کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے

 

کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے…
 
مجھے لکھنا نہیں آتا، نہ ہی میٹھے میٹھے الفاظ میں لپیٹ کر بغض نکالنا آتا ہے۔ بلاگز لکھنے کا ہرگز کوئی شوق یا ارادہ نہیں لیکن مجھے تاریخ پڑھنے کا جنون ہے۔ پاکستانی سیاست کی رولر کوسٹر تاریخ پر ہر طرح کی کتابیں اور تجزیئے زیرِ مطالعہ رہی ہیں۔ کس چیز کے تانے بانے کہاں جا کر ملتے ہیں اور اسکے محرکات کیا ہیں، سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہوتا بشرطیکہ آپ کو تاریخ کا صحیح علم ہو۔ 

 

پسندیدہ تاریخ پڑھنا اور اسی کو دلائل کیلئے استعمال کرنا ہمارے ملک میں درباری کلچر کو فروغ دینے میں خاصہ مددگار ثابت ہوا ہے۔ میں سیاسی غیر جانبداری کا دعوی تو نہیں کرتی لیکن اتنا دعوی ضرور کرتی ہوں کہ جو تاریخی حقائق بیان کرونگی من و عن کرونگی اور اس سے میری کسی سیاسی وابستگی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں


فیصلے

زندگی کے کچھ ایسے فیصلے ہوتے ہیں، جو آپ کو ہر ہر لمحے تکلیف پہنچاتے ہیں۔۔۔ جن سے واپسی کا یوٹرن بھی ممکن نہیں ہوتا۔۔۔ اور جن کے زخم اپنے سائے ساتھ رکھنے بھی ہوتے ہیں۔۔۔ جن سے رہائی ممکن بھی نہیں ہوتی۔۔۔ اور جن کے بغیر گزارہ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ ان بارے سوچ کر آہ بھی بھری جاتی ہے۔۔۔ اور ان کے بارے سوچنے سے گریز بھی کیا جاتا ہے۔۔۔

یہ وہ تکلیف ہوتی ہے، جو آہستہ آہستہ آپ کو اذیت پسند بنا دیتی ہے۔۔۔ آپ اس سے چھٹکارا بھی پانا چاہتے ہیں۔۔۔ لیکن اس کی شدت بغیر آپ کو نیند بھی نہیں آتی۔۔۔

اکثر یہ فیصلے آپ کے اپنے نہیں ہوتے۔۔۔ بلکہ آپ کے لیے، لیے گئے ہوتے ہیں۔۔۔ آپ پر مسلط کیے جاتے ہیں۔۔۔ اور آپ خود میں جلتے رہتے ہیں۔۔۔ خود میں گھٹتے رہتے ہیں۔۔۔ اپنی خاموشی کی زبان میں چیختے چلاتے ہیں۔۔۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کا سکوت بھرا شور کوئی نہیں سن سکتا۔۔۔ آپ کے فیصلے کی طرح یہ خاموشی بھی آپ کی دشمن ہوتی ہے۔۔۔

فیصلوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان سے بھاگا نہیں جا سکتا۔۔۔ مجبورا انہیں اپنا ہی پڑتا ہے عمر بھرکے لیے۔۔۔ اپنے سینے کے ساتھ لگا کر ہی سفر کرنا پڑتا ہے۔۔۔ کبھی سوچیں، اپنے کسی ایسے فیصلے کے بارے میں۔۔۔ ایسے فیصلے کے بارے میں، جن کی وجہ سے آپ اپنی زندگی میں "پچھتاوے” جیسے بوجھ بھی خود پر لادے چل رہے ہیں۔۔۔ اگر آپ کا کوئی ایسا فیصلہ ہے۔۔۔ تو آپ کو میری باتیں سمجھ آ ہی جائیں گی۔۔۔

اللہ آپ کو غلط فیصلے کے دکھ سے بچائے۔۔۔ آمین۔۔۔


ناشکرا

دوست۔۔۔ اور دوست بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں کہ تم ہی کسی کے ساتھ بنا کر نہیں رکھ سکتے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ دوست ہیں کہاں۔۔۔ جو تھے وہ دور چلے گئے اپنی اپنی مجبوریوں کے باعث۔۔۔ اور جو ہیں۔۔۔ وہ دوست بنتے ہی نہیں۔۔۔

زندگی۔۔۔ اور زندگی بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں۔۔۔ کہ تم نے اپنی زندگی خود اجیرن بنا رکھی ہے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ زندگی ہے کہاں۔۔۔ جو تھی وہ چلی گئی کچھ میری غلطیوں اور کچھ اپنی مجبوریوں کے باعث۔۔۔ اور اب جو ہے۔۔۔ وہ زندگی نہیں۔۔۔

رشتے۔۔۔ اور رشتے بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں کہ تمہیں ہی رشتے نبھانے نہیں آتے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ رشتے ہیں کہاں۔۔۔ جو ہیں۔۔۔ وہ نبھانے مشکل ہیں۔۔۔ اور جو نہیں ہیں۔۔۔  وہ رشتے ہی تو نہیں ہیں۔۔۔

خوشی۔۔۔ اور خوشی بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہیں کہ تم کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتے۔۔۔ درست کہتی ہیں۔۔۔ کہ خوشی ہے کہاں۔۔۔ جو محسوس نا ہو سکے۔۔۔ جو بانٹی نا جا سکے۔۔۔ جس کا جشن نا منایا جا سکے۔۔۔ جس میں کھلکھلا کر ہنسا نا جا سکے۔۔۔ اور جو ہے۔۔۔ وہ خوشی تو ہرگز نہیں۔۔۔

غم۔۔۔ اور غم بھی کیا۔۔۔

شریکِ حیات کہتی ہے کہ کیا ہر دم غمگین بیٹھے رہتے ہو۔۔۔ درست کہتی ہے۔۔۔ کہ غم فطرت میں شامل ہو چکا ہے۔۔۔ بغیر کسی وجہ یا ایسی کئی وجوہات کے کہ جن کے بارے میں کہنا تو کجا لکھنا بھی دشوار ہے۔۔۔۔ غم، اداسی اور سنجیدگی۔۔۔ وہ غم ہی کیا کہ چیخیں مار کر رو بھی نا سکو۔۔۔ وہ غم ہی کیا کہ گریباں چاک نا کرو۔۔۔ وہ غم ہی کیا کہ اپنے سینے میں سمیٹےسمیٹے آخری سانس کا انتظار کرو۔۔۔

غم۔۔۔ اداسی۔۔۔ سنجیدگی۔۔۔

بنا کسی دوست، زندگی، رشتے اور خوشی کے۔۔۔ انسان ایک "غم” ہی تو ہے۔۔۔ میں بھی "غم” ہوں۔۔۔ اور اپنے ساتھ سب کو غمگین بنا رہا ہوں۔۔۔ بنا کسی وجہ کے۔۔۔ بنا کسی مقصد کے۔۔۔

ناشکرا ہی تو ہوں۔۔۔ کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی احساس اور شکر کی نعمت سے تہی دامن ہوں۔۔۔


لکهو

کبھی اگر کچھ کہنے کادل چاہے تو لکھ لینا کہ لکھنا دل میں رکھنے سے بہتر ہے۔۔۔

ضروری نہیں کہ ہمیں سننے والا بھی کوئی موجود ہو۔۔۔ اور کوئی ہو بھی تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ آپ کی سن کر سمجھ بھی سکے۔۔۔!!! اس لیے بہتر ہے کہ لکھ لیا جائے۔۔۔ دل کا بوجھ اتر جائے گا اور ایک ہم راز بھی مل جائے گا۔۔۔

ہمراز۔۔۔ جو ہم سب کی ضرورت ہے۔۔۔ مجبوری بھی ہے اور طاقت بھی۔۔۔

اگر لکھ لیا تو چھپا دو کہ جو لکھ سکتے ہو وہ کسی دوسرے کے سامنے بول نہیں سکتے۔۔۔

جو راز صفحہ چھپا سکتا ہے، انسان نہیں چھپا سکتا۔۔۔

اور جو راز صفحے میں سما سکتا ہے۔۔۔ وہ دل میں نہیں سما سکتا۔۔۔

ہزاردوں دکھ لکھ لو۔۔۔ ہزاروں سکھ لکھو لو کہ تاریخ بن جائے۔۔۔ تاریخ محفوظ ہو جائے۔۔۔

جو کل بھول جاو، وہ آج لکھ لو ۔۔۔ تاکہ ذہن کے کسی کونے میں یہ خوش فہمی تو پنپ سکے کہ کوئی ہمراز ہے جو تمہارے ہزاروں قصوں کو محفوظ رکھے چُھپا بیٹھا ہے۔۔۔

اپنی محبتیں لکھ دو۔۔۔ اپنی نفرتیں لکھ لو۔۔۔

اپنے تجربے لکھ دو۔۔۔ اپنی ناکامیاں لکھ دو۔۔۔

اور اگر سمجھو تو مرنے سے پہلے اپنی تحاریر کسی کو سونپ جانا۔۔۔ کہ دنیا محسوس صرف دوری کے بعد کرتی ہے۔۔۔  قدر صرف جدائی اور محرومی کے بعد کرتی ہے۔۔۔

سونپ دینا اپنا اثاثہ۔۔۔


نفرتوں میں گهرا شخص

اپنے اردگرد پھیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں۔۔۔ چاہ کر بھی اپنی محبتیں سب میں پھیلا نہیں پایا۔۔۔ یہ خواہش کہ سب ایک دوسرے سے محبت کریں۔۔۔ میرے لیے۔۔۔ اپنے لیے۔۔۔ دوسروں کے لیے۔۔۔ اللہ کے لیے۔۔۔

محبت اتنا مشکل کام نہیں۔۔۔ جتنا سب نے بنا لیا ہے۔۔۔

مجھ سے نا سہی۔۔۔ میری خاطر ہی سہی۔۔۔ ایک دوجے سے محبت کر لو۔۔۔ میری خاطر بھی نا سہی۔۔۔ تو اللہ واسطے ہی اپنی بدگمانیاں، تلخیاں اور نفرتیں مٹا دو۔۔۔

کیا لے جائیں گے اس دنیا سے۔۔۔ نفرت۔۔۔!!! تلخیاں۔۔۔!!! بدگمانی۔۔۔!!!

نفرت کرو گے تو نفرت پاو گے۔۔۔

محبت کا بدلہ محبت اور عزت کے بدلے عزت پاو گے۔۔۔

گر بانٹ سکتے ہو تو محبت بانٹو۔۔۔ نفرت کسی کام نا آئے گی۔۔۔

محبت دعا کی صورت حساب آسان کر دے گی۔۔۔ اور نفرت دنیا کو بھی عذاب بنا دے گی۔۔۔

ایک دوسرے کو معاف کر دو۔۔۔ دل سے۔۔۔ معاف کر کے۔۔۔ معافیاں مانگ کر۔۔۔ خود کو صاف کر لو۔۔۔ دل کے داغ مٹا دو۔۔۔ اپنے لیے نا سہی۔۔۔ تو میرے لیے۔۔۔ اللہ کے لیے ہی سہی۔۔۔

میں اپنے اردگرد پھیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں۔۔۔ چاہ کر بھی اپنی محبتیں سب میں پھیلا نہیں پایا۔۔۔


لانگ مارچ کیوں۔۔۔؟

سوال: جب حکومت خان صاحب کے مطالبات مان رہی ہے تو خان صاحب لانگ مارچ کیوں کررہے ہیں۔۔۔

جواب: خان صاحب پچھلے ڈیڑھ سال سے حکومت سے مطالبات کر رہے ہیں کہ حلقے کھولے جائیں۔۔۔ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں۔۔۔ یہاں تک کہ خان صاحب جب سپریم کورٹ گئے تو افتخار چوہدری صاحب نے کیس سننے سے انکار کر دیا کہ وہ بہت مصروف ہیں۔۔۔اور ان کی اعلیٰ عدالت میں بیس ہزار سے کیس اپنی "پینڈنگ” ہیں۔۔۔ ( یہ الگ بات ہے کہ چیف جسٹس ایویں کے "سوموٹو” لینے کے لیے مشہور ہیں اور یہ بھی الگ بات ہے کہ ان "سوموٹو کیسز” کا نتیجہ شاید ہی کبھی نکلا ہوا)۔۔۔

اب جب ہر دروازہ کھٹکھٹا کر کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو آخری حل یہی تھا کہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے۔۔۔ جب حکومت کو نظر آیا کہ اب مشکل سے ہی جان چھوٹے گی تو خان صاحب کی منتیں ترلے شروع کر دئیے کہ اب ہم آپ کی بات مانیں گے، مذاکرات کر لیں۔۔۔ لیکن اب کی خان صاحب نے ان کی درخواستیں سننے سے انکار کیا اور عوام سے جو وعدہ کیا تھا اسے پوراکرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔

 

download

 

قابل ِ غور بات یہ ہے کہ خان صاحب بھی جانتے ہیں کہ "چار حلقوں کی تحقیقات ہو بھی جائیں اور نتائج ان کے حق میں نکل بھی آئیں تب بھی وہ پنجاب یا وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتے۔۔۔ ان کا مقصد بہت سادہ اور عام فہم ہے کہ ایسے قدم اٹھائے جائیں کہ اگلی بار ایسی دھاندلی نا ہو۔۔۔ ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے جو ایسی تاریخی دھاندلی میں ملوث تھے۔۔۔

پاکستانی عوام اس بات کی بھی گواہ ہے کہ خان صاحب نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کو اہم قرار دیا ہے۔۔۔ لیکن ڈیڑھ سال تک ان کے ہر درخواست، ہر مطالبے کا مذاق اُڑایا گیا۔۔۔ یہاں تک کے آپریشن ضرب عضب کے لیے بھی اُن سے مشاورت نہیں کی گئی۔۔۔جبکہ سب جانتے تھے کہ آپریشن کے بعد آئی ڈی پیز کا رُخ خیبر پختونواہ ہو گا۔۔۔ اور کے پی کے کی حکومت کو انہیں سنبھالنا ہو گا۔۔۔ پھر پنجاب اور سندھ نے تو اِ ن متاثرین کے لیے اپنے دروازے بند کر دئیے۔۔۔ یہاں تک کہ صرف پچاس کروڑ کی مدد کے اعلان کے باوجود رقم کے پی کے حکومت کے حوالے نہیں کی گئی۔۔۔ بلکہ وفاق کی طرف سے جن فنڈز کا وعدہ کے پی کے سے کیا گیا تھا ۔۔۔ انہیں بھی روک لیا گیا۔۔۔ اس سب کے بعد بھی پٹواری حضرت پوچھتے ہیں کہ عمران خان نے کے پی کے میں کیا کر لیا۔۔۔ تو میری درخواست اُ ن سب سے یہی ہے کہ براہ کرم، ہم سے مت پوچھیں۔۔۔ کے پی کے کا چکر لگا لیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔۔۔ کہ محدود وسائل کے باوجود، سسٹم میں بہترین تبدیلی کی جا رہی ہے۔۔۔ اور ہماری بات پر یقین نا آئے تو کسی خیبر پختونخواہ کے عقلمند سے پوچھ لیں۔۔۔ انشاءاللہ پٹواریوں کو اچھا جواب ملے گا۔۔۔

سیدھی بات ہے کہ اس وقت پاکستان میں جمہوریت نہیں، بادشاہت ہے۔۔۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت گلو بٹ اورپومی بٹ کلچر ہے، جس کے مائی بات یہی شریف خاندان ہے۔۔۔ جو اپنی فرعونیت میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں عوام سوائے کیڑے مکوڑوں کے کچھ نظر نہیں آتے۔۔۔ اتفاق فاونڈریز کے کاروبار کو چار چاند لگانے کے لیے حکومت نے ایسے منصوبے شروع کیے ، جس سے عنقریب تو عوام کو کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آتا۔۔۔

‘ مزید یہ کہ عمران خان اور اس کی حکومت خیبر پختونخواہ میں دودھ کی نہریں بھی بہا دیں۔۔۔ اگر یہی سسٹم جاری رہا۔۔۔ جو آج ہے۔۔۔ تو وہ کبھی بھی وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتا۔۔۔ کیونکہ دھاندلی ایسے ہی چلتی رہے گی۔۔۔ اور ہم پر زرداری اور شریف جیسے بدمعاش / کرپٹ مجرم مسلط رہیں گے۔۔۔

چلیں یہ بھی مان لیں۔۔۔ کہ عمران خان اپنی "ہڈ دھرمی” کے باعث جمہوری حکومت کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔۔۔ اوہ اور اس کی جماعت کسی "تیسری قوت” کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔۔۔ توکیا عوام بھی بے وقوف ہے ، جو اس کے ساتھ لمبا سفر طے کرتے لانگ مارچ میں شامل ہیں اور کیا وہ سب "ہزاروں / لاکھوں” لوگ بھی بے وقوف ہیں، جو پاکستان میں ایک اچھی تبدیلی کے لیے تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔۔۔

باقی فیصلہ آپ کے ہاتھ۔۔۔


گفتگو

میں:       حاضر ہوں جی۔

بابا:          تجھے سکون نہیں۔۔۔!!!

میں:       سکون ہوتا تو آپ کے پاس کیوں آتا۔۔۔

بابا:         سچ بتا، کیا چاہیے تجھے۔۔۔؟

میں:       سکون۔۔۔

بابا:         کیسا سکون چاہتا ہے۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         تو پھر میں تیری مدد کیسے کروں؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         سب کچھ تو ہے تیرے پاس۔۔۔ پھر کیا بے چینی ہے تیری۔۔۔؟

میں:       معلوم نہیں۔۔۔ بس سکون چاہیے۔۔۔

بابا:         جا۔۔۔ تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔

میں:       کیوں۔۔۔؟ میں نے تو سنا ہے کہ آپ کے بس میں بہت کچھ ہے۔۔۔

بابا:         تجھے کس نے کہا۔۔۔؟

میں:        پڑھا تھا،  کہ آپ چاہو تو  جنت۔۔۔ آپ چاہو تو جہنم۔۔۔

بابا:         پڑھ تو لیا۔۔۔ اب یقین بھی کر۔۔۔

میں:       میری مدد تو کرو۔۔۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا ہے کہ مجھے بے چینی کیا ہے۔۔۔

بابا:         سن ، تو اپنے آپ سے خوش نہیں ہے۔۔۔  تیرے پاس سب کچھ ہے لیکن تو اس  سے بھی خوش نہیں ہے۔۔۔ اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے۔۔۔

میں:       وہ کیا۔۔۔؟

بابا:         کہ تیرا کوئی اپنا تیرے سے خوش نہیں ہے۔۔۔ جا اسے خوش کر۔۔۔

میں:       یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ میری خوشی سے کسی کا کیا تعلق۔۔۔؟

بابا:         یہ ہوئی نا بات۔۔۔ جب تیری خوشی صرف "میری خوشی "سے نکل کر "سب کی خوشی” بن جائے گی تو مل جائے گا سکون۔۔۔

میں:       ایسا کرنے کا حل تو بتائیے۔۔۔

بابا:         حل بڑا آسان ہے۔۔۔ اب سے تو جو اپنے لیے کرتا ہے، جو اپنے لیے سوچتا ہے، وہ سب کے لیے کرنا اور سوچنا شروع کر دے۔۔۔ تو خود کو اچھا سمجھتا ہے تو دوسروں کو بھی اچھا سمجھنا شروع کر دے۔۔۔ اپنی کوتاہیوں کو چھپانا چاہتا ہے تو دوسروں کی کوتاہیوں کو بھی نظر انداز کرنا شروع کر دے۔۔۔  تو چاہتا ہے نا کہ تیرا رب تجھے معاف کر دے۔۔۔ تو ، تُو بھی سب کو معاف کر دے۔۔۔

میں:       یار، یہ کرنا اتنا آسان ہر گز نہیں۔۔۔ کیسے کر دوں سب کو معاف۔۔۔

بابا:         ویسے ہی، جیسے اللہ نے تجھے طاقت  اور ہمت دی ہے معاف کرنے کی۔۔۔

میں:       اچھا۔۔۔تو پھر کیا سکون مل جائے گا۔۔۔؟

بابا:       گرنٹیڈ۔۔۔ پکا۔۔۔ آزما کر دیکھ لے۔۔۔

بابے کی باتیں سمجھ کر گاڑی کا دروزہ کھولا، بیک سیٹ سے اپنا بیگ نکالا اور ایک گھنٹے کے "تنہا سفر” کے بعد گھر کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔


%d bloggers like this: