Tag Archives: محبت

میری ماں

 

مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔  سب سے پیاری۔۔۔سب کی پیاری۔۔۔  سب کو پیار کرنے والی۔۔۔ سب سے پیار پانے والی۔۔۔ لیکن کچھ مائیں اولاد پر سب کچھ وار کر بھی تہی دامن ہی رہتی ہیں۔۔۔ ایسی ہی کہانی میری ماں کی ہے۔۔۔

میری ماں۔۔۔  آج ہسپتال کے بستر پر ایک زندہ لاش کی طرح پڑی ہیں۔۔۔

میری عادت تھی کہ روز آفس جاتے ہوئے رستے میں امی کو فون کرتا۔۔۔ ایک گھنٹے کی مسافت میں بیس پچیس منٹ ان سے بات ہوتی۔۔۔ ہر گفتگو کا اختتام ان کی اس دعا سے ہوتا۔۔۔ کہ اللہ تمہاری منتیں مرادیں پوری کرے۔۔۔ تمہیں ہر تکلیف سے بچائے۔۔۔ زندگی میں ہر کامیابی تمہیں ملے۔۔۔  میرا ایمان ہے کہ میری ہر کامیابی ان ہی کی دعاووں کا نتیجہ تھی۔۔۔

جمعرات کی شب میں علیزہ اور عنایہ کو لے کر ان سے ملنے آیا۔۔۔ تو وہ خوش تھیں۔۔۔ علیزہ کی تیراکی کی مشق کی ویڈیو دیکھی تھی۔۔۔ کہنے لگی۔۔۔ علیزہ پر محنت کرو۔۔۔ سادہ ہے لیکن ذہین ہے۔۔۔ اسے ڈانٹا مت کرو۔۔۔

"اچھا سنو۔۔۔ کباب کا سالن بنانا مجھے بھی آتا ہے۔۔۔ آج بنایا ہے۔۔۔ کھا کر جانا۔۔۔”

میں نے کھاتے کھاتے ایسے ہی کہا کہ امی نمک زیادہ ہے۔۔۔ تو کہنے لگی۔۔۔ نمک نہیں۔۔۔ شاید ٹماٹر کی وجہ سے تمہیں زیادہ نمکین لگ رہا ہے۔۔۔  میرا ایک کام کرو۔۔۔ فارمیسی پر جاو۔۔۔ اور مجھے گیس کی کوئی دوا لا دو۔۔۔ اور تمہارے ابو پر بہت بوجھ ہے، روز کی میری انسولین کا انجیکشن لگ جاتا ہے۔۔۔ اب سے تم اور کامران مجھے مہینے کا ایک ایک ڈبہ لا کر دیا کرو۔۔۔

میں اٹھا اور جا کر ادویات لے آیا۔۔۔  گھر آیا تو وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔۔ علیزہ عنایہ انہی کے بستر پر بیٹھی کھیل رہی تھیں۔۔۔ میں نے ماتھا چوما۔۔۔ تو کہنے لگی۔۔۔ اب تم گھر جاو۔۔۔ مجھے سونا ہے۔۔۔

بس وہ میرا آخری بوسہ تھا جو میں نے انہیں ان کے ہوش میں دیا۔۔۔ اور یہ آخری بات تھی جو مجھ سے انہوں نے کہی۔۔۔

جمعہ کے روز مجھے صبح صبح آفس جانا پڑا۔۔۔ حسبِ عادت امی کوفون کیا۔۔۔ تو ان کا فون بند ملا۔۔۔ میں نے ابو کے موبائل پر فون کیا تو ابو نے بتایا کہ وہ تو واش روم میں ہیں۔۔۔

گیارہ بجے مجھے ابو کا فون آیا۔۔۔ اور انہوں نے یہ قیامت مجھ پرتوڑی۔۔۔

چار دن پہلے ہنستی کھیلتی، لاڈ اٹھاتی۔۔۔ پھر اچانک باورچی خانے میں گر گئی۔۔۔ کچھ نا معلوم ہوا کہ کیوں گری۔۔۔ بس جب دیکھا تو بے حال، بےہوش، نڈھال۔۔۔ بے آسرا گری ہوئی۔۔۔ ایمبولینس بلائی اور ہسپتال پہنچے۔۔۔ وہاں جا کر علم ہوا کہ برین سٹروک ہوا ہے۔۔۔ جسم کا دایاں حصہ پوری طرح سے مفلوج۔۔۔ اور میری ماں بے ہوش۔۔۔

میں آفس سے سیدھا ہسپتال پہنچا۔۔۔ تو بہن بھائی سب  پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔۔۔ سی ٹی سکین بھی ہو چکا تھا۔۔۔ ڈاکٹر نے فوری طور پر آئی سی یو میں داخل کر لیا۔۔۔

اڑتالیس گھنٹوں بعد دوسرا سی ٹی سکین ہوا۔۔۔ تو علم ہوا کہ دماغ کا دو تہائی حصہ سٹروک کی وجہ سے انفیکٹ ہو گیا ہے۔۔۔ اور آہستہ آہستہ انفیکشن پورے دماغ میں پھیل رہا ہے۔۔۔  ان انفیکشن کی وجہ سے جسم کے تقریبا سارے اعضاء طبی طور پر مر چکے ہیں۔۔۔ امی کوما میں جا چکی ہیں۔۔۔ چار دن سے وینٹی لیٹر پر ہیں۔۔۔ ادویات بھی ناک کی ذریعے دی جا رہی ہیں۔۔۔

کل ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا کہ اب بچنے کی کوئی امید نہیں۔۔۔ سوائے کسی معجزے کے۔۔۔ جوں ہی وینٹی لیٹر اتارا تو امی اللہ کو پیاری ہو جائیں گی۔۔۔

میری ماں۔۔۔ میں ان کا سب سے بڑا مجرم۔۔۔ ایسا مجرم۔۔۔ جس کو انہوں نے سب سے زیادہ پیار کیا۔۔۔ جس کی ہر کامیابی  ، ہر خوشی اور ہر غم ان کی ذات سے وابستہ تھا۔۔۔ کہہ لیجیے کہ میری سب سے اچھی دوست بھی میری ماں ہی تھی۔۔۔ میری کوئی بات ان سے چھپی نا تھی۔۔۔ میں نے انہیں بہت تنگ کیا۔۔۔ بہت رلایا۔۔۔ لیکن میں ان کے لیے سب سے اچھا ہی تھا۔۔۔ سب بہن بھائی کہتے کہ امی صرف عمران کی سنتی ہیں۔۔۔ عمران کی ہی فکر کرتی ہیں۔۔۔  اور میں یہ جانتا مانتا بھی تھا۔۔۔

آج میری ماں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔۔۔ میں ان کے کمرے میں ان کے بستر کے سامنے بیٹھا یہ کہانی لکھ رہا ہوں۔۔۔ میری آنکھیں آنسووں سے بھری ہیں۔۔۔ مجھے بستر پر بیٹھی اپنی ماں اب بھی نظر آ رہی ہیں۔۔۔ میرا دل بوجھل ہے کہ شاید اب میں کبھی اپنی ماں سے بات نا کر پاوں۔۔۔ کبھی ان کی گود میں سر نا رکھ پاوں۔۔۔ کبھی ان کو تنگ نا کر سکوں۔۔۔ شاید اب میں کبھی ان کی دعائیں نا لے سکوں۔۔۔

میری ماں۔۔۔ کاش میری ماں مجھے واپس مل جائے۔۔۔ کاش۔۔۔  میں اپنا سب کچھ دے کر اپنی ماں کو واپس اس دنیا میں ہنستا کھیلتا لے آوں۔۔۔ کاش۔۔۔  میری چھت میرے سر پر ہمیشہ رہے۔۔۔ کاش میں صحیح معنوں میں یتیم نا ہو جاوں۔۔۔

سب دوستوں اور قارئین سے ان کی صحت کے لیے دعا کی درخواست ہے۔۔۔ کہ اللہ کوئی معجزہ دکھائے اور وہ بھلی چنگی ہو جائیں۔۔ جو بقول ڈاکٹروں کے اب ناممکن ہے۔۔۔ا

Advertisements

نفرتوں میں گهرا شخص

اپنے اردگرد پھیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں۔۔۔ چاہ کر بھی اپنی محبتیں سب میں پھیلا نہیں پایا۔۔۔ یہ خواہش کہ سب ایک دوسرے سے محبت کریں۔۔۔ میرے لیے۔۔۔ اپنے لیے۔۔۔ دوسروں کے لیے۔۔۔ اللہ کے لیے۔۔۔

محبت اتنا مشکل کام نہیں۔۔۔ جتنا سب نے بنا لیا ہے۔۔۔

مجھ سے نا سہی۔۔۔ میری خاطر ہی سہی۔۔۔ ایک دوجے سے محبت کر لو۔۔۔ میری خاطر بھی نا سہی۔۔۔ تو اللہ واسطے ہی اپنی بدگمانیاں، تلخیاں اور نفرتیں مٹا دو۔۔۔

کیا لے جائیں گے اس دنیا سے۔۔۔ نفرت۔۔۔!!! تلخیاں۔۔۔!!! بدگمانی۔۔۔!!!

نفرت کرو گے تو نفرت پاو گے۔۔۔

محبت کا بدلہ محبت اور عزت کے بدلے عزت پاو گے۔۔۔

گر بانٹ سکتے ہو تو محبت بانٹو۔۔۔ نفرت کسی کام نا آئے گی۔۔۔

محبت دعا کی صورت حساب آسان کر دے گی۔۔۔ اور نفرت دنیا کو بھی عذاب بنا دے گی۔۔۔

ایک دوسرے کو معاف کر دو۔۔۔ دل سے۔۔۔ معاف کر کے۔۔۔ معافیاں مانگ کر۔۔۔ خود کو صاف کر لو۔۔۔ دل کے داغ مٹا دو۔۔۔ اپنے لیے نا سہی۔۔۔ تو میرے لیے۔۔۔ اللہ کے لیے ہی سہی۔۔۔

میں اپنے اردگرد پھیلی نفرتوں سے اکتا گیا ہوں۔۔۔ چاہ کر بھی اپنی محبتیں سب میں پھیلا نہیں پایا۔۔۔


محبّت عذاب جان ہوتی ہے

محبّت جیت ہوتی ہے مگر ہار جاتی ہے…
کبھی دل سوز لمحوں سے…
کبھی بیکار رسموں سے…
کبھی تقدیر والوں سے…
کبھی مجبور قسموں سے…
کبھی یہ خواب ہوتی ہے…
کبھی بیتاب ہوتی ہے…
کبھی یہ ڈرجاتی ہے…
کبھی یہ مر  جاتی ہے…
محبّت جیت ہوتی ہے…
مگر یہ ہار جاتی ہے…

"نہیں … تم غلط که رہے ہو…محبّت نہ تو ہار سکتی ہے اور نہ ہی مر سکتی ہے… مگر… ادھوری ضرور رہ سکتی ہے… جس نے بھی محبّت کی ہے… جیت اسی کی ہوتی ہے… اور جو محبّت سمجھ نہ سکے… اس کی ہار ہوتی ہے… محبّت میں جو مٹ گیا… جیت اسی کی ہوتی ہے… اور جس نے محبّت کو تباہ کیا… اس کی ہار ہوتی ہے… اور لسٹ لمبی ہو جاےگی اگر میں نے گننا شروع کر دیا… تو بہتر ہے کہ میں یہیں خاموش ہو جاؤں… یہ میری سوچ ہے… شاید تم اتفاق نہ کرو…”

محبّت خواب ہوتی ہے…
محبّت بات ہوتی ہے…
جو کوئی پوچھ بیٹھے تو محبّت راز ہوتی ہے…
مچلتی ہویی امنگوں کا سہانا ساتھ ہوتی ہے…
جو کوئی ڈھونڈنا چاہے تو یہ نایاب ہوتی ہے…
محبّت پھول ہے شاید…
غموں کی دھول ہے شاید…
چمکتی رات ہے شاید…
کسی کی یاد ہے شاید…
محبّت پرسکون بھی ہے…
مگر بیتاب ہوتی ہے…
اگر مل نہ سکے تو…
پھر عذاب جان ہوتی ہے…

"سنو… یہ تو بتا دو کہ تمہارے نزدیک محبّت ہے کیا چیز…؟”

"آہ… بات یہ ہے کہ محبّت ہوتی تو  ایک جیسی ہے لیکن ہر کوئی کرتا  اپنے طریقے سے ہے… محبّت کی خوبصورتی ہر کوئی اپنے طور پر بیان کرتا ہے… اپنے لفظوں میں… اپنے خیالات کے مطابق… اور یہی بات یہ ثابت کرتی ہے… کہ کوئی بھی محبّت کے حقیقی معنی نہیں بیان کر سکتا… شاید محسوس تو کر لے لیکن بیان کرنا مشکل ہے… محبّت تو ایک احساس ہے…  جو ہمارے دماغ تک ایک تار کے ذریے پہنچتا  ہے… اور وہ تار ہمارے دل سے نکلتا ہے… اور  جس کے سامنے کوئی لوجیک کام نہیں کرتی…خیر یار… اگر احساس پاکیزہ ہو تو اسے بیان کرنا  یا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا…”

"محبّت ایک جنگ ہے یار… فرق صرف یہ ہے… کہ اگر جیت جائے تو میری بھی جیت ہے اور تمہاری بھی… اور اگر ہار جائے… تو جیتے گا صرف ہم میں سے کوئی ایک… اور ہاں محبّت مر نہیں سکتی… یہ جنگ ہمیشہ جاری رہے گی… جب تک دنیا باقی ہے… تب تک… کوئی نہ کوئی تباہ ضرور ہوتا رہے گا…”

اور کیا  تم مجھے سمجھا سکتے ہو… کہ محبّت میں کھو دینے اور ہار جانے میں کیا فرق ہے… تمہارے خیال میں کیا اپنی محبّت کو نہ پانا یا پا کر کھو دینا، محبّت کی شکست ہوتی ہے؟ اگر اپنی پوری زندگی میں تم کبھی اکیلے میں… یا پھر ایک ہجوم میں ہی صحیح… تم نے اپنے خواب خیال میں صرف اپنی کھوی ہویی محبّت کو ہی پایا ہو… یا کسی اور کی ہی کوئی بات تمہے اپنے محبوب کی یاد دلا دے… تو وہ ایک لمحہ ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے… کہ محبّت ہار نہیں سکتی… خیر یار تم مانو یا نہ مانو… میرا دل یہی کہتا ہے کہ محبّت ہار نہیں سکتی… "

"وہ رات ہر طرح سے مجھ پر بہت بھاری تھی… اس رات میں نے بہت  کچھ لکھا… میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ آج تک میں نے جو لکھا ہے وہ تمہارے سپرد کر جاؤنگی… تب مان لوگے کہ محبّت ہار نہیں سکتی… کیونکے تب مجھ سے اور بہت پیار ہو جاےگا… اور میرے نا ہوتے ھوے بھی میری محبّت کا احساس ہر پل… ہماری جیت کا احساس دلا یگا… دیکھ لینا… کچھ دن پہلے تم نے کہا تھا کہ محبّت میں اثر نہیں ہے… تو جواب میں میں نے کہا تھا کہ ایک دن ضرور ہوگا… شاید وہ بات سچ بھی ہے… کیونکے میں نے رو کر… تڑپ کر یاد کیا… مگر شاید تمہیں احساس ہی نہ ہوا… کیونکے میں جانتی ہوں کہ اگر احساس ہو جاتا میری تکلیف کا… تو خود کو نہ روک پاتے اور اگلے ہی لمحے مرے پاس ہوتے…”

میں ہار گیا ہوں…….. لیکن میری محبّت نہیں ہاری……… میری محبّت میری گور میں مرے ساتھ ہی جاےگی……… کیونکے میں ہار گیا ہوں… لیکن میری محبّت نہیں ہاری………..

(Earlier posted on my blog in November 2010)


یادیں

یہ بھی نہیں کہ۔۔۔

میں یاد نا آوں۔۔۔

میں یاد تو آونگا۔۔۔

جب بھی محبت کی بات چلے گی۔۔۔

کچھ کہنے لگو گی۔۔۔

کچھ لکھنے لگو گی۔۔۔

تو ایسے میں لمحے بھر کو۔۔۔

یاد کے دروازے پر اک دستک ہوگی۔۔۔

ٹھٹک کر رک جاو گی۔۔۔

سوچو گی۔۔۔

دل دھڑک جائے گا۔۔۔

میرا نام لب پر آیگا۔۔۔

آنکھ نم ہو جائے گی۔۔۔

سر جھٹک کر۔۔۔

بامشکل مسکراو گی۔۔۔

پھر سے مجھے بھول جاو گی۔۔۔

مگر ہاں۔۔۔ اتنا تو ہوگا۔۔۔

تم کچھ بھی کہہ نا پاو گی۔۔۔

کچھ لکھ نا پاو گی۔۔۔

لمحہ بھر ہی سہی۔۔۔

میری محبت سے۔۔۔

ہار جاو گی۔۔۔

 


ایک پنجابی اور کراچی والے

پنجابی اور وہ ایم بی اے کی کلاس میں پہلی دفعہ ملے تھے۔۔۔ اور دونوں شدید محبت کرنے لگے۔۔۔ وہ کراچی کی تھی۔۔۔ اور بہت اچھی تھی۔۔۔ اتنی اچھی کہ پنجابی اس کے عشق میں گرفتار ہوتا ہوتا اس حد تک پہنچ گیا کہ پنجابی کے دل بھی بس اسی کے نام سے دھڑکتا تھا۔۔۔ دونوں نے بہت خواب دیکھے۔۔۔ بہت خوبصورت خواب۔۔۔ ایک دوجے کے ساتھ زندگی گزارنے کے خوبصورت خواب۔۔۔ ایک دوجے کا ہاتھ تھامے زندگی کے ہر لمحے کومزید خوبصورت بنانے کے خواب۔۔۔

پنجابی نے کبھی نا سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کراچی کی ہے۔۔۔ اور اس کے دل و دماغ میں پنجابی کے "پنجابی ” ہونے کا کوئی تصور نہیں تھا۔۔۔ بس دونوں ایک دوجے کی محبت اور ساتھ میں ڈوبتے ہی چلے گئے ۔۔۔

پنجابی کا آفس اس کے آفس سےصرف ایک کلومیٹر دور تھا۔۔۔ ہر شام دونوں کام ختم کرنے بعد ، رستے میں موجود ایک کفتیریا کے باہر اپنی اپنی گاڑیاں کھڑی کرتے اور چائے پیتے۔۔۔ چائے کی چسکیاں بھرتے، دونوں کی نظریں ٹکراتی رہتی لیکن لب کم ہی ہلتے تھے۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ دونوں کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔ بس نظروں کا اٹھنا، جھکنا اور ایک دوسرے سے ٹکرانا ہی ساری گفتگو تھی۔۔۔

چائے ختم ہوتے ہی، دونوں اللہ حافظ کہہ کر اپنے اپنے گھر کی جانب روانہ ہو جاتے۔۔۔ لیکن گھر پہنچتے پہنچتے موبائل پر پھر سے رابطہ ہوتا اور وہ ساری باتیں کی جاتی جو آمنے سامنے کہہ نا پاتے۔۔۔

ساری ساری رات فون پر دل کے احوال کہے اور سنے جاتے۔۔۔ کئی بار لنچ یا ڈنر کے لیے بھی باہر جاتے۔۔۔ اتنے قریب اور تنہا ہونے کے باوجود ، پنجابی نے کبھی اسے ہاتھ تک نا لگایا، کہ پنجابی کو اس کی عزت اور عصمت کی بہت فکرتھی۔۔۔

پھر اچانک، اس کے گھر والوں کی ضد نے اس کی اور پنجابی کی زندگی اجاڑ دی۔۔۔ اور دونوں اپنے خواب کھو بیٹھے۔۔۔ اس کی منگنی طے کر دی گئی۔۔۔ پنجابی پر یہ خبر قہر بن کر گری۔۔۔ اور قریب تھا کہ پنجابی اپنے حواس کھو بیٹھتا۔۔۔ پنجابی نے بہت سوچ کر اسے، ہر قسم کے وعدوں اور قسموں سے آزاد کیا اور اسے تلقین کی کہ وہ اپنے والدین کے فیصلوں کو خوشی سے قبول کرے اور اپنے نئے ہمسفر کے ساتھ بھی وفا کرے۔۔۔

کچھ ہی عرصے میں اس کا رویہ پنجابی سے بلکل بدل گیا ۔۔۔ اور اب وہ پنجابی کو حد درجہ نظر انداز کرنے لگی۔۔۔ پنجابی جو دل کو اب تک سمجھا رہا تھا، اس نظر اندازی کو برداشت نا کر پایا۔۔۔ وہ اس کے سامنے رویہ گڑگڑایا کہ کم از کم دن میں ایک بار چند لمحوں کے لیے ہی سہی ، لیکن اپنی آواز تو سنا دے۔۔۔ کہ شاید اس کی آواز ہی پنجابی کا آخری سہارا تھی۔۔۔ لیکن وہ اپنے منگیتر کے ساتھ مصروف ہوتی گئی۔۔۔۔ اور پنجابی کو ایک ہمیشہ کے لیے محبت کے جہنم میں ڈھکیل گئی۔۔۔ اب پنجابی ہمیشہ جلتا اور کڑھتا رہتا ہے۔۔۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کس نے چھوڑا، "اس” نے یا "محبت” نے۔۔۔ پنجابی اب بھی اس سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔۔۔ لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ اب اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے ۔۔۔ اور پنجابی کی دسترس میں بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی، وہ اب تک "اس” کی عزت کی حفاظت کر رہا ہے۔۔۔

_____________________________________

وہ پنجابی کے سامنے بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔۔۔ اس کے ویزٹ ویزے کے خاتمہ میں بس دس دن رہ گئے تھے اور اسے نوکری کی اشد ضرورت تھی۔۔ اور وہ کراچی واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔۔۔ پنجابی اس کی ریزومے کو بغور پڑھ رہا تھا۔۔۔

چند دن پہلے ہی پنجابی نے اپنے "پرچیزر” کو نکالا تھا۔۔۔ اور کام کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا تھا۔۔۔ پنجابی نے اس کمپنی کے لیے خون پسینہ بہایا تھا ۔۔۔ کینیڈا کے مالک پنجابی پر بہت اعتماد کرتا تھا۔۔۔ پنجابی نے دن رات کی محنت سے اس کمپنی کو صحرا سے اٹھا کر 15 ملین ڈالر کی کمپنی بنا دیا تھا۔۔۔ پنجابی پاکستان سے بہت محبت کرتا تھا۔۔۔ سٹیل فیبریکیشن کی کمپنی میں پاکستان سے 150 ویلڈر اور فیبریکیٹر منگوائے ، انہیں اچھی تنخواہیں دیں، ہر طرح کی سہولت دی۔۔۔ پاکستان سے آنے والے محنت کشوں میں 70 صرف کراچی سے تھے۔۔۔ سارے ملازم پنجابی سے شدید محبت کرتے تھے اور اسے اپنا مائی باپ سمجھتے تھے۔۔۔ پنجابی کی عادت ہی محبت کرنا اور دوسروں کے کام آنا تھا۔۔۔

پنجابی کو دو ہفتے بعد چھٹی پر پاکستان جانا تھا۔۔۔ ریزومے پڑھتے ہی پنجابی نے "اس” کی جانب دیکھا اور کہا، "یو آر ہائرڈ۔۔۔ کل سے آفس آ جاو۔۔۔ اپاونٹمنٹ لیٹر ہیومن ریسورس آفس سے لے لو۔۔۔ میں ابھی وہاں فون کر دیتا ہوں۔۔۔ ” اس نے پنجابی کا شکریہ ادا کیا اور جنرل مینیجر کے آفس سے نکل گیا۔۔۔

دو ہفتے میں اس نے اپنی محنت سے ثابت کر دیا کہ پنجابی نے اسے پرچیزر رکھ کر کوئی غلطی نہیں کی۔۔۔ اور وہ سیکھنے کی بہت لگن رکھتا ہے۔۔۔ پنجابی اپنا کام مختلف ڈیپارٹمنس کو سونپ کر چھٹی پر چلا گیا۔۔۔ یہ چار سال میں اس کی پہلی چھٹی تھی۔۔۔ اور وہ بھی صرف ایک ماہ کے لیے۔۔۔

ایک ماہ کے آرام کے بعد پنجابی واپس آیا۔۔۔ تو اس نے آفس کا ماحول میں واضح تبدیلی محسوس کی۔۔۔ کمپنی کا مالک بھی پنجابی سے اس گرم جوشی سے نا ملا ، جیسے وہ پہلے ملتا تھا۔۔۔ کچھ وفادار ملازم ایک شام اس سے باہر ملے اور اس تبدیلی کی وجہ بیان کی۔۔۔ بقول ان کے، "اس” نے پنجابی کے پاکستان جاتے ہی مالک سے میل جول بڑھانا شروع کر دیا۔۔۔ اور زیادہ وقت اس کے زاتی کام کرنے میں گزارتا تھا۔۔۔ اور کئی بار لوگوں نے مالک سے اسے پنجابی کی برائیاں کرتے بھی سنا۔۔۔ مالک جو شاید کچے کان کا تھا، اسے پنجابی سے متنفر ہونے میں زیادہ وقت نا لگا۔۔۔ اس نے مالک کو یقین دلا دیا کہ وہ ملازمین کی تنخواہیں کاٹ کر یا کم کر کے منافع میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔۔۔ پنجابی اس پلان کے آڑے آ گیا۔۔۔ وہ محنتی ملازمین کو ان کی محنت کے مطابق تنخواہ دینے کا حامی تھا۔۔۔ کئی بار پنجابی نے اسے اپنے آفس بلا یا تاکہ وہ اسے ان حرکات سے باز رکھ سکے۔۔۔ لیکن وہی شخص ، جو نوکری حاصل کرنے کے لیے پنجابی کے سامنے آنسو بہا رہا تھا، اس نے پنجابی کی ہر بات سننے سے انکار کر دیا اور پیغام بھیج دیا کہ پنجابی اسے جو بھی کہنا چاہتا ہے، مالک کے توسط سے کہہ دے۔۔۔

یوں کام کرنا پنجابی کے لیے عذاب بن گیا، اور چھ ماہ بعد پنجابی نے اس کمپنی سے استعفیٰ دے دیا، جس کو اس نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا۔۔۔

_________________________________________

ایک شام پنجابی اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا، اپنی محبت کی بے وفائی اور نوکری چلی جانے کی روداد سنا رہا تھا۔۔۔ دوست نے سرد آہ بھری اور اسے کہا ۔۔۔ "یار کراچی کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں، بے وفا اور خودغرض۔۔۔ اب ان سے بچ کر رہنا۔۔۔” اس نے چونک کر اپنے دوست کی جانب دیکھا۔۔۔ اور پھر حیرت میں ڈوب گیا۔۔۔ اس نے تو کبھی ان سطور پر سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ شاید پہلے بھی کئی دوست اسے دغا دے گئے، ان میں سے بھی کئی دوست کراچی کے تھے۔۔۔ تو کیا سارے کراچی والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔؟

پنجابی کو تو نئی نوکری مل گئی، جو پہلی نوکری سے بھی اچھی اور پرسکون تھی۔۔۔ وہ اسی محنت اور محبت کے ساتھ پھر سے کام پر لگ گیا۔۔۔ لیکن جب کچھ لمحے سکون کے ملتے تو وہ خود سے سوال کرتا کہ آخر اس نے کیا گناہ کیا۔۔۔؟ کیا محبت، محنت، وفاداری، انسان پروری، اعتبار اور اعتماد گناہ ہیں۔۔۔؟ کیا اس نے یہ سب کر کے کچھ غلطی کی۔۔۔؟ کیا اب وہ ساری عمر ، ان خوبصورت لیکن تلخ یادوں سے پیچھا چھڑا سکے گا۔۔۔ ؟ کیا وہ پھر کسی پر اعتبار کر سکے گا۔۔۔؟ کیا جو کچھ اس کے ساتھ ہوا، ایسا کرنا "کراچی” والوں کی خصلت میں ہے۔۔۔؟

نہیں، سارے کراچی والے برے نہیں، اسے کاشی یاد آ جاتا۔۔۔ جو اس کا گہرا دوست ہے۔۔۔ اور ہر دوسرے ہفتے کراچی سے فون کر تا ہے۔۔۔ اور وہ اسے شدید محبت کرتا ہے۔۔۔ نہیں سارے کراچی والے برے نہیں ہوتے۔۔۔۔ یہ تو بس ایک تجربہ تھا، جو اسے ہونا ہی تھا۔۔۔

_________________________________________

کچھ دن پہلے ایک تحریر میں پنجاب اور پنجابیوں کی خصلتوں پر بہت کڑی تنقید کی گئی تھی۔۔۔ صاف ظاہر تھا کہ محترمہ میں کس حد تک تعصب ہے۔۔۔ میں پھر سوچنے پر مجبور ہو گیا۔۔۔ کہ میں تو ایک محدود دائرہ کا باسی ہوں۔۔۔۔ میرے دکھ اور میری ساری خوشیاں تو مجھ سے شروع ہو کر زیادہ سے زیادہ میرے والدین ، بیوی بچی اور بھائی بہنوں تک ہی محدود ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور میرے جیسے سادہ انسان بھی چند واقعات اور تجربات کی بنیاد پر کسی ملک، مذہب اور ثقافت پر اپنی اچھی یا بری رائے قائم کر سکتا ہے۔۔۔ تو پھر میں پاکستان کے ہر شہر، ہر صوبے، ہر زبان سے یکساں محبت کیوں کرتا ہوں۔۔۔ جبکہ مجھے بھی اپنے پاکستانی بھائیوں سے ہی کوئی دھوکے ملے ہیں۔۔۔ جب میرے ساتھ کوئی برا کرتا ہے تو کیوں یہ نہیں سوچ پاتا کہ کسی کراچی یا سندھی نے میرے ساتھ برا کیا۔۔۔ یا پنجابی، بلوچی اور پٹھان نے مجھے دھوکہ دیا۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ کیوں مجھ میں ایسا تعصب نہیں ہے۔۔۔ جیسا کہ محترمہ اپنی ہر دوسری تحریر میں زہر کی صورت نکالتی ہیں۔۔۔

بڑا شکر کرتا ہوں اللہ کا، کہ اللہ نے مجھے متعصب نہیں بنایا۔۔۔ سب سے محبت کرنے والا اور اپنے مذہب و ملک سے حد درجہ محبت کرنے والا بنایا۔۔۔

 


%d bloggers like this: