Tag Archives: پاکستان

کوئی شرم حیا ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے – حصہ دوم

مصنف: ZAF / مانوبلی

پہلاحصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

کافی دن سے چند موضوعات سوچوں کا محور بنے ہوئے تھے۔ وقت اور دھیان نہ ہونے کے سبب انہیں تحریری شکل نہیں دے پا رہی تھی۔ ان موضوعات میں سرِ فہرست بینظیر کے خلاف قومی اسمبلی میں لائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کی سازش جو ‘آپریشن مڈنائٹ جیکال’ کے نام سے مشہور ہوئی اور سیاست میں ‘چھانگا مانگا سیاست’ جیسی اصطلاحات جس کے موجد شریف برادران ہیں، کی تفصیلات تھیں لیکن آج تحریکِ انصاف کے ایک رکن اسمبلی رائے حسن نواز کو اثاثے چھپانے کی پاداش میں تاحیات پابندی کی سزا سنائی گئی تو انصاف کے اس ننگے کھیل نے مجھے میرا موضوع بدلنے پر مجبور کردیا۔ 

گورنمنٹ کالج لاہور سے تھرڈ ڈویژن میں گریجویشن کرنے کے بعد اور کئی پیشوں میں ناکامی کے بعد جب نواز شریف قبلہ سن ۸۱ میں ضیاالحق کی مہربانی اور ابا جی کی ڈپلومیسی کے بل بوتے پر پنجاب کے وزیرِ خزانہ بنے تو پاکستان کا وہ آئین معطل تھا جس کی دہائیاں دے دے یہ اور ان کے حواری خود کو جمہوری ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ 

وزیرِ خزانہ کے خاندان کے اس وقت کے اثاثہ جات اور آمدنی محض چند لاکھ روپے تھے اور یہ ایک رولنگ مل کے مالک تھے۔ یہاں سے انکی ترقی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ نواز شریف کی ڈوریاں انکے شاطر دماغ ابا جی ہی ہلاتے تھے۔

اقتدار کے ایوانوں تک انکی رسائی ہوتے ہی اتفاق فاؤنڈری اتفاق گروپ آف کمپنیز بنتی چلی گئی اور یہ نام نہاد جدّی پشتی رئیس ملکی خزانے کو لوٹنے کی تاریخ رقم کرتے گئے۔ ۸۵ کے ڈھونگی انتخابات میں نواز شریف جیسے کئی سیاسی یتیم لوگ اسمبلیوں میں پہنچے تھے۔ نواز شریف کیونکہ فوجیوں کے نہایت تابعدار تھے اسلئے قرعہ فال انکے نام نکلا اور یہ اس وفاداری کے عوض وزیرِاعلی پنجاب لگا دیا گیا۔ انکے اثاثے کب کب رجسٹر ہوئے یہ سب ریکارڈ پر ہے۔

1982 میں اتفاق شوگر مل، 1983 میں برادرز سٹیل، 1985 میں فاروق برکت پرائیویٹ لمیٹڈ، 1986 میں برادرز ٹیکسٹائل اور برادرز شوگر مل،1987 میں  اتفاق ٹیکسٹائل یونٹس اور رمضان بخش ٹیکسٹائلز، 1988 میں خالد سراج ٹیکسٹائل وغیرہ۔ 

یہ تمام اثاثے حکومت سے قرضے حاصل کرکے بنائے گئے جنہیں بعد میں ضیاالحق سے معاف کروا لیا گیا۔

بینظیر کے پہلے دور میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جب معاف کیئے گئے قرضوں کی تفصیلات کھنگالیں تو گجرات کے چوہدری بائیس  اور نواز شریف کا خاندان کا اکیس بلین روپے کا دہندہ تھا جسے ضیاالحق معاف کر چکا تھا۔ اس بات کی تصدیق کیلئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ۱۹۸۹ کا ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے۔ 

ضیاالحق کے مرنے تک شریفوں کی کل سالانہ آمدنی تین ملین ڈالر ہو چکی تھی لیکن ٹیکس دینے کا کہیں کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ 

اسی کی دہائی کے اختتام تک یہ آمدنی چھ بلین روپے سے زائد ہو چکی تھی۔ انکے اپنے بیان کے حساب سے بھی یہ آمدنی ۳۵۰ ملین ڈالر تھی اور ٹیکس زیرو۔ 

یہ اثاثے اور آمدنی صرف وزیرِ اعلی بننے تک کے ہیں ۔ قومی خزانے میں  جو ڈاکے نواز شریف نے وزیرِاعظم بننے کے بعد مارے انکی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسلم کمرشل بینک کی پرائیویٹائزیشن اور میاں منشا کے ساتھ مل کر لوٹ مار صرف ایک ایسا کیس ہے جسے سن کر ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جانا چاہیئے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیرِاعظم بننے کے بعد یہ ملکی اور کسٹم قوانین کو اپنی سہولت کے حساب سےجب جی چاہتا بدل دیتے. 

مثال کے طور پر اپنی کرپشن اور احتساب سے بچنے کیلئے احتساب ایکٹ میں ترمیم کرکے اسے 1985 کی بجائے 1990 سے نافذالعمل کیا تاکہ پنجاب میں کرپشن کا جو بازار انہوں نے گرم کیا اس پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔ 

یہ سب documented facts ہیں اور کوئی بھی چیز میری ذہنی اختراع نہیں ہے۔ وزارتِ عظمی کی کرپشن اگلی دفعہ لکھوں گی لیکن پڑھنے والے خود فیصلہ کریں کہ تاحیات پابندی اگر رائے نواز پر اثاثے ظاہر نہ کرنے پر لگائی گئی ہے تو ملک لوٹنے والوں کے پاس اسکا اخلاقی اور قانونی جواز ہے؟ انصاف سب کیلئے مساوی کیوں نہیں ہے؟

 برادری ووٹ پر پلنے والی ان جونکوں سے پاکستان کو نجات تب ملے گی جب ہم ان سے سوالات کرنا شروع کرینگے ورنہ ہم انکے اور ہماری اولاد انکی اولادوں کی غلامی ہی کرتے مر جائینگے اور خاکمِ بدہن نجانے یہ ملک بھی بچے گا یا نہیں۔ 


سوال تو بنتا ہے…

سوال تو یہ ہے جناب کہ چار سال بعد اچانک ملک صاحب کو میاں صاحب کی 32 ملین ڈالر کیسے یاد آ گئے۔۔۔

سوال تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میاں صاحب کو چار سال زرداری اور ٹولے کی کرپشن کیوں یاد نا آئی۔۔۔ اور اچانک ہی الیکشن سے پہلے زرداری مداری کیسے بن گیا۔۔۔؟

سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ مفاہمت کی سیاست کس کی اور کس سے مفاہمت کا نام ہے۔۔۔؟

سوال تو آخر پوچھنا ہی ہے کہ گیلانی آخر کب تک سپریم کورٹ  کو ذلیل کرتا رہے گا اور آخر کب تک سپریم کورٹ اپنی بے عزتی برداشت کرتی رہے گی۔۔۔ اور پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ بے عزتی برداشت کرنے کے علاوہ، سپریم کورٹ کر بھی کیا سکتی ہے۔۔۔؟

سوال پر سوال یہ کہ پچھلے تین دن سے گیلانی اور سپریم کورٹ آپس میں توُ توُ میں میں کو لے کر بے حد مصروف ہیں۔۔۔ تو وزیر اعظم صاحب جو خود کو پاکستان سے زیادہ زرداری کا وفادار ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔۔۔ انہیں لیاری میں خانہ جنگی کیوں نہیں نظر آ رہی۔۔۔

اور سب سے بڑا سوال یہ کہ طالبان، تحریک طالبانِ پاکستان یا "دہشتگردوں” کو مارنے اور دہشت پھیلانے کے لیے عام عوام ہی کیوں نظر آتے ہیں۔۔۔ سیاستدان ان کی رسائی سے دور کیوں ہیں۔۔۔

سوال پر سوال۔۔۔ سوال پر سوال۔۔۔  یہ سوال ختم ہی نہیں ہوتے جج صاحب۔۔۔ سوال تو تب ختم ہوں نا جب پہلے سوالوں کا جواب مل جائے۔۔۔

اور اب بھی اگر سوال پڑھ کر دل نا بھرا ہو۔۔۔ تو اپنے سوال یہاں لکھ دیں۔۔۔ کوئی اللہ کا بندہ شاید ان کے جواب ہمیں دے دے۔۔۔


ننگا پاکستان

نیٹو سپلائی پھرسے کھول دی گئی۔۔۔وینا ملک صاحبہ ، جو بمع اہل و عیال نوی نوی "تحریکِ انصاف” میں شامل ہوئی ہیں۔۔۔ نے نیٹو سپلائی کی اجازت دوبارہ ملنے پر بیان دیا کہ میں تو صرف اپنے کپڑے اتارتی ہوں لیکن سیاستدانوں نے تو پورے پاکستان کو ننگا کر دیا۔۔۔ لیجیے صاحب، یہ کون سی بات ہوئی۔۔۔ پاکستان تو کب کا ننگا  ہو چکا۔۔۔ عوام کے لیے ننگا ہونا تو اب کچھ بھی مشکل نہیں رہا۔۔۔  کوئی بھی بازار ہی لیجیے کہ کسی بھی خاتون کو مرد حضرات اپنی نگاہوں سے ہی ننگا کر دیں گے۔۔۔ تو ثابت یہ ہوا کہ ننگا ہونا کوئی ننگی بات نہیں رہی۔۔۔

کل ایک دوست سے سکائپ پر ویڈیو چیٹ ہو رہی تھی تو فرمانے لگے کہ عمران خان آوے ہی آوے۔۔۔ بلکہ آ چکا۔۔۔ میں نے کہا، کہاں آیا۔۔۔ اور نا ہی اس کے آنے کا کوئی بھی امکان ہے۔۔۔ دوست صاحب برا مان گئے کہ ہم منفی سوچ کے حامل لگتے ہیں، اسی لیے عمران خان کی مخالفت کر رہے ہیں۔۔۔ میں نے کہا بھیا، ہم عمران خان کرکٹ کپتان کے ہی نہیں بلکہ عمران خان سیاستدان کے بھی بڑے فین ہیں۔۔۔ ہمیں ان کے دکھائے ہوئے خواب(جو شاید ہماری عمر میں تو پورے نہیں ہوں گے) بڑے بھاتے ہیں۔۔۔  لیکن حقیقت کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔۔۔  کہ عمران خان ہمیں کافی سیدھا لگتا ہے۔۔۔ جبکہ ہمارے دیگر مایہ ناز اور تجربہ کار سیاستدان "سیاست” کو ایک گندا کاروبار بنا چکے ہیں۔۔۔ اس کاروبار  / سیاست  کو ایمانداری سے چلانا  بڑا مشکل ہے۔۔۔  اور اس گندے کاروبار کو چمکانے میں ہماری عوام کا  سو فیصد حصہ ہے۔۔۔  جس قوم کے  صدر سے لے کر فقیر تک کے  خون اور  فطرت  میں کرپشن  اور بے ایمانی ہو، وہاں ایک سیدھا سادہ عمران خان کیا خاک انقلاب برپا کرے گا۔۔۔ کیا خاک اپنے خوابوں کو پورا کرے گا۔۔۔  وہ عوام جو پانچ سو روپے میں اپنی  زندگی کے پانچ سال  اور کچھ اچھا کرنے کے مواقع بیچ دے۔۔۔ وہ کیا خاک عمران خان کو ووٹ دیں گے۔۔۔ کیا خاک ایمانداری کو موقع دیں گے۔۔۔

خیر  تو بات ہو رہی تھی کہ نیٹو سپلائی پھر سے کھول دی گئی۔۔۔ یار لوگ فیس بک اور ٹوئیٹر پر بڑے طعنے مار رہے ہیں حکومت کو۔۔۔ مارنے بھی چاہیے ۔۔۔ لیکن یار لوگوں کی سادگی پر بھی افسوس ہوتا ہے۔۔۔ کہ اب ایسا بھی  کیا نیا ہوا کہ پھر سے اداس ہو کر بیٹھ گئے۔۔۔ یارو ریمنڈ ڈیوس کیس بھول گئے کیا۔۔۔  ڈاکٹر عافیہ کسی کو یاد نہیں کیا۔۔۔  چلو ایمل کانسی کیس تو میں یاد کرو ا ہی سکتا  ہوں۔۔۔  اور بھائیو، مستقل ڈرون حملوں کے بعدبھی آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس ننگا نا ہونے کی کوئی وجہ باقی ہے۔۔۔  بس محسوس اب ہوا ہے کہ ننگے ہیں۔۔۔ لیکن فکر نا کریں۔۔۔ ننگا ہونے کی شرم بھی کچھ دنوں میں چلی جائے گی۔۔۔ اور ننگا ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے، من الحیث قوم  اس کا بھی احساس انشاءاللہ جلد ہی ہو جائے گا۔۔۔  ہاں اجتماعی خودکشی آسان  کام ہے۔۔۔ کیونکہ انقلاب تو ہم لانے کے نہیں۔۔۔ خودکشی آسان طریقہ  فرار ہے۔۔۔


بلوچ، فوج اور غدار

یار یہ بلوچستان میں کیا ہو رہا  ہے۔۔۔؟

کیوں کیا ہوا۔۔۔؟

یار سنا ہے کہ وہاں بڑا ظلم ہو رہا ہے۔۔۔ کون کر رہا ہے یہ ظلم۔۔۔؟

کونسا ظلم ہو رہا ہے میرے بھائی۔۔۔ سب ٹھیک ہے وہاں۔۔۔

اچھا۔۔۔ یار اخبار میں آجکل بہت چھپ رہا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی بندے غائب کر رہی ہے۔۔۔  تشدد کرکے کسی اجاڑ میں لاش پھینک دیتی ہے۔۔۔ اور حد تو یہ کہ لاشیں مسخ بھی کر دیتی ہے۔۔۔

تمہیں کس نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی اس میں ملوث ہے۔۔۔ ؟

یار ہر بندہ یہی کہہ رہا ہے ۔۔۔

نہیں بھائی۔۔ بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔۔۔ اگر بھارت، اسرائیل اور امریکہ بلوچستان میں ہاتھ نا ڈالیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ فوج تو عوام کی حفاظت کر رہی ہے۔۔۔  یہ ممالک نہیں چاہتے کہ پاکستان میں امن ہو۔۔۔ اس لیے ان کے ایجنٹ قتل و غارت اور دہشت گردی کر رہے ہیں ۔۔۔

تو پھر ان دشمن ممالک کی دہشت گردی  اورغیر قانونی مداخلت روکنے کے لیے ہماری فوج اور حکومت کیا کر رہی ہے۔۔۔

یار۔۔۔ بہت سے دہشت گرد پکڑے ہیں فوج نے۔۔۔ ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔۔۔

ہممم۔۔۔ تو یہ سارے دہشت گرد جو پکڑے گئے ہیں۔۔۔ وہ بھارئی، اسرائیلی اور امریکی قومیت رکھتے ہیں۔۔۔۔!!!

نہیں یار۔۔۔ وہ بلوچی ہی ہیں۔۔۔ جو ان ممالک سے پیسے لے کر ان کے لیے کام کر رہے ہیں۔۔۔ ان کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔۔۔ قتل کرتے ہیں۔۔۔ اور نیا بلوچی ملک بنانے کے لیے ان ممالک سے پیسہ لیتے ہیں۔۔۔

تو کیا آج تک کوئی ثبوت ملا ۔۔۔ کسی سے کوئی غیر قانونی کرنسی ملی، کوئی نقشے ، کوئی اسلحہ۔۔۔؟

ہاں ملا نا۔۔۔ کئی بار ملا۔۔۔

تو کیا جتنے بندے پکڑے ہیں فوج نے وہ سارے کے سارے دہشت گرد ہیں۔۔۔؟

یار سارے نا بھی ہوئے تو کچھ تو ہونگے ہی نا۔۔۔

تو وہ جو پکڑے گئے اور تشدد کر کے مار دیے گئے۔۔۔ وہ دہشت گرد نا ہوئے تو۔۔۔؟؟؟؟ ان  کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ان کے باپ کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ان کے بیٹوں کا کیا قصور ہوا۔۔۔ان کے خاندان کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ؟ کیا اب وہ اس ناانصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے۔۔۔ اور کیا ان کی آواز کو دہشت گردی سمجھ کر پھر سے نہیں دبا دیا جائے گا۔۔۔  کیا ایک معصوم اور مظلوم شخص کا بیٹا اس ظلم کا بدلہ لینے نہیں اٹھے گا۔۔۔ اور کیا وہ دہشت گرد نہیں بن جائے گا۔۔۔؟؟؟

یار فوج تو اپنی ہے۔۔۔ جو کر رہی ہے ملک کی بہتری کے لیے کر رہی ہے۔۔۔ اب غلطیاں تو سب سے ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔

لیکن کیا یہ غلطیاں اتنی بھیانک نہیں۔۔۔ جو نفرتیں پھیلا رہی ہیں۔۔۔ جو قاتل کا ساتھ دے رہی ہیں۔۔۔ یہی تو ہمارے دشمن ممالک چاہتے ہیں۔۔۔ کیا اب ہماری عوام ہماری فوج پر بھروسہ کر سکتی ہے۔۔۔ اس فوج کا ساتھ دے سکتی ہے جو اپنی ہی عوام کے قتلِ عام میں ملوث ہے۔۔۔  وہ لوگ جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے الزام میں دھر لیے جاتے ہیں۔۔۔ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔۔۔ حق آواز بلند کرنے کی پاداش میں تشدد سہتے ہیں۔۔۔ لیکن جھکتے  نہیں اور قتل کر دیے جاتے ہیں۔۔۔  کیا ان کا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ نا انصافی کی داستانیں دنیا تک پہنچا سکیں۔۔۔ اور اپنی حکومت اور فوج کی بےمروتی اور بے وفائی دیکھتے ہوئے، مایوس ہو کر اپنے لیے ایک الگ ملک کا مطالبہ کر سکیں۔۔۔ کیا یہ بھی غلط ہے۔۔۔؟

یار تم تو غداروں والی باتیں کر رہے ہو۔۔۔ یہ کیسا ہو سکتا ہے کہ بلوچستان کو الگ کر دیں۔۔۔ وہ ہمارا صوبہ ہے۔۔۔ ہمیں محبت ہے اس صوبے سے۔۔۔

اچھا۔۔۔ میں غدار ہی ٹھرا۔۔۔ مارتے رہو معصوموں کو۔۔۔ بناتے رہو مزید دہشت گرد۔۔۔  لیتے رہو بد دعائیں۔۔۔ اس ملک کا اللہ ہی حافظ۔۔۔  


ایک پنجابی اور کراچی والے

پنجابی اور وہ ایم بی اے کی کلاس میں پہلی دفعہ ملے تھے۔۔۔ اور دونوں شدید محبت کرنے لگے۔۔۔ وہ کراچی کی تھی۔۔۔ اور بہت اچھی تھی۔۔۔ اتنی اچھی کہ پنجابی اس کے عشق میں گرفتار ہوتا ہوتا اس حد تک پہنچ گیا کہ پنجابی کے دل بھی بس اسی کے نام سے دھڑکتا تھا۔۔۔ دونوں نے بہت خواب دیکھے۔۔۔ بہت خوبصورت خواب۔۔۔ ایک دوجے کے ساتھ زندگی گزارنے کے خوبصورت خواب۔۔۔ ایک دوجے کا ہاتھ تھامے زندگی کے ہر لمحے کومزید خوبصورت بنانے کے خواب۔۔۔

پنجابی نے کبھی نا سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کراچی کی ہے۔۔۔ اور اس کے دل و دماغ میں پنجابی کے "پنجابی ” ہونے کا کوئی تصور نہیں تھا۔۔۔ بس دونوں ایک دوجے کی محبت اور ساتھ میں ڈوبتے ہی چلے گئے ۔۔۔

پنجابی کا آفس اس کے آفس سےصرف ایک کلومیٹر دور تھا۔۔۔ ہر شام دونوں کام ختم کرنے بعد ، رستے میں موجود ایک کفتیریا کے باہر اپنی اپنی گاڑیاں کھڑی کرتے اور چائے پیتے۔۔۔ چائے کی چسکیاں بھرتے، دونوں کی نظریں ٹکراتی رہتی لیکن لب کم ہی ہلتے تھے۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ دونوں کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔ بس نظروں کا اٹھنا، جھکنا اور ایک دوسرے سے ٹکرانا ہی ساری گفتگو تھی۔۔۔

چائے ختم ہوتے ہی، دونوں اللہ حافظ کہہ کر اپنے اپنے گھر کی جانب روانہ ہو جاتے۔۔۔ لیکن گھر پہنچتے پہنچتے موبائل پر پھر سے رابطہ ہوتا اور وہ ساری باتیں کی جاتی جو آمنے سامنے کہہ نا پاتے۔۔۔

ساری ساری رات فون پر دل کے احوال کہے اور سنے جاتے۔۔۔ کئی بار لنچ یا ڈنر کے لیے بھی باہر جاتے۔۔۔ اتنے قریب اور تنہا ہونے کے باوجود ، پنجابی نے کبھی اسے ہاتھ تک نا لگایا، کہ پنجابی کو اس کی عزت اور عصمت کی بہت فکرتھی۔۔۔

پھر اچانک، اس کے گھر والوں کی ضد نے اس کی اور پنجابی کی زندگی اجاڑ دی۔۔۔ اور دونوں اپنے خواب کھو بیٹھے۔۔۔ اس کی منگنی طے کر دی گئی۔۔۔ پنجابی پر یہ خبر قہر بن کر گری۔۔۔ اور قریب تھا کہ پنجابی اپنے حواس کھو بیٹھتا۔۔۔ پنجابی نے بہت سوچ کر اسے، ہر قسم کے وعدوں اور قسموں سے آزاد کیا اور اسے تلقین کی کہ وہ اپنے والدین کے فیصلوں کو خوشی سے قبول کرے اور اپنے نئے ہمسفر کے ساتھ بھی وفا کرے۔۔۔

کچھ ہی عرصے میں اس کا رویہ پنجابی سے بلکل بدل گیا ۔۔۔ اور اب وہ پنجابی کو حد درجہ نظر انداز کرنے لگی۔۔۔ پنجابی جو دل کو اب تک سمجھا رہا تھا، اس نظر اندازی کو برداشت نا کر پایا۔۔۔ وہ اس کے سامنے رویہ گڑگڑایا کہ کم از کم دن میں ایک بار چند لمحوں کے لیے ہی سہی ، لیکن اپنی آواز تو سنا دے۔۔۔ کہ شاید اس کی آواز ہی پنجابی کا آخری سہارا تھی۔۔۔ لیکن وہ اپنے منگیتر کے ساتھ مصروف ہوتی گئی۔۔۔۔ اور پنجابی کو ایک ہمیشہ کے لیے محبت کے جہنم میں ڈھکیل گئی۔۔۔ اب پنجابی ہمیشہ جلتا اور کڑھتا رہتا ہے۔۔۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کس نے چھوڑا، "اس” نے یا "محبت” نے۔۔۔ پنجابی اب بھی اس سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔۔۔ لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ اب اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے ۔۔۔ اور پنجابی کی دسترس میں بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی، وہ اب تک "اس” کی عزت کی حفاظت کر رہا ہے۔۔۔

_____________________________________

وہ پنجابی کے سامنے بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔۔۔ اس کے ویزٹ ویزے کے خاتمہ میں بس دس دن رہ گئے تھے اور اسے نوکری کی اشد ضرورت تھی۔۔ اور وہ کراچی واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔۔۔ پنجابی اس کی ریزومے کو بغور پڑھ رہا تھا۔۔۔

چند دن پہلے ہی پنجابی نے اپنے "پرچیزر” کو نکالا تھا۔۔۔ اور کام کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا تھا۔۔۔ پنجابی نے اس کمپنی کے لیے خون پسینہ بہایا تھا ۔۔۔ کینیڈا کے مالک پنجابی پر بہت اعتماد کرتا تھا۔۔۔ پنجابی نے دن رات کی محنت سے اس کمپنی کو صحرا سے اٹھا کر 15 ملین ڈالر کی کمپنی بنا دیا تھا۔۔۔ پنجابی پاکستان سے بہت محبت کرتا تھا۔۔۔ سٹیل فیبریکیشن کی کمپنی میں پاکستان سے 150 ویلڈر اور فیبریکیٹر منگوائے ، انہیں اچھی تنخواہیں دیں، ہر طرح کی سہولت دی۔۔۔ پاکستان سے آنے والے محنت کشوں میں 70 صرف کراچی سے تھے۔۔۔ سارے ملازم پنجابی سے شدید محبت کرتے تھے اور اسے اپنا مائی باپ سمجھتے تھے۔۔۔ پنجابی کی عادت ہی محبت کرنا اور دوسروں کے کام آنا تھا۔۔۔

پنجابی کو دو ہفتے بعد چھٹی پر پاکستان جانا تھا۔۔۔ ریزومے پڑھتے ہی پنجابی نے "اس” کی جانب دیکھا اور کہا، "یو آر ہائرڈ۔۔۔ کل سے آفس آ جاو۔۔۔ اپاونٹمنٹ لیٹر ہیومن ریسورس آفس سے لے لو۔۔۔ میں ابھی وہاں فون کر دیتا ہوں۔۔۔ ” اس نے پنجابی کا شکریہ ادا کیا اور جنرل مینیجر کے آفس سے نکل گیا۔۔۔

دو ہفتے میں اس نے اپنی محنت سے ثابت کر دیا کہ پنجابی نے اسے پرچیزر رکھ کر کوئی غلطی نہیں کی۔۔۔ اور وہ سیکھنے کی بہت لگن رکھتا ہے۔۔۔ پنجابی اپنا کام مختلف ڈیپارٹمنس کو سونپ کر چھٹی پر چلا گیا۔۔۔ یہ چار سال میں اس کی پہلی چھٹی تھی۔۔۔ اور وہ بھی صرف ایک ماہ کے لیے۔۔۔

ایک ماہ کے آرام کے بعد پنجابی واپس آیا۔۔۔ تو اس نے آفس کا ماحول میں واضح تبدیلی محسوس کی۔۔۔ کمپنی کا مالک بھی پنجابی سے اس گرم جوشی سے نا ملا ، جیسے وہ پہلے ملتا تھا۔۔۔ کچھ وفادار ملازم ایک شام اس سے باہر ملے اور اس تبدیلی کی وجہ بیان کی۔۔۔ بقول ان کے، "اس” نے پنجابی کے پاکستان جاتے ہی مالک سے میل جول بڑھانا شروع کر دیا۔۔۔ اور زیادہ وقت اس کے زاتی کام کرنے میں گزارتا تھا۔۔۔ اور کئی بار لوگوں نے مالک سے اسے پنجابی کی برائیاں کرتے بھی سنا۔۔۔ مالک جو شاید کچے کان کا تھا، اسے پنجابی سے متنفر ہونے میں زیادہ وقت نا لگا۔۔۔ اس نے مالک کو یقین دلا دیا کہ وہ ملازمین کی تنخواہیں کاٹ کر یا کم کر کے منافع میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔۔۔ پنجابی اس پلان کے آڑے آ گیا۔۔۔ وہ محنتی ملازمین کو ان کی محنت کے مطابق تنخواہ دینے کا حامی تھا۔۔۔ کئی بار پنجابی نے اسے اپنے آفس بلا یا تاکہ وہ اسے ان حرکات سے باز رکھ سکے۔۔۔ لیکن وہی شخص ، جو نوکری حاصل کرنے کے لیے پنجابی کے سامنے آنسو بہا رہا تھا، اس نے پنجابی کی ہر بات سننے سے انکار کر دیا اور پیغام بھیج دیا کہ پنجابی اسے جو بھی کہنا چاہتا ہے، مالک کے توسط سے کہہ دے۔۔۔

یوں کام کرنا پنجابی کے لیے عذاب بن گیا، اور چھ ماہ بعد پنجابی نے اس کمپنی سے استعفیٰ دے دیا، جس کو اس نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا۔۔۔

_________________________________________

ایک شام پنجابی اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا، اپنی محبت کی بے وفائی اور نوکری چلی جانے کی روداد سنا رہا تھا۔۔۔ دوست نے سرد آہ بھری اور اسے کہا ۔۔۔ "یار کراچی کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں، بے وفا اور خودغرض۔۔۔ اب ان سے بچ کر رہنا۔۔۔” اس نے چونک کر اپنے دوست کی جانب دیکھا۔۔۔ اور پھر حیرت میں ڈوب گیا۔۔۔ اس نے تو کبھی ان سطور پر سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ شاید پہلے بھی کئی دوست اسے دغا دے گئے، ان میں سے بھی کئی دوست کراچی کے تھے۔۔۔ تو کیا سارے کراچی والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔؟

پنجابی کو تو نئی نوکری مل گئی، جو پہلی نوکری سے بھی اچھی اور پرسکون تھی۔۔۔ وہ اسی محنت اور محبت کے ساتھ پھر سے کام پر لگ گیا۔۔۔ لیکن جب کچھ لمحے سکون کے ملتے تو وہ خود سے سوال کرتا کہ آخر اس نے کیا گناہ کیا۔۔۔؟ کیا محبت، محنت، وفاداری، انسان پروری، اعتبار اور اعتماد گناہ ہیں۔۔۔؟ کیا اس نے یہ سب کر کے کچھ غلطی کی۔۔۔؟ کیا اب وہ ساری عمر ، ان خوبصورت لیکن تلخ یادوں سے پیچھا چھڑا سکے گا۔۔۔ ؟ کیا وہ پھر کسی پر اعتبار کر سکے گا۔۔۔؟ کیا جو کچھ اس کے ساتھ ہوا، ایسا کرنا "کراچی” والوں کی خصلت میں ہے۔۔۔؟

نہیں، سارے کراچی والے برے نہیں، اسے کاشی یاد آ جاتا۔۔۔ جو اس کا گہرا دوست ہے۔۔۔ اور ہر دوسرے ہفتے کراچی سے فون کر تا ہے۔۔۔ اور وہ اسے شدید محبت کرتا ہے۔۔۔ نہیں سارے کراچی والے برے نہیں ہوتے۔۔۔۔ یہ تو بس ایک تجربہ تھا، جو اسے ہونا ہی تھا۔۔۔

_________________________________________

کچھ دن پہلے ایک تحریر میں پنجاب اور پنجابیوں کی خصلتوں پر بہت کڑی تنقید کی گئی تھی۔۔۔ صاف ظاہر تھا کہ محترمہ میں کس حد تک تعصب ہے۔۔۔ میں پھر سوچنے پر مجبور ہو گیا۔۔۔ کہ میں تو ایک محدود دائرہ کا باسی ہوں۔۔۔۔ میرے دکھ اور میری ساری خوشیاں تو مجھ سے شروع ہو کر زیادہ سے زیادہ میرے والدین ، بیوی بچی اور بھائی بہنوں تک ہی محدود ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور میرے جیسے سادہ انسان بھی چند واقعات اور تجربات کی بنیاد پر کسی ملک، مذہب اور ثقافت پر اپنی اچھی یا بری رائے قائم کر سکتا ہے۔۔۔ تو پھر میں پاکستان کے ہر شہر، ہر صوبے، ہر زبان سے یکساں محبت کیوں کرتا ہوں۔۔۔ جبکہ مجھے بھی اپنے پاکستانی بھائیوں سے ہی کوئی دھوکے ملے ہیں۔۔۔ جب میرے ساتھ کوئی برا کرتا ہے تو کیوں یہ نہیں سوچ پاتا کہ کسی کراچی یا سندھی نے میرے ساتھ برا کیا۔۔۔ یا پنجابی، بلوچی اور پٹھان نے مجھے دھوکہ دیا۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ کیوں مجھ میں ایسا تعصب نہیں ہے۔۔۔ جیسا کہ محترمہ اپنی ہر دوسری تحریر میں زہر کی صورت نکالتی ہیں۔۔۔

بڑا شکر کرتا ہوں اللہ کا، کہ اللہ نے مجھے متعصب نہیں بنایا۔۔۔ سب سے محبت کرنے والا اور اپنے مذہب و ملک سے حد درجہ محبت کرنے والا بنایا۔۔۔

 


بلاگنگ کا ایک سال

لکھنا شوق ہے۔۔۔ لیکن لکھنا آتا ہی نہیں تھا۔۔۔ اب بھی نہیں آتا۔۔۔ بس کوشش کرتا ہوں کہ اپنے الفاظ احباب تک پہنچا سکوں۔۔۔ بڑی مشکل سے پہلی تحریر لکھی۔۔۔ پھر دوسری اور پھر تیسری۔۔۔ اور آج اپنے بلاگ کے پورے ایک سال ہونے پر اپنی ترانویں تحریر لکھ رہا ہوں۔۔۔

سال ہوگیا بلاگنگ کرتے۔۔۔ پہلا تبصرہ "افتخار اجمل صاحب” کا تھا۔۔۔ جس نے مجھے مزید لکھنے کی رغبت دلائی اور ہمت افزائی کی۔۔۔ پھر کارواں بنتا رہا۔۔۔ اور آج بلاگرز کے جمِ غفیر میں مجھ ناچیز کو کوئی ایک لکھاری کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔۔۔

کیا کیا نا لکھا۔۔۔ مذہب پر اپنے جنون کا احوال، پاکستان کے بارے میں کچھ تجزیے، بلاگستان کے ماحول پر "پرمغز” تحاریر، کچھ اپنی ذاتی تجربات۔۔۔ اور کچھ فضول بندوں پر تنقید۔۔۔ کیا کیا نا لکھا۔۔۔!!!

اب ایسا لگ رہا ہے کہ لکھتے لکھتے الفاظ ہی ختم ہو گئے۔۔۔ کیا لکھوں، کیوں لکھوں، کس کے لیے لکھوں۔۔۔ کیا میرے الفاظ کی کچھ اہمیت ہے۔۔۔ کیا میرے الفاظ کسی کی سوچ بدل پائے ہیں۔۔۔ کیا میری تحاریر کسی ایک شخص کے لیے ہی معاون ہو پائی ہیں۔۔۔؟ اتنے سوال۔۔۔ اور حسب معمول، میرا کورا دماغ۔۔۔

بلاگنگ کا مقصد کیا ہے۔۔۔؟ کیا میں اپنی ذاتی سوچ اور تجربات کو قارئین کے ساتھ بانٹ سکتا ہوں۔۔۔ کیا میں اپنے مصائب دنیا کے سامنے لا سکتا ہوں۔۔۔ اور کیا دنیا میرے مصائب پر توجہ دے سکتی ہے۔۔۔؟ کیا مجھے میری مشکلات کے حل میرے مبصرین دے سکتے ہیں۔۔۔ ؟ پھر وہی بات۔۔۔ بلاگنگ کا صحیح مقصد میں سمجھ ہی نہیں پا رہا۔۔۔

کیوں لکھتا ہوں جب لکھتے ہوئے بھی سوچنا پڑتا ہے کہ زندگی کا فلاں پہلو، میری سوچ اور میرے نظریات دنیا کے سامنے لانے والے نہیں۔۔۔ خود تک چھپا کر رکھنا بہتر ہے۔۔۔ تو کیا فائدہ میرے لکھنے کا۔۔۔ جب کسی سے زبانی کہہ نہیں سکتا، اپنا آپ کسی سے بانٹ نہیں سکتا تو پھر لکھنے میں بھی "پراکسی” کیوں لگانی پڑ رہی ہے۔۔۔ کیوں میں کسی بھی طریقے سے خود کو دنیا کے سامنے نہیں رکھ پا رہا۔۔۔ کیوں لکھتے لکھتے، میرے الفاظ میرا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔

میں واقعی بلاگنگ کی صحیح روح کو سمجھ ہی نہیں پا رہا۔۔۔

ہاں بلاگنگ کا فائدہ کسی حد تک یہ ہوا کہ مجھے کچھ ایسے احباب مل گئے، جن سے دوستی کرنا ہی میرے لیے باعث فخر ہے۔۔۔ میرا دل چاہتا کہ کاش میں ان حضرات سے ملوں اور ان سے بہت کچھ سیکھوں۔۔۔ ان سے باتیں کروں اور ان کی باتیں سنوں اور سیکھتا رہوں۔۔۔

باتیں تو ایویں کی چلتی ہی رہتی ہیں۔۔۔ میں باتوں باتوں میں اپنے بلاگ کو سالگرہ مبارک کہنا نا بھول جاوں۔۔۔ تو اے میرے پیارے بلاگ، تو جیے ہزاروں سال۔۔۔ شیر لگا ایں سوہنیا۔۔۔

دل چاہ رہا ہے کہ اپنے بلاگ کے بارے میں کچھ اعدادوشمار آپ سے شئیر کروں۔۔۔ تو دل چاہے تو پڑھ لیں۔۔۔ نا چاہے تو نظر انداذ کر یں۔۔۔

22اگست 2010 سے 22 اگست 2011 تک:

کل تحاریر        :    93

کل تبصرے    :    770

بلاگ پڑھا گیا    :    تقریبا 13،000 مرتبہ

 


میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح


لوگ کہتے ہیں مجھے اکثر کہ میں
درد میں ڈوبی ہوئی آواز ہوں
آہ بن کر گونج اٹھے جو روح میں
بربطِ غم کا میں ایسا ساز ہوں

٭٭٭

کیوں نہیں لکھتا خوشی کے گیت میں
چیختی ہے کیوں میری یہ شاعری
ہوک سی اٹھتی ہے کیوں الفاظ سے
رو رہی ہے کیوں کہ فن کی بانسری

٭٭٭

میں غموں کا، آنسووں کا ترجماں
قہقہوں کی داستان کیا لکھوں
بہہ رہی ہیں آبشاریں خون کی
میں انہیں کیوں نور کا جھرنا لکھوں

٭٭٭

آرزووں کا، تمناوں کا خون!
خون خوابوں کے لٹے گلزاروں کا
قریہ قریہ دیکھتا ہوں ہر طرف
خون بھوکے مفلس و نادار کا

٭٭٭

مر رہے ہیں لوگ میرے سامنے
دندناتی پھر رہی ہیں وحشتیں
چیختی ہے آبرو مظلوم کی!
گونجتی ہیں ظالموں کی دہشتیں

٭٭٭

میں اس بستی کا باسی ہوں جہاں
جل رہے ہیں بھوک سے دیوار و در
حق جہاں ملتا نہیں حقدار کو
جو نہیں جھکتے، وہ کٹ جاتے ہیں سر

٭٭٭

میں بھی اس بستی کا باسی ہوں جہاں
حکمراں بےحس ہیں اور عیاش ہیں
مر گیا جن کا ضمیرِ زندگی!
جو فقط اک چلتی پھرتی لاشیں ہیں

٭٭٭

تشنگی اتنی بڑھی کہ حبس میں
پیاس سے باہر زبانیں آ گئیں
جس نے مانگی بوند بھی اس کے لیے
خون میں ڈوبی کمانیں آ گئیں

٭٭٭

کٹ رہی ہیں گردنیں ہر موڑ پر
اٹھ رہے ہیں ہر نگر لاشے ابھی
سرخ ہوتی جا رہی ہے سرزمیں
درد کے سائے نہیں سمٹے ابھی

٭٭٭

کارخانوں سے دھواں اٹھتا ہے
جل رہا ہے جسم یہ مزدور کا
کارخانہ دار کا اس کے سبب
گھر ہے مرمر کا، بدن کافور کا

٭٭٭

بہتے زخموں میں ڈبوتا ہوں قلم
اور لکھتا ہوں انہیں کی داستاں
میرے دکھ بانٹیں ہواوں کے ہجوم
خون کے آنسو بہائے آسماں

٭٭٭

دردِ غم، زخم جدائی، بے بسی
کیسے کیسے ہیں یہاں اترے عذاب
قافلے والو! بتاو تو سہی!
کون ہے جس نے نہیں دیکھے عذاب

٭٭٭

آنکھ ویراں، ہونٹ پتھر ہو گئے
دوستو میں مسکراوں کس طرح
مارتا جاتا ہے، سب کو غم یہاں
میں خوشی کے گیت گاوں کس طرح

(محمد انوار المصطفیٰ)


%d bloggers like this: