Category Archives: میری سوچ

میری ماں

 

مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔  سب سے پیاری۔۔۔سب کی پیاری۔۔۔  سب کو پیار کرنے والی۔۔۔ سب سے پیار پانے والی۔۔۔ لیکن کچھ مائیں اولاد پر سب کچھ وار کر بھی تہی دامن ہی رہتی ہیں۔۔۔ ایسی ہی کہانی میری ماں کی ہے۔۔۔

میری ماں۔۔۔  آج ہسپتال کے بستر پر ایک زندہ لاش کی طرح پڑی ہیں۔۔۔

میری عادت تھی کہ روز آفس جاتے ہوئے رستے میں امی کو فون کرتا۔۔۔ ایک گھنٹے کی مسافت میں بیس پچیس منٹ ان سے بات ہوتی۔۔۔ ہر گفتگو کا اختتام ان کی اس دعا سے ہوتا۔۔۔ کہ اللہ تمہاری منتیں مرادیں پوری کرے۔۔۔ تمہیں ہر تکلیف سے بچائے۔۔۔ زندگی میں ہر کامیابی تمہیں ملے۔۔۔  میرا ایمان ہے کہ میری ہر کامیابی ان ہی کی دعاووں کا نتیجہ تھی۔۔۔

جمعرات کی شب میں علیزہ اور عنایہ کو لے کر ان سے ملنے آیا۔۔۔ تو وہ خوش تھیں۔۔۔ علیزہ کی تیراکی کی مشق کی ویڈیو دیکھی تھی۔۔۔ کہنے لگی۔۔۔ علیزہ پر محنت کرو۔۔۔ سادہ ہے لیکن ذہین ہے۔۔۔ اسے ڈانٹا مت کرو۔۔۔

"اچھا سنو۔۔۔ کباب کا سالن بنانا مجھے بھی آتا ہے۔۔۔ آج بنایا ہے۔۔۔ کھا کر جانا۔۔۔”

میں نے کھاتے کھاتے ایسے ہی کہا کہ امی نمک زیادہ ہے۔۔۔ تو کہنے لگی۔۔۔ نمک نہیں۔۔۔ شاید ٹماٹر کی وجہ سے تمہیں زیادہ نمکین لگ رہا ہے۔۔۔  میرا ایک کام کرو۔۔۔ فارمیسی پر جاو۔۔۔ اور مجھے گیس کی کوئی دوا لا دو۔۔۔ اور تمہارے ابو پر بہت بوجھ ہے، روز کی میری انسولین کا انجیکشن لگ جاتا ہے۔۔۔ اب سے تم اور کامران مجھے مہینے کا ایک ایک ڈبہ لا کر دیا کرو۔۔۔

میں اٹھا اور جا کر ادویات لے آیا۔۔۔  گھر آیا تو وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔۔ علیزہ عنایہ انہی کے بستر پر بیٹھی کھیل رہی تھیں۔۔۔ میں نے ماتھا چوما۔۔۔ تو کہنے لگی۔۔۔ اب تم گھر جاو۔۔۔ مجھے سونا ہے۔۔۔

بس وہ میرا آخری بوسہ تھا جو میں نے انہیں ان کے ہوش میں دیا۔۔۔ اور یہ آخری بات تھی جو مجھ سے انہوں نے کہی۔۔۔

جمعہ کے روز مجھے صبح صبح آفس جانا پڑا۔۔۔ حسبِ عادت امی کوفون کیا۔۔۔ تو ان کا فون بند ملا۔۔۔ میں نے ابو کے موبائل پر فون کیا تو ابو نے بتایا کہ وہ تو واش روم میں ہیں۔۔۔

گیارہ بجے مجھے ابو کا فون آیا۔۔۔ اور انہوں نے یہ قیامت مجھ پرتوڑی۔۔۔

چار دن پہلے ہنستی کھیلتی، لاڈ اٹھاتی۔۔۔ پھر اچانک باورچی خانے میں گر گئی۔۔۔ کچھ نا معلوم ہوا کہ کیوں گری۔۔۔ بس جب دیکھا تو بے حال، بےہوش، نڈھال۔۔۔ بے آسرا گری ہوئی۔۔۔ ایمبولینس بلائی اور ہسپتال پہنچے۔۔۔ وہاں جا کر علم ہوا کہ برین سٹروک ہوا ہے۔۔۔ جسم کا دایاں حصہ پوری طرح سے مفلوج۔۔۔ اور میری ماں بے ہوش۔۔۔

میں آفس سے سیدھا ہسپتال پہنچا۔۔۔ تو بہن بھائی سب  پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔۔۔ سی ٹی سکین بھی ہو چکا تھا۔۔۔ ڈاکٹر نے فوری طور پر آئی سی یو میں داخل کر لیا۔۔۔

اڑتالیس گھنٹوں بعد دوسرا سی ٹی سکین ہوا۔۔۔ تو علم ہوا کہ دماغ کا دو تہائی حصہ سٹروک کی وجہ سے انفیکٹ ہو گیا ہے۔۔۔ اور آہستہ آہستہ انفیکشن پورے دماغ میں پھیل رہا ہے۔۔۔  ان انفیکشن کی وجہ سے جسم کے تقریبا سارے اعضاء طبی طور پر مر چکے ہیں۔۔۔ امی کوما میں جا چکی ہیں۔۔۔ چار دن سے وینٹی لیٹر پر ہیں۔۔۔ ادویات بھی ناک کی ذریعے دی جا رہی ہیں۔۔۔

کل ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا کہ اب بچنے کی کوئی امید نہیں۔۔۔ سوائے کسی معجزے کے۔۔۔ جوں ہی وینٹی لیٹر اتارا تو امی اللہ کو پیاری ہو جائیں گی۔۔۔

میری ماں۔۔۔ میں ان کا سب سے بڑا مجرم۔۔۔ ایسا مجرم۔۔۔ جس کو انہوں نے سب سے زیادہ پیار کیا۔۔۔ جس کی ہر کامیابی  ، ہر خوشی اور ہر غم ان کی ذات سے وابستہ تھا۔۔۔ کہہ لیجیے کہ میری سب سے اچھی دوست بھی میری ماں ہی تھی۔۔۔ میری کوئی بات ان سے چھپی نا تھی۔۔۔ میں نے انہیں بہت تنگ کیا۔۔۔ بہت رلایا۔۔۔ لیکن میں ان کے لیے سب سے اچھا ہی تھا۔۔۔ سب بہن بھائی کہتے کہ امی صرف عمران کی سنتی ہیں۔۔۔ عمران کی ہی فکر کرتی ہیں۔۔۔  اور میں یہ جانتا مانتا بھی تھا۔۔۔

آج میری ماں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔۔۔ میں ان کے کمرے میں ان کے بستر کے سامنے بیٹھا یہ کہانی لکھ رہا ہوں۔۔۔ میری آنکھیں آنسووں سے بھری ہیں۔۔۔ مجھے بستر پر بیٹھی اپنی ماں اب بھی نظر آ رہی ہیں۔۔۔ میرا دل بوجھل ہے کہ شاید اب میں کبھی اپنی ماں سے بات نا کر پاوں۔۔۔ کبھی ان کی گود میں سر نا رکھ پاوں۔۔۔ کبھی ان کو تنگ نا کر سکوں۔۔۔ شاید اب میں کبھی ان کی دعائیں نا لے سکوں۔۔۔

میری ماں۔۔۔ کاش میری ماں مجھے واپس مل جائے۔۔۔ کاش۔۔۔  میں اپنا سب کچھ دے کر اپنی ماں کو واپس اس دنیا میں ہنستا کھیلتا لے آوں۔۔۔ کاش۔۔۔  میری چھت میرے سر پر ہمیشہ رہے۔۔۔ کاش میں صحیح معنوں میں یتیم نا ہو جاوں۔۔۔

سب دوستوں اور قارئین سے ان کی صحت کے لیے دعا کی درخواست ہے۔۔۔ کہ اللہ کوئی معجزہ دکھائے اور وہ بھلی چنگی ہو جائیں۔۔ جو بقول ڈاکٹروں کے اب ناممکن ہے۔۔۔ا

Advertisements

لانگ مارچ کیوں۔۔۔؟

سوال: جب حکومت خان صاحب کے مطالبات مان رہی ہے تو خان صاحب لانگ مارچ کیوں کررہے ہیں۔۔۔

جواب: خان صاحب پچھلے ڈیڑھ سال سے حکومت سے مطالبات کر رہے ہیں کہ حلقے کھولے جائیں۔۔۔ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں۔۔۔ یہاں تک کہ خان صاحب جب سپریم کورٹ گئے تو افتخار چوہدری صاحب نے کیس سننے سے انکار کر دیا کہ وہ بہت مصروف ہیں۔۔۔اور ان کی اعلیٰ عدالت میں بیس ہزار سے کیس اپنی "پینڈنگ” ہیں۔۔۔ ( یہ الگ بات ہے کہ چیف جسٹس ایویں کے "سوموٹو” لینے کے لیے مشہور ہیں اور یہ بھی الگ بات ہے کہ ان "سوموٹو کیسز” کا نتیجہ شاید ہی کبھی نکلا ہوا)۔۔۔

اب جب ہر دروازہ کھٹکھٹا کر کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو آخری حل یہی تھا کہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے۔۔۔ جب حکومت کو نظر آیا کہ اب مشکل سے ہی جان چھوٹے گی تو خان صاحب کی منتیں ترلے شروع کر دئیے کہ اب ہم آپ کی بات مانیں گے، مذاکرات کر لیں۔۔۔ لیکن اب کی خان صاحب نے ان کی درخواستیں سننے سے انکار کیا اور عوام سے جو وعدہ کیا تھا اسے پوراکرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔

 

download

 

قابل ِ غور بات یہ ہے کہ خان صاحب بھی جانتے ہیں کہ "چار حلقوں کی تحقیقات ہو بھی جائیں اور نتائج ان کے حق میں نکل بھی آئیں تب بھی وہ پنجاب یا وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتے۔۔۔ ان کا مقصد بہت سادہ اور عام فہم ہے کہ ایسے قدم اٹھائے جائیں کہ اگلی بار ایسی دھاندلی نا ہو۔۔۔ ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے جو ایسی تاریخی دھاندلی میں ملوث تھے۔۔۔

پاکستانی عوام اس بات کی بھی گواہ ہے کہ خان صاحب نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کو اہم قرار دیا ہے۔۔۔ لیکن ڈیڑھ سال تک ان کے ہر درخواست، ہر مطالبے کا مذاق اُڑایا گیا۔۔۔ یہاں تک کے آپریشن ضرب عضب کے لیے بھی اُن سے مشاورت نہیں کی گئی۔۔۔جبکہ سب جانتے تھے کہ آپریشن کے بعد آئی ڈی پیز کا رُخ خیبر پختونواہ ہو گا۔۔۔ اور کے پی کے کی حکومت کو انہیں سنبھالنا ہو گا۔۔۔ پھر پنجاب اور سندھ نے تو اِ ن متاثرین کے لیے اپنے دروازے بند کر دئیے۔۔۔ یہاں تک کہ صرف پچاس کروڑ کی مدد کے اعلان کے باوجود رقم کے پی کے حکومت کے حوالے نہیں کی گئی۔۔۔ بلکہ وفاق کی طرف سے جن فنڈز کا وعدہ کے پی کے سے کیا گیا تھا ۔۔۔ انہیں بھی روک لیا گیا۔۔۔ اس سب کے بعد بھی پٹواری حضرت پوچھتے ہیں کہ عمران خان نے کے پی کے میں کیا کر لیا۔۔۔ تو میری درخواست اُ ن سب سے یہی ہے کہ براہ کرم، ہم سے مت پوچھیں۔۔۔ کے پی کے کا چکر لگا لیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔۔۔ کہ محدود وسائل کے باوجود، سسٹم میں بہترین تبدیلی کی جا رہی ہے۔۔۔ اور ہماری بات پر یقین نا آئے تو کسی خیبر پختونخواہ کے عقلمند سے پوچھ لیں۔۔۔ انشاءاللہ پٹواریوں کو اچھا جواب ملے گا۔۔۔

سیدھی بات ہے کہ اس وقت پاکستان میں جمہوریت نہیں، بادشاہت ہے۔۔۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت گلو بٹ اورپومی بٹ کلچر ہے، جس کے مائی بات یہی شریف خاندان ہے۔۔۔ جو اپنی فرعونیت میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں عوام سوائے کیڑے مکوڑوں کے کچھ نظر نہیں آتے۔۔۔ اتفاق فاونڈریز کے کاروبار کو چار چاند لگانے کے لیے حکومت نے ایسے منصوبے شروع کیے ، جس سے عنقریب تو عوام کو کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آتا۔۔۔

‘ مزید یہ کہ عمران خان اور اس کی حکومت خیبر پختونخواہ میں دودھ کی نہریں بھی بہا دیں۔۔۔ اگر یہی سسٹم جاری رہا۔۔۔ جو آج ہے۔۔۔ تو وہ کبھی بھی وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتا۔۔۔ کیونکہ دھاندلی ایسے ہی چلتی رہے گی۔۔۔ اور ہم پر زرداری اور شریف جیسے بدمعاش / کرپٹ مجرم مسلط رہیں گے۔۔۔

چلیں یہ بھی مان لیں۔۔۔ کہ عمران خان اپنی "ہڈ دھرمی” کے باعث جمہوری حکومت کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔۔۔ اوہ اور اس کی جماعت کسی "تیسری قوت” کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔۔۔ توکیا عوام بھی بے وقوف ہے ، جو اس کے ساتھ لمبا سفر طے کرتے لانگ مارچ میں شامل ہیں اور کیا وہ سب "ہزاروں / لاکھوں” لوگ بھی بے وقوف ہیں، جو پاکستان میں ایک اچھی تبدیلی کے لیے تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔۔۔

باقی فیصلہ آپ کے ہاتھ۔۔۔


مقسوم

زندگی ہاتھوں سے لمحہ بہ لمحہ پھسلتی جا رہی ہے۔۔۔ ہر وقت کا دھڑکا ہے کہ اب چلے ، تو اب چلے۔۔۔ تبلیغی جماعت والوں کی طرز پر کہوں تو یہ ڈر ہے کہ "تیاری” کیا ہے اگلی منزل کی۔۔۔ ہوش سنبھالا اور خود سے لڑائی شروع ہوئی۔۔۔ اچھائی اور برائی کے درمیاں خود کو "کنفیوز” ہی پایا۔۔۔ جو کرنے کا جی چاہا ۔۔۔ وہ منع ہے، گناہ ہے۔۔۔ اور جس سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔۔۔ تو معلوم ہوا کہ اس کا صلہ تو اگلے جہاں ہی ملے گا۔۔۔

زندگی لمحہ بہ لمحہ گزرتی جا رہی ہے۔۔۔ کچھ یقین نہیں کہ اگلی سانس بھی لے سکوں۔۔۔ اور مر کے بھی چین نا پایا تو کہاں جاوں گا۔۔۔ قبر کی تاریکی ، جہاں روشنی کی کوئی پھوار نہیں۔۔۔ آواز سننے کو ترسنا۔۔۔ اور کیڑے مکوڑوں کی غذا بننا۔۔۔ کیا یہی منزل ہے ۔۔۔؟

موت کے بعد کا حال تو کوئی کیا ہی جانے۔۔۔ جو پڑھا، سنا۔۔۔ بڑا ہی ہولناک ہے۔۔۔ ہم تو زندگی کے حُسن میں ایسے کھوئے رہے کہ موت کی بدصورتی بھول ہی گئے۔۔۔ اگلی منزل تاریک تو ہوگی ہی ۔۔۔ کیا کشادہ ہو پائے گی۔۔۔ یا مزید سکڑتی سکڑتی ہماری رہی سہی پسلیاں بھی توڑ دے گی۔۔۔ وہ کون جانے۔۔۔

اگلی منزل کا ایمان تو لازم و ملزوم ٹھرا۔۔۔ اس کے تیاری کتنی مشکل ہے۔۔۔ یہ تیاری کرنے والا ہی جانے۔۔۔ بڑے سے بڑے حوصلے والا بندہ بھی صرف ایک چیز سے مجبور ہے۔۔۔ "نفس”۔۔۔ پھلتا پھولتا۔۔۔ تھپکیاں دے کر سلاتا۔۔۔ منزل سے غافل کرتا یہ نفس۔۔۔ ہر ایک کو مار دیتا ہے۔۔۔ ہر ایک کو پچھاڑ دیتا ہے۔۔۔ ہمارا سینہ نا چاک ہوا۔۔۔ ہمارا ہمزاد تابع ناہوا۔۔۔ تو آسانی کیسی۔۔۔ ہر عمل کر لیا۔۔۔ نیک بھی اور بد بھی۔۔۔ توبہ بھی کر لی۔۔۔ معافیاں بھی مانگ لیں۔۔۔ چھوڑ دیے گناہ۔۔۔ لیکن یہ نفس۔۔۔ پھر بھی سکون سے نا بیٹھا۔۔۔ اور نا بیٹھنے دیا۔۔۔ پھر بھی ہار نا مانا۔۔۔ پھر بھی تابع کرنے کو کوشش کرتا رہا۔۔۔ اور ہمیں شکست دیتا رہا۔۔۔

سانس کے آنے سے سانس کے جانے تک کی یہ جنگ۔۔۔ انسان ہمیشہ درمیاں میں پھنسا رہا۔۔۔ الجھن میں رہا۔۔۔ کیا کروں کہ میں سکون پاوں۔۔۔؟ کیا کروں کہ والدین، اہل و عیال، دوست احباب اور انسانیت ہمارے زریعے اطمینان پائیں۔۔۔ مزید کیا کروں کہ رب خوش ہو جائے۔۔۔ اور میری منزل آسان ہو جائے۔۔۔ میرا آخری گھر ہی پرسکون ہو جائے۔۔۔ یہی سوچ سوچ کر پھنستا گیا۔۔۔ پھنستا گیا۔۔۔ نفس نے نا اسے خوش ہونے دیا۔۔۔ اور نا رب کو۔۔۔ کہیں سکون نا لینے دیا۔۔۔ ساری زندگی ٹھوکریں کھاتا کھاتا جب آنکھیں بند کیں۔۔۔ تو نیا اور مزید تلخ حساب انتظار میں بیٹھا ہے۔۔۔

زندگی لمحہ بہ لمحہ ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے اور تیاری ہے کہ ہوتے نہیں ہوتی۔۔۔ نا اِدھر کے رہے ، نا اُدھر کے صنم…


وہ ایک آنسو

مورخہ 14 اپریل۔۔۔
مقام: مسجدِ نبوی ﷺ

بابِ جبرائیل اور بابِ البقیع کے درمیان ایک باریش نوجوان ہاتھ باندھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کے سامنے با ادب کھڑا تھا۔۔۔۔ میں  نے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے دیکھ کر اپنے چلنے کی رفتار کم کر لی۔۔۔  شاید اس کے معصوم چہرے پر ندامت تھی۔۔۔  میں نے چلتے چلتے بس اس کی آنکھوں سے ایک قطرہ آنسو گرتے دیکھا۔۔۔

وہ ایک آنسو مجھے شرمندگی کی اتاہ گہرائیوں میں پہنچا گیا۔۔۔   کہ میری آنکھیں اب بھی خشک تھیں۔۔۔


نفسِ مطمئنہ کی تلاش

دوستو۔۔۔ یقین جانیے کہ دل سے جانتا ہوں اور مانتا ہوں کہ روئے زمین پر مجھ سے زیادہ گناہ گار اور کمینہ انسان کوئی  ہے اور نا ہی کوئی  ہوگا۔۔۔  اکثر حضرات سے اپنے اس ایمان کا ذکر کیا تو ان کی رائے یہ تھی کہ اپنے آپ کو اتنا گرا ہوا محسوس نا کروں۔۔۔ میں اتنا برا نہیں ، جیسا میں خود کو سمجھتا ہوں۔۔۔ میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ خود احتسابی بھی کوئی شے ہوتی ہے۔۔۔ خود کو کسی بھی طرح اچھا، بہتر، نیک محسوس کروا لیا تو بہتری کی گنجائش شاید ختم ہو جائے۔۔۔  نا صرف یہ کہ گنجائش نا رہی، بلکہ ریا کاری اور تکبر جیسے اخلاقی گناہوں میں مبتلا ہونے میں شاید دیر نا لگے۔۔۔

عمر کے اس مقام پر  اب مجھے دیگر گناہوں سے شاید اتنا خوف محسوس نہیں ہوتا۔۔۔ جتنا نیکی اور اچھائی  کے نام پر اپنے نفس کو  پھلتا پھولتا محسوس کرتے ہوتا ہے۔۔۔ اسی خوف نے مجھے خود کی نظر میں اچھا یا بہتر ہونے سے روک رکھا ہے۔۔۔ اسی خوف نے شاید مجھے اپنی اصل اوقات پر ٹکائے رکھا ہے۔۔۔ اسی خوف نے مجھے یہ باور کروایا ہے کہ سکون تو مجھے شاید آخری سانس کے بعد ملے گا لیکن اس کی تلاش کرنا بھی بے وقوفی ہے۔۔۔

دوستو، یہ نفس بھی انسان کا بڑا دوست ہوتا ہے۔۔۔ اور شاید سب سے بڑا دشمن بھی۔۔۔   کسی کے قابو میں شاید ہی آتا ہوگا۔۔۔ جس کے قابو آ گیا ، اس کی دنیا بھی بن گئی اور آخرت بھی۔۔۔ اور جس پر حاوی ہو گیا۔۔۔ نا  دنیا آباد۔۔۔ اور۔۔۔ نا آخرت میں کوئی حال۔۔۔ واللہ۔۔۔ یہ نفس بڑی کمینی شے ہے۔۔۔  بڑی ہی کمینی شے ہے۔۔۔ انسان کی کامیابی اور ناکامی نفس کے ہاتھوں ہی رکھی گئی ہے ۔۔۔ اس سے لڑنا بھی مشکل اور  اس سے اپنا پہلو بچانا۔۔۔ سب سے مشکل۔۔۔

میں اپنا نفس مارنے کی کوشش میں مارا مارا پھر رہا ہوں۔۔۔ اور کسی طرح بھی کامیابی نظر نہیں آ رہی۔۔۔ نفس ِ مطمئنہ کی تلاش جاری ہے۔۔۔ اور شاید جاری رہے گی۔۔۔ نفسِ مطمئنہ کا حصول شاید اتنا مشکل نہیں۔۔۔ جتنا، اس کی خواہش کرتے رہنا تکلیف دہ ہے۔۔۔

کل استاد ِ محترم نے یہ کلیہ بھی حل کردیا۔۔۔ فرماتے ہیں۔۔۔ "خود سکون چاہتے ہو۔۔۔ تو دوسروں کو سکون دینا شروع کر دو۔۔۔”

مزید فرماتے ہیں۔۔۔  ” ایک انسان کے لیے مشکل ترین کام اپنے دشمن کو  برداشت کرنا ہے۔۔۔ سکون چاہتے ہو، تو اپنے اس دشمن کے حق میں اللہ تبارک تعالیٰ سے دعا کرنا شروع کر دو۔۔۔ نا صرف سکون مل جائے بلکہ تمہاری اپنی دعاووں کو بھی قبولیت بخشی جائے گی۔۔۔"

دوستو، استادِ محترم نے حل تو بتا دیا ہے۔۔۔ اب یہ تو خود پر منحصر  ہے کہ کب تک اور کتنی کوشش کرنی ہے۔۔۔  اور کیا اس حل میں کامیابی چھپی ہے۔۔۔ یا تلاش۔۔۔


بڑھاپا یا مجبوری

اسلام آباد ائیرپورٹ پر بے ہنگم قطار میں کھڑے میری نظر ایک بزرگ خاتون پر پڑی۔۔۔ اور نگاہ ان پر ایسی رکی کہ بس ویٹنگ ہال پہنچنے تک انہی پر ٹکی رہی۔۔۔ خاتون کی عمر  کچھ ستر کی دہائی میں  ہوگی۔۔۔ سادہ سی شلوار قمیض ، جرابیں اور چپل پہنےہوئی، انتہاء کی معصومیت اور نور چہرے پر نمایاں تھا۔۔۔ میں نے غیرارادی طور پر ان کے اردگرد کا جائزہ لیا۔۔۔ ان کے ساتھ شاید ان کا بیٹا تھا۔۔۔ بہو اور دو پوتے  ۔۔۔ امیگریشن کی قطار میں وہ پورا خاندان میرے برابر کی قطار میں کھڑا تھا۔۔۔

یہ خاندان شاید بذریعہ دوحہ یورپ کے کسی ملک جا رہا تھا۔۔۔ بیٹے، بہو اور پوتوں کے ہاتھ میں میرون پاسپورٹ اور بزرگ خاتون کے ہاتھ میں سبز پاکستانی پاسپورٹ۔۔۔

معلوم نہیں کیوں۔۔۔ مجھے ان خاتون کی انتہائی پروقار شخصیت پر بہت پیار آ رہا تھا۔۔۔ میرا دل چاہا کہ میں ان کے ہاتھ تھاموں اور انہیں کہوں، چلو اماں میرے ساتھ چلو۔۔۔  اور میرے ساتھ رہو۔۔۔ میری نظر ان کےخوبصورت اور معصوم چہرے سے ہٹ ہی نہیں پا رہی تھی۔۔۔

تجسس کے ہاتھوں مجبور میں ان کے بچوں کی تاثرات بھی دیکھ رہا تھا۔۔۔ بیٹا شاید مجبور تھا کہ ماں کی پرواہ کرنے والا اب پاکستان میں کوئی نہیں، اس لیے اسے ساتھ لے جانا ضروری تھا۔۔۔  بہو انتہاء کی بے زار لگ رہی تھی۔۔۔ اور چہرے پر فرعونیت  نمایاں تھی۔۔۔ ایسا محسوس ہوا کہ کہہ رہی ہو۔۔ میرے بندے کی کمائی اب اس بڈھی پر بھی لگے گی۔۔۔ اور الٹا اس کی خدمت بھی کرنی پڑے گی۔۔۔  دونوں پوتے جو شاید چودہ پندرہ سال کے ہوں گے۔۔۔ ماں سے بھی زیادہ بیزار۔۔۔   جیسے باپ کو کہہ رہے ہوں۔۔۔ "پاپا، یہ ہم کو کہاں پولیوشن میں لے آئے ہو۔۔۔ وی ڈونٹ وانٹ ٹو کم بیک ہیر”

باپ بے چارہ بنا، کبھی اپنی بیوی کے تیور دیکھتا۔۔۔ کبھی اپنے بچوں کے نخرے۔۔۔ اور کبھی اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیتا۔۔۔ جس پر ماں کی آنکھوں میں تھوڑی سی چمک آتی، ایک مسکراہٹ چکمکاتی اور پھر غائب ہو جاتی۔۔۔

اسلام آباد ائیرپورٹ کی بے ہنگم اور گھٹیا سروس۔۔۔ انتہائی زیادہ رش۔۔۔ اور افسران کی سستی۔۔۔ ہر کام آہستہ آہستہ ہو رہا تھا۔۔۔ رات گئے کی دو پروازیں تھیں۔۔۔ اس درمیان۔۔۔ بزرگ خاتون کے جسم اور چہرے  پر تھکاوٹ کےآثار واضح تھے۔۔۔ لیکن اپنی بیٹے اور بہو پوتوں کا ساتھ ، ان جیسی تیزی سے دینا بھی چاہتی تھی۔۔۔ امیگریشن قطار میں کھڑے۔۔۔ خاتون نے اپنے بڑے پوتے کے چہرے کے قریب ہو کرہلکی مسکراہٹ کےساتھ اس سے کچھ بات کی۔۔۔ پوتا، جو شاید کسی قسم کے زعم میں مبتلا تھا۔۔۔ اس نے اپنی دادی کی بات سن کر ایسا منہ بنایا ، جیسے بات سن کر بھی کوئی احسان کیا ہو۔۔۔

میری آخری نظر اس خاتون پر تب پڑی جب امیگریشن کاونٹر عبور کر کے اس کی بہو اس کا ہاتھ تھامے، گویا اسے کھینچتے ہوئے جا رہی تھی۔۔۔ بہو رانی  شاید وہ وقت بھول گئی تھی جب یہی خاتون کتنی چاہ اور ارمانون سے اسے بیاہ کر اپنے گھر لائی تھی۔۔۔ اس کے ناز نخرے اٹھائے تھے۔۔۔ اسے اپنے بیٹے کے ساتھ کے لیے باہر بھیج دیا تھا۔۔۔ اب وہ اپنی بہو کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔۔ کہ اگلی زندگی اسی کے گھر گزارنی تھی۔۔۔

دو دن گزر گئے واپس دبئی آئے۔۔۔ لیکن نا جانے کیوں میں اس خاتون کا چہرہ نہیں بھلا پا رہا۔۔۔ اس کے چہرے کی معصومیت میرےذہن پر کچھ انمٹ نقوش چھوڑ چکی ہے۔۔۔  بار بار اس خاتون کی مسکین مسکراہٹ یاد آتی ہے۔۔۔

بار بار اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ اسے کے بچوں کو اس کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔ مجبوری سے نہیں۔۔۔دل سے۔۔۔ پوری محبت اور پیار سے۔۔۔


مخمصہ۔۔۔ ایک سوچ

کچھ ایسا کرنے کا جی چاہے، جس سے تھوڑا بہت سکون مل جائے۔۔۔۔ ابھی صرف سوچ ہی رہا ہو کہ وہ کام کرے۔۔۔ لیکن پھر خیال آئے کہ اوہ ہو۔۔۔ یہ تو منع ہے۔۔۔ گناہ ہے۔۔۔ سب کچھ بھول کر یہ کام کر بھی گزرے۔۔۔ تو خیالِ گناہ جینے نا دینے۔۔۔ بار بار ندامت دل کا دروازہ کھٹکھٹائے۔۔۔ بار بار آسمان کی جانب دیکھ کر آنسو بھر آئیں۔۔۔ چلتے چلتے ہاتھ جوڑ کر اللہ سے معافی بھی مانگے۔۔۔ پھر بھی سکون نا ملے۔۔۔ تو۔۔۔ یہ کیا معاملہ ہے۔۔۔؟ یہ کیا مخمصہ ہے۔۔۔؟


%d bloggers like this: