Category Archives: عشق الہی

گفتگو

میں:       حاضر ہوں جی۔

بابا:          تجھے سکون نہیں۔۔۔!!!

میں:       سکون ہوتا تو آپ کے پاس کیوں آتا۔۔۔

بابا:         سچ بتا، کیا چاہیے تجھے۔۔۔؟

میں:       سکون۔۔۔

بابا:         کیسا سکون چاہتا ہے۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         تو پھر میں تیری مدد کیسے کروں؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         سب کچھ تو ہے تیرے پاس۔۔۔ پھر کیا بے چینی ہے تیری۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         جا۔۔۔ تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔

میں:       کیوں۔۔۔؟ میں نے تو سنا ہے کہ آپ کے بس میں بہت کچھ ہے۔۔۔

بابا:         تجھے کس نے کہا۔۔۔؟

میں:        پڑھا تھا،  کہ آپ چاہو تو  جنت۔۔۔ آپ چاہو تو جہنم۔۔۔

بابا:         پڑھ تو لیا۔۔۔ اب یقین بھی کر۔۔۔

میں:       میری مدد تو کرو۔۔۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا ہے کہ مجھے بے چینی کیا ہے۔۔۔

بابا:         سن ، تو اپنے آپ سے خوش نہیں ہے۔۔۔  تیرے پاس سب کچھ ہے لیکن تو اس  سے بھی خوش نہیں ہے۔۔۔ اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے۔۔۔

میں:       وہ کیا۔۔۔؟

بابا:         کہ تیرا کوئی اپنا تیرے سے خوش نہیں ہے۔۔۔ جا اسے خوش کر۔۔۔

میں:       یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ میری خوشی سے کسی کا کیا تعلق۔۔۔؟

بابا:         یہ ہوئی نا بات۔۔۔ جب تیری خوشی صرف "میری خوشی "سے نکل کر "سب کی خوشی” بن جائے گی تو مل جائے گا سکون۔۔۔

میں:       ایسا کرنے کا حل تو بتائیے۔۔۔

بابا:         حل بڑا آسان ہے۔۔۔ اب سے تو جو اپنے لیے کرتا ہے، جو اپنے لیے سوچتا ہے، وہ سب کے لیے کرنا اور سوچنا شروع کر دے۔۔۔ تو خود کو اچھا سمجھتا ہے تو دوسروں کو بھی اچھا سمجھنا شروع کر دے۔۔۔ اپنی کوتاہیوں کو چھپانا چاہتا ہے تو دوسروں کی کوتاہیوں کو بھی نظر انداز کرنا شروع کر دے۔۔۔  تو چاہتا ہے نا کہ تیرا رب تجھے معاف کر دے۔۔۔ تو ، تُو بھی سب کو معاف کر دے۔۔۔

میں:       یار، یہ کرنا اتنا آسان ہر گز نہیں۔۔۔ کیسے کر دوں سب کو معاف۔۔۔

بابا:         ویسے ہی، جیسے اللہ نے تجھے طاقت  اور ہمت دی ہے معاف کرنے کی۔۔۔

میں:       اچھا۔۔۔تو پھر کیا سکون مل جائے گا۔۔۔؟

بابا:       گرنٹیڈ۔۔۔ پکا۔۔۔ آزما کر دیکھ لے۔۔۔

بابے کی باتیں سمجھ کر گاڑی کا دروزہ کھولا، بیک سیٹ سے اپنا بیگ نکالا اور ایک گھنٹے کے "تنہا سفر” کے بعد گھر کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

Advertisements

روزہ دار کی ڈائیری

دوستوں کے ساتھ سگریٹ اور شیشے کی محفل میں مذہب، سیاسیات اور اقتصادیات پر سیر حاصل بحث کے بعد رات دو بجے تھکا ہارا گھر پہنچا ۔۔۔ ارادہ تو یہ تھا کہ کچھ قرآن پڑھوں گا اور اللہ کو یاد کروں گا۔۔۔ لیکن ٹھنڈے کمرے میں داخل ہوتے ہی آرام دہ بستر کی گرمائش نے یاد اللہ کا ارادہ بدل دیا۔۔۔ دل نے کہا۔۔۔ "ابھی تو آیا ہے، تھوڑا آرام کر لے۔۔۔ ساری رات باقی ہے۔۔۔” اور نا چاہتے ہوئے بھی سونا پڑا۔۔۔

صبح ساڑھے تین بجے بیگم نے اٹھایا کہ سحری کی جائے۔۔۔ کون کمبخت اتنی پیاری نیند چھوڑنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن خالی پیٹ روزہ رکھنا بھی مشکل تھا۔۔۔ بادل ناخواستہ اٹھنا پڑا۔۔۔

فجر کی نماز جیسے تیسے پڑھ کر نیند جیسی نعمت عطا کرنے کے لیے اللہ کا ڈھیروں شکر ادا کیا اور خوابِ خرگوش کے مزے لینے لگا۔۔۔

ابھی سوئے ہوئے کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے کہ بیگم نے پھر اٹھایا کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔ آنکھیں مسلتے پھر اٹھا اور نہا دھو کر مسجد چلا گیا۔۔۔ مسجد تک کے سفر، پھر نماز اور پھر واپسی کے سفر میں اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کیا۔۔۔ خاص طور پر نیند ، ای سی اور گاڑی جیسی نعمتوں کے لیے بارہا شکر ادا کیا۔۔۔

گھر پہنچ کر بیگم کو سختی سے منع کیا کہ اب کے مت اٹھانا، عصر کے لیے خود ہی اٹھ جاوں گا۔۔۔ اے سی فل سپیڈ پر آن کر کے کمبل اوڑھا اور پھر سو گیا۔۔۔

عصر کی آزان کانوں میں پڑی۔۔۔ ارادہ کیا کہ اٹھوں اور نماز کے لیے جاوں۔۔۔ لیکن۔۔۔ اب کی بار تہیہ تھا کہ نیند پوری کرنی ضروری ہے۔۔۔ چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔ دل میں سوچا کہ تھوڑی دیر بعد اٹھ کر پڑھتا ہوں۔۔۔ تھوڑی تھوڑی دیر کرتے چھ بج گئے۔۔۔ اٹھتے ہی بیگم کو ڈانٹا کہ عصر کے لیے کیوں نہیں اٹھایا۔۔۔ گھر پر ہی نمازِ عصر ادا کی۔۔۔ اور لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔۔۔ خبریں پڑھتے ، ای میلز دیکھتے، جوں جوں افطار کا وقت قریب آ رہا تھا، انتظار کی گھڑیاں لمبی ہوتی جارہی تھیں۔۔۔ روزہ اپنی آب و تاب سے "لگنا” شروع ہو چکا تھا۔۔۔ اللہ کو یاد کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ اور دعا میں اللہ سے ایمان، صبر و استقامت اور نماز روزے سے محبت مانگی۔۔۔

افطار کو دعوتِ ولیمہ سمجھ کر اس پر ٹوٹنے اور پھر تراویح میں بڑی مشکل سے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے پر اللہ کا روزہ اچھی طرح گزارنے پر شکر اور قبول فرمانے کی دعا کرتے اگلے روزے کی تیاریاں شروع کر دیں۔۔۔


مقسوم

زندگی ہاتھوں سے لمحہ بہ لمحہ پھسلتی جا رہی ہے۔۔۔ ہر وقت کا دھڑکا ہے کہ اب چلے ، تو اب چلے۔۔۔ تبلیغی جماعت والوں کی طرز پر کہوں تو یہ ڈر ہے کہ "تیاری” کیا ہے اگلی منزل کی۔۔۔ ہوش سنبھالا اور خود سے لڑائی شروع ہوئی۔۔۔ اچھائی اور برائی کے درمیاں خود کو "کنفیوز” ہی پایا۔۔۔ جو کرنے کا جی چاہا ۔۔۔ وہ منع ہے، گناہ ہے۔۔۔ اور جس سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔۔۔ تو معلوم ہوا کہ اس کا صلہ تو اگلے جہاں ہی ملے گا۔۔۔

زندگی لمحہ بہ لمحہ گزرتی جا رہی ہے۔۔۔ کچھ یقین نہیں کہ اگلی سانس بھی لے سکوں۔۔۔ اور مر کے بھی چین نا پایا تو کہاں جاوں گا۔۔۔ قبر کی تاریکی ، جہاں روشنی کی کوئی پھوار نہیں۔۔۔ آواز سننے کو ترسنا۔۔۔ اور کیڑے مکوڑوں کی غذا بننا۔۔۔ کیا یہی منزل ہے ۔۔۔؟

موت کے بعد کا حال تو کوئی کیا ہی جانے۔۔۔ جو پڑھا، سنا۔۔۔ بڑا ہی ہولناک ہے۔۔۔ ہم تو زندگی کے حُسن میں ایسے کھوئے رہے کہ موت کی بدصورتی بھول ہی گئے۔۔۔ اگلی منزل تاریک تو ہوگی ہی ۔۔۔ کیا کشادہ ہو پائے گی۔۔۔ یا مزید سکڑتی سکڑتی ہماری رہی سہی پسلیاں بھی توڑ دے گی۔۔۔ وہ کون جانے۔۔۔

اگلی منزل کا ایمان تو لازم و ملزوم ٹھرا۔۔۔ اس کے تیاری کتنی مشکل ہے۔۔۔ یہ تیاری کرنے والا ہی جانے۔۔۔ بڑے سے بڑے حوصلے والا بندہ بھی صرف ایک چیز سے مجبور ہے۔۔۔ "نفس”۔۔۔ پھلتا پھولتا۔۔۔ تھپکیاں دے کر سلاتا۔۔۔ منزل سے غافل کرتا یہ نفس۔۔۔ ہر ایک کو مار دیتا ہے۔۔۔ ہر ایک کو پچھاڑ دیتا ہے۔۔۔ ہمارا سینہ نا چاک ہوا۔۔۔ ہمارا ہمزاد تابع ناہوا۔۔۔ تو آسانی کیسی۔۔۔ ہر عمل کر لیا۔۔۔ نیک بھی اور بد بھی۔۔۔ توبہ بھی کر لی۔۔۔ معافیاں بھی مانگ لیں۔۔۔ چھوڑ دیے گناہ۔۔۔ لیکن یہ نفس۔۔۔ پھر بھی سکون سے نا بیٹھا۔۔۔ اور نا بیٹھنے دیا۔۔۔ پھر بھی ہار نا مانا۔۔۔ پھر بھی تابع کرنے کو کوشش کرتا رہا۔۔۔ اور ہمیں شکست دیتا رہا۔۔۔

سانس کے آنے سے سانس کے جانے تک کی یہ جنگ۔۔۔ انسان ہمیشہ درمیاں میں پھنسا رہا۔۔۔ الجھن میں رہا۔۔۔ کیا کروں کہ میں سکون پاوں۔۔۔؟ کیا کروں کہ والدین، اہل و عیال، دوست احباب اور انسانیت ہمارے زریعے اطمینان پائیں۔۔۔ مزید کیا کروں کہ رب خوش ہو جائے۔۔۔ اور میری منزل آسان ہو جائے۔۔۔ میرا آخری گھر ہی پرسکون ہو جائے۔۔۔ یہی سوچ سوچ کر پھنستا گیا۔۔۔ پھنستا گیا۔۔۔ نفس نے نا اسے خوش ہونے دیا۔۔۔ اور نا رب کو۔۔۔ کہیں سکون نا لینے دیا۔۔۔ ساری زندگی ٹھوکریں کھاتا کھاتا جب آنکھیں بند کیں۔۔۔ تو نیا اور مزید تلخ حساب انتظار میں بیٹھا ہے۔۔۔

زندگی لمحہ بہ لمحہ ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے اور تیاری ہے کہ ہوتے نہیں ہوتی۔۔۔ نا اِدھر کے رہے ، نا اُدھر کے صنم…


وہ ایک آنسو

مورخہ 14 اپریل۔۔۔
مقام: مسجدِ نبوی ﷺ

بابِ جبرائیل اور بابِ البقیع کے درمیان ایک باریش نوجوان ہاتھ باندھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کے سامنے با ادب کھڑا تھا۔۔۔۔ میں  نے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے دیکھ کر اپنے چلنے کی رفتار کم کر لی۔۔۔  شاید اس کے معصوم چہرے پر ندامت تھی۔۔۔  میں نے چلتے چلتے بس اس کی آنکھوں سے ایک قطرہ آنسو گرتے دیکھا۔۔۔

وہ ایک آنسو مجھے شرمندگی کی اتاہ گہرائیوں میں پہنچا گیا۔۔۔   کہ میری آنکھیں اب بھی خشک تھیں۔۔۔


نفسِ مطمئنہ کی تلاش

دوستو۔۔۔ یقین جانیے کہ دل سے جانتا ہوں اور مانتا ہوں کہ روئے زمین پر مجھ سے زیادہ گناہ گار اور کمینہ انسان کوئی  ہے اور نا ہی کوئی  ہوگا۔۔۔  اکثر حضرات سے اپنے اس ایمان کا ذکر کیا تو ان کی رائے یہ تھی کہ اپنے آپ کو اتنا گرا ہوا محسوس نا کروں۔۔۔ میں اتنا برا نہیں ، جیسا میں خود کو سمجھتا ہوں۔۔۔ میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ خود احتسابی بھی کوئی شے ہوتی ہے۔۔۔ خود کو کسی بھی طرح اچھا، بہتر، نیک محسوس کروا لیا تو بہتری کی گنجائش شاید ختم ہو جائے۔۔۔  نا صرف یہ کہ گنجائش نا رہی، بلکہ ریا کاری اور تکبر جیسے اخلاقی گناہوں میں مبتلا ہونے میں شاید دیر نا لگے۔۔۔

عمر کے اس مقام پر  اب مجھے دیگر گناہوں سے شاید اتنا خوف محسوس نہیں ہوتا۔۔۔ جتنا نیکی اور اچھائی  کے نام پر اپنے نفس کو  پھلتا پھولتا محسوس کرتے ہوتا ہے۔۔۔ اسی خوف نے مجھے خود کی نظر میں اچھا یا بہتر ہونے سے روک رکھا ہے۔۔۔ اسی خوف نے شاید مجھے اپنی اصل اوقات پر ٹکائے رکھا ہے۔۔۔ اسی خوف نے مجھے یہ باور کروایا ہے کہ سکون تو مجھے شاید آخری سانس کے بعد ملے گا لیکن اس کی تلاش کرنا بھی بے وقوفی ہے۔۔۔

دوستو، یہ نفس بھی انسان کا بڑا دوست ہوتا ہے۔۔۔ اور شاید سب سے بڑا دشمن بھی۔۔۔   کسی کے قابو میں شاید ہی آتا ہوگا۔۔۔ جس کے قابو آ گیا ، اس کی دنیا بھی بن گئی اور آخرت بھی۔۔۔ اور جس پر حاوی ہو گیا۔۔۔ نا  دنیا آباد۔۔۔ اور۔۔۔ نا آخرت میں کوئی حال۔۔۔ واللہ۔۔۔ یہ نفس بڑی کمینی شے ہے۔۔۔  بڑی ہی کمینی شے ہے۔۔۔ انسان کی کامیابی اور ناکامی نفس کے ہاتھوں ہی رکھی گئی ہے ۔۔۔ اس سے لڑنا بھی مشکل اور  اس سے اپنا پہلو بچانا۔۔۔ سب سے مشکل۔۔۔

میں اپنا نفس مارنے کی کوشش میں مارا مارا پھر رہا ہوں۔۔۔ اور کسی طرح بھی کامیابی نظر نہیں آ رہی۔۔۔ نفس ِ مطمئنہ کی تلاش جاری ہے۔۔۔ اور شاید جاری رہے گی۔۔۔ نفسِ مطمئنہ کا حصول شاید اتنا مشکل نہیں۔۔۔ جتنا، اس کی خواہش کرتے رہنا تکلیف دہ ہے۔۔۔

کل استاد ِ محترم نے یہ کلیہ بھی حل کردیا۔۔۔ فرماتے ہیں۔۔۔ "خود سکون چاہتے ہو۔۔۔ تو دوسروں کو سکون دینا شروع کر دو۔۔۔”

مزید فرماتے ہیں۔۔۔  ” ایک انسان کے لیے مشکل ترین کام اپنے دشمن کو  برداشت کرنا ہے۔۔۔ سکون چاہتے ہو، تو اپنے اس دشمن کے حق میں اللہ تبارک تعالیٰ سے دعا کرنا شروع کر دو۔۔۔ نا صرف سکون مل جائے بلکہ تمہاری اپنی دعاووں کو بھی قبولیت بخشی جائے گی۔۔۔"

دوستو، استادِ محترم نے حل تو بتا دیا ہے۔۔۔ اب یہ تو خود پر منحصر  ہے کہ کب تک اور کتنی کوشش کرنی ہے۔۔۔  اور کیا اس حل میں کامیابی چھپی ہے۔۔۔ یا تلاش۔۔۔


حجاب۔۔۔ ساہنوں کی۔۔۔

بھائی حجاب کے بارے میں ان کو لکھنا چاہیے جن کو "حجاب” کی زیادہ ضرورت ہے۔۔۔ ہم کیوں لکھیں۔۔۔ تجربہ یہ کہتا ہے کہ ایک بار کہہ کر اپنا فرض پورا کرو۔۔۔ اب اگلی بات نا مانے تو اس کا مسئلہ۔۔۔ ساہنوں کی۔۔۔

اور ویسے بھی مرد حضرات کو کیا ضروت ہے حجاب کے بارے میں لکھنے کی۔۔۔ ہمیں تھوڑی کرنا ہے "حجاب”۔۔۔ جنہیں کرنا ہے، وہی پریشانی سر لیں۔۔۔ ساہنوں کی۔۔۔

اب پچھلے دنوں کی بات ہے کہ ایک پاکستانی خاتون جو ہماری کمپنی کے لیے کافی میٹیریل سپلائی کرتی ہیں۔۔۔ وہ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ میں شادی شدہ ہوں اور ایک بچی کا باپ ہوں، اپنے طور پر مجھ سے "فلرٹ” کر رہی تھی۔۔۔ قسمے "مرد” ہوتے ہوئے بھی ان کی چھچھوری حرکات مجھے سخت ناگوار گزری۔۔۔  اب ایسی خاتون "حجاب” کر بھی لیں تو کوئی "مرد” ان کا کیا بگاڑ لے گا۔۔۔ خیر۔۔۔ ساہنوں  کی۔۔۔

مرد کے لیے حکم ہے کہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں۔۔۔ اور یہی ان کا پردہ ہے۔۔۔  تو مرد حضرات، قسم کھا کر بتاو۔۔۔ کہ کتنی بار "اپنی نظریں” بوقتِ ضرورت جھکا دیں۔۔۔  اگر ایک دو بار کی مجبوری یاد آ گئی ہے تو ۔۔۔ "شاباش”۔۔۔ ورنہ۔۔۔ عورتوں کے حجاب کو چھوڑو۔۔۔ اور اپنی نظروں کی فکر کرو۔۔۔ ورنہ "نظر کا زنا” یاد کر لیں۔۔۔ شاید شرم آ جائے۔۔۔

یارو۔۔۔ یہ عورت بڑی عجیب چیز ہوتی ہے۔۔۔ آج تک کسی سقراط، بقراط یا افلاطون کو ان کی سمجھ نہیں آئی۔۔۔  تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں۔۔۔  یہ حجاب میں بھی اچھی  یا بری۔۔۔ اور بے پردگی میں بھی اچھی یا بری۔۔۔  مدعہ سارا ہمیشہ مرد حضرات کے سر ہی آنا ہے۔۔۔ اس لیے پیش قدمی کرنا بہتر ہے۔۔۔ اپنی نگاہیں نیچے کر لو۔۔۔ اور چھوڑ دو کسی دوسرے کی ماں بہن کو دیکھنا۔۔۔ اسی طرح کوئی ہماری ماں بہن کو گھورنا بھی چھوڑ دے گا۔۔۔ صحیح بات ہے نا بھائی۔۔۔!!!

چلیں۔۔۔ ہم مرد حضرات خود کو بدلیں۔۔۔ کسی دوسرے کو بدلنا ہو گا تو وہ خود ہی بدل جائے گا۔۔۔  کیا خیال ہے۔۔۔؟


چھوٹا شیطان، بڑا شیطان

رمضان آ گیا۔۔۔ شیطان قید کر دیا گیا۔۔۔ چھوٹے شیطان اب بھی دھرتی پر دندناتے پھر رہے ہیں۔۔۔ شیطان چھوٹا ہو یا بڑا، شیطان تو شیطان ہوتا ہے۔۔۔

معاف کیجیے گا۔۔۔ پاکستانی حکمرانوں کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ بلکہ عام عوام کی بات کر رہا ہوں۔۔۔ اور عام عوام میں بھی میرا مقصد صرف پاکستانی ہی نہیں۔۔۔ دنیا جہاں کے مسلمان ہیں۔۔۔ مسلمان کم اور شیطان کے پرستار زیادہ ہو گئے۔۔۔ اللہ سے محبت کے دعویٰ لیکن اللہ کی ماننی نہیں۔۔۔ شیطان سے بھرپور دبانگ سے پناہ مانگنا لیکن کھلے عام اس کی پیروی بھی کرنا۔۔۔ تو ہوئے نا چھوٹے شیطان۔۔۔

کچھ دن پہلے سوچ رہا تھا کہ جب شیطان قید کر دیا گیا ہے تو کم از کم رمضان میں ہی وسوسے کیوں نہیں جان چھوڑتے۔۔۔ ایک حضرت سے ہنستے ہنستے یہ سوال کر دیا۔۔۔ حضرت کوئی قابلِ تسلی جواب تو نا دے سکے۔۔۔ سارا الزام چھوٹے شیطان پر ڈال دیا۔۔۔

اب سوچ میں اضافہ یہ ہوا۔۔۔ کہ چھوٹے شیطان کو قید کیوں نہیں کیا گیا۔۔۔ کیا رمضان میں بھی ہمارا امتحان مقصود تھا۔۔۔ کیوں جی۔۔۔ رمضان میں تو ہم ویسے ہی ایک با برکت امتحان سے گزر رہے ہیں۔۔۔ تو آخر یہ منحوس امتحان ہمارے سروں پر ڈالنا ضروری تھا۔۔۔؟

شیطان تو ہماری روح پرایسا قبضہ کر کے بیٹھا ہے جیسے خون ہمارے جسم میں مستقل آوارہ گردی کر رہا ہے۔۔۔ جان ہی نہیں بخشتا۔۔۔ اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو چکا ہے۔۔۔ کہ برے کام، گناہ اور جرائم ہم سے شیطان کروا رہا ہے۔۔۔ یا ہم بذاتِ خود شیطان بنے یہ کام کر رہےہیں۔۔۔ شیطان کو الزام دینا تو بڑا آسان ہے۔۔۔ لیکن خود کا محاسبہ کیسے کریں۔۔۔ آخر ہمارا نفس جو مہا شیطان ہے، وہ اپنی غلطیاں ماننے سےبھی تو انکاری ہے۔۔۔ اور ماننا تو دور کی بات۔۔۔ غلطیاں پہچاننا اور سمجھنا بھی نا ممکن ہو گیا ہے۔۔۔

فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم شیطان کے زیرِ اثر ہیں یا شیطان ہمارے زیرِ اثر آ چکا ہے۔۔۔ اگر دوسری بات سچی ہے تو مبارک ہو جی۔۔۔ ہم ابلیس سے بڑے ابلیس بن چکے۔۔۔ اور ابلیس اپنے چیلوں سے نہیں، ہم جیسے انسانوں سے مشورے کرنا اپنے لیے باعث فخر سمجھ رہا ہوگا۔۔۔ مبارک ہو جی۔۔۔ ہم شیطان سے جیت چکے۔۔۔۔


%d bloggers like this: