیا کہ اب رکشہ ڈرائیور آ کر کہیں ہم سے پھڈا ہی نا شروع کر دے۔۔۔ کاشی  صورتحال سے بھرپور مزے لے رہا تھا۔۔۔

"یار تو دبئی سے آیا ہے۔۔۔ اور اتنی سے بات پر تیرے پسینے چھوٹ گئے۔۔۔”

خیر اللہ اللہ کر کے اس نے گاڑی دوڑا دی۔۔۔ میں نے کاشی سے پوچھا  کہ یار "مزارِ قائد” میں بھی یہ سب کام ہوتے ہیں۔۔۔ !!! تو کاشی نے بتانا  شروع کیا کہ” یہاں پورا نیٹ ورک ہے جرائم پیشہ افراد کا۔۔۔۔  "جسم فروشی” کا کام جتنامزارِ قائد کے اردگرد اور احاطوں میں ہوتا ہے، شاید ہی کراچی کے کسی اور علاقے میں ہوتا ہو۔۔۔  نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے بھی "ڈیٹنگ” کا سب سے محفوظ مقام  مزارِ قائد کے اردگرد بنے خوبصورت گارڈن اور پارک ہیں۔۔۔ جہاں کونوں کدروں میں بیٹھے جوڑے راز و نیاز اور وہ  وہ کام کرتے ہیں جو شاید بند کمروں میں کرتے ہوئے بھی شرم کا باعث بنیں۔۔۔”

میں نے پوچھا کہ یار کھلے عام ، ان لوگوں کو ہمت کیسے بڑھ جاتی ہے، کیا یہاں  ان کی کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوتی۔۔۔؟   کاشی جو ایک مشہور ٹی وی چینل میں کام کرتا ہے،  کہنے لگا کہ  سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔۔۔ یہ عورتیں جو یہاں کھڑی ہوتی ہیں، یہ تو  صرف ڈیل کروانے والی ہیں۔۔۔  ان کے ساتھ سودا طے ہو جائے تو یہ گاہگ کو کسی اور جگہ لے جا کر لڑکیاں مہیا کرتی ہیں۔۔۔  اردگرد کے لوگوں کو خاموش رہنے کا الگ پیسہ دیتی ہیں اور پولیس کو الگ۔۔۔ تو کون ان کو روکے۔۔۔

میں قائدِ اعظم  محمد علی جناح کی آخری آرامگاہ کے تقدس کو پامال ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ حیرت ، اورتاسف کے جذبات لیے چلتی گاڑی میں ہاتھ اٹھا کر اپنے قائد کے لیے فاتحہ پڑھی  اور کراچی گھومنے آگے نکل گیا۔۔۔


مری میں آمد – شنگریلا ریسورٹ

شنگریلا ریسورٹ ، مال روڈ مری سے تقریباً دس منٹ کی ڈرائیو پر ایک چھوٹا سا ہِل سٹیشن ہے۔۔۔   16 کمروں پر مشتمل  یہ ریسورٹ نہایت خوبصورت اور پرسکون ہے۔۔۔ چاروں طرف سبزہ   اور قدرتی حسن۔۔۔

میرے لیے یہ منظر یوں بھی بلکل نیا ہی تھا۔۔۔ میں نے ساری عمر مصنوعی ترقی اور خوبصورتی تشکیل ہوتے دیکھی ہے۔۔۔  دبئی کے بڑے بڑے شاپنگ مال اور عمارات مجھے کبھی بھی ایسے نہیں بھائے۔۔۔  اور گرمی نے تو ویسے بھی مت مارے رکھی ہے۔۔۔  یہاں کی ہر شے مجھے بے جان اور بےکیف محسوس ہوتی ہے۔۔۔  شاید روز روز ایسے مناظر دیکھ کر اب جذبات میں کوئی "ایکسائٹمنٹ” باقی نہیں رہی۔۔۔

تیس اکتوبر، رات 8 بجے شنگریلا ریسورٹ پہنچے۔۔۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔۔۔ سردی کافی ہو رہی تھی۔۔۔ اور کمروں کی قطار کے سامنے ، چوکیدار انگیٹھی لگائے ہاتھ سیک رہا تھا۔۔۔  کھانا وغیرہ کھا کر میں بیگم اور علیزہ کے ساتھ چہل قدمی کے لیے نکل کھڑا ہوا۔۔۔

 ماحول کا جادو تھا یا فراغت کا سکون، کہ آسمان پر جگمگاتے ان گنت ستاروں کی چمک اور انتہائی خاموشی  ایک عجب سا پرکیف لطف دے رہے تھے۔۔۔  میں باہر کرسی پر بیٹھ کر ان ستاروں کو تکنے لگا، جو مجھے ایک طویل عرصے بعد آسمان پر ایک ساتھ اتنی تعداد میں نظر آئے۔۔۔   کچھ پرانے گیت اور یادیں امڈ آئیں۔۔۔ اور  زیر لبِ "تاروں بھری رات، بھولے نا کبھی” گنگنانے لگا۔۔۔

درختوں کی اوٹ میں چھپا چاند – شنگریلا

خاموشی اور یادوں کا یہ تسلسل، علیزہ کی  آواز نے توڑا۔۔۔ "بابا ، بابا۔۔۔۔ اُدھر چلو نا”۔۔۔ علیزہ کا اشارہ ایک طرف اونچائی پر جاتے رستے کی جانب تھا۔۔۔   "بیٹا ، ابھی نہیں۔۔۔ ابھی بہت اندھیرا ہے۔۔۔ صبح چلیں گے”۔۔۔ علیزہ نے ضد پکڑ لی کہ ابھی جانا ہے۔۔۔ انہیں چوکیدار نے بتایا تھا کہ وہاں بچوں کے جھولے ہیں۔۔۔  خیر کسی نا کسی طرح اسے منایا کہ صبح ناشتہ کر کے اوپر چلیں گے۔۔۔

مجھے کرسی پر براجمان چھوڑ کر،  علیزہ کبھی پھولوں کے پاس اور کبھی جگہ جگہ بنے بینچوں پر کھیلنے لگی۔۔۔ بیگم اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔۔ وہ اسے پکڑ کر لاتی اور علیزہ ہاتھ چھڑا کر پھر آگے بھاگ جاتی اور ساتھ ساتھ قہقہے لگاتی ، بابا ۔۔۔ بابا پکارتی جاتی۔۔۔   اور میں علیزہ کی شرارتیں دیکھ کر  اللہ کا بڑا شکر ادا کر رہا تھا کہ اللہ تبارک تعالٰی نے مجھ گناہگار کو علیزہ کے روپ میں بہترین تحفہ عطا فرمایا۔۔۔ اللہ اس کے نصیب اچھے فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

ہم نے پروگرام بنایا کہ صبح ناشتے کے بعد مال روڈ چلیں گے۔۔۔ اور علیزہ بڑی مشکل سے منا کر کمرے میں لے آئے۔۔۔ وہ مزید کھیلنا چاہتی تھی اور میرا تھکاوٹ سے برا حال تھا۔۔۔ کمروں میں ہیٹر کی سہولت موجود تھی۔۔۔ اس لیے بڑا سکون رہا۔۔۔

میری آنکھ صبح چھ بجے کھلی۔۔۔ علیزہ اور بیگم اب بھی سو رہے تھے۔۔۔ میں نے اٹھ کر کھڑکی سے پردے سرکائے۔۔۔ باہر کا منظر میرے لیے حیران کن حد تک خوبصورت تھا۔۔۔ دور دور تک سبز پہاڑ  اور افق  پر کہیں سفید اور کہیں گہرے کالے بادل میرے لیے دلکشی کی انتہاء تھے۔۔۔ میں نے جیکٹ پہنی اور  کمرے سے باہر نکل آیا۔۔۔ سیدھا ریسٹورنٹ گیا، وہاں سے ایک کپ کافی کا پکڑا اور چہل قدمی کرتا، ایک پگڈنڈی کی طرف چل نکلا۔۔۔ دونوں طرف طویل قامت درخت  کی قطار،  پرندوں کی چہکنے کی آواز اور نیم گیلی سڑک جو پستی کی جانب مڑ رہی تھی۔۔۔ چلتا چلتا کافی دور چلا آیا۔۔۔ حُسن ِ منظر میں ایسا کھو چکا تھا کہ کتنا چلا، اس کا اندازہ نہیں۔۔۔ کہیں کہیں رک کر اپنے موبائل سے تصاویر بھی بناتا رہا۔۔۔  دل یوں چاہ رہا تھا کہ کاش یہ سفر کبھی ختم نا ہو۔۔۔ یہ وقت یہیں تھم جائے۔۔۔ اور میں ہمیشہ کے لیے یہیں بسر کر لوں۔۔۔

 

صبح کا منظر

افق کے خوبصورت رنگ

خوبصورت درخت اور آسمان کے مختلف رنگ

پستی کی جانب جاتی یہ سڑک

کمروں کے باہر کشادہ اور پرسکون جگہ

 

 

 


سفر نامہ / Suffer-nama

یوں تو بندہ (مراد بذات خود، یعنی میں یعنی عمران اقبال) ہر طرح کے سفر سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ اگر تین گھنٹے کی فلائیٹ گزار کر لاہور بھی جانا پڑے تو جان پر بن آتی ہے۔۔۔ آخر کیا کریں ان تین گھنٹوں میں۔۔۔ سوائے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے کروٹیں بدلنے کے۔۔۔ یا اپنے ہمسائے کی "ڈاکخانہ” ملانے کی کوشش اور پھر ان کے سفر کرنے کی ذاتی وجوہات سننے اور برداشت کرنے کے۔۔۔ آن فلائیٹ اینٹرٹینمنٹ بھی کچھ زیادہ اینٹرٹین نہیں کرتا۔۔۔ ایک دو کلک کے بعد بور ہو جاتا ہوں۔۔۔۔

میرا یار برھان منہاس جو امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔۔۔ اکثر ضد کرتا ہے کہ ویزہ لگواں اور امریکہ کا چکر لگا لوں۔۔۔ اور میں یہ سوچ کر ہی ویزہ کے لیے اپلائی نہیں کرپاتا کہ کون اٹھارہ گھنٹے جہاز میں بیٹھے۔۔۔ سفر سے میری بیزاریت کا عالم یہاں تک ہے کہ آئل اینڈ گیس کی ایک کانفرنس مئی میں ہیوسٹن میں منعقد ہو رہی ہے۔۔۔ اور میرا اس میں شرکت کرنا میرے کیرئیر کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔ میری کمپنی مجھے اور میری ایک کولیگ کو وہاں بھیجنے کا پروگرام بنا رہی ہے۔۔۔ مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے سوچنے کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔۔۔ اور ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پایا۔۔۔

واللہ، میں بھی عجیب بندہ ہوں۔۔۔ کہ نا تو سکون سے بیٹھا پاتا ہے۔۔۔ اور نا اپنی خاموش خلا میں کسی کی غیر ضروری مداخلت پسند کرتا ہے۔۔۔ سفر کے دوران وقت گزاری کے لیے کوئی کتاب پڑھنا تو بہتر محسوس ہوتا ہے۔۔۔ لیکن کسی اجنبی شخص سے "وقت گزاری” کرنا مجھے زرا بھی نہیں بھاتا۔۔۔ خیر۔۔۔ جیسے میں نے عرض کی کہ میں بڑا ہی عجیب بندہ ہوں۔۔۔ کوئی اور سمجھے تو سمجھے، میں تو خود کو زرہ برابر نہیں سمجھ پایا۔۔۔

اس مرتبہ سفر کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ اپنی گزری زندگی ایسے تجربے سے بلکل نافہم ہی رہی۔۔۔ اور وہ یہ تھی کہ بیگم صاحبہ اور صاحبزادی کے ہمراہ چھٹیاں گزاری جائیں۔۔۔ اور یہاں چھٹیوں سے مراد، ایک محدود مدت کے لیے آفس کی چخ چخ ، باقی دنیا سے کنارہ کشی ، کچھ پرانے اور نئے احباب سے ملاقات ہے۔۔۔ تو اپنی بارہ دن کی چھٹیوں کو ایسے پلان کیا کہ ڈسکہ، اپنے آبائی گاوں "بوبکانوالہ” ، گوجرانوالہ، لاہور، اسلام آباد، مری اور کراچی کی "سیاحت” کی جائے۔۔۔ اور ان بارہ دنوں میں جان، مال اور رشتے داروں سے عزت بچا کر واپس دبئی پہنچنا ہی شایدمیری کامیابی رہی۔۔۔

چیدہ چیدہ تجربے جن کے بارے میں لکھنے کا ارادہ ہے اور انشاءاللہ موقع ملا تو جلد ہی لکھ بھی دوں گا وہ یہ رہے۔۔۔

مری میں قیام اور تجربے
اسلام آباد میں انتہائی دلکش بلاگر دوست”بلاامتیاز” سے ملاقات۔۔۔
خانصپور میں ایک بزرگ "ٹورسٹ گائیڈ” سے ملاقات۔۔۔
کراچی میں دو دن کی روداد اور اپنے بہت عزیز دوست "وقار اعظم اور کاشف نصیر” سے ملاقات۔۔۔

(یہ سلسلہِ سفرنامہ امتیاز کی فرمائش پر لکھ رہا ہوں۔۔۔ ورنہ جو خوبصورت وقت گزرا، اس کے بارے لکھنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔۔۔ اب بس دعا کریں کہ سلسلہ پورا لکھ ہی دوں۔۔۔)


%d bloggers like this: